صلاحُ الدین ایوبیؒ کے دور کےحقیقی واقعات کا سلسلہ
داستان ایمان فروشوں کی
قسط نمبر.28۔" جب ایونا عائشہ بنی"
ــــــــــــــــــــــــــ
''اَیونا!''۔ عماد نے لڑکی سے کہا …… ''اپنی مقدس صلیب کے پرستاروں کی کرتوت سن رہی ہو؟''
اَیونا نے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ چھت کو دیکھنے لگی۔ اُس نے کمرے کے دروازے کے ایک کواڑ کو بند کیا اور اس کی اُلٹی طرف دیکھنے لگی۔ کواڑ پر تین چار چھوٹی چھوٹی اور گہری لکیریں کھدی ہوئی تھیں۔ وہ بیٹھ کر ان لکیروں کو بڑی غور سے دیکھنے لگی۔ عماد اسے دیکھ رہا تھا۔ اَیونا لکیروں پر ہاتھ پھیرنے لگی۔ (اسلام اور انسان تاریخ اسلام اور انسانیت پر مبنی فیسبک پیج سے آپ پڑھ رہیں ، صلاحُ الدین ایوبیؒ کے دور کےحقیقی واقعات کا سلسلہ، داستان ایمان فروشوں کی) وہ اُٹھی اور دوسرے کمرے میں چلی گئی ۔وہاں بھی کواڑوں پر ہاتھ پھیر کر کچھ ڈھونڈنے لگی۔ عماد نے جاکر اس سے پوچھا…… ''کیادیکھ رہی ہو؟''
لڑکی مُسکرائی اور بولی …… ''تمہاری طرح میں بھی اپنا بچپن ڈھونڈ رہی ہوں''۔ اس نے عماد سے پوچھا …… ''یہ تمہارا گھر تھا ؟ تم یہیں سے بھاگے تھے؟''
''یہیں سے''۔ عماد نے جواب دیا اور اسے سنا دیا کہ کس طرح اُن کے گھر پر عیسائیوں نے حملہ کیا اور اس کی ماں اور بڑھے بھائی کو قتل کر دیاتھا۔ عماد بھاگ گیا اور وہ آج تک یہ سمجھتا رہا کہ اس کا باپ بھی قتل ہوگیا ہے لیکن یہ بوڑھا بتارہا ہے کہ باپ کیمپ میں زندہ ہے۔
''تم نے اس بوڑھے کو بتادیا ہے کہ وہ لڑکے تم ہی ہو جسے اس نے پناہ دی تھی؟''
''میں بتانا نہیں چاہتا''۔اس نے تذبذب کے عالم میں کہا ۔
اَیونا اُسے بڑی غور سے دیکھنے لگی اور بوڑھا ان دونوں کو دیکھ دیکھ کر حیران ہو رہا تھا کہ یہ دونوں یہاں کیا دیکھ رہے ہیں ۔ عماد بچپن کی یادوں میں گم ہوگیا تھا ۔ بوڑھے نے پوچھا …… ''میرے لیے کیا حکم ہے ؟''
عماد چونکا اور حکم دینے کے لہجے میں بولا …… ''اس مکان کو اپنی نگرانی میں رکھیں۔ یہ آپ کی تحویل میں ہے ''۔اس نے اَیونا سے کہا …… ''آئو چلیں ''۔
''کیا تم اپنے باپ سے نہیں ملو گے؟'' ۔ ایونا نے اس سے پوچھا۔
''پہلے اپنا فرض ادا کرلوں''۔ عماد نے جواب دیا …… ''مجھے ریگستان میں میرا کماندار ڈھونڈ رہا ہوگا۔ وہ مجھے مردہ قرار دے چکے ہوں گے ۔ وہاں میری ضرورت ہے ، آئو میرے ساتھ آئو۔ میں یہ امانت کسی کے حوالے کردوں''۔
''لڑکیاں ، لڑکیاں، لڑکیاں''۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے شگفتہ سے لہجے میں علی بن سفیان سے کہا …… ''کیایہ کمبخت صلیبی میرے راستے میں لڑکیوں کی دیوار کھڑی کرنا چاہتے ہیں ؟ کیا وہ لڑکیوں کو میرے سامنے نچاکر مجھ سے شوبک کا قلعہ لے لیں گے؟''
''امیر محترم!'' علی بن سفیان نے کہا …… ''آپ اپنی ہی باتوں کی تردید کر رہے ہیں۔ یہ لڑکیاں دیوار نہیں بن سکتیں۔ دیمک بن چکی ہیں اور دیمک کا کام کر رہی ہیں ۔ آپ کے اور محترم نورالدین زنگی کے درمیان غلط فہمی پیدا کرنیکی کوشش لڑکیوں کے ہاتھوں کرائی گئی ہے اور ان لڑکیوں نے حشیش اور شراب کے ذریعے ہمارے مسلمان حکام اور امراء کو استعمال کیا ہے ''۔
''یہ وہی موضوع ہے جس پر ہم سو بار بات کر چکے ہیں ''۔سلطان ایوبی نے کہا …… ''مجھے ان لڑکیوں کے متعلق کچھ بتائو ۔ یہ تو معلوم ہوچکا ہے کہ یہ آٹھوں جاسوس ہیں۔ انہوں نے اب تک کوئی نیا انکشاف کیا ہے یا نہیں ''۔
''انہوں نے بتایا ہے کہ شوبک میں صلیبی جاسوس اور تخریب کار موجود ہیں ''۔ علی بن سفیان نے جواب دیا …… ''لیکن ان میں سے کسی کی بھی نشاندہی نہیں ہوسکتی، کیونکہ ان کے گھروں اور ٹھکانوں کا علم نہیں ۔ ان میں سے تین مصر میںکچھ وقت گزار کر آئی ہیں۔ وہاں انہوں نے جو کام کیا ہے وہ آپ کو بتا چکا ہوں''۔
''کیا وہ قید خانے میں ہیں؟''سلطان ایوبی نے کہا۔
''نہیں ''۔علی بن سفیان نے جواب دیا …… ''وہ اپنی پرانی جگہ رکھی گئی ہیں۔ ان پر پہرہ ہے ''۔
اتنے میں دربان اندر آیا۔ اس نے کہا …… ''عماد شامی نام کاایک عہدیدار ایک صلیبی لڑکی کو ساتھ لایا ہے۔ کہتاہے کہ اسے اس نے کرک کے راستے پر پکڑا ہے اور یہ لڑکی جاسوس ہے''۔
''دونوں کو اندر بھیج دو''۔ سلطان ایوبی نے کہا ۔
دربان کے جاتے ہی عماد اور ایونا اندر آئے۔ سلطان ایوبی نے عماد سے کہا ۔ ''معلوم ہوتا ہے بہت لمبی مسافت سے آئے ہو۔ تم کس کے ساتھ ہو؟ ''
''میں شامی فوج میں ہوں''۔ عماد نے جواب دیا …… ''میرے کماندار کا نام احتشام ابن محمدہے اور میں البرق دستے کا عہدیدار ہوں''۔
''البرق کس حال میں ہے ؟'' سلطان ایوبی نے پوچھا اور علی بن سفیان سے کہا …… ''البرق فی الواقع برق ہے۔ ہم نے جب سوڈانیوں پر شبخون مارے تھے تو البرق قیادت کر رہا تھا۔ صحرائی چھاپوں میں اس کی نظیر نہیںملتی ''۔
''سالار اعظم!'' عماد نے کہا …… ''آدھا دستہ اللہ کے نام پر قربان ہوچکا ہے ۔ میرے گروہ میں سے صرف میں رہ گیا ہوں''۔
''تم نے اتنی جانیں ضائع تو نہیں کیں؟ سلطان ایوبی نے سنجیدگی سے پوچھا۔ مرجانے اور قربان ہونے میں بہت فرق ہے ''۔
''نہیں سالار اعظم!'' عماد نے جواب دیا …… ''خدائے ذوالجلال گواہ ہے کہ ہم نے ایک ایک جان کے بدلے بیس بیس جانیں لی ہیں۔ اگر صلیبیوں کی فوج اپنے ٹھکانے پر پہنچ گئی ہے تو وہ صرف چند ایک زخمی ہوں گے۔ فلسطین کی ریت کو ہم نے صلیبیوں کے خون سے لال کر دیا ہے ۔ ہمارے دستوں نے بھی دشمن پرپورا قہر برسایا ہے۔ دشمن میں اب اتنا دم نہیں رہاکہ وہ تھوڑے سے عرصے میں اگلی جنگ کے لیے تیارہوجائے ''۔
''اورتم؟'' سلطان ایوبی نے لڑکی سے پوچھا …… ''کیا تم پسند کروگی کہ اپنے متعلق ہمیں سب کچھ بتا دو؟ ''
''سب کچھ بتادوںگی''۔ اَیونا نے کہا اور اس کے آنسو بہنے لگے۔
''عماد شامی !'' سلطان ایوبی نے عماد سے کہا …… ''فوجی آرام گاہ میں چلے جائو۔ نہائو دھوئو۔ آج کے دن اور آج کی رات آرام کرو۔ کل واپس اپنے جیش میں چلے جانا ''۔
''میں دشمن کے دو گھوڑے بھی لایا ہوں ''۔عماد نے کہا…… ''ان کی تلواریں بھی ہیں ''۔
''گھوڑے اصطبل میں اور تلواریں اسلحہ خانے میں دے دو''۔ سلطان ایوبی نے کہا اور ذرا سوچ کر کہا …… ''اگر ان گھوڑوں میں کوئی تمہارے گھوڑے سے بہتر ہو تو بدل لو۔ باہر کے محاذ پر گھوڑے کی کیا حالت ہے؟''
''کوئی پریشانی نہیں ''۔عماد نے بتایا …… ''اپنا ایک گھوڑا ضائع ہوتا ہے تو ہمیں صلیبیوں کے دو گھوڑے مل جاتے ہیں ''۔
عماد سلام کرکے باہر نکل گیا۔ اس نے امانت صحیح جگہ پہنچا دی تھی ۔ ادھر سے تووہ فارغ ہوگیا لیکن اس کے دل پر بوجھ تھا۔ یہ جذبات کا بوجھ تھا۔ یہ بچپن کی یادوں کا بوجھ تھااور یہ اس باپ کی محبت کا بوجھ تھا جو کیمپ میں پڑا تھا۔ وہ تذبذب میں مبتلا تھا۔ جنگ ختم ہونے تک وہ باپ سے ملنا نہیں چاہتا تھا۔ ڈرتاتھا کہ باپ کی محبت اور دل کے پرانے زخم اس کے فرض کے راستے میں حائل ہوجائیں گے …… وہ اپنے گھوڑے کے پیچھے دو گھوڑے باندھے اصطبل کی طرف جارہا تھا۔ اسے ماحول کاکوئی ہوش نہیں تھا۔ گھوڑا اسے ایک گھاٹی پر لے گیا۔ اس نے سامنے دیکھا۔ شوبک کا قصبہ اسے نظر آرہا تھا۔ وہ رُک گیا اور اس قصبے کو دیکھنے لگا جہاں وہ پیدا ہوا تھا اور جہاں سے جلا وطن ہوا تھا۔ اس پر جذبات نے رقت طاری کردی ۔
''راستے سے ہٹ کر رُکو سوار!'' اسے کسی کی آواز نے چونکا دیا۔ اس نے گھوم کردیکھا۔ پیچھے ایک گھوڑا سوا ر دستہ آرہا تھا ۔ اس نے گھوڑے ایک طرف کر لیے ۔ جب دستے کا اگلا سوار اس کے قریب سے گزرا توعماد سے پوچھا …… ''باہر سے آئے ہو وہاں کی کیا خبر ہے ؟''
''اللہ کا کرم ہے دوستو!'' …… اس نے جواب دی …… ''دشمن ختم ہو رہا ہے ۔ شوبک کو کوئی خطرہ نہیں ''۔
دستے آگے چلا گیا تو عماد دائیں طرف چل پڑا۔
٭ ٭ ٭
''میں نے آپ سے کچھ بھی نہیں چھپایا ''۔اَیونا سلطان ایوبی اور علی بن سفیان کے سامنے بیٹھی کہہ رہی تھی۔ وہ بتا چکی تھی وہ جاسوس ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا تھا کہ وہ قاہر میں ایک مہینہ رہ چکی ہے۔ اس نے وہاںکے چند ایک سرکردہ مسلمانوں کے نام بھی بتائے تھے جو سلطان ایوبی کے خلاف سرگرم تھے اور اس نے یہ بھی بتایا تھا کہ صلیبیوں کی طرف سے سوڈانیوں کو بہت مدد مل رہی ہے اور صلیبی فوج کے تجربہ کار کمانڈر سوڈانیوں کو شبخون مارنے کی ٹریننگ دے رہے ہیں …… ایونا نے کسی استفسار کے بغیرہی اتنی زیادہ باتیں بتا دیں جو جاسوس اذیتوں کے باوجود نہیں بتایا کرتے کیونکہ ان میں ان کی اپنی ذات بھی ملوث ہوتی ہے۔ اس سے علی بن سفیان شک میں پڑ گیا۔
''ایونا!''علی بن سفیان نے کہا…… ''میں بھی تمہارے فن کا فنکار ہوں۔میں تمہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں کو تم اونچے درجے کی فنکار ہو۔ ہمارے تشدد اور قید خانے سے بچنے اور ہمیں گمراہ کرنے کا تمہارا طریقہ قابل تعریب ہے مگر میں اس دھوکے میں نہیں آسکتا''ے
''آپ کا نام؟''…… ایونا نے پوچھا۔
''علی بن سفیان''۔ علی نے جواب دیا …… ''تم نے شاید ہرمن سے میرا نام سنا ہوگا''۔
ایونا اُٹھی اور آہستہ آہستہ علی بن سفیان کے قریب جا کر دوزانو بیٹھ گئی۔ اس نے علی بن سفیان کا دایاں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور ہاتھ چوم کر بولی …… ''آپ کو زندہ دیکھ کر مجھے بڑی خوشی ہوئی۔ آپ کے متعلق مجھے بہت کچھ بتایاگیا تھا۔ ہرمن کہا کرتا تھا کہ علی بن سفیان مر جائے تو ہم مسلمانوں کی جڑوں میں بیٹھ کر انہیں جنگ کے بغیر ختم کرسکتے ہیں ''…… لڑکی اُٹھ کر اپنی جگہ بیٹھ گئی …… ''میں نے قاہرہ میں آپ کو دیکھنے کی بہت کوشش کی تھی مگر دیکھ نہ سکی ۔ میری موجودگی میں آپ کے قتل کا منصوبہ تیار ہوا تھا۔ پھر مجھے نہیں بتایا گیا کہ یہ منصوبہ کامیاب ہوا تھا یا نہیں۔ مجھے شوبک بلا لیا گیا تھا''۔
''ہم کس طرح یقین کرلیں کہ تم نے جو کچھ کہاہے سچ کہا ہے ؟''……علی بن سفیان نے پوچھا۔
''آپ مجھ پر اعتبار کیوں کرتے ؟''لڑکی نے جھنجھلاکر کہا۔
''اس لیے کہ تم صلیبی ہو''۔ سلطان ایوبی نے کہا ۔
''اگر میں آپ کو یہ بتادوں کہ میں صلیبی نہیں مسلمان ہوں تو آپ کہیں گے کہ یہ بھی جھوٹ ہے''۔ لڑکی نے کا …… ''میرے پاس کوئی ثبوت نہیں ۔ سولہ سترہ سال گزرے، میں اسی قصبے سے اغوا ہوئی تھی۔ یہاں آکر مجھے پتہ چلا کہ میرا باپ کیمپ میں ہے ''۔ اس نے اپنے باپ کا نام بتایا اور یہ بھی بتایا کہ اسے اپنے باپ کا نام اب معلوم ہوا ہے۔ اس نے سنایا کہ عماد نے اسے کس طرح صحرا سے بچایا تھا اور وہ رات کو اسے قتل کرنے لگی مگر اس کا خنجر والا ہاتھ اُٹھتا ہی نہیں تھا ۔ اس نے کہا …… ''میں نے دن کے وقت اس کے چہرے پر اور اس کی آنکھوں میں نظر ڈالی تو میرے دل میں کوئی ایسا احساس بیدار ہوگیا جس نے مجھے شک میں ڈال دیا کہ میں عماد کو پہلے سے جانتی ہوں یا اسے کہیں دیکھا ضرور ہے ۔ مجھے یاد نہیں آرہا تھا ۔ میں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہ ایسے نہیں ہو سکتا …… رات کو دو صلیبی سپاہیوں نے مجھ پر حملہ کر دیا تو عماد جاگ اُٹھا۔ اس نے ایک کو برچھی سے مار دیا۔ میں اس وقت تک اپنے آپ کو صلیبی سمجھتی تھی۔ میری ہمدردیاں صلیبیوں کے ساتھ تھیں مگر میں نے دوسرے صلیبی سپاہی کو خنجر سے ہلاک کردیا اور مجھے خوشی اس پر نہیں ہوئی کہ میں نے ان سے اپنی عزت بچائی ہے بلکہ اس پر ہوئی کہ میں نے عماد کی جان بچائی ہے ''……
'اور جب راستے میں عماد نے میرے ساتھ اپنے متعلق کچھ جذباتی باتیں کیں تو زندگی میں پہلی بار میرے سینے میں بھی جذبات بیدا ہوگئے۔ میں تمام سفر عماد کو دیکھتی ہی رہی۔ مجھے صرف اتنا یاد آیا کہ مجھے بچپن میں اغوا کیا گیا تھا۔ مگر یہ یاد بھی ذہن میں دندھلی ہوگئی۔ آپ کو معلوم ہے کہ مجھ جیسی لڑکیوں کو کس طرح تیار کیا جاتا ہے ۔ بچپن کی یادیں اور اصلیت ذہن سے اُتر جاتی ہے ۔ یہی میرا حال ہوا۔ لیکن مجھے یقین ہونے لگا کہ عماد کو میں جانتی ہوں۔ یہ خون کی کشش تھی ۔ آنکھوں نے آنکھوں کو اور دل نے دل کو پہچان لیا تھا۔ شاید عماد نے بھی یہی کچھ محسوس کیا ہو اور شاید اسی احساس کا اثر تھا کہ اس نے مجھ جیسی دلکش لڑکی کو اس طرح نظر انداز کیے رکھا جیسے میں اس کے ساتھ تھی ہی نہیں۔ اس نے مجھے گہری نظروں سے بہت دفعہ دیکھا ضرورتھا''۔
ایونا نے تفصیل سے سنایا کہ شوبک میں داخل ہو کر عماد ایک مکان کے آگے رُک گیااور ہم دونوں اندر چلے گئے …… اس نے کہا ……''یہ گھر اندر سے دیکھ کر میری یادیں بیدار ہونے لگیں ۔ مجھے ذہن پر دبائو ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ ذہن اپنے آپ ہی مجھے اس گھر میں گھمانے پھرانے لگا۔ میں نے ایک کواڑ کی الٹی طرف دیکھا۔ وہاں مجھے خنجر کی نوک سے کھدی ہوئی لکیریں نظر آئیں۔ یہ میں نے بچپن میں بڑے بھائی کے خنجر سے کھودی تھیں۔ میرا ذہن مجھے ایک اور کواڑ کے پیچھے لے گیا ۔ وہاں بھی ایسی ہی لکیریں تھیں۔ پھر میں نے عماد کو اور زیادہ غور سے دیکھا ۔ داڑھی کے باوجود اس کی سولہ سترہ سال پرانی صورت یاد آگئی ۔ میں نے اپنے آپ کو بڑی مشکل سے قابو میں رکھا۔ میں نے عماد بتایا نہیں کہ میںاس کی بہن ہوں۔ وہ اتنا پاک فطرت انسان اور میں اتنی ناپاک لڑکی۔ وہ اتنا غیرت مند اور میں اتنی بے غیرت۔ اگر میں اسے بتادیتی تو معلوم نہیں وہ کیا کر گزرتا''۔
اس دوران علی بن سفیان نے کئی بار سلطان ایوبی کی طرف دیکھا ۔ وہ لڑکی کو ابھی تک شک کی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔ لیکن لڑکی کی جذباتی کیفیت ، اس کے آنسو اور بعض الفاظ کے ساتھ اس کی سسکیاں دونوں پر ایسا اثر طاری کر رہی تھیں جیسے لڑکی کی باتیں سچ ہیں۔ لڑکی نے آخر انہیں اس پر قائل کر لیا کہ اس کے متعلق وہ چھان بین کریں۔ اس نے کہا …… ''آپ مجھ پر اعتبار نہ کریں، مجھے قید خانے میں ڈال دیں، جو سلوک کرنا چاہتے ہیں کریں، مجھے اور کچھ نہیں چاہیے۔ میں اب زندہ نہیں رہنا چاہتی۔اگر آپ اجازت دیں تو میں اپنے گناہوں کی بخشش کے لیے کچھ کر کے مرنا چاہتی ہوں''۔
''کیا کرسکتی ہو؟''سلطان ایوبی نے پوچھا۔
''اگر آپ مجھے کرک تک پہنچا دیں تو میں صلیب کے تین چار بادشاہوں اور اپنے محکمے کے سربراہ ہرمن کو قتل کر سکتی ہوں''۔
''ہم تمہیں کرک تک پہنچا سکتے ہیں ''۔سلطان ایوبی نے کہا …… ''لیکن اس کام سے نہیں کہ تم کسی کو قتل کرو۔ میں تاریخ میں اپنے متعلق یہ تہمت چھوڑ کر نہیں مرنا چاہتا کہ صلاح الدین ایوبی نے اپنے دشمنوں کو ایک عورت کے ہاتھوں مروا دیا تھا اور شوبک میں فوج لے کے بیٹھا رہا۔ اگر مجھے پتہ چلے گا کہ صلیبیوں کا کوئی بادشاہ کسی لاعلاج مرض میں مبتلا ہے تومیں اس کے علاج کے لیے اپنے طبیب بھیجوں گا اور پھر ہم تم پرایسا بھروسہ کر بھی نہیں سکتے۔ البتہ تمہاری اس خواہش پر غورکر سکتے ہیں کہ تمہیں معاف کرکے کرک بھیج دیں ''۔
''نہیں ''۔ایونا نے کا…… ''میرے دل میں ایسی کوئی خواہش نہیں ۔ میں یہیں مروں گی ۔ میری اس خواہش کا ضرور خیال رکھیں کہ عماد کو یہ نہ بتائیں کہ میں اس کی بہن ہوں۔ میں کیمپ اپنے باپ کو ضرور دیکھنے جائوں گی۔ لیکن اسے بھی نہیں بتائوں گی میں اس کی بیٹی ہوں''۔وہ زاروقطار رونے لگی۔
علی بن سفیان نے اپنی ضرورت کے مطابق اس سے بہت سی باتیں پوچھیں پھر سلطان ایوبی سے پوچھا کہ اسے کہاں بھیجا جائے۔ سلطان ایوبی نے سوچ کر کہا کہ اسے آرام اور احترام سے رکھو۔ فیصلہ سوچ کر کریںگے۔
علی بن سفیان اسے اپنے ساتھ لے گیا اور ان کمروں میں سے ایک اسے دے دیا جہاں جاسوس لڑکیاں رہا کرتی تھیں۔ لڑکی نے وہاں رہنے سے انکار کر دیا اور کہا …… ''ان کمروں سے مجھے نفرت ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ مجھے اس گھر میں رکھا جائے جہاںسے میں اغوا ہوئی تھی ؟''
''نہیں !''…… علی بن سفیان نے کہا …… ''کسی کے جذبات کی خاطر ہم اپنے قواعد و ضوابط نہیں بدل سکتے ۔''
وہاں کے پہرہ داروں اور ملازموں کو کچھ ہدایات دے کر علی بن سفیان لڑکی کو وہاں چھوڑ گیا ۔
عماد فوجی آرام گاہ میں گیا اور نہا کر سوگیا مگر اتنی زیادہ تھکن کے باوجود اس کی آنکھ کھل گئی۔ کوشش کے باوجود وہ سو نہ سکا۔ اس کے ذہن میں یہی ایک سوال کلبلارہا تھا کہ باپ سے ملے یانہ ملے۔ تھک ہار کر وہ اُٹھا اور اس جگہ کی طرف چل پڑا جو شوبک میں مسلمانوںکے کیمپ کے نام سے مشہور تھی ۔ وہاں پہنچ کر اس نے اپنے باپ کا نام لیا اور پوچھتا پوچھتا باپ تک پہنچ گیا۔ اس کے سامنے ایک بوڑھا لیٹا ہوا تھا۔ عماد نے اس سے ہاتھ ملایا اور اپنے آپ کو قابو میں رکھا۔ اس کاباپ ہڈیوں کا پنجر بن چکا تھا۔ اسے اچھی خوراک ، دوائیاں دی جارہی تھیں۔ عماد نے اپنا تعارف کرائے بغیر اس سے حال پوچھا تو اس نے بتایا کہ سولہ برسوں کی اذیت ناک مشقت ، قید اور بچوں کے غم نے اس کا یہ حال کردیا ہے کہ اتنی اچھی غذا اور اتنی اچھی دوائیں اس پرکوئی اثر نہیں کر رہیں ۔
باپ دھیمی آواز میں عماد کو اپنا حال سنا رہا تھا لیکن عماد سولہ سترہ سال پیچھے چلا گیا تھا ۔ اسے باپ کی صورت اچھی طرح یاد تھی۔ اب اس کے سامنے جو باپ لیٹا ہوا تھا اس کے چہرے کی ہڈیاں باہر نکل آئی تھیں۔ پھر بھی اسے پہچاننے میں عماد کو ذرہ بھر دقت نہ ہوئی۔ اس نے کئی بار سوچا کہ اسے بتادے کہ وہاس کا بیٹا ہے؟ اس نے عقل مندی کی کہ نہ بتایا۔ اس نے دو خطرے محسوس کیے تھے۔ ایک یہ کہ باپ یہ خوشگوار دھچکہ برداشت نہیں کر سکے گا۔ دوسرا یہ کہ اس نے برداشت کرلی تو اس کے لیے رکاوٹ بن جائے گا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ محاذ پر جانے لگے تو یہ صدمہ اسے لے بیٹھے …… وہ باپ سے ہاتھ ملا کر چلا گیا۔
آدھی رات کا عمل ہوگا۔ ایونا بستر سے اُٹھی۔ اس وقت تک اسے نیند نہیں آئی تھی۔ اس نے علی بن سفیان کے رویے سے محسوس کر لیا تھاکہ اس پر اعتبار نہیں کیاگیا اور اب نہ جانے اس کا انجام کیاہوگا ۔وہ سوچ رہی تھی کہ وہ کس طرح یقین دلائے کہ اس نے جو آپ بیتی سنائی ہے وہ جھوٹ نہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس کا خون انتقام کے جوش سے کھول رہا تھا۔ عمادکے ساتھ اپنے گھر میں جا کر اس نے ذہن میں بچپن کی یادیں ازخود جاگ اُٹھی تھیں اور خواب کی طرح اسے بہت سی باتیں یاد آگئی تھیں۔ اسے یہ بھی یاد آگیا کہ اسے اغوا کے بعد بے تحاشا پیار، کھلونوں اور نہایت اچھی خوراک سے یہ روپ دیا گیا تھا ۔ پھر اسے وہ گناہ یاد آئے جو اس سے کرائے گئے تھے اور وہ سراپا گناہ بن گئی تھی۔ وہ انتقام لینے کو بیتاب ہوئی جا رہی تھی۔ اس جذباتی حالت نے اسے سونے نہیں دیا تھا۔ اس ذہنی کیفیت میں باپ سے ملنے کی خواہش بھی شدت اختیار کرتی جا رہی تھی ۔ وہ باہر نہیں نکل سکتی تھی ۔ باہر دو پہرے دار ہر وقت ٹہلتے رہتے تھے ۔ اس کا دماغ اب سوچنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ وہ اب جذبا ت کے ذیر اثر تھی۔
اس نے دروازہ ذرا سا کھول کر دیکھا۔ اسے باتوں کی آوازیں سنائی دیں۔ (اسلام اور انسان تاریخ اسلام اور انسانیت پر مبنی فیسبک پیج سے آپ پڑھ رہیں ، صلاحُ الدین ایوبیؒ کے دور کےحقیقی واقعات کا سلسلہ، داستان ایمان فروشوں کی) دائیں طرف کوئی بیس گز دور اسے دونوں پہرہ دار باتیں کرتے ہوئے سائے کی طرح نظر آئے۔ لڑکی دروازے میں سے سر نکالے انہیں دیکھتی رہی۔ پہرے دار وہاں سے ذرا پرے ہٹ گئے۔ لڑکی دبے پائوں باہر نکلی اور عمارت کی اوٹ میں ہوگئی۔ آگے گھاٹی اُترتی تھی۔ وہ بیٹھ گئی اور پائوں پر سرتکتی ہوئی گھاٹی اُتر گئی۔ اب اسے پہرہ دار نہیں دیکھ سکتے تھے۔ اسے معلوم تھا کہ مسلمانوں کاکیمپ کہاں ہے اور اسے یہ بھی معلوم ہوچکا تھا کہ اب یہ کیمپ قید خانے سے مہمان خانہ بن گیا ہے۔ اس لیے اسے یہ خطرہ نہیں تھا کہ وہاں سے کوئی سنتری اسے روک لے گا۔ وہ باپ کو ملنے جارہی تھی جس کا اسے صرف نام معلوم تھا۔ وہ تیز تیز جارہی تھی کہ اسے پیچھے کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ اس نے پیچھے دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا۔ اس آہٹ کو وہ اپنے قدموں کی آہٹ سمجھ کر چل پڑی لیکن یہ کسی اور کی آہٹ تھی۔ ایک تنومند آدمی وہیں سے اس کے پیچھے چل پڑا تھا ، جہاں سے وہ گھاٹی اُتری تھی۔
ایونا کو یہ آہٹ ایک بار پھر سنائی دی ۔ وہ رُکی ہی تھی کہ اس کے سر اور منہ پر کپڑا آن پڑا۔ پلک جھپکتے کپڑا بندھ گیا اور دو مضبوط بازوئوں نے اسے جکڑ کر اُٹھالیا۔ وہ تڑپی مگر تڑپنا بیکار تھا۔ رات تاریک تھی اور یہ علاقہ غیر آباد تھا ۔ ذرا آگے جا کر اسے ایک کمبل میںلپیٹ کر گٹھڑی کی طرح اُٹھالیا گیا۔ وہ ایک نہیں دو آدمی تھے …… نصف گھنٹے کے بعد اسے اتار کر کھولا گیا ۔ وہ ایک کمرے میں تھی جس میں دو دئیے جل رہے تھے۔ وہاں چار آدمی تھے۔ اس نے سب کو باری باری حیرت سے دیکھا اورکہا …… ''تم لوگ ابھی یہاں ہو؟…… اور آپ گیرالڈ؟ آپ بھی یہیں ہیں ؟''
''ہم جاکر آئے ہیں ''…… گیرالڈ نے جواب دیا …… ''تم سب کو یہاں سے نکالنے کے لیے۔ اچھا ہوا کہ تم مل گئیں ''۔
یہ وہ چار صلیبی تھے جنہیں کرک سے اس کام کے لیے بھیجا گیا تھا کہ جاسوس لڑکیاں جو مسلمانوں کے قبضے میں رہ گئی ہیں انہیں وہاں سے نکالیں اور شوبک میں اپنے جو جاسوس رہ گئے ہیں انہیں وہاں منظم کریں اور اگر ممکن ہو تو وہاں تخریب کاری بھی کریں۔ تخریب کاری میں ایک یہ کام بھی شامل تھا کہ اصطبل میں داخل ہو کر جانوروں کے چارے میں زہر ملائیں، رسد کو آگ لگائیں اور فوجیوں کے لنگر خانے میں بھی زہر ملا سکیں تو کوشش کریں۔ اس گروہ کا کمانڈر گیرالڈ نام کا ایک برطانوی تھا جو تباہ کار جاسوسی کا ماہر سمجھا جاتا تھا۔ ایونا اسے بہت اچھی طرح جانتی تھی ۔ اسے دیکھ کر ایونا کاخون نفرت اور انتقام کے جوش سے کھول اُٹھا لیکن وہ فوراً سنبھل گئی۔ یہ موقع نفرت کے اظہار کا نہیں تھا۔ گیرالڈ تو ایسا گمان بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ایونا بالکل بدل گئی ہے۔ اس نے ایونا سے پوچھا کہ وہ کہاں جا رہی تھی؟ ایونا نے کہا کہ اسے فرار کا موقع مل گیا تھا۔ اس لیے وہ فرار ہو رہی تھی ۔
گیرالڈ نے اسے بتایا کہ وہ چھاپہ مار جاسوسوںکا ایک گروہ کرک کے مظلوم مسلمانوں کے بہروپ میں یہاںلایاہے۔ ان دنوں شوبک کے حالات ایسے تھے کہ یہ گروہ آسانی سے ایک ہی گروہ کی صورت میں شہر میں آگیا تھا۔ جنگ کی وجہ سے لوگ آ جارہے تھے ۔ اردگرد کے دیہات کے مسلمان بھی شہر میں آرہے تھے ۔ اسی دھوکے میں یہ گروہ بھی آگیا ۔ شہر میں پہلے سے جاسوس موجود تھے۔ انہوں نے پورے گروہ کو پس پردہ کر لیا۔ گیرالڈ نے ایونا کو بتایا کو وہ دو راتوں سے اس مکان کودیکھ رہا ہے جس میں لڑکیاں ہیں۔ اس جگہ سے وہ اچھی طرح واقف تھا۔ یہ انہی کی بنائی ہوئی تھی۔ رات کو وہ دیکھنے جاتا تھا کہ پہرہ داروں کی حرکات اور معمول کیاہے۔ یہ بڑا اچھا اتفاق تھا کہ اسے ایونا مل گئی ۔ ایونا نے اسے بتایا کہ لڑکیوں کو نکالنا آسان نہیں ، تاہم نکالا جا سکتا ہے ۔
رات کو ہی سکیم تیار ہوگئی ۔ ایونا نے گیرالڈ کو بتایا کہ لڑکیاں کھلے کمروں میں ہیں جو قید خانہ نہیں۔ پہرہ دار صرف دو ہیں۔ اس قسم کی اور بھی بہت سی تفصیلات تھیں جو ایونا نے انہیں بتائیں۔ یہ بھی طے ہوگیا کہ لڑکیوں کو نکالنے کے لیے کتنے آدمی جائیں گے اور باقی آدمی کون سے مکان میں جمع ہوں گے۔ اس سکیم کے بعد ایونا نے یہ تجویز پیش کی کہ اسے واپس چلے جانا چاہیے ۔ کیونکہ اس کی گمشدگی سے لڑکیوں پر پہرہ سخت کر دیا جائے گا جس سے یہ مہم ناممکن ہوجائے گی۔ گیرالڈ کو ایونا کی یہ تجویز پسند آئی اور اسے اپنے ساتھ لے جا کر اس کی رہائش گاہ کے قریب چھوڑ دیاگیا۔ ایونا کو باہر سے آتے دیکھ کر پہرہ داروں نے اس کی باز پرس کی ۔ اس نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ وہ دور نہیں گئی تھی۔ پہرہ دار اس لیے چپ ہوگئے کہ یہ ان کی لاپرواہی تھی لڑکی نکل گئی تھی ۔
دوسرے دن علی بن سفیان کسی اورکام میں مصروف تھا ۔
دوسرے دن علی بن سفیان کسی اورکام میں مصروف تھا ۔ایونا نے پہرہ داروں سے کہا کہ وہ اسے علی بن سفیان کے پاس لے چلیں۔ انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ یہاں اس کے بلانے پر کو ئی نہیں آئے گا بلکہ اس کی جب ضرورت ہوگی تو اسے بلایا جائے گا۔ ایونا نے بڑی مشکل سے پہرہ داروں کو قائل کیا کہ وہ کسی اور کو بتائے بغیر مرکزی کمان کے کسی فرد تک یہ پیغام پہنچا دیں کہ نہایت اہم اور نازک بات کرنی ہے۔ اس نے پہرہ داروں سے کہا کہ اگر انہوں نے اس کا پیغام نہ پہنچایا تو اتنا زیادہ نقصان ہوگا کہ پہرہ دار اس کوتاہی کی سزا سے بچ نہیں سکیں گے …… پہرہ داروںنے پیغام بجھوانے کا بندوبست کردیا۔ علی بن سفیان نے پیغام ملتے ہی لڑکی کو بلا لیا۔ اس کے بعدلڑکی کمرے میں واپس نہیں آئی ۔
رات کو جب شوبک کی سرگرمیاں سوگئیںاور شہر پر خاموشی طاری ہوگئی تو اس عمارت کے اردگرد آٹھ دس سائے سے حرکت کرتے نظرآئے جہاں لڑکیوں کو رکھا گیا تھا ۔ عجیب بات یہ تھی کہ دونوں پہرہ دار غائب تھے۔ آٹھ دس چھاپہ مار خوش ہونے کی بجائے حیران ہوئے ہوں گے کہ پہرہ دار نہیںہیں۔ وہ آٹھوں پیٹ کے بل رینگ کر آگے آئے۔ ایونا نے انہیںبتادیا تھا کہ لڑکیاں کون کون سے کمرے میں ہیں ۔ کمروں کے دروازوں اورکھڑکیوں سے یہ لوگ واقف تھے۔ دو چھاپہ مار ایک کمرے میں داخل ہوئے ۔ باقیوں نے پرواہ نہیں کی کہ وہاں پہرہ دار ہیں یا نہیں ۔ انہیں یہ بتایا گیا تھا کہ پہرہ دار صرف دو ہوتے ہیں۔ دو پردس کا قابو پانا مشکل نہیںتھا۔ وہ سب لڑکیوں کے کمروں میں گھس گئے مگر ان میں سے باہر کوئی بھی نہ نکلا ۔
گیرالڈ اسی مکان میں تھا جہاں وہ گذشتہ رات ایونا کو لے گیا تھا۔ اس مکان میں سکیم کے مطابق بیس آدمی تھے۔ باقی کسی اور عیسائی کے گھر میں چھپے ہوئے تھے۔ گیرالڈ بے صبری سے لڑکیوں کا انتظار کر رہا تھا۔ اب تک انہیں اس کے آدمیوں کے ساتھ پہنچ جانا چاہیے تھا ۔ آخر دروازے پر دستک ہوئی۔ دستک کا یہ طے شدہ خاص انداز تھا۔ گیرالڈ نے خود جا کر دروازہ کھولا ۔ یہ مکان پرنے دور کی قلعہ نما حویلی تھی جس میں ایک امیر کبیر عیسائی رہتا تھا۔ گیرالڈ نے جوں ہی دروازہ کھولا اسے کسی نے باہر گھسیٹ لیا۔ فوجیوں کا ایک ہجوم دروازے میں داخل ہوا۔ اس کے ہاتھوں میںلمبی برچھیاں تھیں ۔ فوجی تیز اور تند سیلاب کی طرح اندر چلے گئے ۔ ایک وسیع کمرے میں بیٹھے ہوئے صلیبی چھاپہ مار جاسوسوں کو سنبھلنے کا موقع نہ ملا۔ ان سے ہتھیار لے لیے گئے اور انہیں گھر کے مالک اور اس کے کنبے سمیت باہر لے گئے۔
ایسا ہی ہلہ اس کمان پر بھی بولا گیا جہاں باقی صلیبی چھاپہ مار تیار بیٹھے تھے۔ یہ دونوں چھاپے بیک وقت مارے گئے۔ اسی رات دس گیا رہ مکانوں پر چھاپے مارے گئے۔ یہ سرگرمی رات بھر جاری رہی۔ مکانوں کی تلاشی لی گئی اور صبح کے وقت علی بن سفیان نے سلطان ایوبی کے سامنے جو لوگ کھڑے کئے ان میں ایک تو گیرالڈ اور اس کے چالیس چھاپہ مار تھے اور تقریباً اتنی ہی تعداد ان جاسوس اور تخریب کاروں کی تھی جنہیں دوسرے مکانوں سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان مکانوںسے جو سامان برآمد ہوا اس میں بے شمار ہتھیار، زہر کی بہت سی مقدار، تیروں کا ذخیرہ، آتش گیر مادہ اور بہت سی نقدی برآمدہوئی۔ یہ کارنامہ ایونا کا تھا۔ اس نے گیرالڈ کے ساتھ سکیم بنائی تھی اور اس سے ان تمام جاسوسوں کے ٹھکانے معلوم کر لیے تھے جو شوبک میں چھپے ہوئے تھے ۔ گیرالڈ کو اس پر پلی اعتماد تھا۔ ایونا رات کو ہی واپس آگئی اور صبح اس نے تمام تر سکیم علی بن سفیان کو بتادی اور جاسوسوں کے ٹھکانوں کی نشاندہی بھی کردی ۔ علی بن سفیان کے جاسوس دن کے وقت سارے ٹھکانے دیکھ آئے تھے۔ شام کے وقت سلطان ایوبی کے خصوصی چھاپہ مار دستوں کو ان ٹھکانوں پر چھاپے مارنے کے لیے بلالیا گیاتھا۔ لڑکیوں کو کمروں سے نکال کر کہیں اور چھپا دیا گیاتھا۔ ان کی جگہ ہر کمرے میں تین تین چھاپہ ماروں نے انہیں پکڑ لیا۔ اس طرح شوبک میں صلیبیوں کے تقریباً تمام جاسوس اور چھاپہ مار پکڑے گئے ۔ ان میں سب سے زیادہ قیمتی گیرالڈ تھا۔ تمام کو تفتیش اور اس کے بعد سزا کے لیے قید خانے میں ڈال دیا گیا۔
ایونا نے ان تمام مسلمان سرکردہ شخصیتوں کی بھی نشاندہی کر دی جو قاہرہ میں سلطان ایوبی کے خلاف سرگرم تھے۔ حشیشین کے ہاتھوں سلطان ایوبی اور علی بن سفیان کو قتل کرنے کا جو منصوبہ تیار کیا گیا تھا وہ بھی ایونا نے بے نقاب کیا اور سلطان ایوبی سے کہا …… ''اب تو آپ کو مجھ اعتبار آجانا چاہیے ''۔
وہ بڑا ہی جذباتی اور رقت انگیز تھا جب عماد کو بتایا گیا کہ ایونا اس کی بہن ہے اور جب بہن بھائی کو ان کے باپ کے سامنے کھڑا کیا گیا تو جذبات کی شدت سے بوڑھا باپ بے ہوش ہوگیا ۔ ہوش میں آنے کے بعد اس نے بتایا کہ اس کی بیٹی کانام عائشہ ہے۔ سلطان ایوبی نے اس خاندان کے لیے خاص وظیفہ مقرر کیا اور علی بن سفیان کے محکمے کے لیے حکم جاری کیا کہ تمام جاسوس لڑکیوںکے متعلق چھان بین کی جائے۔ صلیبیوں نے دوسری لڑکیوں کو بھی مسلمان گھرانوں سے اغوا کیا ہوگا۔
سلطان ایوبی کی فوج بہت بڑے خطرے سے محفوظ ہوگئی …… شوبک سے دورمحاذ کی خبریں اُمید افزا تھیں لیکن فوری ضرورت یہ تھی کہ بکھرے ہوئے دستوں کو یک جا کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے سلطان ایوبی نے شوبک کا فوجی نظام اپنے معاونوں کے حوالے کرکے اپنا ہیڈ کوارٹر شوبک سے دور صحرا میں منتقل کرلیا۔ اس نے برق رفتار قاصدوں کی ایک فوج اپنے ساتھ رکھ لی۔ اس کے ذریعے اس نے ایک ماہ میں بکھرے ہوئے دستے ایک دوسرے کے قریب کرلیے۔ اس کے بعد انہیں تین حصوں میں تقسیم کرکے شوبک کا دفاع اسی طرح منظم کردیا جس طرح قاہرہ کا کیا تھا۔ سب سے دور سرحدی دستے تھے جس کے سوار گشت کرتے تھے۔ ان سے پانچ چھ میل دور فوج کا دوسرا حصہ خیمہ زن کردیا اور تیسرے حصے کو متحرک رکھا۔
کرک میں اکٹھی ہونے والی فوج کی کیفیت ایسی تھی کہ فوری حملے کے قابل نہیں تھی۔ ادھر سلطان ایوبی نے بھرتی کی رفتار تیز کردی اور نئی بھرتی کی ٹریننگ کا انتظام کھلے صحرا میں کردیا ، اس نے علی بن سفیان سے کہا کہ وہ کرک میں اپنے جاسوس بھیجے جو وہاں کی اطلاعیں لانے کے علاوہ یہ کام بھی کریں کہ وہاں کے رہنے والے مسلمان نوجوانوں کو کرک سے نکلنے اور یہاں آکر فوج میں شامل ہونے کی ترغیب دیں ۔
٭ ٭ ٭
جاری ھے ، " قاھرہ میں بعاوت اورسلطان ایوبی")، شئیر کریں جزاکم اللہ خیرا۔

No comments:
Post a Comment