صلاحُ الدین ایوبیؒ کے دور کےحقیقی واقعات کا سلسلہ
داستان ایمان فروشوں کی
قسط نمبر.21۔ "لڑکی جو فلسطین سے آئ تهی""
ــــــــــــــــــــــــــ
لیکن وہ فلاں مکان میں قید ہے جہاں سے اس نکالا جا سکتا ہے ۔ انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ وہ فیض الفاطمی کو رجب کا جھوٹا پیغام دیں کہ اس لڑکی کو بچائو اور اپنی کاروائیاں تیز کردو۔
ان جاسوسوں نے تین دنوں کے اندر فیض الفاطمی تک رسائی حاصل کر لی اور اس پر ثابت کر دیا کہ وہ اس کے زمین دوز گروہ کے افراد ہیں ۔ فیض الفاطمی کو یہ خطرہ بھی تھا کہ لڑکی چونکہ قیدمیں ہے اس لیے اذیت کے زیر اثر بتا دے گی کہ وہ بھی اس کے ساتھ ہے ۔ فیض الفاطمی کے لیے اپنا تحفظ ضروری تھا ۔ لہٰذا اس نے لڑکی کے اغوا کا منصوبہ بنایا۔ اس میں اس نے کماندر کو اپنے ساتھ رکھا ۔دو آدمی علی بن سفیان کے بھیجے ہوئے اور دو اپنے ملا کر ان کے سپرد یہ کام دیا کہ وہ لڑکی کو اُٹھا لائیں گے اور کھنڈر میں پہنچا دیں ۔ اس کھنڈر کو انہوں نے کچھ عرصے سے اپنا خفیہ اڈہ بنا رکھا تھا۔ منصوبہ بن گیا تو علی بن سفیان تک پہنچ گیا ۔ پانچ چھ مردوں میں احمدکمال اورلڑکی کو بتایا گیا کہ وہ برآمدے میں سوئیں گے اور رات کے وقت لڑکی اغوا ہوگی جس کے خلاف وہ مزاحمت نہیں کریں گے۔ مکان کے باہر ہر وقت ایک سپاہی پہرے پر رہتاتھا ۔ اس رات جو آدمی پہرے پر تھا وہ سپاہی نہیں بلکہ علی بن سفیان کے محکمے کا جاسوس تھا ۔ اسے معلوم تھا کہ رات کو اس پر حملہ ہوگا اور حملہ کس طرح کا ہوگا ، حملہ کرنے والا علی بن سفیان کا آدمی تھا ۔ اگر فیض الفاطمی کا آدمی ہوتا تو وہ اسے خنجر مار کر ہلاک کردیتا ۔
اس رات فیض الفاطمی اور کماندار کھنڈر میں چلے گئے ۔ مقررہ وقت پر پہرے دار پرحملہ ہوا ۔ دیوار پھلانگی گئی۔ اس وقت احمد کمال جاگ رہا تھا ۔ اس نے دیکھا کہ لڑکی کو اُٹھا لیا گیا ہے لیکن وہ آنکھیں بند کر کے لیٹا رہا ۔ اس نے تڑپنا اس وقت شروع کیا جب وہ رسیوں میں بندھ چکا تھا ۔ لڑکی کو کھنڈر میں پہنچا دیا گیا ۔ یہ ڈرامہ اس لیے کھیلا گیا تھا کہ فیض الفاطمی نے اغوا کا منصوبہ بنایا اور اس میں اپنے دو آدمی شامل ر دئیے تھے۔ ان پر یہ ظاہرکرنا تھا کہ یہ حقیقی اغواز ہے اور اس میں کوئی دھوکہ فریب نہیں ۔ آخر دم تک شک نہ ہوا ۔ اغوام کے بعد علی بن سفیان نے پہرہ دار اور احمد کمال کی رسیاں کھولیں ۔ پیادہ سپاہی اور سوار تیا رتھے ۔ تھوڑے سے وقفے کے بعدوہ کھنڈر کی طرف روانہ ہوگئے اور کھنڈر کو گھیرے میں لے لیا ۔
انہیں سب سے پہلے علی بن سفیان کے ہی ایک آدمی نے دیکھا جس نے فیض الفاطمی کو جا کر اطلاع دی ۔ اسے باہر لا کر گھیرا دکھایا اور یہ مشورہ دیا کہ وہ اسی کمرے میں چلا جائے ۔ اس ادھر بھیج کر یہ آدمی باہر نکل گیا اور علی بن سفیان اور احمد کمال کو اندر لے گیا ۔ یہ اس آدمی کی دانشمندی تھی کہ اس نے فیض الفاطمی کو اسی کمرے میں چھپے رہنے پر قائل کر لیا تھا۔ اگر وہ کھنڈر کے بھول بھلیوں جیسے کمروں ، برآمدوں ، گلیوں اور تہہ خانوں میں نکل جاتا تو اسے پکڑنا آسان نہ ہوتا ۔ کھنڈربہت وسیع اور پیچیدہ تھا ۔ باہر تو چاندنی تھی لیکن اندر تاریکی تھی جس میں تعاقب کیا جاتا تو اپنے آدمیوں کے مارے جانے کا بھی خطرہ تھا ۔ بالکل آخری وقت فیض الفاطمی کو پتہ چلا کہ کماندار اور دو آدمی اس کے ساتھی نہیں بلکہ اسے دھوکے میں یہاں لائے ہیں۔ لڑکی سے یہ غلطی ہوئی کہ اس کے منہ سے کچھ ایسے الفاظ نکل گئے جس سے ظاہر ہوگیا کہ یہ بھی اس دھوکے میں شریک ہے ۔ فیض الفاطمی کے دو ساتھی اس کے پاس پہنچ گئے ۔دھوکہ بے نقاب ہوگیا اورلڑائی شروع ہوگئی۔ فیض الفاطمی نے لڑکی کے پیت میں نوک کی طرف سے تلوار ماری اور اس کا پیٹ چاک کر دیا۔ اس نے لڑکی کو غالباً اس لیے بھی قتل کرناضروری سمجھا تھا کہ وہ اس کے خلاف گواہی دینے کے لیے بھی زندہ نہ رہے۔
فیض الفاطمی اور اس کے ساتھیوں کو قید میں ڈال دیا گیا۔ علی بن سفیان نے تینوں کو الگ الگ قید میں رکھا اور تینوں کو رجب کا سر دکھا کر کہا ……'' اپنے دوست کا انجام دیکھ لو ۔ اگر تمہیں یہ توقع ہے کہ تمہیں فوراً سزا دے دی جائے گی تو یہ خیال دماغوں سے نکال دو۔ جب تک اپنے پورے گروہ کو سامنے نہیں لائو گے تمہیں چکر شکنجے میں باندھے رکھوں گا ۔ جینے بھی نہیں دوں گا مرنے بھی نہیں دوں گا ''۔
لڑکی کی حالت اچھی نہیں تھی ۔ طبیبوں اور جراحوں نے اسے بچانے کی پوری کوشش کر ڈالی مگر کٹی ہوئی انتڑیوں کا کوئی علاج نہ ہو سکا۔ وہ پھر بھی مطمئن تھی جیسے اسے پیٹ کے مہلک زخم کی پروا ہی نہیں تھی ۔ اس کا ایک ہی مطالبہتھا کہ احمد کمال کو میرے پاس بیٹھا رہنے دو۔ سلطان ایوبی بھی اس کی عیادت کے لیے آیا ۔ احمد کمال امیر مصر اور اپنی فوج کے سالار اعلیٰ کو دیکھ کر تعظیم کے لیے اُٹھا تو لڑکی نے اسے ہاتھ سے پکڑ کر اپنے پاس بٹھا لیا۔ احمد کمال سلطان ایوبی کی موجودگی میں بیٹھ نہیں سکتا تھا ۔ آخر سلطان نے اسے لڑکی کے پاس بیٹھنے کی اجازت دے دی ۔ سلطان ایوبی نے لڑکی کے سر پر ہاتھ پھیرا اور شفقت سے صحت یابی کی دعا دی ۔
تیسری رات احمد کمال لڑکی کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا ۔ لڑکی نے انوکھے سے لہجے میں پوچھا …… ''احمد! تم نے میرے ساتھ شادی کر لی ہے نا! …… میں نے اپنا وعدہ پورا کیا ، تم نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے ۔ خدا نے میرے گناہ بخش دئیے ہیں ''…… اس کی زبان لڑکھڑانے لگی ۔ اس نے احمد کمال کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں مظبوطی سے پکڑ لیا مگر گرفت فوراً ڈھیلی پڑگئی ۔احمد کمال نے کلمہ شریف پڑھا اور لڑکی کوخدا کے سپرد کر دیا ۔ دوسرے دن سلطان ایوبی کے حکم کے مطابق لڑکی کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔
فیض الفاطمی نے اور اس کے ساتھیوں نے صرف دو دن اذیتیں سہیں اور اپنے گروہ کی نشاندہی کر دی ۔ ان لوگوں کو بھی پکڑ گیا ۔ مراکشی وقائع نگار اسد الا سدی نے سلطان ایوبی کے وقت کے ایک کاتب کے حوالے سے لکھاہے کہ سلطان ایوبی نے جب فیض الفاطمی کی سزائے موت پر دستخط کیے تو سلطان زار و قطار رونے لگے تھے ۔
اس کے ساتهہ ہی قصہ"لڑکی جو فلسطین سے آئ تهی" یہیں تمام ہوتا ہے.
٭ ٭ ٭
جاری ھے ، (صلاحُ الدین ایوبیؒ کے دور کےحقیقی واقعات کا سلسلہ "جب زہر نے زہر کو کاٹا")، شئیر کریں جزاکم اللہ خیر

No comments:
Post a Comment