Monday, 10 April 2017

داستان ایمان فروشوں کی


صلاحُ الدین ایوبیؒ کے دور کےحقیقی واقعات کا سلسلہ
داستان ایمان فروشوں کی
قسط نمبر.15۔ "ام عرارہ کا اغواہ"
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جس میں رجب رات کو چوری چھپے اس کے پاس آیا کر تاتھا۔
 وہ کمرے میں داخل ہوئی ہی تھی کہ کواڑوںکے پیچھے سے کسی نے اس پر کمبل پھینکا ۔اس کی آواز بھی نہ نکلنے پائی تھی کہ اس کے منہ پر جہاں پہلے ہی کمبل لپٹ گیاتھا، ایک اور کپڑا باندھ دیاگیا ۔ اسے کسی نے کندھوں پر ڈال لیا اور کمرے سے نکل گیا۔ یہ دو آدمی تھے ۔وہ محل کی بھول بھلیوں اور چور راستوں سے واقف معلوم ہوتے تھے ۔ وہ اندھیری سیڑھیوں پرچڑھ گئے ۔اوپر سے انہوں نے رسہ باندھ کر نیچے لٹکا یا۔ لڑکی کو کندھوں پر ڈالے ہوئے وہ آدمی رسے سے نیچے اُتر گیا ۔اس کے پیچھے دوسرا اُترا اور دونوں اندھیرے میں غائب ہوگئے ۔ کچھ دور چار گھوڑے کھڑے تھے اور ان کے پاس دوآدمی بیٹھے ہوئے تھے۔انہوں نے اپنے ساتھیوں کو اندھیرے میں آتے دیکھا اور یہ بھی دیکھ لیا کہ ایک نے کندھے پر کچھ اُٹھا رکھاہے۔وہ گھوڑوں کو آگے لے گئے ۔سب گھوڑوں پر سوار ہوگئے ایک سوار نے لڑکی کو اپنے آگے ڈال لیا۔ ان میں سے کسی نے کہا……''گھوڑوں کو ابھی دوڑانا نہیں ۔ٹاپو سارے شہر کو جگادیں گے''……گھوڑے آہستہ آہستہ چلتے گئے اور شہر سے نکل گئے ۔

''یہ صلاح الدین ایوبی کاکام ہے''۔

''امیرِ مصر کے سو ا ایسی جرأت اور کوئی نہیں کرسکتا''۔

''اس کے سوا اور ہو ہی کون سکتا ہے''۔

قصرِ خلافت میں یہی شور و غوغا بپاتھا کہ اُمِّ عرارہ کو صلاح الدین ایوبی نے اغوا کرایا ہے۔ رجب واپس آگیا تھا۔ محل کے کونے کونے کی تلاشی لی جاچکی تھی۔ محافظ دستہ کمان داروں کے عتاب کا نشانہ بناہواتھا۔ خود کمان دار بھی سپاہیوں کی طرح تھر تھر کانپ رہے تھے۔ ایک لڑکی کا اغوا معمولی واردات نہیں تھی اور لڑکی بھی ایسی جسے خلیفہ حرم کا ہیرا سمجھتاتھا ۔ محل کے پچھواڑے سے ایک رسّہ لٹک رہاتھا۔ زمین پر پائوں کے نشان تھے ۔ جو تھوڑی دُور جا کر گھوڑوں کے نشانات میں ختم ہوگئے تھے ۔ان سے یہ ثبوت مل گیاتھا کہ لڑکی کو رسّے سے اُتارا گیا ہے ۔ اس شک کا اظہار بھی کیاگیا کہ لڑکی اپنی مرضی سے کسی کے ساتھ گئی ہے۔خلیفہ نے اس شک کو مسترد کردیاتھا ۔ وہ کہتاتھا کہ اُمِّ عرارہ اس پر جان چھر کتی تھی۔

''یہ صلاح الدین ایوبی کاکام ہے ''……رجب نے العاضد سے کہا……'' قصرِ خلافت میں ہر کسی کی زبان پر یہی الفاظ ہیں کہ اس کے سوا اور کوئی بھی ایسی جرأت نہیں کرسکتا''۔

ہر کسی کے کانوں میں یہ الفاظ رجب نے ہی ڈالے تھے۔اسے جونہی اُمِّ عرارہ کی گمشدگی کی اطلاع ملی تھی، اس نے سارے محل میں گھوم پھر کر ہر کسی سے لڑکی کے متعلق پوچھا اور ہر کسی سے کہاتھا……''یہ سلطان ایوبی کاکام ہے ''……قصرِ صدارت کے اعلیٰ حاکم سے ادنیٰ ملازم تک انہی الفاظ کو دہرائے چلے جارہے تھے اور رجب یہ الفاظ خلیفہ العاضد کے کانوں میں پڑے تو اُس نے ذرہ بھر سوچنے کی ضرورت نہ سمجھی کہ یہ الزام بے بنیاد ہوسکتاہے ۔اس کے کانوں میں یہ تو پہلے ہی ڈالا جاچکاتھا کہ سلطان ایوبی عورتوں کا شیدائی ہے۔ اُمِّ عرارہ نے اسے یہ بتایاتھا کہ صلاح الدین ایوبی حرم کی چار لڑکیوں کو خراب کر چکاہے۔خلیفہ نے اسی وقت اپنے خصوصی قاصد کو بلایا اور اُسے کہا کہ امیرِ مصر کے پاس جائو اور اسے کہوکہ پردے میں لڑکی واپس کردو،میں کوئی کاروائ نہیں کرونگا
 جس وقت خلیفۂ قاصد کو یہ پیغام دے رہاتھا، اس وقت قاہرہ سے دس بارہ میل دُور تین شتر سوار قاہرہ کی طرف خراماں خراماں آرہے تھے ۔ وہ مصرکی فوج کے گشتی سنتری تھے۔مصر کے سیاسی حالات چونکہ اچھے نہیں تھے۔جاسوسوں اور تخریب کاروں کی سرگرمیاں رُکنے کی بجائے بڑھتی جارہی تھیں ۔سلطان ایوبی کو اچھی طرح معلوم تھا کہ ملک میں غداری اور بغاوت کی چنگاریاں بھی سلگ رہی ہیں ۔ اُس سوڈانی فوج کی طرف سے جسے اُس نے بر طرف کردیاتھا، خطرہ پوری طرح ٹلانہیں تھا۔ اس فوج کے کمان دار ، عہدے دار اور سپاہی تجربہ کار عسکری تھے۔کسی بھی وقت ملک کے لیے خطرہ بن سکتے تھے ۔ سب سے بڑا خطرہ تو یہ تھا کہ سلطان ایوبی کے مخالفین نے صلیبیوں سے دوستانہ کر رکھاتھا۔ان کے جاسوسوں کو وہ پناہ ، اڈہ اور مدد مہیا کرتے تھے ۔ان خطرات کے پیشِ نظر دار الحکومت سے بہت دُور دُور اور ہر طرف فوج کے چند ایک دستے رکھے گئے تھے۔ان کے گشتی سنتری دن رات صحرائوں اور ٹیلوں ٹیکریوں کے علاقوں میں گھوڑوں اور اونٹوں پر گشت کرتے رہتے تھے ،تاکہ آنے والے خطرے کی اطلاع قبل ازوقت دی جاسکے۔

وہ تین شتر سوار انہی دستوں کے گشتی سنتری تھے جو اپنی ذمہ داری کے علاقے میں گشت کرکے واپس آرہے تھے۔آگے مٹی اور پتھروںکی پہاڑیوں اور چٹانوں کا وسیع علاقہ تھا۔وہ ایک وادی میں سے گزررہے تھے ،انہیں کسی عورت کی آہ و زار سنائی دی۔ مردانہ آوازیں بھی سنائی دیں ۔ان سے صاف پتہ چلتاتھا کہ لڑکی پر زبردستی کی جارہی ہے۔ ایک شتر سوار اُترا اور اس چٹان پر چڑھ گیا ، جس کی دوسری طرف آوازیں آرہی تھی اس نے چھپ کر دیکھا،اُدھر چار گھوڑے کھڑے تھے اور چار آدمی بھی تھے۔ چاروں سوڈانی حبشی تھے……ایک بڑی ہی خوب صورت لڑکی تھی، جو دوڑی جارہی تھی۔ ایک حبشی نے اسے پکڑلیا اور اسے بازوئوں میں دبوچ کر اُٹھا لیا اور اُسے اپنے ساتھیوں کے درمیان کھڑا کرکے اس کے سامنے گھٹنوں کے بل ہوگیا۔ اس نے اپنے سینے پر ہاتھ باندھ کرکہا''تم مقدس لڑکی ہو۔اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال کر ہمیں گناہ گار نہ کرو۔ دیوتائوں کا قہر ہمیں جلا ڈالے گا یا ہمیں پتھر بنادے گا''۔

''میں مسلمان ہوں''……لڑکی نے چلا کر کہا……''تمہارے دیوتائوں پر لعنت بھیجتی ہوں، مجھے چھوڑ دو ورنہ میں تم سب کو خلیفہ کے کتوں سے بوٹی بوٹی کرادوں گی''۔

''تم اب خلیفہ کی ملکیت نہیں ''……ایک حبشی نے اسے کہا……''اب تم اس دیوتا کی ملکیت ہو جس کے ہاتھ میں آسمان کی بجلیوں کا قہر، ناگوں کا زہر اور شیروں کی طاقت ہے ۔اس نے تمہیں پسند کرلیاہے۔ اب جوکوئی تمہیں اس سے چھیننے کی کوشش کرے گا، اسے صحرا کی ریت جلا کر راکھ کردے گی''۔

ایک حبشی نے دوسرے سے کہا……''میں نے تمہیں کہاتھا کہ یہاں نہ رکو، مگر تم آرام کرنا چاہتے تھے۔ اسے بندھا ہوا چلے چلتے اور شام سے پہلے پہلے منزل پر پہنچ جاتے''۔

''کیا ہمارے گھوڑے تھک نہیں گئے تھے؟''……حبشی نے جواب دیا……''ہم ساری رات کے جاگے ہوئے نہیں تھے؟اسے پھر باندھ لو اور چلو''۔

اس نے لڑکی کو دبوچ لیا۔اچانک اس کی پیٹھ میں ایک تیر اُتر گیا۔اُس کی گرفت لڑکی سے ڈھیلی ہوگئی ۔لڑکی اُسے دھکادے کر بھاگنے لگی تو دوسرے آدمی نے اسے پکڑ کر گھسیٹا اور گھوڑوں کی اوٹ میں ہوگیا۔ ایک اور تیر آیا جو ایک آدمی کی گردن میں لگا۔ وہ آدمی بُری طرح تڑپنے لگا،جس آدمی نے لڑکی کو پکڑا تھا، و ہ گھوڑے کی باگ پکڑ کر لڑکی اور گھوڑے کو نشیبی جگہ لے گیا، جو بالکل قریب تھی۔ایک حبشی اور بھی رہ گیاتھا، وہ بھی دوڑ کر نشیب میں اُترگیا……یہ تیر اُس شتر سوار سنتری نے چلائے تھے جو چٹان پر چڑھ گیا تھا ۔اس نے بعد میں جو بیان دیا، اس میں اس نے کہاتھا کہ وہ دیوتائوں کے نام سے ڈر گیا تھا، لیکن لڑکی نے جب یہ کہا کہ میں مسلمان ہوں اور میں دیوتائوں پر لعنت بھیجتی ہوں تو سنتری کا ایمان بیدار ہوگیا۔ لڑکی نے جب خلیفہ کانام لیا تو سنتری سمجھ گیا کہ یہ حرم کی لڑکی ہے۔اس کالباس ، اس کی شکل و صورت اور اس کی ڈیل ڈول بتارہی تھی کہ یہ معمولی درجے کی لڑکی نہیں ،اسے اغوا کیا جارہاہے اور اسے سوڈان میں لے جاکر فروخت کیاجائے گا۔ سنتری کو یہ معلوم تھا کہ تھوڑے دنوں بعد سوڈانی حبشیوں کا ایک میلہ لگنے والا ہے ،جس میں لڑکیوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔

فوج کو سلطان ایوبی نے یہ حکم دے رکھا تھا کہ عورت کی عزت کی حفاظت کی جائے گی ۔ایک عورت کی عزت کو بچانے کے لیے ایک درجن آدمیوں کے قتل کی بھی اجازت تھی۔ سنتری نے یہ ساری باتیں سامنے رکھ کر فیصلہ کرلیا کہ اس لڑکی کو بچانا ہے۔اس نے دو تیر چلائے اور دو حبشی مار ڈالے ۔اس نے غلطی یہ کی کہ باقی دو حبشیوں کو پکڑنے کے لیے نیچے اُتر آیا۔اپنے اونٹ پر سوار ہوا، اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ بردہ فروشوں کا تعاقب کرنا ہے۔وہ تینوں اونٹوں کو دوڑاتے دوسری طرف گئے مگر انہیں چٹان کا چکر کاٹ کر جانا پڑا۔ اس نے یہ بھی نہ سوچا کہ اونٹ گھوڑے کا تعاقب کر سکتاہے یا نہیں۔ان تینوں میں سے تیر کمان صرف اسی سنتری کے پاس تھا ۔باقی دو کے پاس برچھیا ں اور تلواریں تھیں ۔

وہ اس جگہ پہنچے جہاں لڑکی اور حبشیوں کو دیکھا گیا تھا تو وہاں دو لاشوں کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔ سوڈانی حبشی لڑکی کو بھی لے گئے اور اپنے مرے ہوئے ساتھیوں کے گھوڑوں کو بھی ۔شتر سواروں نے تعاقب میں اونٹ دوڑائے لیکن وہ ٹیلوں اور چٹانوں کا علاقہ تھا۔راستہ گھومتا اور مڑتا تھا۔ انہیں بھاگئے گھوڑوں کے ٹاپو سنائی دے رہے تھے جو دورہوتے گئے اور خاموش ہوگئے ۔شتر سواروں نے دونوں لاشیں اونٹوں پر لادیں اور واپس آگئے ۔انہیں معلوم تھا کہ یہ لاشیں کس کی ہیں۔یہ عام قسم کے بردہ فروشوں کی بھی ہوسکتی تھیں،انہیں اُٹھا لانا ضروری نہ تھا،لیکن لڑکی خلیفہ کی معلوم ہوتی تھی۔ اس لیے لاشیں اُٹھانا ضروری سمجھا گیا تا کہ یہ معلوم ہوسکے کہ اغو ا کرنے والے کون ہیں.
 صلاح الدین ایوبی پریشانی اور غصے کے عالم میں ٹہل رہاتھا۔کمرے میں اس کے مشیر اور معتمد بیٹھے تھے۔یہ اس کے دوست بھی تھے ۔وہ سرجھکائے بیٹھے تھے۔ سلطان ایوبی اپنے آپ کو ہمیشہ قابو میں رکھتاتھا۔ وہ کبھی جذباتی نہیں ہواتھا،وہ غصہ پی جایا کرتاتھا اور ذہن کو پوری طرح قابو میں رکھ کر سوچا اور فیصلہ کیا کرتاتھا۔ایسے حالات نے بھی اسے آزمایاتھا، جن میں جابر جنگجو بھی ہتھیار ڈال دیا کرتے تھے ۔ وہ محاصروں میں بھی لڑا تھا اور اس حال میں بھی محاصرے میں رہاتھا کہ اس کے سپاہیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے تھے ،قلعے میں کھانے پینے کے لیے بھی کچھ نہ رہاتھااور سپاہیوں کے ترکش بھی خالی ہوگئے تھے۔ اس کے سپاہی اس انتظار میں تھے کہ وہ ہتھیار ڈال کر انہیں اس اذیت اور موت سے بچالے گا، لیکن سلطان ایوبی نے صرف اپنا حوصلہ ہی مضبوط نہ رکھابلکہ سپاہیوں میں بھی نئی روح پھونک دی ، مگر اس روز سلطان ایوبی کو اپنے اوپر قابو نہیں رہاتھا، چہرے پر غصہ بھی تھا اور گھبراہٹ بھی ۔ یہی وجہ تھی کہ سب خاموش بیٹھے تھے ۔

''آج پہلی بار میرا دماغ میرا ساتھ چھوڑ گیا ہے ''…… اس نے کہا۔

''کیا یہ ممکن نہیں کہ آپ خلیفہ کے اس پیغام کو نظر انداز کردیں ؟''…… اس کے نائب سالار الناصر نے کہا۔

''میں اسی کوشش میں مصروف ہوں ''……سلطان ایوبی نے کہا……''لیکن الزام کی نوعیت دیکھو جو مجھ پر عائد کیاگیاہے ۔ میں نے اس کے حرم کی ایک لڑکی اغوا کروائی ہے۔ استغفر اللہ ۔اللہ مجھے معاف کرے۔اس نے میری توہین میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔پیغام بلکہ دھمکی قاصد کی زبانی بھیجی ہے،وہ مجھے بلا لیتا ،میرے ساتھ براہِ راست بات کرتا''۔

''میں پھر بھی یہی مشورہ دوں گا کہ اپنے آپ کو ٹھنڈا کیجئے ''……بہائوالدین شداد نے کہا۔

''میں سوچ یہ رہاہوں کہ کیا واقعی حرم سے کوئی لڑکی اغوا ہوئی ہے''……سلطان ایوبی نے کہا……''یہ جھوٹ معلوم ہوتاہے ،اسے پتہ چل گیا ہوگا کہ میں نے خطبے سے اس کانام نکلوادیاہے۔اس کے جواب میں اس نے مجھ پر یہ الزام لگایا کر کہ میں نے اس کے حرم کی ایک لڑکی اغواکرائی ہے،انتقام لینے کی کوشش کی ہے''……سلطان ایوبی نے عیسٰی الہکاری فقیہہ سے کہا ……''ایک حکم نامہ مصرکی تمام مسجدوں کے نام جاری کردو کہ آئندہ کسی مسجد میں خطبے میں خلیفہ کا ذکر نہیں کیا جائے گا۔

''آپ اس کے ہاں چلے جائیں اور اس سے بات کریں''……الناصر نے کہا……''اسے صاف الفاظ میں بتادیں کہ خلیفہ قوم کی عزت کا نشان ہوتاہے ،لیکن اس کا حکم نہیں چل سکتا، خصوصاً اس صورتِ حال میں جب حالات جنگی ہیں اور دشمن کا خطرہ باہر سے بھی ہے اور اندر سے بھی موجود ہے ۔میں تو یہاں تک مشورہ دوں گا کہ اس کے محافظ دستے کی نفری کم کردیں ۔سوڈانی حبشیوں کی جگہ مصری دستہ رکھیں اور اس کے محل کے اخراجات کم کردیں ۔ میں اس کے نتائج سے آگاہ ہوں ، ہمیں مقابلہ کرنا ہی پڑے گا، ہمیں اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے''۔

''میں نے ہمیشہ اپنے اللہ پر بھروسہ کیاہے''……سلطان ایوبی نے کہا……''خدائے ذوالجلال مجھے اس ذلت سے بھی بچالے گا''۔

دربان اندر آیا، سب نے اس کی طرف دیکھا ۔اس نے کہا۔ ''صحرا کے گشتی دستے کا کمان دار اپنے تین سپاہیوں کے ساتھ آیاہے ۔وہ سوڈانیوں کی لاشیں لائے ہیں ''۔

سب نے دربان کی مداخلت کو اچھی نظر سے نہ دیکھا ۔اس وقت سلطان ایوبی بڑے ہی اہم اور خفیہ اجلاس میں مصروف تھا، لیکن سلطان نے دربان سے کہا۔''انہیں اندر بھیج دو''……سلطان ایوبی نے اپنے دربان سے کہہ رکھا تھا کہ جب بھی اسے کوئی ملنے آئے ،وہ اسے اطلاع دے اور اگر رات اسے جگانے کی ضرورت محسوس ہوتو فوراً جگا لے۔ سلطان کوئی بات اور کوئی ملاقات التوا میں نہیں ڈالا کرتاتھا۔

عہدے دار اندر آیا۔ اس کا چہرہ گرد سے اٹا ہوا اور تھکا تھکا نظر آتاتھا۔سلطان ایوبی نے اسے بٹھایا اور دربان سے کہاکہ اس کے لیے پینے کے لیے کچھ لے آئو۔عہدے دار نے سلطان کو بتایا کہ اس کے گشتی سنتریوں نے چار سوڈانی حبشیوں سے ایک مغویہ لڑکی کو چھڑانے کی کوشش میں دو کو تیروں سے مار ڈالا ہے اور وہ لڑکی کو اُٹھا کر بھاگ گئے ہیں۔عہدے دار نے بتایا کہ سنتریوں کے بیان کے مطابق لڑکی خانہ بدوش یا کسی عام گھرانے کی نہیں تھی۔ وہ بہت ہی امیر لگتی تھی اور اس نے کہاتھا کہ وہ خلیفہ کی ملکیت ہے۔

''معلوم ہوتاہے ''……سلطان ایوبی نے کہا……''خدائے ذوالجلال میری مدد کو آگیاہے''……وہ باہر نکل گئے ۔کمرے میں بیٹھے ہوئے سب حاکم اس کے پیچھے چلے گئے ۔

باہر زمین پر دو لاشیں پڑی تھیں ۔ایک لاش پیٹ کے بل تھی۔اس کی پیٹھ میں تیر اُترا ہواتھا۔ دوسری لاش کی گردن میں تیر پیوست تھا۔ پاس تین سپاہی کھڑے تھے۔انہوں نے امیرِ مصرکو جو اُن کا سالار اعلیٰ بھی تھا، شاید پہلی بار دیکھا تھا۔وہ فوجی انداز سے سلام کرکے پرے ہٹ گیا۔ سلطان ایوبی نے ان کے سلام کا صرف جواب ہی نہیں دیا، بلکہ ان سے ہاتھ ملایا اور کہا……''یہ شکار کہاں سے مار لائے ہو مومنو؟'' ……اس سنتری نے جس نے چٹان سے تیر چلا کر دو آدمیوں کو مارا تھا ۔سلطان ایوبی کو سارا واقعہ پوری تفصیل سے سنادیا۔

''کیا یہ ممکن ہوسکتاہے کہ وہ لڑکی خلیفہ کی ہی داشتہ ہو؟''……سلطان ایوبی نے اپنے مشیروں سے پوچھا۔

معلوم یہی ہوتاہے ''……علی بن سفیان نے کہا……''ان کے خنجر دیکھئے ''۔ اس نے دو خنجر سلطان ایوبی کو دکھائے ،جس وقت سپاہی واقعہ سنارہاتھا۔ علی بن سفیان لاشوں کی تلاشی لے رہاتھا۔ انہوں نے سوڈان کا قبائلی لباس پہن رکھاتھا۔ کپڑوں کے اندر ان کے کمربندتھے ،جن کے ساتھ ایک ایک خنجر تھا۔یہ خلیفہ کے حفاظتی دستے کے خاص ساخت کے خنجر تھے ۔ ان کے دستوں پر قصرِ خلافت کی مہریں لگی ہوئی تھی۔ علی بن سفیان نے کہا……''اگر انہوں نے یہ خنجر چوری نہیں کیے تو یہ دونوں قصرِ خلافت کے حفاظتی دستے کے سپاہی ہیں۔ یہ کہاجاسکتاہے کہ لڑکی وہی ہے جو خلیفہ کے حرم سے اغواہوئی ہے اور اغوا کرنے والے خلیفہ کے محافظوں میں سے ہیں ''۔

''لاشیں اُٹھوائو اور خلیفہ کے پاس لے چلو''……سلطان ایوبی نے کہا ۔

''پہلے یقین کرلیاجائے کہ یہ واقعی خلیفہ کے محافظوں میں سے ہیں ''۔علی بن سفیان نے کہا اور وہاں سے چلاگیا۔

زیادہ وقت نہیں گزراتھا کہ علی بن سفیان کے ساتھ قصرِ خلافت کا ایک کمان دار آگیا۔ اسے دونوں لاشیں دکھائی گئیں۔ اس نے فوراً پہچان لیا اور کہا……''یہ دونوں محافظ دستے کے سپاہی ہیں ، گزشتہ تین روز سے چُھٹی پر تھے ۔ ان کی چُھٹی سات دن رہتی تھی''۔

''کو ئی اور سپاہی بھی چُھٹی پر ہے ؟''……سلطان ایوبی نے پوچھا۔

''دو اور ہیں ''۔

''کیا وہ اِن کے ساتھ چُھٹی پر گئے تھے؟''

''اکٹھے گئے تھے''۔کمان دار نے جواب دیا اور ایک ایسا انکشاف کیا جس نے سب کو چونکادیا۔اس نے کہا……''یہ سوڈان کے قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جو خون خواری میں مشہور ہے۔ ان میں فرعونوں کے وقت کی کچھ رسمیں چلی آرہی ہیں ۔یہ قبیلہ ہر تین سال بعد ایک جشن مناتا ہے ۔یہ ایک میلہ ہوتاہے جو تین دن اور تین راتیں رہتاہے۔دن ایسے مقرر کرتے ہیں کہ چوتھی رات چاند پوراہوتاہے ۔میلے میں وہ لوگ بھی جاتے ہیں جن کا اس قبیلے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔وہ صرف عیاشی کے لیے جاتے ہیں ۔میلے میں لڑکیوں کی خرید و فروخت کے لیے باقاعدہ منڈی لگتی ہے ۔اس میلے سے ایک ماہ پہلے ہی اِرد گرد ،بلکہ قاہرہ تک کے لوگ جن کی بیٹیاں جوان ہوگئی ہیں ،ہوشیار اور چوکس ہوجاتے ہیں ۔ وہ لڑکیوں کو باہر نہیں جانے دیتے ۔ ان دنوںخانہ بدوش بھی اس علاقے سے دور چلے جاتے ہیں۔ لڑکیاں اغواہوتی ہیں اور اس میلے میں فروخت ہوجاتی ہیں ۔ یہ چاروں سوڈانی اسی میلے کیلئے چُھٹی پر گئے تھے ۔ میلہ تین روز بعد شروع ہورہاہے ''۔

''کیا ان کے متعلق یہ کہاجاسکتاہے کہ خلیفہ کے حرم کی لڑکی انہوں نے اغوا کی ہوگی؟''……علی بن سفیان نے پوچھا۔

''میں یقین سے نہیں کہہ سکتا ''۔ کمان دار نے جواب دیا ……''یہ کہہ سکتا ہوں کہ ان دنوں میں اس قبیلے کے لوگ جان کا خطرہ مول لے کر بھی لڑکیا ں اغوا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ خون خوار اتنے ہیں کہ اگر کسی لڑکی کے وارث میلے میں چلے جائیں اور اپنی لڑکی لینے کی کوشش کریں تو انہیں قتل کردیاجاتا ہے۔لڑکیوں کے گاہکوں میں مصرکے امیر، وزیر اور حاکم بھی ہوتے ہیں ۔ میلے میں ایسے قحبہ خانے بھی کھل جاتے ہیں ،جہاں جواء ، شراب اور عورت کے شدائی دولت لُٹاتے ہیں ۔ اس جشن کی آخری رات بڑی پُر اسرار ہوتی ہے۔ کسی خفیہ جگہ ایک نوجوان اور غیر معمولی طور پر حسین لڑکی کو قربان کیا جاتاہے ۔ یہ کسی کو بھی معلوم نہیں کہ لڑکی کو کہاں اور کس طرح قربان کیاجاتاہے ۔یہ کام ان کا ایک مذہبی پیشوا ، جسے حبشی خدابھی کہتے ہیں ،کرتاہے ۔ اس کے ساتھ بہت تھوڑے سے خاص آدمی اور چار پانچ لڑکیاں ہوتی ہیں ۔ لوگوں کو لڑکی کا کٹاہوا سر اور خون دکھایا جاتاہے ، جسے دیکھ کر یہ قبیلہ پاگلوں کی طرح ناچتا اور شراب پیتاہے ۔

خلیفہ نے محافظ دستے کے ناک میں دم کررکھا تھا۔تمام تر محافظ دستہ دھوپ میں کھڑا تھا۔ سورج غروب ہونے میں کچھ دیر باقی تھی ۔ اس دستے کو صبح کھڑا کیا گیاتھا۔ کمان داروں اور عہدے داروں کو بھی کھانے کی اجازت دی گئی تھی،نہ پانی پینے کی ۔رجب بار بار آتا اور اعلان کرتا تھا کہ لڑکی محافظوں کی مدد کے بغیر اغواء نہیں کی جاسکتی تھی۔جس کسی نے اغوا میں مدددی ہے، وہ سامنے آجائے ،ورنہ تمہیں یہیں بھوکا اور پیاسا مار دیاجائے گا۔ اگر لڑکی خود باہر گئی ہوتی تو تم میں سے کسی نہ کسی نے ضرور دیکھی ہوتی ……ان دھمکیوں کا کچھ اثر نہیں ہورہاتھا۔ سب کہتے تھے کہ وہ بے گناہ ہیں ۔

خلیفہ رجب کو ٹکنے نہیں دے رہاتھا۔ اس نے رجب سے کہاتھا۔ ''مجھے لڑکی کا افسوس نہیں ، پریشانی یہ ہے کہ جو اتنے کڑے پہرے سے لڑکی کو اغوا کر سکتے ہیں ،وہ مجھے بھی قتل کرسکتے ہیں ۔مجھے یہ ثبوت چاہیے کہ لڑکی کو صلاح الدین ایوبی نے اغوا کرایا ہے ''۔

رجب نے ہی اغواکا بہتان سلطان ایوبی کے سر تھوپا تھا، مگر خلیفہ اسے کہہ رہاتھا کہ ثبوت لائو،رجب ثبوت کہاں سے لاتا،اس کی جان پر بن گئی تھی۔وہ ایک بار پھر محافظ دستے کے سامنے گیا، غصے سے وہ بائولا ہوا جارہاتھا۔ وہ کئی بار دی ہوئی دھمکی ایک بار پھر دینے ہی لگا تھا کہ دروازے پر کھڑے سنتریوں نے دروازے کھول دئیے اور اعلان کیا……''امیرِ مصر تشریف لارہے ہیں''۔

بڑے دروازے میں سلطان ایوبی کا گھوڑا داخل ہوا۔ اس کے آگے وہ محافظ سواروں کے گھوڑے تھے۔آٹھ سوار پیچھے تھے ۔ ایک دائیں اور بائیں تھا۔ ان کے پیچھے سلطان ایوبی کے حاکم اور مشیر تھے ۔ ان میں علی بن سفیان بھی تھا۔ رجب نے خلیفہ کو اطلاع بھیج دی کہ صلاح الدین ایوبی آیاہے ۔ سب نے دیکھا کہ سلطان ایوبی کے اس جلوس کے پیچھے چار پہیوں والی ایک گاڑی تھی۔جس کے آگے دو گھوڑے جُتے ہوئے تھے ۔گاڑی پر دولاشیں پڑی تھیں ۔ ایک سیدھی اور دوسری اُلٹی ۔تیر ابھی تک لاشوں میں اُترے ہوئے تھے ۔ ان لاشوں کے ساتھ وہ تین شترسوار تھے، جنہوں نے ان حبشیوں کا مارا تھا۔

خلیفہ باہر آگیا۔ سلطان ایوبی اور اس کے تمام سوار گھوڑوں سے اُترے ۔ سلطان ایوبی نے اسی احترام سے خلیفہ کو سلام کیا جس احترام کا وہ حق دار تھا۔ جھک کر اس سے مصافحہ کیا اور ہاتھ چوما۔

''مجھے آپ کا پیغام مل گیاتھا کہ میں آپ کے حرم کی لڑکی واپس کردوں ''۔ سلطان ایوبی نے کہا……''میں آپ کے دو محافظوں کی لاشیں لایاہوں ۔یہ لاشیں مجھے بے گناہ ثابت کردیں گی اور میں حضور اقدس میں یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ صلاح الدین ایوبی آپ کی فوج کا سپاہی نہیں ہے، جس خلافت کی آپ نمائندگی کررہے ہیں ،وہ اس کا بھیجا ہواہے''۔

خلیفہ نے صلاح الدین ایوبی کے تیور بھانپ لیے۔اس فاطمی خلیفہ کا ضمیر گناہوں کے بوجھ سے کراہ رہاتھا۔ وہ سلطان ایوبی کی بارعب اور پُر جلال شخصیت کا سامنا کرنے کے قابل نہیں تھا۔اس نے سلطان ایوبی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا……''میں تمہیں اپنے بیٹوں سے زیادہ عزیز سمجھتا ہوں ،صلاح الدین ایوبی اندر آئو''۔

''میری حیثیت ابھی ملزم کی ہے ''۔سلطان ایوبی نے کہا……''مجھے ابھی صفائی پیش کرنی ہے کہ میں اغوا کا ملزم نہیں ہوں ۔ خدائے ذوالجلال نے میری مددفرمائی ہے اور دولاشیں بھیجی ہیں ۔یہ لاشیں بولیں گی نہیں ، ان کی خاموشی اور ان میں اُترے ہوئے تیر گواہی دیں گے کہ صلاح الدین ایوبی اس جرم کا مجرم نہیں ہے ، جو قصرِ خلافت میں سرزد ہوا ہے۔میں جب تک اپنے آپ کو بے گناہ ثابت نہ کرلوں گا، اندر نہیں جائوں گا''……وہ لاشوں کی طرف چل پڑا۔

خلیفہ کھچا ہوا اُس کے پیچھے پیچھے گیا۔ تھوڑی دُور چار ساڑھے چار سو نفری کا محافظ دستہ کھڑا تھا ۔سلطان ایوبی نے لاشیں اُٹھوا کر اس دستے کے سامنے رکھ دیں اور بلند آواز سے کہا …… ''آٹھ آٹھ سپاہی آگے آئو اور لاشوں کو دیکھ کر بتائوکہ یہ کون ہیں ؟'' …… پہلے کمان دار اور عہدے دار آئے ۔انہوں نے لاشیں دیکھ کر ان کے نام بتائے اور کہا…… ''یہ ہمارے دستے کے سپاہی تھے''……ان کے بعد آٹھ سپاہی آئے ، انہوں نے بھی لاشوں کو دیکھ کر کہا کہ یہ ان کے ساتھی تھے ۔آٹھ اور سپاہی آئے ، پھر آٹھ اور آئے ۔اسی طرح آٹھ آٹھ سپاہی آتے رہے اور بتاتے رہے کہ یہ لاشیں ان کے فلاں فلاں ساتھیوں کی ہیں ۔

''صلاح الدین ایوبی !'' ……خلیفہ نے کہا……''میں نے مان لیاہے کہ یہ لاشیں قصرِ خلافت کے دو محافظوں کی ہیں ۔میں اس سے آگے سننا چاہتاہوں کہ انہیں کس نے ہلاک کیا ہے ''۔

صلاح الدین ایوبی نے اس گشتی سنتری سے ، جس نے انہیں ہلاک کیا تھا ،کہا کہ اپنا بیان دہرائے ۔اُس نے سارا واقعہ خلیفہ کو سنادیا۔ وہ ختم کرچکا تو سلطان ایوبی نے خلیفہ سے کہا……''لڑکی میرے پاس نہیں لائی گئی ۔وہ سوڈانی حبشیوں کے میلے میں فروخت ہونے کے لیے گئی ہے''۔

خلیفہ کھسیانہ ہوا جارہاتھا۔ اس نے سلطان ایوبی سے کہا کہ وہ اندر چلے ۔سلطان ایوبی نے اندر جانے سے انکار کردیا اور کہا……''میں اس لڑکی کو زندہ یا مردہ بر آمد کرکے آپ کے حضور حاضری دوںگا ۔ابھی میں اتنا ہی کہوں گا کہ حرم کی ایک ایسی لڑکی اغوا جو تحفے کے طور پر آئی تھی اور جو آپ کی منکوحہ بیوی نہیں داشتہ تھی ، میرے لیے ذرہ بھر اہمیت نہیں رکھتی ۔خداوند تعالیٰ نے مجھے اس سے اہم فرائض سونپے ہیں ''۔

''میری پریشانی یہ نہیں کہ ایک لڑکی اغواہوگئی ہے ''۔ خلیفہ نے کہا……''اصل پریشانی یہ ہے کہ اس طرح لڑکیاں اغوا ہونے لگیں تو ملک میں قانون کا کیا حشر ہوگا''۔

''اور میری پریشانی یہ ہے کہ سلطنتِ اسلامیہ اغواہورہی ہے ''۔۔سلطان ایوبی نے کہا……''آپ زیادہ پریشان نہ ہوں ۔میرا شعبہ سراغ رسانی لڑکی کو برآمد کرنے کی پوری کوشش کرے گا''۔

خلیفہ سلطان ایوبی کو ذراپرے لے گیا اور کہا……''صلاح الدین ! میں ایک عرصے سے دیکھ رہاہوں کہ تم مجھ سے کھچے کھچے رہتے ہو۔ میں نجم الدین ایوب )سلطان صلاح الدین ایوبی کے والد محترم (کا بہت احترام کرتاہوں ،مگر تمہارے دل میں میرے لیے ذرہ بھر احترام نہیں ہے اور مجھے آج بتایا گیا ہے کہ جامع مسجد کے خطیب امیر العالم نے یہ گستاخی کی ہے کہ خطبے سے میرا نام ہٹادیاہے ۔مجھے رجب نے بتایا ہے کہ میں اسے اس گستاخی کی سزا دے سکتاہوں ۔ میں تم سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس نے تمہای شہ پر تو ایسا نہیں کیا؟''

''میری شہہ پر نہیں ، میرے حکم پر اس نے خلیفہ کانام خطبہ سے حذف کیاہے ''۔ سلطان ایوبی نے کہا……''صرف آپ کانام نہیں ،بلکہ ہر اس خلیفہ کانام خطبے سے ہٹادیاگیاہے جو آپ کے بعد آئے گا اور جو اُس کے بعد آئے گا''۔

''کیا یہ حکم فاطمی خلافت کمزور کرنے کے لیے جاری کیاگیاہے ؟''خلیفہ نے پوچھا……''مجھے شک ہے کہ یہاں عباسی خلافت لائی جارہی ہے''۔

''حضور بہت بوڑھے ہوگئے ہیں ''۔سلطان ایوبی نے کہا ……''قرآن نے شراب کو اسی لیے حرام کہاہے کہ اس سے دماغ مائوف ہوجاتاہے ''……سلطان نے ذرا سوچ کر کہا……''میں نے فیصلہ کیا ہے کہ کل سے آپ کے محافظ دستے میں ردوبدل ہوگا اور رجب کو میں واپس لے کر آپ کو نیا کمان داردوں گا''۔

''لیکن میںرجب کویہاں رکھنا چاہتا ہوں '' خلیفہ نے کہا۔

''میں حضور سے درخواست کرتاہوں کہ فوجی معاملات میں دخل دینے کی کوشش نہ کریں ۔ سلطان ایوبی نے کہا اور علی بن سفیان کی طرف متوجہ ہوا جو پانچ حبشی محافظو کو ساتھ لیے آرہاتھا۔

'' یہ پانچوں اُسی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں '' علی بن سفیان نے کہا…… ''میں نے اس دستے سے مخاطب ہو کر کہا کہ اس قبیلے کے کوئی آدمی یہاں ہوں تو باہر آجائیں ۔یہ پانچ صفوں سے باہر آگئے ۔ ان کے متعلق مجھے ان کے کمان دار نے بتایا ہے کہ پرسوں سے چُھٹی پر جا رہے تھے ۔ میں انہیں اپنے ساتھ لے جارہاہوں ۔لڑکی کے اغوا میں ان کا ہاتھ ہوسکتاہے ''۔

صلاح الدین ایوبی نے رجب کو بلا کر کہا…… ''کل یہاں دوسرا کمان دار آرہاہے ، آپ میرے پاس آجائیں گے ۔ میں آپ کو منجنیقوں کی کمان دینا چاہتا ہوں۔

رجب کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔

اُمِّ عرارہ کو گھوڑے پر ڈالئے ہوئے جب وہ دو حبشی اتنی دُور نکل گئے ،جہاں انہیں تعاقب کا خطرہ نہ رہاتو انہوں نے نے گھوڑے روک لیے ۔لڑکی ایک بار پھر آزاد ہونے کو تڑپنے لگی۔ حبشیوں نے اسے کہا کہ اس کا تڑپنا بے کار ہے۔اب اگر اُسے وہ آزاد بھی کردیں تو وہ اس ریگستان سے زندہ نہیں نکل سکے گی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اسے بے آبرو نہیں کرنا چاہتے ۔ اگر اُن کی نیت ایسی ہوتی تو وہ اس کے ساتھ وحشیوں جیسا سلوک کر چکے ہوتے۔ اُمِّ عرارہ حیران تھی کہ انہوں نے اسے چھیڑا تک نہیں تھا۔ انہیں تو جیسے احساس ہی نہیں تھا کہ اتنی دلکش لڑکی ان کے رحم و کرم پر ہے۔ ان میں سے ایک نے جو مارا جا چکاتھا، مرنے سے پہلے اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر التجا کی تھی کہ وہ تڑپ تڑپ کر اپنے آپ کو اذیت میں نہ ڈالے۔اُمِّ عرارہ نے ان سے پوچھا کہ اسے کہاں لے جایا جارہاہے تو اسے جواب دیاگیا کہ وہ اسے آسمان کے دیوتاکی ملکہ بنانے کے لیے لے جارہے ہیں۔

انہوں نے لڑکی کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی اور اُٹھا کر گھوڑے پر بٹھا دیا ۔اس نے آزاد ہونے کی کوشش ترک کر دی۔ اس نے دیکھ لیا تھا کہ یہ کوشش بے سود ہے ۔گھوڑے چل پڑے اوراُمِّ عرارہ ایک حبشی کے آگے گھوڑے پر بیٹھی محسوس کیا کہ رات ہوگئی ہے ۔گھوڑے رُک گئے ۔اس وقت تک اس نازک لڑکی کا جسم مسلسل گھوڑ سواری سے ٹوٹ چکا تھا۔ دہشت سے اس کا دماغ بے کار ہوگیاتھا۔ اسے گھوڑے رُکتے ہی اپنے ارد گرد تین چار مردوں اور تین عورتوں کی ملی جلی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ یہ زبان اس کی سمجھ سے بالا تھی۔ یہی حبشی راستے میں اس کے ساتھ عربی زبان میں باتیں کرتے تھے۔ ان کا لہجہ عربی نہیں تھا۔

ابھی اس کی آنکھوں سے پٹی نہیں کھولی گئی تھی۔ اس کی تو جیسے زبان بھی بند ہوگئی تھی۔ اُسے کسی نے اُٹھا کر کسی نرم چیز پر بٹھا دیا۔ یہ پالکی تھی ۔پالکی اوپر کو اُٹھی اور اس کا ایک اور سفر شروع ہوگیا۔ اس کے ساتھ ہی دف کی ہلکی ہلکی گونج دار تھاپ سنائی دینے لگی اور عورتیں گانے لگیں۔اس گانے کے الفاظ تو وہ نہ سمجھ سکتی تھی، اس کی لَے میں جادو کا اثر تھا ۔یہ اثر ایسا تھا، جس نے اُمِّ عرارہ کے خوف میں اضافہ کردیا، لیکن اس خوف میں ایسا تاثر بھی پیدا ہونے لگا جیسے اس پر نشہ یا خمار طاری ہورہاہو۔ رات کی خنکی خمار میں لذت سی پیدا کررہی تھی۔ اُمِّ عرارہ نے یہ چاہتے ہوئے کہ وہ پالکی سے کود جائے اور بھاگ اُٹھے اور یہ لوگ اُسے جان سے ماردیں،اس نے ایسی جرأت نہ کی ۔وہ محسوس کررہی تھی کہ وہ ان انسانوں کے قبضے میں نہیں بلکہ کوئی اور ہی طاقت ہے جس نے اس پر قابو پالیا ہے اور اب وہ اپنی مرضی سے کوئی حرکت نہیں کر سکے گی۔

وہ محسوس کرنے لگی کہ پالکی بردار سیڑھیاں چڑھ رہے ہیں ، وہ چڑھتے گئے ۔کم و بیش تیس سیڑھیاں چڑھ کر وہ ہموار چلنے لگے اور چند قدم چل کر رُک گئے ۔پالکی زمین پر رکھ دی گئی۔اُمِّ عرارہ کی آنکھوں سے پٹی کھول کر کسی نے اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیے۔تھوڑی دیر بعد ان ہاتھوں کی انگلیاں کھلنے لگی اور لڑکی کو روشنیاں دکھائی دینے لگی۔ آہستہ آہستہ ہاتھ اُس کی آنکھوں سے ہٹ گئے ۔ وہ ایک ایسی عمارت میں کھڑی تھی جو ہزاروں سال پرانی نظر آتی تھی۔ گول ستون اوپر تک چلے گئے تھے ۔ایک وسیع ہال تھا جس پر فرش روشنیوں میں چمک رہاتھا ۔دیواروں کے ساتھ ڈنڈے سے لگے ہوئے تھے اور ڈنڈوں کے سروں پر مشعلو ں کے شعلے تھے ۔اندر کی فضا میں ایسی خوشبو تھی جس کی مہک اس کے لیے نئی تھی۔ دف کی ہلکی ہلکی تھاپ اور عورتوں کا گیت اسے سنائی دے رہاتھا۔ یہ تھاپ اور یہ لَے ہال میں ایسی گونج پیدا کررہی تھی، جس میں خواب کا تاثر تھا۔

اُس نے سامنے دیکھا ۔ایک چبوترہ تھا جس کی آٹھ دس سیڑھیاں تھیں ۔چبوترے پر پتھر کے بُت کا منہ اور سر تھا۔اس کی ٹھوڑی کے نیچے تھوڑی سی گردن تھی۔ٹھوڑی سے ماتھے تک یہ پتھر کا چہرہ قد آور انسان سے بھی ڈیڑھ دو فٹ اونچا تھا۔منہ کھلاہوا تھا جو اتنا چوڑا تھا کہ ایک آدمی ذراسا جھک کر اس میں داخل ہوسکتا تھا۔ منہ میں سفید دانت بھی تھے۔یوں لگتا تھا جیسے یہ چہرہ قہقہے لگا رہاہو۔ اس کے دونوں کانوں سے ڈنڈے نکلے ہوئے تھے،جن کے باہر والے سروں پر مشعلیں جل رہی تھی۔اچانک اس کی آنکھیں جو کم و بیش گز گز بھر چوڑی تھیں ،چمکنے لگیں ۔ان سے روشنی پھوٹنے لگی ۔ عورتوں کے گیت کی لَے بدل گئی ۔ دف کی تھاپ میں جوش پیدا ہوگیا ۔ پتھر کے منہ کے اندر روشنی ہوگئی ۔لمبے لمبے سفید چغے پہنے ہوئے دو آدمی جھک کر منہ سے باہر آئے۔منہ سے باہر آکر ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف کھڑا ہوگیا۔

اس کے بعد پتھر کے منہ میںسے ایک اور آدمی نمودار ہوا۔وہ بھی جھک کر باہر آیا۔وہ ذرا بوڑھا لگتا تھا۔ اس کا چغہ سرخ رنگ کاتھا اور اس کے سر پر تاج تھا۔ ایک سانپ جو مصنوعی تھا اسکے دائیں کندھے پر کنڈلی مارے اور پھن پھیلائے بیٹھا تھا اور ایک بائیں کندھے پر ۔ دونوں سانپوں کے رنگ سیاہ تھے۔ اُمِّ عرارہ پر ایسا رعب طار ی ہوا کہ وہ سُن ہوکے کھڑی رہی ۔یہ آدمی جو اس قبیلے کا مذہبی پیشوا یا پروہت تھا، چبوترے کی سیڑھیاں اُتر آیا۔ وہ آہستہ آہستہ اُمِّ عرارہ تک آیا اور دونوں گھٹنے فرش پر رکھ کر اس نے لڑکی کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر چوم لیے۔ اس نے لڑکی سے عربی زبان میں کہا……''تم ہو وہ خوش نصیب لڑکی جسے میرے دیوتا نے پسند کیا ہے۔ہم تمہیں مبارک باد پیش کرتے ہیں ''۔

اُمِّ عرارہ بیدار ہوگئی ۔اس نے روتے ہوئے کہا……''میں کسی دیوتا کو نہیں مانتی ،اگر تم دیوتائوں کو مانتے ہوتو میں تمہیں انہی کا واسطہ دے کر کہتی ہوں کہ مجھے چھوڑ دو ۔مجھے یہاں کیوں لائے ہو''۔

''یہاں جو بھی آتی ہے ،یہی کہتی ہے ''۔ پروہت نے کہا……''لیکن اُس پر اس مقدس جگہ کا راز کھلتا ہے تو کہتی ہے کہ میں یہاں سے جانا نہیں چاہتی ۔میں جانتاہوں تم مسلمانوں کے خلیفہ کی محبوبہ ہو، مگر جس نے تمہیں پسند کیا ہے،،اس کے آگے دنیا کے خلیفے اور آسمانوں کے فرشتے سجدے کرتے ہیں ۔تم جنت میں آگئی ہو''۔ اس نے چغے کے اندرسے ایک پھول نکالا اور اُمِّ عرارہ کی ناک کے ساتھ لگادیا۔ اُمِّ عرارہ حرم کی شہزادی تھی۔اس نے ایسے ایسے عطر سونگے تھے جو اس جیسی شہزادیوں کے سوا اور کوئی خواب میں بھی نہیں سونگ سکتاتھا، مگر اس پھول کی بو اس کے لیے انوکھی تھی۔یہ بو اسکی روح تک اُتر گئی ۔اس کی سوچوں کا رنگ ہی بدل گیا۔اس کی نظروں کے زاویے ہی بدل گئے ۔پروہت نے کہا……''یہ دیوتا کا تحفہ ہے''…… اور اس نے پھول اس کی ناک سے ہٹالیا۔

اُمِّ عرارہ نے ہاتھ آہستہ آہستہ آگے کیا اور پروہت کا پھول والا ہاتھ پکڑ کر اپنی ناک کے قریب لے آئی۔پھول سونگھ کر خمار آلود آواز میں بولی۔''کتنا دل نشین تحفہ ہے۔آپ یہ مجھے دیں گے نہیں ؟''

''کیا تم نے تحفہ قبول کرلیاہے؟'' ۔پروہت نے پوچھا ۔اس کے ہونٹوں پر مُسکراہٹ تھی۔''ہاں اُمِّ عرارہ نے جواب دیا……''میں نے یہ تحفہ قبول کرلیاہے ''……اس نے پھول کو ایک بار پھر سونگھا اور اس نے آنکھیں بند کرلیںجیسے مہک کو ا پنے وجود میں جذب کرنے کی کوشش کررہی ہو۔

''دیوتانے بھی تمہیں قبول کرلیاہے''۔ پروہت نے کہا اور پوچھا……''تم اب تک کہاں تھیں ؟''

لڑکی سوچ میں پڑگئی جیسے کچھ یاد کرنے کی کوشش کررہی ہو۔سر ہلا کر بولی……''میں یہیں تھی……نہیں ۔میں ایک اورجگہ تھی ……مجھے یاد نہیں کہ میں کہاں تھی''۔

''تمہیں یہاں کون لایاہے؟''

''کوئی بھی نہیں ''……اُمِّ عرارہ نے جواب دیا……''میں خود آئی ہوں''

''تم گھوڑے پر نہیں آئی تھیں؟''

''نہیں ''۔لڑکی نے جواب دیا……''میں اُڑتی ہوئی آئی ہوں''۔

''کیا راستے میں صحرا اور پہاڑ اور جنگل اور ویرانے نہیں تھے؟''

''نہیں تو!''۔ لڑکی نے جواب دیا……''ہر طرف سبزہ زار اور پھول تھے''۔

''تمہای آنکھوں پر کسی نے پٹی نہیں باندھی تھی؟''
 ''پٹی ؟……نہیں تو''۔لڑکی نے جواب دیا……''میری آنکھیں کھلی ہوئی تھیں اور میں نے رنگ برنگ پرندے دیکھے تھے،پیارے پیارے پرندے۔''

پروہت نے اپنی زبان میں بلند آواز سے کھچ کہا۔اُمِّ عرارہ کے عقب سے چار لڑکیاں آئیں ۔انہوں نے اس کے کپڑے اُتار دئیے۔وہ مادر زاد ننگی ہوگئی ۔اُس نے مُسکراکر پوچھا ……''دیوتا مجھے اس حالت میں پسند کریں گے؟''پروہت نے کہا……''نہیں تمہیں دیوتا کے پسند کے کپڑے پہنا ئے جائیں گے''……لڑکیوں نے اس کے کندھوں پر چادر سی ڈال دی جو اتنی چوڑی تھی کہ کندھوں سے پائوں تک اس کا جسم مستور ہوگیا۔
جاری ھے ، (صلاحُ الدین ایوبیؒ کے دور کےحقیقی واقعات کا سلسلہ
 "ام عرارہ کا اغواہ")، شئیر کریں جزاکم اللہ خیرا۔

No comments:

Post a Comment