Monday, 10 April 2017

داستان ایمان فروشوں کی ۔


صلاحُ الدین ایوبیؒ کے دور کےحقیقی واقعات کا سلسلہ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر۔3۔جب زکوئ سلطان صلاح الدین ایوبی کے خیمے میں پہنچی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 اپنے مرکزی دفتر پہنچ کر وہ علی بن سفیان اور اپنے نایب کو اندر لے گیا اور دروازہ بند کردیا وہ سارا دن کمرے میں بندے رھے سورج غروب ھوا تاریکی چھا گی کمرے کے اندر کھانا تو دور پانی بھی نھی گیا ، رات حاصی گزر چکی تھی جب وہ تینوں کمرے سے نکلے اور اپنے اپنے گھروں کو روانہ ھوے علی بن سفیان ان سے الگ ھوا تو محافظ دوستوں کے ایک کمانڈر نے اسے روکا اور کہا۔۔۔

" محترم ۔۔! ھمارا فرض ھے کہ حکم مانے اور زبانیں بند رکھے لیکن میرے دستے میں ایک مایوسی پھیل گی ھے حود میں بھی اسکا شکار ھوا ھوں"

" کیسی مایوسی " علی بن سفیان نے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔

کمانڈر نے کہا "محافظ کہتے ھے کہ فوج کو اگر شراب پینے کی اجازت ھے تو ھمیں اس سے کیون منع کیا گیا ھے اگر آپ میری شکایت کو گستاحی سمجھے تو سزا دیں دے لیکن میری شکایت سنیں ھم اپنے امیر کو اللہ کا برگزیدہ انسان سمجھتے تھے اور اس پر دل و جان سے فدا تھے مگر رات،،،،،،"

" مگر رات کو اسکے حیمے میں ایک رقاصہ گی" علی بن سفیان نے کمانڈر کی بات مکمل کرتے ھوے کہا " تم نے کوی گستاحی نھی کی ، گناہ امیر کریں یا غلام سزا میں کوی فرق نھی ، گناہ بہرحال گناہ ھے میں یقین دلاتا ھوں آپکو کہ امیر مصر اور رقاصہ کے پچھلی رات کی ملاات میں گناہ کا کوی عنصر نھی کوی تعلق نھی ،، یہ کیا تھا۔۔؟ ابھی میں تمکو نھی بتاونگا آھستہ آھستہ وقت گزرتے ھوے تم سب کو پتہ چل جاے گا کہ رات کو کیا ھوا تھا " علی بن سفیان نے کمانڈر کے کندھے پر ھاتھ رکھتے ھوے کہا میری بات غور سے سنو عامر بن صالح ۔ تم پرانے عسکری ھوں اچھی طرھ جانتے ھوں کہ فوج اور فوج کے سربراہوں کے کچھ راز ھوتے ھے جن کی حفاظت ھم سب کا فرض ھے رقاصہ کا امیر مصر کے حیمے میں جانا بھی ایک راز ھے اپنے جانبازوں کو شک میں نہ پڑنے دو اور کسی سے زکر تک نہ ھو کہ رات کو کیا ھوا تھا" علی بن سفیان نے کہا

یہ کمانڈر پرانا تھا اور علی بن سفیان کی قابلیت سے آگاہ تھا سو اس نے اپنے دستے کے تمام شکوک رفو کیئے اگلے روز سلطان صلاح الدین ایوبی دوپہر کا کھانا کھا رھے تھے کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کو اطلاغ دی گی کہ ناجی آے ھے ، سلطان صلاح الدین ایوبی کھانے سے فارغ ھوکر ناجی سے ملے ، ناجی کا چہرہ بتارھا تھا کہ غصہ میں ھے اور گھبرایا ھوا ھے اس نے ھکلاتے ھوے لہجے میں کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

" قابل صدا احترام امیر مصر۔۔۔کیا یہ حکم آپ نے جاری کیا ھے کہ سوڈانی فوج کی پچاس ھزار نفری مصر کی اس فوج مین مدغم کردی جاے جو حال ھی میں تیار ھوی ھے "

" ھاں ناجی میں نے کل سارا دن اور رات کا کچھ حصہ صرف کر کہ اور بڑی گہری سوچ و بچار کے بعد یہ فیصلہ تحریر کیا ھے کہ جس فوج کے تم سالار ھوں اسے مصر کی فوج میں اس طرح مدغم کردیا جاے کہ ھر دستے میں سوڈانیوں کی نفری صرف دس فیصد ھو اور تمھیں یہ حکم بھی مل چکا ھوگا کہ اب تم اس فوج کے سالار نھی ھوگے تم فوج کے مرکزی دفتر میں آجاوگے " سلطان صلاح الدین ایوبی نے تحمل سے جواب دیا،

" عالی مقام مجھے کس جرم کی سزا دی جارھی ھے" ناجی نے کہا

" اگر تمھیں یہ فیصلہ پسند نھی تو فوج سے الگ ھو جاو" سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا

"معلوم ھوتا ھے میرے حلاف سازش کردی گی ھے آپ کو بلند دماغ اور گہری نظر سے چھانبین کرنی چاھیے مرکز میں میرے بھت سے دشمن ھے" ناجی نے کہا

" میرے دوست میں نے یہ فیصلہ صرف اسلیئے کیا کہ کہ میری انتظامیہ اور فوج سے سازشوں کا حطرہ ھمشہ کے لیے نکل جاۓ اور میں نے یہ فیصلہ اسلیئے کیا ھے کہ کسی کا عہدہ کتنا ھی کیوں نہ بلند ھوں اور کتنا ھی ادنیٰ کیوں نہ ھوں وہ شراب نہ پیئے ھلڑ بازی نہ کریں اور فوجی جشنوں میں ناچ گانے نہ ھوں" صلاح الدین ایوبی نے کہا۔

" لیکن عالی جاہ۔۔۔ میں تو حضور سے اجازت لی تھی" ناجی نے کہا

" میں نے شراب اور ناچ گانے کی اجازت صرف اسلیئے دی تھی کہ اس فوج کی اصل حالت میں دیکھ سکوں جسے تم ملت اسلامیہ کا فوج کہتے ھوں ، میں پچاس ھزار نفری کو برطرف نھی کرسکتا مصری فوج میں اس کو مدغم کر کہ اسکے کردار کو سدھار لونگا اور یہ بھی سن لو کہ ھم میں کوی مصری سوڈانی شامی عجمی نھی ھے ھم سب مسلمان ھے ھمارا جھنڈا ایک اور مذھب ایک ھے " سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا

" امیر عالی مرتبت نے یہ تو سوچا ھوتا کہ میری کیا عزت رہ جاے گی" ناجی نے کہا

"جس کے تم اھل ھوں، اپنی ماضی پر ھی نظر ڈالوں ضروری نھی کہ اپنی کارستانیوں کی داستانیں مجھ سے ھی سنو فورا واپس جاو اور اپنی فوج کی نفری سامان جانور سامان حوردونوش وغیرہ کے کاغزات تیار کر کہ میرے نایب کے حوالے کرو سات دن کے اندر اندر میرے حکم کی تعمیل ضروری ھونی چاھیے" سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا

ناجی نے کچھ کہنا چاہ لیکن سلطان صلاح الدین ایوبی ملاقات کے کمرے سے باھر نکل گیے .............
 یہ بات ناجی کے حفیہ خرم میں پہنچ گی تھی کہ زکوئ کو شاہ مصر نے رات بھر شرف باریابی بحشا ھے، زکوئ کے حلاف حسد کی آگ پہلے ھی پھیلی ھوی تھی، اسے آے ابھی تھوڑا ھی عرصہ گزرا تھا لیکن آتے ھی ناجی نے اسکو اپنے پاس رکھا تھا ، اسے زرا سی دیر کے لیے بھی اس حرم میں جانے نھی دیتا جہاں ناجی کی دلچسپ ناچنے والی لڑکیاں رھتی تھی زکوی کو اس نے الگ کمرہ دیا تھا، انھیں یہ تو معلوم نہ تھا کہ ناجی زکوی کو صلاح الدین کو موم کرنے کی ٹرینگ دے رھا ھے اور کس بڑے تحریبی منصوبے پر کام کر رھا ھے ، یہ رقاصایئں بس یہی دیکھ کر جل بھن گی تھی کہ زکوئ نے ناجی پر قبضہ کرلیا تھا،اور ناجی کے دل میں ان کے حلاف نفرت پیدا کردی گی ھے ، حرم کی دو لڑکیاں زکوئ کو ٹھکانے لگانے کی سوچ رھی تھی، اب انھوں نے دیکھا کہ زکوئ کو امیر مصر نے بھی رات بھر اپنے خیمے میں رکھا تو وہ پاگل ھو گئ، اسکو ٹھکانے لگانے کا واحد طریقہ قتل تھا، قتل کے دو ھی طریقے ھو سکتے تھے زھر یا کراے کے قاتل۔ جو زکوئ کو سوتے ھوے ھی قتل کردیں،دونوں ھی طریقے ناممکن لگ رھے تھے کیونکہ زکوئ باھر نھی نکلتی تھی اور اندر جانے تک اسکو رسائ کا کوی زریعہ نھی تھا،

ان دونوں نے حرم کی سب سے زیادہ ھوشیار چالاک ملازمہ کو اعتماد میں لیا تھا ، اسے انعام و اکرام دیتی رھتی تھی، جب حسد کی انتہا نے انکی آنکھوں میں خون اتار دیا تو انھوں نے اس ملازمہ کو منہ مانگا انعام دے کر اپنا مدعا بیان کیا ، یہ ملازمہ بڑی حرانٹ اور منجھی ھوی عورت تھی، اس نے کہا کہ سالار کی رھایئشگاہ میں جاکر زکوئ کو زھر دینا مشکل نھی، موقعہ محل دیکھ کر اسکو خنجر سے قتل کیا جاسکتا ھے اس کے لیے وقت چاھیے اس نے وعدہ کیا کہ وہ زکوئ کی نقل حرکت پر نظر رکھے گی ھوسکتا ھے کوی موقعہ مل جاے ، اس جرائم پیشہ عورت نے یہ بھی کہا کہ اگر موقعہ نھی ملا تو حشیشن کی مدد لی جا سکتی ھے مگر وہ معاوضہ بھت زیادہ لیتے ھے دونوں لڑکیوں نےاسکو یقین دلایا کہ وہ زیادہ سے زیادہ معاوضہ دے سکتے ھے٭

ناجی اپنے کمرے میں بھت غصے کی عالم میں ٹہل رھا تھا زکوئ اسکو ٹھنڈہ کرنے کی کوشیش کر رھی تھی لیکن اسکا غصہ مزید بڑھتا چلا جا رھا تھا ،

" آپ مجھے اسکے پاس جانے دیں میں اسکو شیشے میں اتار لونگی" زکوی نے کہا

" بیکار ھے ،،،،،، وہ کمبحت حکم نامہ جاری کرچکا ھے ، جس پر عمل بھی ھوچکا ھے مجھے اس نے کہی کا نھی رھنے دیا ، اس پر تمھارا جادو نھی چل سکا مجھے معلوم ھے میرے حلاف سازش کرنے والے لوگ کون ھے وہ میری ابھرتی ھوی حثیت سے حسد محسوس کر رھے ھے میں امیر مصر بننے والا تھا ، یہاں کے حکمرانوں پر میں نے حکومت کی ھے حالنکہ میں معمولی سا سالار تھا اب میں سالار بھی نھی رھا،" ناجی نے دربان کو بلا کر کہا کہ اوورش کو بلاے، اسکا ھمراز اور نائب آیا تو اس نے بھی اسی موضوع پر بات کی اسے وہ کوی نئ حبر نھی سنا رھا تھا، اوورش کے ساتھ وہ صلاح الدین کے نئے حکم نامے پر تفصیلی تبادلہ حیال کرچکا تھا مگر دونوں اسکے حلاف کوی تفصیلی کاروائ نھی سوچ سکے تھے اب ناجی کے دماغ میں جوابی کاروائ آگی تھی اس نے اوورش کو کہا " میں نے جوابی کاروائ سوچ لی ھے "

" کیا " اوورش نے کہا

" بغاوت " ناجی نے کہا اور اوورش اسکو چپ چاپ دیکھتا رھا۔ناجی نے اسکو کہا " تم حیران ھو گیے ھوں کیا تمھیں شک ھے کہ یہ 50 ھزار سوڈانی فوج ھماری وفادار نھی۔۔۔؟کیا سلطان کے مقابلے میں مجھے اور تمھیں اپنا سالار اور حیر حواہ نھی سمجھتی ۔۔؟ کیا تم اس فوج کو یہ کہہ کر بغاوت پر آمادہ نھی کر سکتے کہ تمھیں مصرف کا غلام بنایا جا رھا ھے مصر تمھارا ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ "

" میں نے اس اقدام پر غور نھی کیا تھا بغاوت کا انتظام ایک اشارے پر ھو سکتا ھے لیکن مصر کی نئ فوج بغاوت کو دبا سکتی ھے اور اس نئ فوج کو کمک بھی مل سکتی ھے ، حکومت سے ٹکر لینے سے پہلے ھمیں ھر پہلو پر غور کرنا چاھیے" اوورش نے کہا

"میں غور کرچکا ھوں میں عیسائ بادشاھوں کو مدد کے لیے بلا رھا ھوں ، تم دو پیامبر تیار کرو انھیں بھت دور جانا ھے آو میری بات بھت غور سے سنو ،، زکوئ تم اپنے کمرے میں چلی جاو " ناجی نے کہا زکوی اپنے کمرے میں چلی گی اور وہ دونوں ساری رات اپنے کمرےمی٭

سلطان صلاح الدین ایوبی نے دونوں فوجوں کو مدغم کرنے کا دورانیہ 7 دن رکھا تھا ، کاغذی کاروائ ھوتی رھی ناجی پوری طرح سے تعاون کرتا رھا 7 روز گزر چکے تھے ناجی ایک بار پھر سلطان صلاح الدین ایوبی سے ملا لیکن کوی شکایت نھی کی ، تفصیلی ریپورٹ دیں کر کہا کہ سات دن میں دونوں فوجیں ایک ھوجاے گی ، سلطان صلاح الدین ایوبی کے نایئبین نے بھی یقین دلایا کہ ناجی ایمانداری سے تعاون کر رھا ھے مگر علی بن سفیان کی رپورٹ کسی حد تک پریشان کن تھی ، اکے انٹیلی جنس نے رپورٹ دی تھی کہ سوڈانی فوج میں کسی حد تک بے اطمینانی اور ابتری پائ جا رھی ھے وہ مصری فوج میں مدغم ھونے پر حوش نھی ان میں یہ افواھیں پھیلائ جا رھی تھی کہ مصری فوج میں مدغم ھوکر انکی حثیت غلاموں جیسی ھو جاے گی،انکو مال غنیمت بھی نھی ملے گا اور ان سے بردباری کا کام لیا جاے گا اور سب سے بڑی بات کہ انکو شراب نوشی کی اجازت نھی ھوگی علی بن سفیان نے سلطان صلاح الدین ایوبی تک یہ حبریں پہنچا دی ،، ایوبی نے اسے کہا کہ یہ لوگ طویل وقت سے عیش کی زندگی بسر کر رھے ھیں انکو یہ تبدیلی پسند نھی آے گی ، مجھے امید ھے کہ وہ نئے حالات اور ماحول کے عادی ھوجائنگے،

" اس لڑکی سے ملاقات ھوی کہ نھی " سلطان صلاح الدین ایوبی نے پوچھا

" نھی اس سے ملاقات ممکن نظر نھی آرھی میرے آدمی ناکام ھوچکے ھے ناجی نے اسکو قید کر کہ رکھا ھے " علی بن سفیان نے کہا

اس سے اگلی رات کا ھے رات ابھی ابھی تاریک ھوئ تھی زکوئ اپنے کمرے میں تھی ناجی اور اوورش ساتھ والے کمرے میں تھے اسے گھوڑوں کے قدموں کی آوازیں سنائ دی اس نے پردہ ھٹادیا ، باھر کے چراغوں کی روشنی میں اسکو دو گھوڑ سوار گھوروں سے دکھائ دیئے ۔ لباس سے وہ تاجر معلوم ھورھے تھے گھوڑوں سے اتر کر وہ ناجی کے کمرے کی طرف بڑھے تو انکی چال بتا رھی تھی کہ یہ تاجر نھی اتنے میں اوورش باھر نکلا دونوں گھوڑ سوار اسکو دیکھ کر رک گیے اور اوورش کو سپاھیوں کے انداز سے سلام کیا ، اوورش نے ان کے گرد گھوم کر انکا جائزہ لیا اور پھر کہا کہ اپنے ھتیار دکھاو دونوں نے پھرتی سے چغے کھولے اور ھتیار دکھاے دیئے انکے پاس چھوٹی چھوٹی تلواریں اور ایک ایک نیزہ تھا اوورش انکو کمرے کے اندر لیے گیا دربان باھر کھڑا تھا

زکوئ گہرے سوچ میں پڑ گی وہ کمرے سے نکلی اور ناجی کے کمرے کی طرف بڑھ گی

مگر دربان نے اسکو دروازے پر ھی رکا اور کہا کہ اسے حکم ملا ھے کہ کسی کو اندر جانے نہ دیں زکوئ کو وھاں ایسی حثیت حاصل ھو تھی کہ وہ کمانڈروں پر بھی حکم چلایا کرتی تھی ۔ دربان کے کہنے سے وہ سمجھ گی کہ کوی حاص بات ھے اسے یاد آیا کہ ناجی نے اسکی موجودگی میں اوورش سے کہا تھا میں عیسائ بادشاھوں کو مدد کے لیے بلا رھا ھوں ، تم دو پیامبر تیار کرو انھیں بھت دور جانا ھے آو میری بات بھت غور سے سنو اور پھر اس نے زکوئ کو اندر جانے کا کہا اور ناجی پھر بعاوت کی باتیں کرنے لگا۔ یہ سب سوچ کر وہ اپنے کمرے میں واپس چلی گی اسکے اور ناجی کے حاص کمرے کے درمیان ایک دروازہ تھ جو دوسری طرف سے بند تھا اس نے اسی دروازے کے ساتھ کان لگا دیئے ، ادھر کی آوازیں سنایی دے رھی تھی پہلے تو اسے کوی بات سمجھ نھی آرھی تھی لیکن بعد میں اسکو ناجی کی آواز بڑی صاٖف سنائ دیں رھی تھی

" آبادیوں سے دور رھنا اگر کوی شک میں پڑے تو سب سے پہلے اس پیغام کو غائب کرنا ، جان پر کھیل جانا جو بھی تمھارے راستے میں حائل ھو اس کو راستے سے ھٹا دینا تمھارا سفر بھت 4 دنوں کا ھے 3 دن میں پہچنے کی کوشیش کرنا سمت یاد کرلو " " شمال مشرق" ناجی کہ رھا تھا

دونوں آدمی باھر نکلے زکوئ بھی باھر نکلی اس نے دیکھا کہ دونوں سوار گھوڑوں پر سوار ھو رھے تھے ، ناجی اور اوورش بھی باھر نکلے تھے وہ شاید ان کو الوادغ کہنے کے لیے باھر کھڑے تھے گھوڑ سوار بھت تیزی سے روانہ ھوے ناجی نے زکوئ کو بھلا کر کہا کہ میں باھر جا رھا ھوں ، کام بھت لمبا ھے دیر لگے گی تم آرام کر لو اگر اکیلیے دل نہ لگے تو گھوم پھیر لینا "

" ھاں جب سے آی ھوں باھر ھی نھی نکلی" زکوئ نے کہا

ناجی اور اوورش بھی چلے گے زکوئ نے چغہ پہنا کمر میں خنجر اڑسا اور خرم کی طرف چل پڑی وہ جگہ کچھ سو گز دور تھی وہ ناجی پر یہ ظاھر کرانا چاھتی تھی کہ وہ خرم کے اندر ھی جا رھی ھےدربان کو بھی اس نے یہی بتایا خرم کے اندر جب زکوئ داحل ھوئ تو حرم والیوں نے اسکو دیکھ کر حیران ھوی وہ پہلی بار وھاں آئ تھی سب نے اسکا استقبال کیا اور اسکو پیار کیا ، ان دونوں لڑکیوں نے بھی اسکو

حوش آمدید کہا جو زکوئ کو قتل کرنا چاھتی تھی زکوئ سب سے ملی اور سب کے ساتھ باتیں کی پھر خرم سے باھر نکلی وہ حرانٹ ملازمہ بھی وھی تھی جسے نے زکوئ کو قتل کرنا تھا اس نے زکوئ کو بڑے غور سے دیکھا اور زکوئ باھر نکل گی
 حرم والے مکان اور ناجی کے رھایش گاہ کا درمیانی علاقہ اونچا نیچا تھا اور ویران، زکوئ حرم سے نکلی تو ناجی کی رھایشگاہ کے بجاے بھت تیز تیز دوسری سمت کی طرف چل پڑی ، ادھر ایک پگڈنڈی بھی تھی لیکن زکوئ زرا اس سے دور جا رھی تھی ، زکوئ سے 15۔20 قدم دور ایک ساہ سایہ بھی چلا جا رھا تھا وہ کوی انسان ھو سکتا تھا لیکن سیاہ لبادے میں لپٹے ھونے کی وجہ سے کوی بھوت ھی لگ رھا تھا زکوئ کی رفتار تیز ھوئ تو اس بھوت نے بھی اپنی رفتار اور تیز کردی ، آگے گھنی جھاڑیاں تھی زکوئ ان میں سے روپوش ھوی ، سیاہ بھوت بھی جھاڑیوں سے روپوش ھوگیا ۔ وھاں سے کوی اڑھائ 300 سو گز دور سلطان صلاح الدین کی رھایشگاہ تھی جس کے اردگرد فوج کے اعلی رتبوں کے افراد رھتے تھے

زکوئ کا رح ادھر ھی تھا ، وہ جھاڑیوں سے نکلی ھی تھی کہ بائں طرف سے سیاہ بھوت اٹھا چاندنی بڑی صاف تھی لیکن پھر بھی اسکا چہرہ نظر نھی آرھا تھا اسکے پاؤں کی آھٹ بھی نھی تھی بھوت کا ھاتھ اوپر اٹھا چاندنی میں خنجر چمکا اور بجلی کی سی تیزی سے زکوئ کے بائں کندھے اور گردن کے درمیان اتر گیا زکوئ کی کوی چیح نھی نکلی ، خنجر اسکے کندھے سے نکال دیا گیا ۔ زکوئ نے اتنا گہرا وار کھا کر اپنے کمر بند سے اپنا بھی خنجر نکالا، بھوت نے اس پر دوسرا وار کیا تو زکوئ نے اسکے خنجر والے بازو کو اپنے بازو سے روک کر اپنا حنجر بھوت کے سینے میں اتار دیا ۔ زکوئ کو چیح سنائ دی جو کسی عورت کی تھی۔ زکوئ نے اپنا خنجر کھینچ کر دوسرا وار کیا جو اسکے پیٹ میں پورا حنجر اتر گیا ۔ اسکے ساتھ ھی زکوئ کے اپنے پہلو میں بھی خنجر لگا لیکن وہ اتنا گہرا نھی تھا ۔ اسکے ساتھ ھی حملہ کرنے والی عورت چکرا کر گر گی۔

زکوئ نے یہ نھی دیکھا کہ اس پر خملہ کرنے والا کون تھا ۔ وہ ڈور پڑی اسکے جسم سے خون تیزی سے بہہ رھا تھا سلطان صلاح الدین کا مکان اسکو چاندی میں نظر آنے لگا، آدھا فاصلہ طے کر کہ زکوئ کو چکر آنے لگے اسکی رفتار سست ھو گی اس نے چلانا شروع کیا
¬۔۔۔ایوبی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔¬۔" علی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔-۔۔۔ایوبی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔¬۔۔۔"

سلطان صلاح الدین ایوبی کے اس عظیم جاسوس زکوئ کے کپڑے حون سے سرح ھونے لگے، وہ بھت مشکل سے اپنے قدم گھسیٹنے لگی تھی ، اس عظیم جاسوس کی منزل تھوڑی بھت ھی قریب تھی لیکن اس تک پہنچنا ممکن نظر نھی آرھا تھا ، زکوئ نے سلطان صلاح الدین ایوبی کے لیے ایک قیمتی راز حاصل کیا تھا وہ مسلسل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔علی۔۔۔۔۔۔۔۔¬۔ ایوبی کہہ کر پکار رھی تھی، قریب ھی ایک گشتی سنتری پھیر رھا تھا اسے آواز سنائ تو وہ دوڑ کر وھاں پہنچ گیا، زکوئ اس پر گر پڑی اور کہا

" مجھے امیر مصر سلطان صلاح الدین ایوبی کے پاس پہنچا دو ۔۔۔۔۔۔۔۔جلدی۔۔۔۔۔بھت¬ جلدی"

سنتری نے جب اسکا حون دیکھا تو اسکو پیٹھ پر لاد کر دوڑ پڑا۔

سلطان صلاح الدین ایوبی اپنے کمرے میں بیٹھا علی بن سفیان سے رپورٹ لیں رھا تھا

اسکے دو نائب بھی موجود تھے یہ رپورٹیں کچھ اچھی نھی تھی ، علی بن سفیان نے بغاوت کے حدشے کا اظہار کیا تھا جس پر غور ھورھا تھا ، اتنے میں دربان دوڑتا ھوا آیا کہ ایک سپاھی ایک زحمی لڑکی کو اٹھاۓ باھر کھڑا ھے ، کہتا ھے یہ لڑکی امیر مصر سے ملنا چاھتی ھے۔ یہ سنتے ھی علی بن سفیان کمان سے نکلے ھوے تیر کی طرح باھر دوڑا ، سلطان صلاح الدین ایوبی نے بھی جب یہ الفاظ سنے تو وہ بھی علی کے پیچھے دوڑا، اتنے میں لڑکی کو اندر لایا گیا سلطان صلاح الدین ایوبی نے چیح کر کہا " طبیب اور جراح کو جلدی سے بلاو" لڑکی کو سلطان صلاح الدین ایوبی نے اٹھا کر اپنے پلنگ پوش پر لٹا دیا تھوڑے ھی وقت میں پلنگ پوش بھی حون سے سرح ھو رھا تھا

" کسی کو بلاو میں اپنا فرض ادا کر چکی ھوں " لڑکی نے نحیف سی آواز میں کہا

" تمھیں زحمی کس نے کیا ھے زکوئ : علی نے کہا

" پہلے میری بات سن لو شمال مشرق کی طرف سوار دوڑا دو ، دو سوار جاتے نظر آینگے دونوں کے چغے بادامی رنگ کے ھیں ، ایک کا گھوڑا بادامی اور دوسرے کا سیاہ ھے وہ تاجر لگتے ھے ان کے پاس سالار ناجی کا تحریری پیغام ھے جو عیسائ باداشہ فرینک کو بھیجا گیا ھے ۔ ناجی کی یہ سوڈانی فوج بغاوت کرے گی مجھے اور کچھ نھی معلوم ، سلطان آپکی سلطنت صحت حطرے میں ھے ان دو سواروں کو راستے میں ھی پکڑ لو۔ تفصیل ان کے پاس ھے " بولتے بولتے زکوئ پر عشی طاری ھو گی

دو طبیب آگیے انھوں نے حون بند کرنے کی کوشیش کی زکوئ کے منہ میں دوایئاں ڈالی جن کے اثر سے زکوئ پھر سے بولنے کے قابل ھوئ ، مثال کے طور پر ناجی نے اوورش کے ساتھ کیا باتیں کی ناجی نے زکوئ کو کیسے اپنے کمرے میں جانے کو کہا ناجی کا غصہ اور بھاگ دوڑ دو سواروں کا آنا جانا وغیرہ، پھر اس نے بتایا کہ اسکو یہ علم نھی کہ اس پر حملہ کرنے والا کون تھا ، وہ موقعہ موزوں دیکھ کر ادھر ھی آرھی تھی کہ پیچھے سے کسی نے خنجر گھونپ دیا اس نے اپنا خنجر نکال کر اس پر حملہ کیا۔ حملہ آور کی چیح بتا رھی تھی کہ وہ کوی عورت تھی اس نے جگہ بتا دی تو اسی وقت فوجی وھاں دوڑا دیئے گیئے زکوئ نے کہا کہ وہ انسان زندہ نھی ھوگا کونکہ میں نے وار اسکے سینے اور پیٹ پر کیئے تھے

زکوئ کا حون نھی روک رھا تھا زیادہ تر حون پہلے بہہ گیا تھا سلطان صلاح الدین کا یہ جاسوس اپنی آخری سانسیں لے رھا تھا اپنے فرض پر اپنی زندگی قربان ھو رھی تھی ، زکوئ نے امیر مصر سلطان صلاح الدین کا ھاتھ پکڑ ا اور چھوم کر کہا

" اللہ آپکو اور آپکی سلطنت کو سلامت رکھے آپ شکست نھی کھا سکتے ، مجھ سے زیادہ کوی نھی بتا سکتا کہ سلطان ایوبی کا ایمان کتنا پحتہ ھے ، " پھر اس نے علی بن سفیان سے کہا " علی۔۔۔۔! میں نے کوتاھی تو نھی کی۔۔؟ آپ نے جو فرض دیا تھا وہ میں نے پورا کردیا

" تم نے اس سے زیادہ پورا کیا ھے ھمارے تو وھم و گمان میں بھی نھی تھا کہ ناجی اتنی حطرناک حد تک کاروائ کر سکتا ھے اور تمھیں جان کی قربانی دینی پڑے گی میں نے تم کو صرف محبری کے لیے وھاں بھیجا تھا" علی بن سفیان نے کہا

" اے کاش۔۔۔۔۔۔! میں مسلمان ھوتی ۔۔۔۔۔ زکوئ نے کہا اسکے آنسو نکل آے" میرے اس کام کا جو بھی معاوضہ بنتا ھے وہ میرے اندھے باپ اور صدا بیمار ماں کو دینا جن کی مجبوریوں نے مجھے بارہ سال کی عمر میں رقاصہ بنادیا "

زکوئ کا سر ایک طرف ڈھک گیا آنکھیں آدھی ن کھلی ھوی تھی اور اسکے ھونٹ آدھے نیم دا مسکرا رھے تھے طبیب نے نبض پر ھاتھ رکھا اور سلطان کی طرف دیکھ کر سر ھلا دیا زکوئ کی روح اسکے زحمی جسم سے آزاد ھوی تھی، ایک غیر مسلم نے اسلام کی عظمت اور سلطان سے وفاداری کی حاطر جان قربان کردی۔

سلطان صلاح الدین نے کہا" یہ کسی بھی مذھب سے تھی زکوئ کو پورے اعزاز کے ساتھ دفن کرو اس نے اسلام ھی کے لیے جان قربان کی ھے اگر چہ یہ ھمیں دھوکہ بھی دے سکتی تھی "

دربان نے اندر آکر کہا کہ باھر ایک عورت کی لاش آگی ھے جا ر دیکھا گیا تو وہ ایک ادھیڑ عمر عورت کی لاش تھی جاۓ وقوعہ سے دو خنجر ملے تھے اس عورت کو کوی نھی پہچنتا تھا یہ ناجی کے حرم کی ایک ملازمہ تھی جس کو انعام کی لالچ نے زکوئ پر حملہ کرنے پر مجبور کیا رات کو ھی زکوئ کو فوجی اعزاز کے ساتھ سپرحاک کیا گیا اور ملازمہ کی لاش گھڑا کھود کر دفنا دی گی ، دونوں کو نہایت خفیہ انداز سے دفنا دیا گیا ، جب تدفین ھو رھی تھی تو سلطان صلاح الدین نے نہایت اعلی قسم کے آٹھ جوان گھوڑے منگواۓ آٹھ جوان منگواے گیے ان کو علی بن سفیان کی کمان میں ناجی کے ان دو گھوڑ سواروں کے پیچھے دوڑا دیا گیا جو ناجی کا تحریری پیغام عیسای بادشاہ کو پہنچا رھے تھے۔۔۔۔۔۔۔

لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زکوئ کون تھی۔۔۔۔؟وہ مراکش کی ایک رقاصہ تھی کسی کو بھی معلوم نھی تھا کہ اسکا مذھب کیا تھا وہ مسلمان نھی تھی وہ عیسائ بھی نھی تھی۔۔

جیسا کہ کہا گیا ھے پہلے ھی کہ علی بن سفیان سلطان کے انٹیلی جنس ) جاسوسی اور سراع رسانی ( کا سربراہ تھا اور اسے دوسروں کے راز معلوم کرنے کے کئ ڈھنگ احتیار کرنے پڑتے تھے ، صلاح الدین اسکو اپنے ساتھ مصر لایا تھا یہاں آکر معلوم ھوا کہ یہاں کا سالار ناجی نہایت ھی شیطان اور سازشی ھے اسکے اندرون حالات معلوم کرنے کے لیے علی نے جاسوسوں کا ایک جال بچھا دیا ۔۔ اس اقدام سے علی بن سفیان کو ایک بات یہ معلوم ھوی کہ ناجی حشیشن کی طرح اپنے محالفین کو زھر اور حسین لڑکیوں سے پھنساتا اور اپنا گرویدہ بناتا اور مروتا ھے، علی بن سفیان نے تلاش و بسار کے بعد کسی کی وساطت سے زکوئ کو مراکش سے حاصل کیا اور حود بردہ فروش کا روپ دھار کر ناجی کے ھاتھ بیچ دیا

، زکوئ میں ایسا جادو تھا کہ ناجی اسکو سلطان کے پھنسانے کے لیے استعمال کرنا چاھتا تھا لیکن ناجی حود اس لڑکی کے دام میں پھنس گیا اور پھنسا بھی ایسا کہ زکوئ کے سامنے وہ اپنے سالار سے تمام باتیں کیا کرتا تھا ، ناجی نے زکوئ کو جشن کی رات سلطان صلاح الدین کے حیمے میں بھیج دیا اور اپنی اس فتح پر بھت حوش ھورھا تھا کہ اس نے صلاح الدین کا بت تھوڑ دیا ھے ، اب وہ اس لڑکی کے ھاتھوں شراب پلا سکے گا اور سلطان کو اپنا گرویدہ بنا لے گا مگر ناجی کے تو فرشتوں کو بھی علم نھی ھوسکا کہ زکوئ سلطان کی جاسوسہ تھی ، زکوئ سلطان کو اسی رات رپورٹیں دیتی رھی اور سلطان سے ھدایت لیتی رھی زکوئ سلطان کے حیمے سے نکل کر دوسری طرف چلی گی تھی جہاں زکوئ کو سر منہ کپڑے میں لپیٹا ایک آدمی ملا تھا وہ آدمی علی بن سفیان تھا جس نے زکوئ کو مزید کچھ اور ھدایت دی تھی ۔ اسکے بعد زکوئ ناجی کے گھر سے باھر نہ نکل سکی جس کی وجہ سے وہ علی کو کوی رپورٹ نہ دے سکی ۔ آخر کار اسکو اسی رات موقع ملگیا اور وہ ایسی رپورٹیں لیکر پہنچی جس کا علم صرف اللہ ھی کو تھا ۔ یہ زکوئ کی بدنصیبی تھی کہ زکوئ کے حلاف حرم میں صرف اسلیئے سازش ھوی کہ اس نے ناجی پر قبضہ جمایا ھے یہ سازش کامیاب رھی اور زکوئ قتل ھوگی لیکن مرنے سے پہلے وہ تمام اطلاعیں سلطان تک پہنچانے میں کامیاب رھی ۔

زکوئ کے مرنے کے کچھ عرصہ بعد وہ معاوضہ جو علی بن سفیان نے زکوئ کے ساتھ طے کیا تھا ۔ سلطان کی طرف سے انعام اور وہ رقم جو علی بن سفیان نے ناجی سے بردہ فروش کی صورت میں ناجی سے وصول کی تھی ، مراکش میں زکوئ کے معذور والدین کو ادا کردئ گئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 موت کے اس رات کے ستارے ٹوٹ گیے اور جب صبح ھوئ تو علی بن سفیان آٹھ سواروں کے ساتھ انتہائ تیز رفتاری سے شمال مشرق کی طرف جا رجا تھا ، آبادیاں دور پیچھے ھٹتی جا رھی تھی۔ علی کو معلوم تھا کہ شاہ فرینک کے ھیڈ کوارٹر تک پہنچنےکا راستہ کونسا ھے ۔ رات انھوں نے گھوڑوں کو آرام دیا ۔ یہ عربی گھوڑے تھے جو تھکے ھوے بھی تازہ دم لگتے تھے ۔ دور کجھور کے چند درحتوں میں علی کو 2 گھوڑے جاتے نظر آے ، علی نے اپنے دستے کو راستہ بدلنے اور اوٹ میں ھونے کے لیے ٹیلوں کے ساتھ ساتھ ھو جانے کو کہا ، علی صحرا کا راز دان تھا بھٹکنے کا کوی حدشہ نہ تھا ، علی نے رفتار اور تیز کردی ، اگلے دو سواروں اور اس دستے کے بیچ کوئ 4 میل کا فاصلہ رہ گیا ۔ یہ فاصلہ تو طے ھوا لیکن گھوڑے تھک گیے تھے ، وہ جب کھجوروں کے درحتوں تک پہنچے تو دو سوار کوئ دو میل دور مٹی کے ایک پہاڑی کے ساتھ ساتھ جا رھے تھے ، ان کے گھوڑے بھی شاید تھک گیے تھے دونوں سوار اترے اور نظروں سے اوجھل ھوگیے

" وہ پہاڑیوں کے اوٹ میں بیٹھ گیئے ھے" علی نے کہا اور راستہ بدل دیا ۔ فاصلہ کم ھوتا گیا اور جب فاصلہ کچھ سو گز رھ گیا تو وہ دونوں بندے اوٹ سے باھر آے ، انھوں نے گھوڑوں کے سرپٹ دوڑنے کا شور سن لیا تھا ۔ وہ دوڑ کر غایب ھوے علی بن سفیان نے گھوڑے کو ایڑی لگائ ۔ تھکے ھوۓ گھوڑے نے وفاداری کا ثبوت دیا اور اپنی رفتاری تیز کردی ۔ باقی گھوڑے بھی تیز ھوگیے وہ جب پہاڑی کے اندر گیئے تو دونوں سوار نکل چکے تھے مگر زیادہ دور نھی گیئے تھے ۔ وہ شاید گھبرا بھی گئے تھے آگے ریتیلی چٹانیں بھی تھی ۔ انھیں راستہ نھی مل رھا تھا کھبی دائیں جاتے کھبی بائیں ۔علی بن سفیان نے اپنے گھوڑے ایک صف میں پھیلا دئے اوراور بھاگنے والوں سے ایک سو گز دور جا پہنچا ۔ ایک تیر انداز نے دوڑتے ھوے گھوڑے سے تیر چلایا جو ایک گھوڑے کے ٹانگ میں جا لگا ۔ گھوڑا بے لگام ھوا۔ تھوڑی سی اور بھاگ دوڑ کے بعد وہ دونوں گھیرے میں آگیئے تھے اور انھوں نے ھتیار ڈال لیئے ، سوال جواب پر انھوں نے جھوٹ بولا اور اپنے آپ کو تاجر ظاھر کرنے لگے ، لیکن جیسے ھی تلاشی لی گی تو وہ تحریری پیغام مل گیا جو ناجی نے انکو دیا۔ ان دونوں کو حراست میں لیا گیا۔ گھوڑوں کو آرام کا وقت دیا گیا ۔ اور پھر یہ دستہ واپس آگیا۔

سلطان صلاح الدین ایوبی بڑی بے چینی سے انکا انتظار کر رھا تھ، دن گزر گیا رات بھی گزرتی جا رھی تھی۔ آدھی رات گزر گی ، ایوبی لیٹ گیا ۔ اور اسکی آنکھ لگ گئ۔ سحر کے وقت دروازے پر ھلکے سے دستک پر ایوبی کی آنکھ کھل گی دوڑ کا دروازہ کھولا تو علی بن سفیان کھڑا تھا ل اسکے پیچھے آٹھ سوار اور وہ دو قیدی کھڑے تھے ۔ علی اور قیدیوں کو سلطان نے اپنے سونے کے کمرے میں ھی بلالیا علی سلطان کو ناجی کا پیغام سنانے لگا ۔ پہلے تو سلطان کے چہرے کا رنگ ھی پیلا پڑھ گیا پھر جیسے حون جوش مار کر سلطان کے چہرے اور آنکھوں میں چڑھ آیا ھوں۔ ناجی کا پیغام حاصا طویل تھا ناجی نے صلیبیوں کے بادشاہ فرینک کو لکھا تھا کہ وہ فلاں دن اور فلاں وقت یونیانیوں رومیوں اور دیگر صلیبیوں کی بحریہ سے بحیرہ روم کی طرف سے مصر میں فوجیں اتار کر حملہ کردیں، حملے کی اطلاع ملتے ھی 50 ھزار سوڈانی فوج بھی امیر مصر کے حلافت بغاوت کردے گی ، مصر کی نیئ فوج ایک ھی وقت میں بغاوت اور حملے کے جواب کی قابل نھی ، اس کے غوض ناجی نے تمام تر مصر یا مصر کے ایک بڑے حصے کی بادشاھت کی شرط رکھی تھی۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے دونوں پیغام لیکر جانے والوں کو قید خانے میں ڈال دیا ، اور اسی وقت نئ مصری فوج سے ایک دستہ بھیج کر ناجی اور ناجی کے نایئبین کو ان کے گھروں میں ھی نظر بند کردیا ۔ ناجی کے خرم کی تمام کی تمام لڑکیاں آزاد کردی گئ ، ناجی کے تمام حزانے کو سرکاری حزانے میں ڈال کر سرکاری حزانہ بنادیا گیا اور یہ تمام کاروائ خفیہ رکھ گئ، سلطان صلاح الدین ایوبی نے علی کی مدد سے اس حط میں جو پکڑا گیا تھا حملے کی تاریح مٹا کر اگلی تاریح لکھ دی۔ دو زھین فوجیوں کو شاہ فرینک کی طرف روانہ کیا گیا، ان دونوں فوجیوں کو یہ ظاھر کرنا تھا کہ وہ ناجی کے پیامبر ھے ۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے انکو روانہ کر کہ سوڈانی فوج کو مصری فوج میں مدغم کرنے کا خکم روک دیا ،

آٹھویں روز وہ دونوں پیامبر واپس آگیے اور شاہ فرنک کا جوابی حط جو اس نے ناجی کے نام لکھا تھا سلطان صلاح الدین ایوبی کو دیا ، شاہ فرنک نے لکھا تھا کہ حملے کی تاریح سے دو دن قبل سوڈانی فوج بغاوت کردیں ، تاکہ سلطان صلاح الدین ایوبی کو صلیبیوں کا حملہ روکنے کی ھوش تک نہ رھے ، علی بن سفیان نے ان دو پیامبروں کو سلطان صلاح الدین ایوبی کی اجازت سے نظر بند کردیا ، یہ نظربندی باعزت تھی، جس میں دونوں کے آرام اور بہترین کھانوں کا حاص حیال رکھا گیا ، یہ ایک احتیاطی تدبیر تھی کہ یہ اھم راز فاش نہ ھوں ، سلطان صلاح الدین ایوبی نے بحیرہ روم کے ساحل پر اپنی فوج کو چھپا لیا جہاں صیلبیوں نے لنگرانداز ھوکر اپنی فوجیں اتارنی تھی ، حملے میں ابھی کچھ دن باقی تھے۔۔

ایک مورح سراج الدین نے لکھا ھے کہ سوڈانی فوج نے شاہ فرینک کے حملے سے پہلے ھی بغاوت کردی تھی ، جو سلطان صلاح الدین ایوبی نے طاقت سے نھی بلکہ پیار ڈپلومیسی اور اچھے حسن سلوک سے دبل لی تھی ، بغاوت کی ناکامی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ باغیوں کو اپنا سالار ناجی کہی بھی نظر نھی آیا اور اسکا کوی نائب بھی سامنے نھی آیا،،،،، وہ سب تو ید میں تھے ،،

مگر ایک اور مورح ہیتاچی لکھتا ھے " سوڈانی فوج نے حملے کے بھت بغاوت کی تھی " تاھم یہ دونوں مورح باقی تمام واقعات پر متفق نظر آتے ھے دونوں نے لکھا ھے کہ سلطان صلاح الدین ایوبی نے ناجی اور اسکے نایئبین کو سزا میں موت کی سزا دیں کر رات میں ھی گمنام قبروں میں دفن کرادیا "

ان دونوں مورحوں اور ایک اور مورح " لین پول" نے بھی صلیبیوں کے بحریہ کے اعداد و شمار ایک جیسے ھی لکھے ھے وہ لکھتے ھے کہ حط میں دی ھوئ تاریح کے عین مطابق صلیبیوں کی بحریہ جس میں فرینک کی یونان کی روم کی اور سسلی کی بحریہ شامل تھی ، متحدہ کمان میں بحریہ روم میں نمودار ھوی ، مورحین کے مطابق اس بحریہ میں جنگی جہازوں کی تعداد 150 تھی ، اسکے علاوہ 1 جنگی جہاز بھت بڑے تھے ان میں مصر میں اتارنے کے لیے فوجیں تھی اس فوج کا صلیبی کمانڈر ایمئرک تھا جن بادبانی کشتیوں میں رسد تھی اسکی ٹھیک تعداد کا اندازہ نھی کیا جاسکتا ، جہاز دو قطاروں میں آرھے تھے۔۔۔

سلطان صلاح الدین ایوبی نے دفاغ کی کمانڈ اپنے پاس رکھی ، سلطان صلاح الدین ایوبی نے صلیبیوں کے بحریہ کو مزید قریب آنے دیا دام بچھایا جا چکا تھا۔ سب سے پہلے بڑے جہاز لنگر انداز ھوے ھی تھے کہ ان پر اچانک آگ برسنے لگی ، یہ منجنیقوں سے پھیکے ھوے شغلے تھے اور آگ کے گولے اور ایسے تیر بھی جن کے پچھلے حصے جلتے ھوے شغلے کے مانند تھے ، مسلمانوں کے اس برساتی ھوئ آگ نے صلیبیوں کے جہازوں کے بادبانوں کو آگ لگا دی ، جہاز لکڑی کے تھے جو فورا جل اٹھے ، ادھر سے مسلمانوں کے چھپے ھوے جہاز آگیئے انھوں نے بھی آگ ھی برسائ ، یوں معلوم ھو رھا تھا جیسے بحیرہ روم جل رھا ھوں، صلیبیوں کے جہاز موڑ کر ایک دوسرے سے ٹکرانے لگے اور ایک دوسرے کو حود ھی آگ لگانے لگے جہازوں سے صلیبی فوج سمندر میں کھود رھی تھی ان میں سے جو سپاھی زندہ ساحل پر آرھے تھے وہ سلطان صلاح الدین ایوبی کے فوجیوں کے تیروں کا نشانہ بن رھے تھے

ادھر شیر اسلام نورالدین زنگی نے فرینک کے سلطنت پر حملہ کردیا فرینک نے اپنی فوج مصر حشکی کے زریعے روانہ کردی تھی ، فرینک اس وقت سمندر میں جنگی بیڑے کے ساتھ تھا جب اسکو اپنی سطنت پر حملے کی اطلاع ملی تو وہ بڑی مشکل سے اپنی جان بچھا کر بھاگ گیا لیکن جب وہ وھاں پہنچا،،،تو،،،،،،،،،،¬وھاں کی دنیا بدل گی تھی،،،

بحیرہ روم میں صلیبیوں کا متحدہ بیڑہ تباہ ھوچکا تھا اور فوج جل اور ڈوب کر حتم ھورھی تھی ، صلیبیوں کا ایک کمانڈر ایملرک بچ گیا اس نے ھتیار ڈال کر صلح کی درحواست کی جو بھت بڑی رقم کے غوض منظور کی گی ، یونیوں اور سسلی کے کچھ جہاز بچ گیئے تھے ، سلطان صلاح الدین ایوبی نے انکو جہاز واپس جانے کی اجازت دی مگر راستے میں ھی ایسا طوفان آیا کہ تمام بچے کچھے جہاز وھی غرق ھوے

١٩دسمبر ١١٦٩ کے روز صلیبیوں نے اپنی شکست پر دستحط کئے اور ، سلطان صلاح الدین ایوبی کو تاوان ادا کردیا بیشتر مورحین اور ماھرین حرب و ضرب نے ، سلطان صلاح الدین ایوبی کے اس فتح کا سہرہ ، سلطان صلاح الدین ایوبی کے انٹیلی جنس کے سر باندھا ھے ، رقاصہ زکوئ کا زکر اس دور کے ایک مراکشی وقائع نگار اسد السدی نے کیا ھے ، اور علی بن سفیان کا تعارف بھی اسی وقائع نگار کی تحریر سے ھوا ھے ، یہ ایک ابتدا ھے۔ ، سلطان صلاح الدین ایوبی کی زندگی اب پہلے سے بھی زیادہ حطروں میں گر رھی ھے۔۔۔۔
جاری ھے ، (صلاحُ الدین ایوبیؒ کے دور کےحقیقی واقعات کا سلسلہ
ساتویں لڑکی)، شئیر کریں جزاکم اللہ خیرا۔

No comments:

Post a Comment