Monday, 10 April 2017

داستان ایمان فروشوں کی


صلاحُ الدین ایوبیؒ کے دور کےحقیقی واقعات کا سلسلہ
داستان ایمان فروشوں کی
قسط نمبر.22۔" جب زہر نے زہر کو کاٹا"
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
" یہ واقعہ ١١٧١ء کا ہے۔
 قاہرہ میں ایک مسجد تھی جو اتنی بڑی نہیں تھی کہ لوگ وہاں جمعہ کی نماز پڑھتے اور اتنی چھوٹی بھی نہیں تھی کہ نمازیوں کی کمی ہوتی ۔ یہ قاہرہ کے اس علاقے میں تھی جو شہر کا قریبی مضافات یا شہر کے باہر کا علاقہ تھا جہاں درمیانے اور اس سے کم درجے کے لوگ رہتے تھے ۔ مذہب کا احترام انہی لوگوں کے دلوں میں رہ گیا تھا مگر ان کی بد نصیبی یہ تھی کہ تعلیم سے بے بہرہ تھے ۔ جذباتی استدلال اور دلکش الفاظ سے فوراً متاثر ہوتے اور انہیں قبول کرلیتے تھے ۔صلاح الدین ایوبی نے مصر میں آکر جو نئی فوج تیار کی تھی اس میں ان کنبوں کے افراد زیادہ بھرتی ہوئے تھے جس کی دو وجوہات تھیں ۔ ایک تو یہ ذریعہ معاش تھا ۔ سلطان ایوبی نے فوج کی تنخواہ میں کشش پیدا کی تھی اور متعدد سہولتیں بھی تھیں ۔ دوسری وجہ یہ کہ یہ لوگ جہاد کو فرض سمجھتے تھے ۔وہ اسلام کے نام پرجان اور مال قربان کرنے کو تیار رہتے تھے ۔اس دور میں اس جذبے کی شدید ضرورت تھی ۔ سرکاری طور پر انہیں بتایا گیاتھا کہ صلیبی دنیا عالم اسلام کا نام و نشان مٹانے کے لیے اپنے تمام تر ذرائع اور ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے ۔

چھ سات مہینوں سے یہ گمنام سی مسجد مشہور ہوگئی تھی ۔ یہ شہرت نئے امام کی بدولت تھی جو عشاء کی نماز کے بعد درس دیا کرتا تھا ۔ پہلا پیش امام صرف تین روز پہلے ایسی بیماری سے مر گیا تھا جسے کوئی حکیم اور سیانا سمجھ ہی نہیں سکا ۔ وہ پیش کے درد اور آنتوں کی سوزش کی شکایت کرتا تھا ۔ اسی روگ سے مر گیا۔ وہ عام سا ایک مولوی تھا جو صرف نماز باجماعت پڑھاتا تھا ۔ اس کی وفات کے اگلے ہی روز سرخ و سفید چہرے اور بھوری داڑھی والا ایک مولوی آیا جس نے امامت کے فرائض اپنے ذمے لینے کی پیشکش کی ۔لوگوں نے اسے قبول کر لیا ۔ و ہ کہیں جھونپڑے میں رہتا تھا ۔ اس کی دو بیویاں تھیں ۔ اس نے لوگوں کو بتایا تھا کہ وہ علم کا شیدائی اور مذہب کے سمندر کا غوطہ خور ہے۔ وہ خاطر و مدارت کا لوگوں سے نذرانے وصول کرنے کا قائل نہیں تھا ۔ اس کی ضرورت صرف یہ تھی کہ اسے کشادہ اور اچھا مکان مل جائے جہاں وہ دو بیویوں کے ساتھ عزت سے اور پردے میں رہ سکے۔

لوگوں نے مسجد کے قریب ہی اسے ایک مکان خالی کر ادیا جس کے کئی ایک کمرے تھے ۔ لوگوں نے دیکھا ک وہ دونوں بیویوں کے ساتھ اس مکان میں آیا۔ بیویاں سیاں برقعوں میں مستور تھیں ۔ ان کے ہاتھ بھی نظر نہیں آتے تھے۔ پاپوش تک چھپے ہوئے تھے ۔ اسے لوگوں نے ضروری سامان وغیرہ دے کر آباد کر دیا ۔ لوگ ایک تو اس کی ظاہری شخصیت سے متاثر ہوئے لیکن جس جادو نے انہیں اس کا گرویدہ کیا وہ اس کی آواز کا جادو تھا۔ اس مسجد میں اس نے پہلی اذان دی تو جہاں جہاں تک اس کی آواز پہنچی سناٹا سا طاری ہوگیا ۔ ایک مقدس ترنم زمین و آسمان پر وجد طاری کر رہا تھا ۔ یہ ایک طلسم تھا جو ان لوگوں کو بھی مسجد میں لے گیا جو گھروں میں نماز پڑھتے یا پڑھتے ہی نہیں تھے ۔ اسی رات اس نے عشاء کی نماز کے بعد نمازیوں کو پہلا درس دیا اور انہیں کہا کہ وہ ہر رات درس دیا کرے گا ۔ چھ سات مہینوں میں اس نے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنالیا۔ بعض لوگ تو اس کے مریدبن گئے ۔اس مسجد میں جمعہ کی نماز نہیں پڑھی جاتی تھی۔ اس پیش امام نے جو دراصل عالم تھا ۔ وہاں جمعہ کی نماز بھی شروع کر دی ۔

چھ سات مہینوں بعد اس مسجد اور اس پیش امام کی شہرت دور دور تک پہنچ گئی۔ شہرکے بھی کچھ لوگ اس کے درس میں جانے لگے ۔ وہ اسلام کے جن بنیادی اصولوں پر زیادہ زور دیتا تھا وہ تھے عبادت اور محبت ۔ وہ لڑائی جھگڑے اور جنگ و جدل کے خلاف سبق دیتا تھا ۔ اس نے لوگوں کے ذہنوں میں یہ عقیدہ پختہ کر دیا تھا کہ انسان اپنی تقدیر خود نہیں بنا سکتا ۔ جو کچھ ہے وہ خدا کے ہاتھ میں ہے ۔ انسان کمزور سا ایک کیڑہ ہے ۔ اس عالم کا انداز بیان بڑا ہی پر اثر ہوتا تھا ۔ وہ قرآن ہاتھ میںلے کر ہر بات قرآن کی کسی نہ کسی آیت سے واضح کرتا تھا ۔ صلاح الدین ایوبی کی وہ بے حد تعریف کیا کرتا اور اکثر کہا کرتا ھا کہ یہ مصر کی خوش بختی ہے کہ اس ملک کی امارت اسلام کے ایسے شیدائی کے ہاتھ میں ہے ۔ اس نے جہاد کا فلسفہ اور مفہوم بھی پیش کیا تھا جو لوگوں کے لیے نیا تھا لیکن انہوں نے بلا حیل و حجت اسے تسلیم کر لیا۔

ایک رات عشاء کی نماز کے بعد وہ اپنا درس شروع کرنے لگا تو ایک آدمی نیاُٹھ کر عرض کی ……''عالم عالی مقام ! خدا آپ کے علم کی روشنی جنات تک اور اس مخلوق تک بھی پہنچائے جو ہمیں نظر نہیں آتی ۔ میں اپنے آٹھ دوستوں کے ساتھ بہت دور سے آیا ہوں۔ ہم آپ کے علم کی شہرت سن کر آئے ہیں ۔ اگر گستاخی نہ ہو اور عالم عالی مقام کی خفگی کا باعث نہ بنے تو ہمیں جہاد کے متعلق کچھ بتائیں ۔ ہم شک میں ہیں ۔ لوگوں نے بتایا ہے کہ ہمیں جہاد کا مطلب غلط بتایا جا رہا ہے ''۔

سات آٹھ آوازیں سنائی دیں …… ''ہم نے یہ درس نہیں سنا تھا ''۔

ایک نے کہا …… ''یہ وقت کی آواز ہے جو ہمارے کانوں میں بگاڑ کر ڈالی گئی ہے ۔ ہم صحیح بات سننا چاہتے ہیں ''۔

عالم نے کہا …… ''یہ قرآن کی آواز ہے جسے کوئی نہیں بگاڑ سکتا ۔ میرا فرض ہے کہ صحیح آواز کو ایک ہزار بار دہراؤںتا کہ یہ ہر ایک کان میں پہنچ جائے …… جہاد کا مطلب یہ نہیں کہ دوسروں کی زمین پر قبضہ کرنے کے لیے ان کی گردنیں کاٹو ۔ جہاد کا مطلب قتل و غارت نہیں ، خون خرابہ نہیں ''۔ اس نے قرآن میں سے ایک آیت پڑھی اور اس کی تفسیر یوں بیان کی ۔ ''یہ میرا علم نہیں ، یہ فرمان خداوندی ے کہ تم بدی اور گناہ کے خلاف لڑتے ہو تو اسے جہاد کہتے ہیںجو ہم سب پر فرض کر دیا گیا ہے ۔ کیا تم نے نہیں سنا کہ اسلام تلوار کے زور سے نہیں بلکہ پیار کے زور سے پھیلا ہے ؟ جہاد کی شکل بعد میں آکر بگڑی ہے اور یہ انہوں نے بگاڑی ہے جو بادشاہی کے دلدادہ ہیں۔ عیسائی بھی دوسروں کے ملکوں کو اپنی سلطنت بنانے کے لیے جنگ و جدل کو مقدس جنگ کہتے ہیں اور مسلمان بھی اسی ارادے سے قتل و غارت کو جہاد کہتے ہیں ۔ یہ صرف حکومتیں اور بادشاہیاں قائم کرنے کے ڈھنگ ہیں ۔ لوگوں کو مذہب کے نام بھڑکاکر لڑایا جاتا ہے اور اس طرح بادشاہوں کی بنیادیں مضبوط کی جاتی ہیں ''۔

''تو کیا امیر مصر صلاح الدین ایوبی ہمیں گمراہ کرکے لڑا رہا ہے ؟''اس آدمی نے پوچھا جس نے جہاد کا صحیح مطلب سمجھنا چاہا تھا ۔

''نہیں !''عالم نے جوا ب دیا ۔ ''صلاح الدین ایوبی پر اللہ کی رحمت ہو ۔ ا سے بڑوں نے جو بتایا ہے وہ سچے مسلمان کی حیثیت سے پوری نیک نیتی سے اس پر عمل کر رہاہے۔ اس کے دل میں عیسائیوں کے خلاف نفرت ڈالی گئی ہے ۔ وہ اس کے مطابق عمل کر رہاہے ذرا غور کروکہ عیسائی اور مسلمان میں کیا فرق ہے۔ دونوں کانبی مشترک ہے۔ آگے آکر ذرا اختلاف پیدا ہوگیا ہے ۔ حضرت موسیٰ محبت اور امن کا پیغام لائے تھے۔ ہمارے رسول صلی اللہ علی وسلم بھی محبت کا پیغام دے گئے ہیں۔ پھر تلوار اور زرہ بکتر کہاں سے آگئی ؟ یہ ان لوگوں کی لائی ہوئی چیزیں ہیں جو خدا کی اتنی پیاری زمین پر جس پر صرف اسی کی ذات باری کی حکمرانی ہے ، وہ اپنی حکومت قائم کرتے اور خدا کے بندوں کو اپناغلام بناتے ہیں ……میںامیر مصر کے دربار میں حاضری دوں گا اور اس کی خدمت اقدس میں جہاد کا صحیح نقطہ واضح کروں گا ۔ امیر مصر صلاح الدین ایوبی نے صحیح جہاد شروع کر رکھا ہے جو جہالت اور بے علمی کے خلاف ہے ۔اس نے خطبے سے خلیفہ کا نام نکال کر بہت بڑاجہاد کیا ہے۔ اس نے مدرسے کھول کر بھی جہاد کیا ہے لیکن مدرسوں میں یہ خرابی ہے کہ جہاں مذہب اور معاشرت کی تعلیم دی جاتی ہے وہاں عسکری تربیت بھی دی جاتی ہے ۔ بچوں کو خدا کے نام پر غارت گری کے سبق دئیے جاتے ہیں ۔ انہیں تیغ زنی اور تیر اندازی سکھائی جاتی ہے ۔ جب تم اپنے بچوں کے ہاتھوں میں تلوار اور تیر کمان دو گے تو انہیں یہ بھی بتائو گے کہ ان سے وہ کیسے ہلاک کریں ۔ ظاہر ہے کہ تم انہیں کچھ انسان دکھائو گے اور کہو گے کہ وہ تمہارے دشمن ہیں انہیں ہلاک کردو ''۔

عالم کی آواز میں ایسا تاثر تھا اور اس کے دلائل میں اتنی کشش تھی کہ سننے والے مسحور ہوتے جارہے تھے ۔ اس نے کہا ……''اپنے بچوں کو دوزخ کی آگ سے بچائو۔ ان کے ساتھ تم بھی دوزخ میںجائو گے کیونکہ اپنے بچوں کو غلط راستے میںڈالنے والے تم تھے ۔ تمہیں جنت میں اپنے بادشاہ اورفوجوں کے سالارنہیں لے جائیں گے، پیش امام اور وہ عالم دین لے جائیں گے جن کے ہاتھ میں مذہب اور علم کی قندیل تھی ۔ تم دنیا میں ان کے پیچھے چلو گے تو وہ روز قیامت بھی تمہیں اپنے پیچھے جنت میں لے جائیں گے۔ روز قیامت جس کے ہاتھ انسان کے خون سے لال ہوں گے اسے ساری عمر کے اچھے اعمال اور ساری عمر کی نمازوں کے باوجود دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ ایک نقطہ اور سمجھ لو ۔ تم زکوٰ ة کو بیت المال کو دیتے ہو۔ بیت المال وقت کا حاکم ہوتا ہے۔ زکوٰ ة غریبوں اور ناداروں کا حق ہے ۔ حاکم وقت غریب اورنادار نہیں ہوتا۔ تمہاری زکوٰة جو بیت المال میں جاتی ہے اس سے گھوڑے اور ہتھیار خریدے جاتے ہیں جو انسانوں کو ہلاک کرنے کے کام آتے ہیں ۔لہٰذا جو فرض ادا کر کے تم جنت میں جاسکتے ہو وہ فرض اداکرکے بھی تم دوزخ میں ٹھکانا بناتے ہو۔ لہٰذا زکوٰة بیت المال میں نہ دو ''۔

عالم نے موضوع بدلا اورکہا ……''بہت سی باتیں عام ذہن کے انسانوں کی سمجھ میں نہیں آتیں ۔ انہیں بتاتا بھی کوئی نہیں ۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ تمہارے اندرایک حیوانی جذبہ ہے؟ کیا تم عورت کی ضرورت محسوس نہیں کرتے؟ کیا یہی جذبہ نہیں جو تمہیں بدکاری کے اڈوں پر لے جاتا ہے ؟……یہ جذبہ خدا نے خود پیدا کیا ہے ۔ یہ کسی انسان کا پیدا کردہ نہیں ۔ تم اس تسکین کر سکتے ہو۔ اسی لیے تمہیں خدا نے حکم دیا ہے کہ بیک وقت گھر میں چار بیویاں رکھو۔ اگر تم غریب ہو اور ایک بیوی بھی نہیں لا سکتے تو کسی عورت کو اجرت دے کر اس حیوانی جذبے کی تسکین کر سکتے ہو جو تم میں خدانے پیدا کیا ہے اور انسان اسی جذبے کی پیداوار ہے ،مگر بدی سے بچو۔ایک ایک دو دو، تین تین ، چار چار بیویاں گھر میں رکھو۔ ان بیویوں کو اور اپنی بیٹیوں کو گھروں میں چھپا کر رکھو۔ میں دیکھ رہاہوں کہ جوان لڑکیوں کو بھی عسکری تربیت دی جارہی ہے اور انہیں بھی گھوڑ سواری اور شتری سواری سکھائی جا رہی ہے۔ زنانہ مدرسوں میں انہیں زخمیوں کی مرہم پٹی اور انہیں سنبھالنے کے طریقے سکھائے جارہے ہیں تا کہ وہ میدانِ جنگ کے زخمیوں کو سنبھالیں اور اگر ضرورت پڑے تو لڑیں بھی ……یہ ایک بدعت ہے۔ اپنی لڑکیوں کو اس بدعت سے بچائو ۔ یہ باتیں اپنے ان دوستوں اور پڑوسیوں کو بھی سنائو جو مسجد میں نہیں آتے ۔ خدا کے احکام اور کارناموں میں مت دخل دو۔ یہ بہت بڑا گناہ ہے.عالم نے درس ختم کیا تو مامعین جن کی تعداد اتنی ہو گئی تھی کہ بہت سے لوگ پیچھے کھڑے تھے ، مسجد میں بیٹھنے کو جگہ نہ تھی ، اُٹھ کر عالم سے ہاتھ ملانے اور جانے لگے۔ بعض نے اس کے ہاتھ چومے ۔ جھک کر مصافحہ تو ہر کسی نے کیا ۔ ایک ایک کر کے سب لوگ چلے گئے۔ صرف دو آدمی عالم کے سامنے بیٹھے رہے۔ ان میں سے ایک وہ آدمی تھا جس نے کہا تھا کہ مجھے جہاد کے متعلق بتائیے ۔ اس آدمی نے لمبا چغہ پہن رکھا تھا ۔ سر پر چھوٹی سی پگڑی اور اس پر چوڑا پھولدار رومال پڑا ہواتھا ۔ اس کی داڑھی لمبی اور سیاہ اور مونچھیں گھنی تھیں۔ لباس سے وہ درمیانہ درجے کا آدمی معلوم ہوتا تھا ۔ اس کی ایک آنکھ پر ہرے رنگ کا پٹی نماکپڑا تھا جو دودھاگوں کی مدد سیاس کے سر کے ساتھ بندھا تھا ۔ اس کپڑے نے اس کی ایک آنکھ ڈھانپ رکھی تھی ۔ عالم کے پوچھنے پر اس نے بتایا تھا کہ اس کی یہ آنکھ خراب ہے ۔ دوسرے آدمی کا لباس بھی معمولی سا تھا۔ اس کی بھی داڑھی لمبی اور گھنی تھی ۔ مسجد میں عالم کے پاس یہی دو آدمی رہ گئے تھے۔ ان کے ساتھ چھ اور آدمی تھے جوجہاد کا درس لینے آئے تھے ۔ وہ مسجد کے دروازے کے باہر کھڑے تھے ۔ شاید اپنے ساتھیوں کے انتظار میں تھے ۔

''کیوں تمہارا شک ابھی رفع نہیں ہوا؟''……عالم نے مسکرا کر ان دونوں سے پوچھا ۔

''میرا خیال ہے شک رفع ہوگیا ہے ''۔ آنکھ کی ہری پٹی والے نے جوا ب دیا ۔ ''ہم شاید آپ ہی کی تلاش میں ہیں ۔ ہم نے آدھا مصر چھان مارا ہے ۔ ہمیں مسجد کا محل و قوع اور نشانیاں غلط بتائی گئی تھیں''۔

''کیا آدھے مصر میں تمہیں مجھ سے بہتر کوئی عالم نہیں ملا ؟''

''تلاش جو صرف آپ کی تھی ''۔اس آدمی نے جواب دیا ……''کیا ہم صحیح جگہ آگئے ہیں ؟ آپ کا درس بتاتا ہے کہ ہم آپ کی ہی تلاش میں تھے ''۔

عالم نے باہرکی طرف دیکھا اور بے توجہی کے اندازسے بولا ……''معلوم نہیں موسم کیسا رہے گا !''

''بارش آئے گی ''۔ہری پٹی والے نے جواب دیا ۔

''آسمان بالکل صاف ہے ''عالم نے کہا ۔

''ہم گھٹائیں لائیں گے ''۔ہری پٹی والے نے کہا اور قہقہہ لگایا ۔

عالم مسکرایا اور رازداری سے پوچھا ۔''کہاں سے آئے ہو؟''

''ایک مہینے سے ہم سکندریہ میں تھے ''۔اس آدمی نے جواب دیا ۔ ''اس سے پہلے شوبک میں تھے ''۔

''مسلمان ہو ؟''

''فدائی ''۔ہری پٹی والے نے کہا ……''ابھی مسلمان ہی سمجھو ''…… اور وہ اپنے ساتھی کے ساتھ بڑی زور سے ہنسا ۔

''میں آپ کو اس فن کا استاد مانتا ہوں ''۔دوسرے نے عالم سے کہا ……''مجھے بالکل یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ آپ ہیں ۔ آپ ناکام نہیں ہو سکتے ''۔

''اور کامیابی آسان بھی نہیں ''۔ عالم نے کہا ۔ ''صلاح الدین ایوبی کوشاید تم نہیں جانتے ۔ بے شک میں نے ان تمام لوگوں کے دلوں میں جہاد اور اس کے متعلق اسلامی نظریات کے خلاف شکوک پیدا کر دئیے ہیںلیکن صلاح الدین ایوبی نے جو مدرسے کھولے ہیں وہ شاید ہماری کوششوں کو آسانی سے کامیاب نہ ہونے دیں ۔

اس نے پوچھا۔ ''تم نے مجھے یہ کیوں کہاں تھا کہ میں جہاد پر درس دوں ؟''

''شوبک میں ہمیں یہ بتایا گیا تھا کہ آپ کی سب سے بڑی نشانی یہی ہے ''…… ہری پٹی والے نے جواب دیا ……''یہ تمام الفاظ جو آپ نے درس میں بولے ہیں ہمیں وہاں بتائے گئے تھے ۔ ہمیں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ آپ جہاد کے بعد جنسی جذبے کا ذکر ضرور کریں گے۔ آپ نے اپنا سبق بڑی محنت سے یاد کیا ہے .

عالم نے درس ختم کیا تو مامعین جن کی تعداد اتنی ہو گئی تھی کہ بہت سے لوگ پیچھے کھڑے تھے ، مسجد میں بیٹھنے کو جگہ نہ تھی ، اُٹھ کر عالم سے ہاتھ ملانے اور جانے لگے۔ بعض نے اس کے ہاتھ چومے ۔ جھک کر مصافحہ تو ہر کسی نے کیا ۔ ایک ایک کر کے سب لوگ چلے گئے۔ صرف دو آدمی عالم کے سامنے بیٹھے رہے۔ ان میں سے ایک وہ آدمی تھا جس نے کہا تھا کہ مجھے جہاد کے متعلق بتائیے ۔ اس آدمی نے لمبا چغہ پہن رکھا تھا ۔ سر پر چھوٹی سی پگڑی اور اس پر چوڑا پھولدار رومال پڑا ہواتھا ۔ اس کی داڑھی لمبی اور سیاہ اور مونچھیں گھنی تھیں۔ لباس سے وہ درمیانہ درجے کا آدمی معلوم ہوتا تھا ۔ اس کی ایک آنکھ پر ہرے رنگ کا پٹی نماکپڑا تھا جو دودھاگوں کی مدد سیاس کے سر کے ساتھ بندھا تھا ۔ اس کپڑے نے اس کی ایک آنکھ ڈھانپ رکھی تھی ۔ عالم کے پوچھنے پر اس نے بتایا تھا کہ اس کی یہ آنکھ خراب ہے ۔ دوسرے آدمی کا لباس بھی معمولی سا تھا۔ اس کی بھی داڑھی لمبی اور گھنی تھی ۔ مسجد میں عالم کے پاس یہی دو آدمی رہ گئے تھے۔ ان کے ساتھ چھ اور آدمی تھے جوجہاد کا درس لینے آئے تھے ۔ وہ مسجد کے دروازے کے باہر کھڑے تھے ۔ شاید اپنے ساتھیوں کے انتظار میں تھے ۔

''کیوں تمہارا شک ابھی رفع نہیں ہوا؟''……عالم نے مسکرا کر ان دونوں سے پوچھا ۔

''میرا خیال ہے شک رفع ہوگیا ہے ''۔ آنکھ کی ہری پٹی والے نے جوا ب دیا ۔ ''ہم شاید آپ ہی کی تلاش میں ہیں ۔ ہم نے آدھا مصر چھان مارا ہے ۔ ہمیں مسجد کا محل و قوع اور نشانیاں غلط بتائی گئی تھیں''۔

''کیا آدھے مصر میں تمہیں مجھ سے بہتر کوئی عالم نہیں ملا ؟''

''تلاش جو صرف آپ کی تھی ''۔اس آدمی نے جواب دیا ……''کیا ہم صحیح جگہ آگئے ہیں ؟ آپ کا درس بتاتا ہے کہ ہم آپ کی ہی تلاش میں تھے ''۔

عالم نے باہرکی طرف دیکھا اور بے توجہی کے اندازسے بولا ……''معلوم نہیں موسم کیسا رہے گا !''

''بارش آئے گی ''۔ہری پٹی والے نے جواب دیا ۔

''آسمان بالکل صاف ہے ''عالم نے کہا ۔

''ہم گھٹائیں لائیں گے ''۔ہری پٹی والے نے کہا اور قہقہہ لگایا ۔

عالم مسکرایا اور رازداری سے پوچھا ۔''کہاں سے آئے ہو؟''

''ایک مہینے سے ہم سکندریہ میں تھے ''۔اس آدمی نے جواب دیا ۔ ''اس سے پہلے شوبک میں تھے ''۔

''مسلمان ہو ؟''

''فدائی ''۔ہری پٹی والے نے کہا ……''ابھی مسلمان ہی سمجھو ''…… اور وہ اپنے ساتھی کے ساتھ بڑی زور سے ہنسا ۔

''میں آپ کو اس فن کا استاد مانتا ہوں ''۔دوسرے نے عالم سے کہا ……''مجھے بالکل یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ آپ ہیں ۔ آپ ناکام نہیں ہو سکتے ''۔

''اور کامیابی آسان بھی نہیں ''۔ عالم نے کہا ۔ ''صلاح الدین ایوبی کوشاید تم نہیں جانتے ۔ بے شک میں نے ان تمام لوگوں کے دلوں میں جہاد اور اس کے متعلق اسلامی نظریات کے خلاف شکوک پیدا کر دئیے ہیںلیکن صلاح الدین ایوبی نے جو مدرسے کھولے ہیں وہ شاید ہماری کوششوں کو آسانی سے کامیاب نہ ہونے دیں ۔

اس نے پوچھا۔ ''تم نے مجھے یہ کیوں کہاں تھا کہ میں جہاد پر درس دوں ؟''

''شوبک میں ہمیں یہ بتایا گیا تھا کہ آپ کی سب سے بڑی نشانی یہی ہے ''…… ہری پٹی والے نے جواب دیا ……''یہ تمام الفاظ جو آپ نے درس میں بولے ہیں ہمیں وہاں بتائے گئے تھے ۔ ہمیں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ آپ جہاد کے بعد جنسی جذبے کا ذکر ضرور کریں گے۔ آپ نے اپنا سبق بڑی محنت سے یاد کیا ہے ''۔

''میرا نام کیا ہے''؟عالم نے پوچھا۔

''کیا آپ ہمارا امتحان لینا چاہتے ہیں ؟…… اس آدمی نے جواب دیا ۔''کیا آپ کو ہم پر شک ہے؟ہمیں ایک دوسرے کا نام نہیں صرف نشانیاں بتائی جاتی ہیں ''۔

''تم کس کام سے آئے ہو ؟''……عالم نے پوچھا ۔

''فدائی کس کام سے آیا کرتے ہیں ؟''……ہری پٹی والے نے پوچھا ۔

''تمہیں میرے پاس کیوں بھیجا گیا ہے ؟''……عالم نے کہا ۔

''ایک اونٹنی کے لیے ''۔اس آدمی نے جواب دیا……''آپ کے پاس دو ہیں ۔ ہمیں آپ کے پاس نہ بھیجا جاتا مگر آپ کو اطلاع مل گئی ہو گی کہ صلاح الدین ایوبی کے ایک نائب سالار رجب کے ساتھ شوبک سے تین اونٹنیاں روانہ کی گئی تھیں ۔ ان میں سے ایک ہمارے مقصد کے لیے تھی مگر معلوم نہیں کہ کیا ہوا کہ تینوں ماری گئی ہیں ۔ رجب کی کھوپڑی اور ایک سب سے زیادہ خوبصورت اونٹنی صلاح الدین کے پاس پہنچ گئی اوروہ بھی ختم ہوگئی ''۔

''ہاں ''……عالم نے آہ بھر کر کہا ……''ہمیں بہت بڑا نقصان ہوا ہے …… صلاح الدین ایوبی کا ایک بڑا ہی کارآمد سالار جو ہمارے قبضے میں تھا ، جلاد کی نذر ہوگیا …… اندر چلو …… یہ جگہ محفوظ نہیں ہے ''۔

وہ دونوں عالم کے ساتھ اُٹھے اور باہر نکل گئے ۔ باہر جو چھ آدمی کھڑے تھے وہ اندھیرے میں بکھر گئے ۔

٭ ٭ ٭

وہ اب عالم کے گھر میں داخل ہوئے ۔ صاف ستھرا گھر تھا ۔ کئی کمرے تھے ۔ دو تین کمروں میں سے گزر کر وہ ایسے کمرے میں چلے گئے جو زمین پر ہی تھا لیکن زیر زمین معلوم ہوتا تھا ۔ اس کے سامنے کوڑا کباڑ بکھرا ہوا تھا ۔ دروازے کے باہر تالا لگا ہوا تھا ۔ صاف پتہ چلتا تھا کہ یہ دروازہ برسوں سے نہیں کھولا گیا اور کھولا بھی نہیں جائے گا ۔ ایغ پہلو میں کھڑکی تھی ۔ اسے ہاتھ لگایا تو کھل گئی ۔ عالم اندر گیا ۔ اس کے پیچھے یہ دونوں آدمی اندر چلے گئے ۔ اندر سے کمرہ خوب سجا ہوا تھا ۔ دیوار کے ساتھ سنہری صلیب لٹک رہی تھی ۔ اس کے ایک طرف حضرت عیسٰی کی دستی تصویر اور دوسری طرف حضرت مریم کی تصویر تھی ۔ عالم نے کہا ……''یہ میرا گرجا ہے اور پناہ گا ہ بھی ''۔

''خطرے کی صورت میں آپ کے پاس کیا انتظام ہے ؟''آنکھ کی ہری پٹی والے نے پوچھا اور مشورہ دیا ……''آپ کو صلیب اور یہ تصویریں اس طرح سامنے نہیں رکھنی چاہیے ''۔

''یہاں تک کسی کے آنے کا خطرہ نہیں ''۔ عالم نے جواب دیا اور ہنس کر کہا …… ''مسلمان بڑی سیدھی اور جذباتی قوم ہے ۔ یہ قوم جذباتی الفاظ اور سنسنی خیز دلائل پر مرتی ہے ۔ جنس انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ میں ان لوگوں میں یہ کمزوری اُبھار رہا ہوں ۔ انہیں یہ سبق دے رہا ہوں کہ چار شادیاں فرض ہیں ۔ آہستہ آہستہ انہیں بدکاری کی طرف راغب کر رہا ہوں ۔ مذہب کے نام پر تم مسلمان سے بدی بھی کرا سکتے ہو نیکی بھی ۔ ہاتھ میں قرآن رکھ کر بات کرو تو یہ لوگ احمقانہ باتوں کے بھی قائل ہو جاتے ہیں اور جھوٹ کو بھی سچ مان لیتے ہیں ۔ میرا تجربہ کامیاب ہے۔ میں یہاں اپنے جیسا ایک گروہ پیدا کر لوں گا جو مسجد میں بیٹھ کر اور قرآن مجید ہاتھ میں لے کر ان لوگوں کے جذبہ جہاد کو اور کردار کو قتل کردے گا ۔ عورت کے متعلق میں ان لوگوں کے نظریات بدل رہا ہوں ۔ صلاح الدین ایوبی نے عورتوں کو بھی عسکری تربیت دینی شروع کر دی ہے ۔ میں انہیں بتا رہا ہوں کہ عورت کو گھر میں قید رکھو ۔ میں اس قوم کی نصف آبادی کو بیکار کردوں گا ''۔

''فوج کے خلاف نفرت پیدا کرنا ضروری ہے ''۔ہری پٹی والے کے ساتھی نے کہا …… ''صلاح الدین ایوبی نے یہی کمال کر دکھایا ہے کہ قوم اور فوج کو ایک کر دیا ہے ۔ وہ اس وقت اعلان کر دے کہ یروشلم فتح کرنا ہے تو مصر کی ساری آبادی اس کے ساتھ چل پڑے گی ''۔

''لیکن وہ ایسا اعلان نہیں کرے گا ''۔عالم نے کہا ……وہ دانشمند ہے ۔ وہ جذباتی لوگوں کو پسند نہیں کرتا۔ وہ صرف ایک تربیت یافتہ سپاہی کو ایک سو غیر تربیت یافتہ جوشیلے آدمیوں پر ترجیح دیتا ہے ۔ وہ کھوکھلے نعروں سے قوم کو بھڑکاتا نہیں ۔ حقیقت کی بات کرتا ہے ۔ یہ ہمارا کام ہے کہ اس کی قوم کو حقیقت اور تربیت سے دور رکھیں اور اسے جذباتی بنادیں ۔ اس قوم میں شعور کی بجائے جوش رہ جائے ۔ وہ جو ش جس میں حقیقت پسندی اور دانشمندی نہ ہو ، دشمن کے پہلے تیر سے ہی ٹھنڈا پڑ جاتا ہے ۔ خواہ تیر قریب سے گزر جائے ۔ ہم ان میں صرف جوش رہنے دیں گے ۔ تم نے سنا ہے کہ میں اپنے درس میں صلا ح الدین ایوبی کی بہت تعریفیں کر رہا تھا ''۔

''یہ باتیں تو ہم بعد میں کر لیں گے ''۔اس آدمی نے جواب دیا …… ''دونوں اونٹنیاں دکھا دیں اور یہ بتائیں کہ ہمیں یہاں کس وقت اور کس طرح پناہ مل سکتی ہے اور یہاں اپنا کوئی اور آدمی رہتا ہے یانہیں ''۔

''نہیں !''……عالم نے جواب دیا …… ''یہاں اورکوئی نہیں رہتا ''۔

ان کے درمیان کوئی شک و شبہ نہیں رہا تھا ۔ وہ خفیہ الفاظ میں ایک دوسرے کو پہچان چکے تھے ۔ عالم کمرے سے نکل گیا ۔ واپس آیا تو اس کے ساتھ دو بڑی ہی خوبصورت اور جوان لڑکیاں تھیں ۔ یہی وہ دو لڑکیاں تھیں جن کے متعلق اس نے لوگوں کو بتایا تھا کہ اس کی بیویاں ہیں۔ انہیں وہ سر سے پائوں تک برقعے میں چھپا کر لایا تھا ۔ مگر ان دو آدمیوں کے سامنے وہ بے پردہ آئیں ۔ عالم نے ان کا تعارف دونوں آدمیوں سے کرایا اور الماری میں سے شراب کی بوتل نکا لی ۔ ایک لڑکی گلاس لے آئی ۔ شراب گلاسوں میں ڈالی گئی ۔ ان دونوں آدمیوں نے شراب ہاتھ کو نہ لگایا۔

''پہلے کام کی باتیں کر لیں ''۔ ہری پٹی والے نے کہا ۔

''ہمیں دو آدمیوں کو قتل کرنا ہے ''۔ دوسرے نے کہا ……''صلاح الدین ایوبی کو اور علی بن سفیان کو ۔ ہماری مجبوری یہ ہے کہ ہم نے دونوں آدمیوں کو نہیں دیکھا ہمیں دونوں آدمی دکھا دیں ۔ کیا آپ نے انہیں دیکھا ہے ؟''

''اتنا دیکھا ہے کہ دونوں کو اندھیرے میں بھی پہچان سکتا ہوں ''۔عالم نے کہا …… ''میں نے جو مہم شروع کر رکھی ہے اس کے لیے ضروری تھا کو دونوں کو اچھی طرح پہچان لوں ۔ علی بن سفیان اتنا ذہین اور گھاگ ہے کہ اپنے کسی جاسوس کو یہاں بھیجنے کی بجائے خود یہاں آ سکتا ہے ۔ اگر وہ بھیس بدل کر میرے سامنے آئے تو بھی اسے پہچان لوں گا ''۔

''اور صلاح الدین ایوبی کے متعلق کیا خیال ہے ؟''…… ہری پٹی والے نے کہا ۔

''اسے بھی خوب پہچانتا ہوں ''۔عالم نے جواب دیا۔

ہری پٹی والے نے اپنے دونوں ہاتھ اپنی کنپٹیوں پر رکھے۔ داڑھی کو پکڑا اور ہاتھوں کو نیچے کو جھٹکا دیا ۔ اس لمبی داڑھی اور گھنی مونچھیں اس کے چہرے سے الگ ہوگئیں ۔ پیچھے چھوٹی سی داڑھی رہ گئی جو نہایت اچھی طرح تراشی ہوئی تھی ۔ مونچھیں بھی تراشیدہ تھیں ۔ لمبی داڑھی اور گھنی مونچھیں مصنوعی تھیں ۔جو اب اس نے ہاتھ میں لے رکھی تھیں۔ اس نے آنکھ سے ہری پٹی بھی نوچ کرپرے پھینک دی ۔ عالم جہاں تھا وہیں بت بن گیا ۔ اس کی آنکھیں ٹھہر گئیں اور اس کا منہ کھل گیا ۔ دونوں لڑکیاں حیران و ششدر کبھی اس آدمی کو دیکھتیں جس نے اپنا بہروپ اتار دیا تھا ، کبھی عالم کو دیکھتیں جس کا رنگ لاش کی طرح کا ہو گیا تھا ۔ عالم کے منہ سے حیرت اور گھبراہٹ میں ڈوبی ہوئی سرگوشی نکلی …… ''صلاح الد ین ایوبی ؟''

''ہاں دوست !''اسے جواب ملا …… ''میں صلاح الدین ایوبی ہوں ۔ تمہاری شہرت سن کر تمہارا درست سننے آیا تھا ''…… سلطان ایوبی نے اپنے ساتھی کی داڑھی کو مٹھی میں لے کر جھٹکا دیا تواس کی داڑھی چہرے سے الگ ہوگئی ۔ اس نے عالم سے کہا …… ''آپ اسے بھی پہچانتے ہوں گے ؟''

''پہچانتا ہوں ''عالم نے ہارے ہوئے لہجے میں کہا …… ''علی بن سفیان ''۔

علی بن سفیان کی صرف تھوڑی پر داڑھی تھی ۔ اچانک لڑکیاں اور عالم پیچھے کو دوڑے اور الماری میں سے چھرا نما تلواریں نکال لیں ۔ مگر ادھر کو گھومے تو ان کی تلواریں جھک گئیں کیونکہ صلاح الدین ایوبی اور علی بن سفیان نے چغوں کے اندر سے اسی قسم کی تلواریں نکال لیں تھیں ۔ لڑکیوں کو تیغ زنی کی مشق تو کرائی گئی تھی لیکن دو پشہ ور تیغ زنوں کے مقابلے میں نہ آسکیں ۔ ان سے تلواریں رکھوا لی گئیں ۔ علی بن سفیان باہر نکل گیا۔ ذرا سی دیر میںچھ آدمی جو باہر کھڑے تھے اسی سائز کی تلواریں سونتے کھڑکی میں سے کود کر آگئے ۔

دوسرے دن مسجد کے سامنے اس علاقے کے لوگوں کا ہجوم تھا۔ وہاں چند ایک سرکاری اہل کار بھی تھے جو لوگوں کو باری باری عالم کے اس خفیہ کمرے میں لے جا رہے تھے جہاں صلیب ، حضرت عیسٰی اور حضرت مریم کی تصویریں آویزاں تھیں ۔ لوگوں کو شراب کی بوتلیں بھی دکھائی گئیں ۔ اہل کار لوگوں کو عالم کی اصلیت بتا رہے تھے اور وہ جہاد کا جو نظریہ پیش کرتا رہتاتھا ، اس کی وضاحت کر رہے تھے

سلطان ایوبی کی ہدایت پر علی بن سفیان نے سارے ملک میں جاسوسوں کا جا بچھا دیا تھا کیونکہ یہ ثابت ہوگیا تھا کہ ملک میں ، خصوصاً قاہر ہ میں صلیبیوں نے بہت سے جاسوس اور تخریب کار بھیج دئیے ہیں ۔ صلیبیوں نے مسلمانوں کے کردار کشی کی جو زمین دوز مہم چلائی تھی وہ سلطان ایوبی کو زیادہ پریشان کر رہی تھی۔ اسے جب علی بن سفیان نے اطلاع دی تھی کہ ایک مسجد کا پیش امام ہر رات درس دیتا ہے اور اسلامی نظریات کا بگاڑ کر پیش کر رہا ہے تو سلطان ایوبی نے فوراً ہی یہ حکم نہیں دیا تھا کہ اس عالم کو گرفتار کر لو ۔ اس نے کہا تھا …… ''علی ! مذہب میں فرقہ بندی شروع ہوگئی ہے ۔ یہ پیش امام کسی فرقے کا ہوگا ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ قرآن کی اپنی تفسیریں پیش کر رہا ہو۔ میں مذہب میں دخل نہیں دینا چاہتا ۔ میں حاکم ہوں عالم نہیں ہوں۔ اگر تم سمجھتے ہو کہ وہ کوئی تخریب کار ہے ، تو گرفتاری سے پہلے اچھی طرح چھان بین کر لو ۔ پیش امام کا درجہ مجھ سے بہت زیادہ بلندہے ''۔

علی بن سفیان خود اس مسجد میں درس سننے نہیں گیا تھا کیونکہ اسے شک تھا کہ اگر یہ پیش امام واقعی دشمن کا بھیجا ہوا تخریب کا ر ہے تو اسے پہچانتا ہوگا۔ اس نے اپنے ذہین سراغرساں مسجد میں بھیجے تھے ۔ جو دس بارہ مرتبہ وہاں گئے اور انہوں نے جو درس سنے وہ من وعن علی بن سفیان کو سنادئیے۔ آخر ایک رات اس صلیبی ''عالم'' نے جہاد پر درس دیا اور تاویل یہ پیش کی جو صلاح الدین ایوبی نے بھی سنی ۔ سراغرسانوں نے یہ درس علی بن سفیان کو سنایا تو کوئی شک نہ رہا ۔ علی نے سلطان ایوبی کو بتایا اور یہ رائے دی کہ اگر یہ شخص صلیبیوں کا جاسوس اور تخریب کار نہیں تو بھی اسے پکڑنا یا روکنا ضروری ہے کیونکہ وہ جہاد کا ایسا نظریہ پیش کر رہا ہے جو صرف وہ آدمی پیش کر سکتا ہے جو دشمن کا آدمی ہو یا اس کا دماغ چل گیا ہو ۔

سلطان ایوبی نے یہ رپورٹ بڑی ہی غور سے سنی اور کہا کہ معاملہ بہر حال مذہب، مسجد اور پیش امام کا ہے ۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ علی بن سفیان کے ساتھ خود بہروپ میں درس سننے جائے گا اور خود یقین کرے گا کہ پیش امام کی نیت اور اصلیت کیا ہے ۔ جہاد کے ساتھ حیوانی جذبے کے ذکر نے سلطان ایوبی کے کان کھڑے کر دئیے تھے ۔ اس نے علی بن سفیان سے ساتھ صلاح مشورہ کر کے یہ بہروپ تیار کرایا تھا جس میں رو مسجد میں گئے تھے ۔

علی بن سفیان جاسوسی اور جاسوسی کے خلاف دفاع کے فن کا ماہر تھا ۔ اس نے سلطان ایوبی کو اپنی ایک اور کامیابی سے آگاہ کر دیا تھا ۔ وہ یہ تھی کہ فیض الفاطمی کو جس صلیبی لڑکی نے موقعہ پر گرفتار کرایا اور احمد کمال کے نام کے ایک کماندار کی خاطر اسلام قبول کرنے اور اس کے ساتھ شادی کرنے کی خواہش ظاہر کی مگر ماری گئی تھی ۔ اس نے وہ خفیہ الفاظ اور اشارے بتائے تھے جو صلیبی جاسوس ایک دوسرے کو پہچاننے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اس کی نشاندہی پر چند یک مسلمان بھی پکڑے گئے تھے جو صلیبیوں سے زر و جواہرات اور خوبصورت لڑکیاں لے کر ان کے لیے جاسوسی کرتے تھے ۔ انہوں نے بھی علی بن سفیان کے تہہ خانے میں تصدیق کی تھی کہ یہ الفاظ اور اشارے استعمال ہوتے ہیں ۔ اشارے یہ تھے کہ جاسوس جو ایک دوسرے سے پہلی بار ملتے اور ایک دوسرے کے متعلق یقین کرنا چاہتے تھے ان میں سے ایک آسمان کی طرف دیکھ کر کہتا تھا ……''معلوم نہیں موسم کیسا رہے گا ''…… وہ ایسی بے پروائی کے سے لہجے میں کہتا تھا جیسے یونہی اسے موسم کا خیا ل آگیا ہو۔

دوسرا کہتا تھا ……''بارش آئے گی''…… اسے جواب ملتا تھا ۔ ''آسمان بالکل صاف ہے ''…… دوسرا کہتا تھا ……''ہم گھٹائیں لائیں گے''……اور وہ قہقہہ لگاتا تھا ۔ قہقہے کی ضرورت یہ ہوتی تھی کہ یہ مکالمہ کوئی اور سن لے یا دوسرا آدمی جاسوس نہ ہو تو وہ سمجھے کہ اس آدمی نے مذاق کیا ہے ۔ علی بن سفیان کو بتایا گیا تھا کہ یہ خفیہ مکالمہ اس وقت بولا جائے گا جب یہ ظاہر ہوجائے گا ۔دوسری بات جو علی بن سفیان نے معلوم کی تھی وہ یہی تھی کہ جاسوس ایک دوسرے کو اپنا نام نہیں بتاتے تھے ۔ ان کا ہیڈ کوارٹر فلسطین کا ایک قصبہ شوبک تھا جو ایک قلعہ تھا ۔ یہ صلیبیوں کا جاسوسی کا مرکز تھا ۔

ان انکشافات کے سہارے سلطان ایوبی اور علی بن سفیان بہروپ میں مسجد میں چلے گئے ۔ انہوں نے جہاد کے درس کی خواہش ظاہر کی تو عالم نے خواہش پوری کر دی ۔ پھر وہ اس کے پاس اکیلے رہ گئے اور ان خفیہ مکالموں کو بے نقاب کر دیا ۔ اس نے بعد میں بیان دیا تھا کہ وہ اتنا کچا جاسوس نہیں تھا کہ وہ اجنبی آدمیوں کے آگے اپنا آپ ظاہر کر دیتا۔ اسے نے ان خفیہ الفاظ نے پھنسایا ، کیونکہ یہ مکالمہ ہر ایک جاسوس کو بھی معلوم نہیں ہوتا ۔ یہ جاسوسوں کے اعلیٰ درجے کا مکاملہ ہے ۔ اس سے نیچے اس سے کوئی جاسوس واقف نہیں ہوتا ۔ اس مکالمے کے بعد کا قہقہہ خاص طور پر قابل ذکر تھا ۔ اس کے بغیر ایک دوسرے پر اپنا راز فاش نہیں کیا جاتا تھا ۔ سلطان ایوبی نے قہقہہ لگایا تھا ۔ وہ اپنے ساتھ چھ جانبازوں کو بھی لے
گیا تھا کہ بوقت ضرورت مدد دیں۔
 علی بن سفیان نے اس جاسوس کو اور دونوں لڑکیوں کو اپنے تہہ خانے میں بند کر دیا اور سب سے پہلے اس علاقے میں جا کر تفتیش کی کہ یہ شخص اس مسجد پر قابض کس طرح ہوا اور اسے سے پہلے وہ جس جھونپڑے میں رہتا تھا وہ اسے کس نے دیا تھا ۔ وہاں کے مختلف لوگوں نے جو بیان دئیے ان سے پتہ چلا کر یہ شخص دو بیویوں کے ساتھ اس آبادی میں آیا ۔ پہلے ایک آدمی کے گھر مہمان رہا ۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ یہ تو کوئی عالم فاضل ہے تو انہوں نے اسے جھونپڑا دے دیا ۔ وہ اس میں مسجد میں نماز پڑھنے جایا کرتا تھا۔ وہاں بہت مدت سے ایک پیش امام تھا ۔ یہ شخص پیش امام کا مرید بن گیا ۔ پندرہ سولہ روز بعد پیش امام نے مسجد میں پیٹ درد کی شکایت کی۔ یہ شکایت اتنی تیزی سے بڑھی کہ اس کے بعد پیش امام مسجد میں نہ آسکا ۔ حکیموں نے گھر جا کر دیکھا۔ دوائیاں دیں مگر و ہ تیسرے روز مر گیا ۔اس کے بعد اس عالم نے لوگوں سے بات کر کے مسجد سنبھال لی۔ اس نے ایسا تاثر پیدا کیا کہ لوگ اس کے عقیدت مند ہوگئے اور اس کی ضرورت کے مطابق اسے مکان دے دیا ۔
 علی بن سفیان کے پوچھنے پر لوگوں نے اسے بتا یا کہ انہوں نے کئی بار اس شخص کو پیش امام کے لیے کھانا لے جاتے دیکھا تھا ۔ علی بن سفیان جان گیا کہ پیش امام کو اس آدمی نے زہر دیا ہے اور اسے راستے سے ہٹا کر مسجد پر قبضہ کیا تھا ۔ اس جاسوس کے گھر کی تلاشی میں بہت سے ہتھیار برآمد ہوئے تھے۔ جو مختلف جگہوں میں چھپائے ہوئے تھے۔ وہاں زہر بھی برآمد ہوا ۔ وہ ایک کتے کو دیا گیا تو کتا تین دن بے چین رہا اور گرتا رہا اور اُٹھتا رہا ۔تیسرے دن شام کے بعد کتا مر گیا ۔
 علی بن سفیان نے اپنی تفتیش سلطان ایوبی کے آگے رکھی تو سلطان نے اسے کہا ……''ان تینوں کو قید میں خوب پریشان کرو اور انہیں خوفزدہ کیے رکھو ، لیکن میں انہیں جلاد کے حوالے نہیں کروں گا اور انہیں قید میں بھی نہیں ڈالوں گا ''۔
''پھر آپ کیا کریں گے ؟''…… علی بن سفیان نے پوچھا ۔
 ''میں انہیں حفاظت اور عزت سے واپس بھیج دوں گا ''۔ علی بن سفیان نے حیرت زدہ ہو کر سلطان ایوبی کے منہ کی طرف دیکھا ۔ سلطان نے کہا …… ''میں ایک جوا کھیلنا چاہتا ہوں علی ! ابھی مجھ سے کچھ نہ پوچھنا ۔ میں سوچ رہا ہوں کہ یہ بازی لگائوں یا نہیں '' …… اس نے ذرا توقف سے کہا …… ''کل دوپہر کے کھانے کے بعد نائب سالاروں، مشیروں ، اعلیٰ کمانداروں اور انتظامیہ کے ہر شعبے کے سربراہ کو میرے پاس لے آنا۔ تمہاری موجودگی بھی ضروری ہے '
 علی بن سفیان نے اس رات پہلی بار اس ''عالم '' سے تفتیش کی لیکن وہ بڑا سخت آدمی نکلا ۔ اس نے کہا …… ''غور سے میری بات سن لو علی بن سفیان ! ہم دونوں ایک ہی میدان کے سپاہی ہیں ۔ تم میرے ملک میں کبھی پکڑے گئے تو مجھے امید ہے کہ تم جان دے دو گے ، اپنے ملک اور اپنی قوم کو دھوکہ نہیں دوگے ۔ تم یہی توقع مجھ سے رکھو ۔ مجھے معلوم ہے میرا انجام کیا ہوگا ۔ اگر میں تمہیں وہ ساری باتیں بتادوں جو تم مجھ سے پوچھنا چاہتے ہو تو بھی تم لوگ مجھے بخشو گے نہیں۔ مجھے اس تہہ خانے میں مرنا ہے خواہ تم جلاد سے مروادو خواہ اذیت میں ڈال کر مار دو ۔ پھر میں کیوں اپنی قوم کو دھوکہ دوں ''۔
 '''مجھے امید ہے تم اپنا ارادہ بدل دو گے ' '…… علی بن سفیان نے کا …… ''کیا تم ان دو لڑکیوں کی عزت بچانے کی خاطر یہ پسند نہیں کرو گے کہ میں جو پوچھوں وہ مجھے بتا دو ؟''
 تم ''کیسی عزت؟''…… اس نے جوا ب دیا …… ''ان لڑکیوں کے پاس صرف حسن اور ناز نخرے ہیں یا وہ استادی ہے جس سے وہ پتھر کو بھی موم کر لیتی ہیں ۔ ان کے پاس عزت نام کی کوئی چیز نہیں ۔ یہی تو انہیں سکھلایا جا تا ہے کہ اپنی عزت سے دستبردار ہوجائو۔ ہم لوگ اپنی جان اور عزت بہت دور پھینک آتے ہیں۔ تم ان لڑکیوں کے ساتھ جیسا بھی سلوک کرنا چاہو کرلو ۔
 جاری ھے ،

No comments:

Post a Comment