Monday, 10 April 2017

داستان ایمان فروشوں کی


صلاحُ الدین ایوبیؒ کے دور کےحقیقی واقعات کا سلسلہ
قسط نمبر.18۔ "لڑکی جو فلسطین سے آئ تهی""
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ"لڑکی جو فلسطین سے آئ تهی"
 سلطان صلاح الدین ایوبی نے کمرے ٹہلتے ہوئے آہ بھری اورکہا ……''قوم متحد ہو سکتی ہے اور ہو بھی جاتی ہے ۔ قوم کا شیرازہ امراء اور حکام بکھیرا کرتے ہیں یا وہ خود ساختہ قائد جو امیر، وزیر یا حاکم بننا چاہتے ہیں ۔ تم نے دیکھ لیا ہے علی ! مصر کے لوگوں کی زبان پر ہمارے خلاف کوئی شکایت نہیں ۔ غداری اور تخریب کاری صرف بڑے لوگ کر رہے ہیں ۔ ان بڑے لوگوں کو میری ذات کے ساتھ کوئی عداوت نہیں ۔ میں انہیں اس لیے برا لگتا ہوں کہ میں اسی گدی پر بیٹھ گیا ہوں جس کے وہ خواب دیکھ رہے تھے ''۔

سلطان ایوبی اپنے کمرے میں ٹہل رہا تھا ۔ علی بن سفیان اور بہائو الدین شداد بیٹھے سُن رہے تھے ۔ وہ ستمبر کے پہلے ہفتے کی ایک شام تھی ۔جون اور جولائی میں سلطان ایوبی نے سوڈانیوں کی بغاوت کو کچلا اور اس کے فوراً بعد العاضد کو خلافت کی گدی سے ہٹایا تھا ۔ اس سے پہلے اس نے سوڈانیوں کی بغاوت کو نہایت اچھی جنگی حکمت عملی سے دبا کر سوڈانی فوج توڑ دی تھی ۔ مگر بغاوت کرنے والے کسی بھی قائد، کمانڈر یا عسکری کو سزا نہیں دی تھی ۔ ڈپلومیسی سے کام لیاتھا ۔اس طرح اس کی جنگی اہمیت کی بھی دھاک بیٹھ گئی تھی اور ڈپلومیسی کی بھی ۔اب کے سوڈانیوں نے پھر سر اُٹھایا تو سلطان ایوبی نے اس سر کو ہمیشہ کے لیے کچل دینے کے لیے پہلے تو میدانِ جنگ میں سوڈانیوں کی لاشوں کے انبار لگا ئے، پھر جو بھی پکڑا گیا ، اس کے عہدے اور رُتبے کا لحاظ کیے بغیر اسے انتہائی سزا دی ۔ اکثریت کو تو جلاد کے حوالے کیا، باقی جو بچے انہیں لمبی قید میں ڈال دیا یا ملک بدر کر کے سوڈان کی طرف نکال دیا ۔

''آج دو مہینے ہو گئے ''……سلطان ایوبی نے کہا ……''میں سلطنت کے انتظام اورقوم کی فلاح و بہبود کی طرف توجہ نہیں دے سکا ۔ مجرم لائے جا رہے ہیں اور میں سوچ بچار کے بعد انہیںسزائے موت دیتا چلا جا رہا ہوں ۔ یوں دل کو تکلیف ہو رہی ہے جیسے میں قتل عام کررہاہوں ۔ میرے ہاتھوں مرنے والوں کی اکثریت مسلمانوں کی ہے ''۔

''محترم امیر!''…… بہائو الدین شداد نے کہا ۔ '' ایک کافر اور ایک مسلمان ایک ہی قسم کے گناہ کریں تو زیادہ سزامسلمان کو ملنی چاہیے کیو نکہ اس تک اللہ کے سچے دین کی روشنی پہنچی پھر بھی اس نے گناہ گیا ۔ کافر تو عقل کا بھی اندھا ہے ، مذہب کا بھی اندھا۔ آپ اس پر غم نہ کریں کہ آپ نے مسلمانوں کو سزا دی ہے۔ وہ غدار تھے۔ سلطنت اسلامیہ کے باغی تھے، انہوں نے اسلام کا نام مٹی میں ملانے کے لیے کافروں سے اتحاد کیا ''۔

'' میرا اصل غم یہ ہے شداد !''…… سلطان ایوبی نے کہا ……''کہ میں حکمران بن کے مصر نہیں آیا ۔ اگر مجھے حکومت کرنے کا نشہ ہوتا تو مصر کی موجودہ فضا میرے لیے سازگار تھی ۔ جنہیں صرف امارت کی گدی سے پیار ہوتا ہے ، وہ سازشی ذہن کے حاکموں کو زیادہ پسند کرتے ہیں ۔ وہ قوم کو کچھ دئیے بغیر لوگوں کو دلکش مگر جھوٹے رنگوں کی تصویریں دکھاتے رہتے ہیں ۔ اپنے ذاتی عملے میں شیطانی خصلت افراد کو رکھتے ہیں ۔ وہ اپنے ماتحت حاکموں کو شہزادوں کا درجہ دئیے رکھتے ہیں۔اورخود شہنشاہ بن جاتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ مجھ سے یہ گدی لے لو لیکن مجھ سے وعدہ کرو کہ میرے راستے میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہ ہو ۔ میں جو مقصد لے کر گھر سے نکلا ہوں وہ مجھے پورا کر لینے دو ۔ نورالدین زنگی نے ہزاروں جانوں کی قربانی دے کر اور دریائے نیل کوعرب کے مجاہدوں کے خون سے سرخ کرکے شام اور مصر کا اتحاد قائم کیا ہے ۔ مجھے اس متحد سلطنت کو وسعت دینی ہے ۔ سوڈان کو مصر میں شامل کرنا ہے ۔ فلسطین کو صلیبیوں سے چھڑانا ہے ۔صلیبیوں کو یورپ کے وسط میں لے جا کر کسی گوشے میں گھنٹوں بٹھانا ہے اور مجھے یہ فتوحات اپنی حکمرانی کے لیے نہیں اللہ کی حکمرانی کے لیے حاصل کرنی ہیں مگر مصر میرے لیے دلدل بن گیا ہے ۔ وہ کون سا گوشہ ہے جہاں سازش، بغاوت اور غداری نہیں ''۔

'' ان تمام سازشوں کے پیچھے صلیبی ہیں ''……سلطان ایوبی نے کہا ……'' میں حیران ہوں کہ وہ کس بے دردی سے اپنی جوان لڑکیوںکو بے حیائی کی تربیت دے کر ہمارے خلاف استعمال کر رہے ہیں ۔ان لڑکیوں کی خوبصورتی کا اپنا جادو ہے ، ان کا طلسم ان کی زبان میں ہے ''۔

'' زبان کا وار تلوار کے وار سے گہرا ہوتا ہے ''……سلطان ایوبی نے کہا ……'' وہ عقل جو تمہاری کمزوریوں کو بھانپ سکتی ہے علی ! وہ اپنی زبان سے ایسے انداز سے اور ایسے موقع پر ایسے الفاظ کہلوائے گی کہ تم اپنی تلوار نیام میں ڈال کر دشمن کے قدموں میں رکھ دو گے۔ صلیبیوں کے پاس دو ہی تو ہتھیار ہیں ، الفاظ اور حیوانی جذبہ جسے انسانی جذبے پر غالب کرنے کے لیے وہ اپنی جوان اور خوبصورت لڑکیوں کو استعمال کر رہے ہیں ۔ انہوں نے مسلمان امراء اور حکام کے دلوں سے مذہب تک نکال دیا ہے ''۔

'' صرف حکام نہیں امیر محترم !''…… علی بنی سفیان نے کہا ……'' مصر کے عام لوگوں میں بدکاری عام ہوگی ہے ۔ یہ صلیبیوں کاکمال ہے۔ دولت مند مسلمانوں کے گھروں میں بھی بے حیائی شروع ہوگئی ہے ''۔

'' یہی سب سے بڑا خطرہ ہے '' …… علی بن سفیان نے کہا ……''میں صلیبیوں کے سارے لشکر کا مقابلہ کر سکتا ہوں اور کیا ہے مگر میں ڈرتا ہوں کہ صلیبیوں کے اس وار کو نہیں روک سکوں گا اور جب میری نظریں مستقبل میں جھانکتی ہیں ، تو میں کانپ اُٹھتا ہوں۔مسلمان برائے نام مسلمان رہ جائیں گے ۔ ان میں بے حیائی صلیبیوں والی ہوگی اور ان کے تہذیب و تمدان پر صلیبی رنگ چڑھا ہوا ہوگا ۔میں مسلمانوں کی کمزوریاں جانتا ہوں ۔ مسلمان اپنے دشمن کو نہیں پہچانتے ۔ اس کے بچھائے ہوئے خوبصورت جال میں پھنس جاتے ہیں ۔میں صلیبیوں کی کمزوریاں بھی جانتا ہوں وہ بے شک مسلمان کے خلاف متحد ہو گئے ہیں لیکن ان کے اندر سے دل پھٹے ہوئے ہیں ۔ فرانسیسی اور جرمن ایک دوسرے کے خلاف ہیں ۔ برطانوی اور اطالوی ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے ۔وہ مسلمان کو مشترک دشمن سمجھ کر اکھٹے ہیں لیکن ان میں عداوت کی حد تک اختلاف ہیں ۔ ان کا شاہ آگسٹس دوغلا بادشاہ ہے ۔ باقی بھی ایسے ہی ہیں مگر انہوں نے مسلمان امراء کو عورت کے حسن اور زرو جواہرات کی چمک دمک سے اندھا کر رکھا ہے ۔ اگر مسلمان امراء متحد ہو جائیں تو صلیبی چند دنوں میں بکھر جائیں۔ اب فاطمی خلافت کو ختم کر کے میں نے اپنے دشمنوں میں اضافہ کر لیا ہے ۔ فاطمی اپنی گدی کی بحالی کے لیے سوڈانیوں اور صلیبیوں کے ساتھ ساز باز کر رہے ہیں ''۔

'' ان کے شاعر کو کل سزائے موت دے دی گئی ہے '' …… علی بن سفیان نے کہا ۔

'' جس کا مجھے بہت افسوس ہے ''…… سلطان ایوبی نے کہا ……'' عمارتہ المینی کی شاعری نے میرے دل پر بھی گہرا اثر کیاتھا۔ مگر اس نے الفاظ اور ترنم کو چنگاریاں بنا کر اسلام کے خرمن کو جلانے کی کوشش کی ہے ''۔

عمارةالمینی اس دور کامشہور شاعر تھا۔اس دور میںاور اس سے پہلے بھی لوگ شاعروں کو پیروں اور پیغمبروں جتنا درجہ دیتے تھے ۔ شاعر الفاظ اور ترنم سے فوجوں میں جذبے کی نئی روح پھونک دیا کرتے تھے ۔یہی درجہ اس مسلمان شاعر کو حاصل تھا ۔ اس نے لوگوں جو مقام پیدا کر رکھا تھا ، اسے اس نے اس طرح استعمال کرنا شروع کر دیا تھا کہ ایک طرف وہ لوگوں میں جہاد کا جذبہ پختہ کرتا تھا اور ساتھ ہی فاطمی خلافت کی غظمت کی دھاک لوگوں کے دلوں میں بٹھاتا تھا ۔ اسے فاطمی خلافت کی اتنی پشت پناہی حاصل تھی کہ اس نے سلطان ایوبی کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا تھا۔ اس کے آخری اشعار یہ تھے ……'' مجھے فاطمی خلافت کی محبت کا طعنہ دینے والو ! مجھ پر لعنت بھیجو ۔ میں تمہیں لعنت کے لائق سمجھتا ہوں …… فاطمی محلات کی ویرانی پر آنسو بہائو ۔ ان میں رہنے والوں کو میرا پیغام دو کہ میں نے تمہارے لیے جو زخم کھائے ہیں وہ کبھی مندمل نہ ہوں گے ''۔

اس کے گھر اچانک چھاپہ مارا گیا تھا۔ وہاںسے دستاویزی ثبوت ملا تھا کہ وہ صرف فاطمی خلافت کا ہی خیر خواہ نہیں بلکہ صلیبیوں کا وظیفہ خوار بھی ہے ۔ صلیبی اسے اس مقصد کے لیے وظیفہ دیتے تھے کہ وہ مصریوں کے دلوں پر فاطمی خلافت کوغالب کرے اور سلطان ایوبی کے خلاف نفرت پیدا کرتارہے۔ اسے سزائے موت دے دی گئی تھی ۔

'' جس قوم کے شاعر بھی دشمن کے وظیفہ خوار ہوں ، اس قوم کے لیے ذلت و رسوائی ہے ''…… سلطان ایوبی نے کہا۔

دربان اندر آیا اور کہا کہ معزول خلیفہ العاضد کا قاصد آیا ہے ۔ سلطان ایوبی کے ماتھے کے شکن گہرے ہو گئے ۔ اس نے کہا ……'' خلافت کے سوا یہ بوڑھا مجھ سے اور کیا مانگ سکتا ہے '' …… دربان سے کہا ……'' اسے اندر بھیج دو ''۔

العاضد کا قاصد اندر آیا اور کہا ……''خلیفہ کا سلام پیش کرتا ہوں ''۔

''وہ خلیفہ نہیں ہے ''…… سلطان ایوبی نے کہا……'' دو مہینے ہو گئے ہیں اسے معزول ہوئے ۔ وہ اپنے محل میں قید ہے ''۔

'' معافی چاہتاہوں قابل صد احترام امیر !''…… قاصد نے کہا …… ''عادت کے تحت منہ سے نکل گیا ہے ۔ العاضد نے بعد از سلام کہا ہے کہ بیماری نے بستر پر ڈال دیا ہے اٹھنا محال ہے ۔ ملنے کی خواہش ہے ۔ اگر امیر محترم تشریف لا سکیں تو احسان ہوگا ''۔

سلطان ایوبی نے بے قراری سے کہا اپنی ران پر ہاتھ مارا اور کہا ……'' وہ مجھے بلا رہاہے کیونکہ وہ ابھی تک اپنے آپ کو خلیفہ سمجھتا ہے ''۔

''نہیں امیر مصر !''…… قاصد نے کہا ……'' ان کی حالت بہت خراب ہے ۔ محل کے طبیب نے خطرے کااظہار کیاہے ۔ یہ ان کا دیرینہ مر ض ہے جو غم اور غصے میں تیز ہو جاتا ہے ، اب تو وہ اٹھنے سے معذور ہوگئے ہیں '' …… قاصد نے ذرا جھجک کر کہا ۔……''انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ آپ اکیلے تشریف لائیں ۔ راز کی در چار باتیں ہیں جو کسی دوسرے کی سامنے نہیں کی جاستکیں ''۔

'' انہیں بعد از سلام کہنا صلا ح الدین ایوبی راز کی سب باتیں جانتا ہے '' …… سلطان ایوبی نے کہا ……''اب راز کی باتیں خدا سے کہنا ۔ اللہ آپ کو معاف کرے ''۔

قاصد مایوس ہو کر چلا گیا ۔ سلطان ایوبی نے دربان کو بلا کر کہا کہ طبیب کو بلائو ۔ اس نے علی بن سفیان اور بہائو الدین شداد سے کہا ……'' اس نے مجھے اکیلا آنے کو کہا ہے ۔ کیا اس میں کوئی چال نہیں ؟ کیا میرا خدشہ غلط ہے کہ مجھے محل میں بلا کر میرا کام تمام کرنا چاہتاہے ؟ اسے مجھ پر اوچھا وار کرنا چاہیے ۔ اسے حق حاصل ہے ''۔

''آپ نے اچھا کیا نہیں گئے ''…… شداد نے کہا اور علی بنی سفیان نے تائید کی ۔

طبیب آگیا تو سلطان ایوبی نے اسے کہا ……''آپ العاضد کے پاس چلے جائیں۔ میں جانتا ہوں وہ بہت مدت سے بیمار ہے۔ معلوم ہوتاہے کہ اس کا طبیب مایوس ہوگیا ہے۔ آپ جاکر دیکھیں اور اس کا علاج کریں ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ بیمار نہ ہو ، اگر ایسا ہے تو مجھے بتائیں ''۔

سابق خلیفہ العاضدکو اسی محل میں رہنے کی اجازت دے دی گئی تھی جو اس کی خلافت کی گدی تھی ۔ اس محل کو اس نے جنت بنا رکھا تھا۔ حرم دیس دیس کی خوبصورت عورتوں سے پُر رونق تھا ۔ لونڈیوں کا ہجوم الگ تھا ۔ سینکڑوں محافظوں کا دستہ مستعد رہتا تھا ۔ فوجی کماندار حاضری میں کھڑے رہتے تھے ۔ سلطان ایوبی کے لائے ہوئے انقلاب نے اس محل کی دنیا ہی بدل ڈالی تھی ۔ خلیفہ اب خلیفہ نہیں تھا۔ محل میں عیش و عشرت کاتمام سامان جوں کا توں رہنے دیا گیا، فوجی کمانداروں اور محافظ دستے کو وہاں سے ہٹا دیا گیا تھا ۔ فوج کاایک دستہ اب بھی وہاں نظر آتا تھا ۔ مگر یہ العاضد کا محافظ نہیں پہرہ دار تھا ۔ خلافت کامحل چونکہ سازشوں کامرکز تھا ، اس لیے وہاں اب پہرہ لگا دیا گیا تھا ۔ العاضد اب اپنے محل میں قید ی تھا ۔ وہ بوڑھا تھا اور دل کے مرض کا مریض تھا۔ خلافت چھن جانے کا غم، بڑھاپا، شراب اور عیش و عشرت نے اسے بستر پر ڈال دیا تھا ۔

چند دنوں میں وہ لاش کی مانند ہوگیا تھا ۔ اس کی تیماداری کے لیے دو ادھیڑ عمر عورتیں اور ایک خادم اس کے کمرے میں موجود تھا ۔ العاضد آنکھیں کھولتا ، انہیں دیکھتا اور آنکھیں بند کر لیتا تھا ۔ محل کا طبیب اسے دوائی پلا گیاتھا ۔ دو جوان لڑکیاںکمرے میں آئیں ۔ یہ العاضدکے حرم کی رونق تھیں ۔ ان میں سے ایک نے خلیفہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور اس پر جھک کر صحت کا حال احوال پوچھا ۔ دوسری نے العاضد کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر اسے صحت یابی کی دعا دی ۔ دونوںلڑکیوں نے ایک دوسری کی آنکھوں میں دیکھا اور ایک نے کہا ……'' آپ آرام فرمائیں ۔ ہم آپ کو بے آرام نہیں کریں گی ''……دوسری نے کہا ……'' ہم ہر وقت ساتھ والے کمرے میں موجود رہتی ہیں ۔ بلا لیا کریں ''۔ اور دونوں کمرے سے نکل گئیں ۔

العاضد نے کراہ کر لمبی آہ بھری اور اپنے پاس کھڑی ادھیڑ عمر عورتوں سے کہا ……''یہ دونوں لڑکیاں میری تیماداری کے لیے نہیں آئی تھیں ۔ یہ دیکھنے آئی تھیں کہ میں کب مر رہاہوں ۔ میں جانتا ہوں انہوں نے اپنی دوستیاں لگا رکھی ہیں ۔ یہ گدھ ہیں ۔ میرے مرنے کا انتظار کر رہی ہیں ۔ ان کی نظر میرے مال اور دولت پرہے۔ تم تینوں کے سوا یہاں میرا ہمدرد کون ہے ؟ …… کوئی نہیں ۔کوئی بھی نہیں ۔ فاطمی خلافت کے نعرے لگانے والے کہاں گئے !'' ۔ اس نے دل پر ہاتھ رکھ لیا اور کروٹ بدل لی ۔ وہ تکلیف میں تھا ۔

اتنے میں قاصد کمرے میں آیا اورکہا ……''امیر مصر نے آنے سے انکار کر دیا ہے ''۔

''اوہ بد نصیب صلاح الدین !''…… العاضد نے کراہنے والے لہجے میںکہا ……'' میرے مرنے سے پہلے ایک بار تو آجاتا ''…… صدمے نے اس کی تکلیف میں اضافہ کر دیا ۔ اس نے نحیف آواز میں رُک رُک کر کہا ……''اب تو میری لونڈیاں بھی میرے بلانے پر نہیں آتیں ۔ امیر مصر کیوں آئے گا …… مجھے گناہوں کی سزا مل رہی ہے۔ میرے خون کے رشتے بھی ٹوٹ گئے ہیں ۔ ان میں سے بھی کوئی نہیں آیا ۔ وہ میرے جنازے پر آئیں گے اور محل میں جو ہاتھ لگا اُٹھا کر چلے جائیں گے ''۔

وہ کچھ دیر کراہتا رہا ۔ دونوں تیمادار عورتیں پریشانی کے عالم میں اس کی باتیں سنتی رہیں ۔ ان کے پاس تسلی اور حوصلہ افزائی کے لیے بھی جیسے کوئی الفاظ نہیں رہے تھے ۔ ان کے چہروں پر خوف سا طاری تھا ، جیسے وہ خدا کے اس قہر سے ڈر رہی تھیں ۔ جو بادشاہ کو گدا اور امیر کو فقیر بنا دیتا ہے۔

دونوں نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا۔ ایک سفید ریش بزرگ کھڑا تھا ۔ وہ ذرا رُک کر اندر آیا اور العاضد کی نبض پر ہاتھ رکھ کر کہا ……'' السلام و علیکم ۔ میں امیر مصر کا طبیب خاص ہوں ۔ انہوں نے مجھے آپ کے علاج کے لیے بھیجا ہے ''۔

'' کیا امیر مصر میں اتنی سی بھی مروت نہیں رہی کہ آکے مجھے دیکھ جاتا ؟'' …… العاضد نے کہا ……''میرے بلانے پر بھی نہ آیا ''۔

'' اس کے متعلق میں کچھ نہیں کہہ سکتا ''۔ طبیب نے کہا …… ''انہوں نے مجھے آپ کے علاج کے لیے بھیجا ہے ۔ میں یہ کہنے کی جرأت نہیں کروں گا کہ اتنے بڑے واقعہ کے بعد جس میں باقاعدہ جنگ ہوئی اور ہزاروں جانیں ضائع ہوگئیں ، امیر مصر شاید یہاں نہیں آئیں گے ۔ انہیں آپ کی صحت کا فکرضرور ہے ۔ ایسا نہ ہوتا تو وہ مجھے آپ کے علاج کا حکم دہ دیتے ۔ اس حالت میں آپ ایسی کوئی بات ذہن میں نہ لائیں جو آپ کے دل کو تکلیف دیتی ہے ورنہ علاج نہیں ہوسکے گا ''۔

''میرا علاج ہوچکا ''…… العاضد نے کہا ……''میرا ایک پیغام غور سے سن لو ۔ صلاح الدین کو لفظ بہ لفظ پہنچا دینا ۔ میری نبض سے ہاتھ ہٹا لو ۔ میںاب دنیا کی حکمت اور تمہاری دوائیوں سے بے نیاز ہوچکا ہوں ۔ سنو طبیب ! صلاح الدین نے کہنا کہ میںتمہارا دشمن نہ تھا ۔ میں تمہارے دشمنوںکے جال میں آگیاتھا ۔ یہ بدقسمتی میر ی ہے یا صلاح الدین کی کہ میں اپنے گناہوں کا اعتراف اس وقت کر رہا ہوں ۔ جب میں ایک گھڑی کا مہمان ہوں …… صلاح الدین سے کہنا کہ میرے دل میں ہمیشہ تمہاری محبت رہی ہے اور تمہاری محبت کو ہی دل میں لیے دنیا سے رخصت ہو رہا ہوں ۔ میرا جرم یہ ہے کہ میں زرو جواہرات اور حکمرانی کی محبت بھی اپنے دل میں پیدا کرلی ۔ جو اسلام کے احترام پر غالب آگئی۔ آج سب نشے اُتر گئے ہیں۔ وہ لوگ جو میرے پائوں میں بیٹھا کرتے تھے ، وہ بیگانے ہوگئے ہیں ۔ وہ لونڈیاں بھی میرے مرنے کی منتظر ہیں جو میرے اشاروں پر ناچا کرتی تھیں ۔ میرے دربار میں عریاں رقص کرنے والی لڑکیاں مجھے نفرت کی نگاہوں سے دیکھتی ہیں …… انسان کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ انسان کسی انسان کے گناہوں کابوجھ اُٹھا سکتا ۔ ان کم بختوں نے مجھے خدا بنا ڈالا مگر آج جب حقیقی خدا کا بلاواآیا ہے تو مجھ پر یہ حقیقت روشن ہوئی ہے ''۔

''میں نے اس کو نجات کاذریعہ سمجھا ہے کہ اپنے گناہوںکااعتراف کر لوں اور صلاح الدین کو ایسے خطروں سے خبردار کرتاجائوں جن سے شاید وہ واق نہیں ۔ اسے کہنا کہ میرے محافظ دستے کا سالار رجب زندہ ہے اور سوڈان میں کہیں روپوش ہے ۔ وہ مجھے بتا کر گیا تھا کہ فاطمی خلافت کی بحالی کے لیے سوڈانیوں اور قابل اعتماد مصریوں کی فوج تیار کرے گا اور وو صلیبیوں سے جنگی اور مالی امداد لے گا …… صلاح الدین سے کہنا کہ اپنے محافظ دستے پر نظر رکھے ۔ اکیلا باہر نہ جائے ۔ رات کو زیادہ محتاط رہے کیونکہ رجب نے فدائیوں کے ساتھ ایوبی کے قتل کا منصوبہ بنالیاہے ۔ اسے کہنا کہ مصر تمہارے لیے آگ اُگلنے والا پہاڑ ہے۔ تم جنہیں دوست سمجھتے ہو وہ بھی تمہارے دشمن ہیںاور وہ جو تمہاری آواز کے ساتھ آواز ملا کر وسیع سلطنت اسلامیہ کے نعرے لگاتے ہیں ، میں صلیبیوں کے پالے ہوئے سانپ موجود ہیں ''۔

''تمہارے جنگی شعبے میں فیض الفاطمی بڑا حاکم ہے مگر تم نہیں جانتے کہ وہ تمہارے مخالفین میں سے ہے۔ وہ رجب کا دست راست ہے۔ تمہاری فوج میں ترک، شامی اور دوسرے عربی نسل کے جو کماندار اور سپاہی ہیں ان کے سوا کسی پر بھررسہ نہ کرنا ۔ یہ سب تمہارے وفادار اور اسلام کے محافظ ہیں ۔ مصری فوجیوں میں قابل اعتماد بھی ہیں اور بے وفا بھی ۔ تم نہیں جانتے کہ تم نے جب سوڈانی لشکر پر فیصلہ کن حملہ کیاتھا تو حملہ آور دستوں میں دو دستوں کے کماندار تمہاری چال کو ناکام کرنے کرنے لیے تمہاری ہدایات اور احکام پر غلط عمل کرنا چاہتے تھے لیکن تمہارے ترک اور عرب سپاہیوں میں جوش اور جذبہ ایسا تھا کہ اپنے کماندار کے حکم کا انتظار کیے بغیر وہ سوڈانیوں پر قہر بن کر ٹوٹے ، ورنہ یہ دو کماندار جگن کا پانسہ پلٹ کر تمہیں ناکام کردیتے ''۔

العاضد مری مری آواز میں رُک رُک کر بولتا رہا۔ طبیب نے اسے ایک دو مرتبہ بولنے سے روکا تو اس نے ہاتھ کے اشارے سے اسے چپ کرادیا ۔ اس کے چہرے پر پسینہ اس طرح آگیا تھاجیسے کسی نے پانی چھڑک دیا ہو۔ دونوں عورتوں نے اس کا پسینہ پونچھا لیکن پسینہ چشمے کی طرح پھوٹتا آرہا تھا۔اس نے چند ایک اور انتظامیہ اور فوج کے حکام کے نام بتائے جو سلطان ایوبی کے خلاف سازشوں میں مصروف تھے۔ ان میں سے زیادہ خطرناک فدائی تھے جن کا پیشہ پُر اسرار قتل تھا ۔ وہ اس فن کے ماہر تھے۔ العاضد نے مصر میں صلیبیوں کے اثر و رسوخ کی بھی تفصیل سنائی اور کہا ……''انہیںمسلماننہ سمجھنا ۔ یہ ایمان فروخت کر چکے ہیں …… صلاح الدین سے کہنا کہ اللہ تمہیں کامیاب کرے اور سرخرو کرے ، لیکن یہ یاد رکھنا کہ ایک تو وہ لوگ ہیں جو چوری چھپے تمہیں دھوکہ دے رہے ہیں اور دوسرے وہ لگو ہیں جو خوشامد سے تمہیں خدا کے بعد کا درجہ دے دیں گ۔ یہ ان لوگوں سے زیادہ خطرناک ہیں جو چوری چھپے دھوکو دیتے ہیں …… سے کہنا کہ دشمنوں کو زیر کر کے جب تم اطمینان سے حکومت کی گدی پر بیٹھو گے تو میری طرح دونوں جہاں کے بادشاہ نہ بن جانا ۔ سدا بادشاہی اللہ کی ہے۔ اسی مصر میں فرعونوں کے کھنڈر دیکھ لو ۔ میرا انجام دیکھ لو ۔ اپنے آپ کو اس انجام سے بچانا ''۔

اس کی زبان لڑکھڑانے لگی ۔ اس کے چہرے پر جہاں کاکرب کاتاثر تھا ۔ وہاں سکون سا بھی نظر آنے لگا ۔ اس نے بولنے کی کوشش کی مگر حلق سے خراٹے سے نکلے ۔ اس کا سر ایک طرف لڑھک گیا اور وہ ہمیشہ کے لیے خاموش گیا۔ واقعہ ستمبر ١١٧١ء کا ہے ۔

طبیب نے سلطان ایوبی کو اطلاع بجھوائی ۔ محل میں العاضد کی موت کی خبر پھیل گئی ۔ محل کے کسی گوشے سے رونا تو دورکی بات ہے ہلکی سی سسکی بھی نہ سنائی دی ۔ صرف ان دو عورتوں کے آنسو بہہ رہے تھے ۔ جو آخری وقت اس کے پاس تھیں …… سلطان ایوبی چند ایک حکام کے ساتھ فوراً محل میں آگیا۔ اس نے دیکھا کہ وہاں برآمدوںاور غلام گردشوں میںکچھ سرگرمی سی تھی ۔ اسے شک ہوا۔ اس نے محافظ دستے کے کماندار کو بلا کر حکم دیاکہ محل کے تمام کمروں میں گھوم جائو۔ تمام مردوں ، عورتوں اور لڑکیوں کوکمروں سے نکا ل کر باہر صحن میںبٹھا دو اور کسی کو باہر نہ جانے دو ۔ کسی کو کیسی ہی ضرورت کیوں نہ ہو ، اصطبل سے کوئی گھوڑا نہ کھولے ۔سلطان ایوبی نے محل پر قبضہ کرنے کا حکم دیا ۔ اس نے عجیب چیز یہ دیکھی کہ العاضد جو اپنے آپ کو بادشاہ بنائے بیٹھا تھا اور جس نے شراب اور عورت کو ہی زندگی جانا تھا ، اس کی میت پر رونے والا کوئی نہ تھا۔ محل مردوں اور عورتوں سے بھراپڑا تھا ۔ مگر کسی کے چہرے پر اداسی کا تاثر بھی نہیں تھا۔

طبیب سلطان ایوبی کو الگ لے گیا اور اسے العاضد کی آخری باتیں سنائیں۔ اس نے اپنی رائے ان الفاظ میں دی کہ آپ کو آخری وقت میںاس کے بلاوے پر آجانا چاہیے تھا ۔ سلطان ایوبی نے اسے بتایا کہ وہ اس خدشے کے پیشِ نظر نہیں آیاکہ اس شخص کا کچھ بھروسہ نہ تھا اوردوسری وجہ یہ تھی کہ اسے ایمان فروشوں سے نفرت تھی مگر اب طبیب کی زبانی العاضد کا آخری پیغام سن کر سلطان ایوبی کو سخت پچھتاوا ہونے لگا تھا ۔ وہ بہت بے چین ہوگیا تھا اور اس نے کہا ……''اگر میں آجاتا تو اس کے منہ سے کچھ اور راز کی باتیں نکلوا لیتا ۔ وہ کوئی راز سینے میں نہ لے گیا ہو ''۔

متعدد مورخین نے اپنی تحریروں میں لکھا ہے کہ العاضد بے شک عیاش اور گمراہ تھا ، اس نے سلطان ایوبی کے خلاف سازشوںکی پشت پناہی بھی کی لیکن اس کے دل میں سلطان ایوبی کی محبت بہت تھی ۔ دو مورخین نے یہ بھی لکھا ہے کہ اگر سلطان ایوبی العاضد کے بلاوے پرچلا جاتا تو العاضد اسے اوربھی بہت سی باتیں بتاتا۔ بہرحال تاریخ ثابت کرتی ہے کہ العاضد کے بلاوے میںکوئی فریب نہ تھا ۔ اس نے اپنی روح کی نجات کے لیے اور سلطان ایوبی کی محبت کے لیے گناہوں کی بخشش مانگنے کا یہ طریقہ اختیار کیا تھا ۔ بہت مدت تک سلطان ایوبی تاسف میںرہ گیا کہہ وہ آخری وقت العاضد کی باتیں نہ سن سکا ۔بعد میں ان تمام افراد کے خلاف الزامات صحیح ثابت ہوئے تھے جن کی العاضد نے نشاندہی کی تھی ۔

سلطان ایوبی نے ان تمام افراد کے نام علی بن سفیان کو دے کرحکم دیا کہ ان سب کے ساتھ اپنے جاسوس اور سراغرساں لگا دو لیکن کسی کم مکمل شہادت اور ثبوت کے بغیر گرفتار نہ کرنا ۔ ایسے طریقے اختیار کرو کہ وہ عین موقعہ پر پکڑے جائیں ، کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی کے ساتھ بے انصافی ہوجائے ۔ یہ احکام دے کر اس نے تہجیز و تکفن کے انتظامات کرائے۔ اسی شام العاضد عام قبرستا ن میں دفن کر دیا گیا جہاںتھوڑے ہی عرصے بعد قبر کا نام و نشان مٹ گیا ۔ سلطان ایوبی نے محل کی تلاشی لی ۔ وہاںسے اس قدر سونا ، جواہرت اور بیش قیمت تحائف نکلے کہ سلطان ایوبی حیران رہ گیا ۔ اس نے حرم کی تمام عورتوں اور جوان لڑکیوں کوعلی بن سفیان کے حوالے کر دیا اور حکم دیا کہ معلوم کروکون کہاں کی رہنے والی ہے۔ ان میں سے جو اپنے گھروں کو جانا چاہتی ہیں انہیں اپنی نگرانی میں گھروں تک پہنچا دو اور ان میں جو غیر مسلم اور فرنگی ہیں ان کے متعلق پوری طرح چھان بین کرکے معلوم کرو کو وہ کہاں سے آئی تھیں اور ان میں مشتبہ کون کون سی ہیں ۔ مشتبہ کو آزاد نہ کیاجائے بلکہ اس سے معلومات حاصل کی جائیں۔

سلطان ایوبی نے محل سے برآمد ہونے والا مال و دولت ان تعلیمی اداروں ، مدرسوں اور ہسپتالوں میں تقسیم کر دیا جو اس نے مصر میں کھولے تھے

العاضد نے مرنے سے پہلے اپنے محافظ دستے کے سالار رجب کے متعلق بتایا تھا کہ وہ سوڈان میں روپوش ہے جہاں وہ سلطان ایوبی کے خلاف فوج تیار کر رہا ہے اور وہ صلیبیوں سے بھی مدد لے گا۔ علی بن سفیان نے چھ ایسے جانباز منتخب کیے جو لڑاکا جاسوس تھے ۔ ان کا کماندار رجب کو پہچانتا تھا ۔ انہیں تاجروں کے بھیس میں سوڈان روانہ کر دیا گیا ۔ انہیں یہ حکم دیا گیا تھا کہ ممکن ہو سکے تو اسے زندہ پکڑ لائیں ورنہ وہیں قتل کر دیں ۔

جس وقت یہ پارٹی سوڈان کو روانہ ہوئی اس وقت رجب سوڈان میں نہیں بلکہ فلسطین کے ایک مشہور اور مضبوط قلعے شوبک میں تھا ۔ فلسطین پر صلیبیوں کا قبضہ تھا ۔ انہوں نے اس خطے کو اڈہ بنا لیا تھا ۔ مسلمانوں پر انہوں نے عرصہ حیات تنگ کر رکھا تھا ۔ مسلمان وہاں سے کنبہ در کنبہ بھاگ رہے تھے ۔ وہاں کسی مسلمان کی عزت محفوظ نہیں تھی ۔ صلیبی ڈاکوئوں کی صورت بھی اختیار کرتے جا رہے تھے ۔ وہ مسلمانوں کے قافلوں کو لوٹ کر فلسطین میں آجاتے تھے ۔ لڑکیوں کو بھی اغواکر کے لاتے تھے ۔ یہی وجہ تھی کہ سلطان ایوبی سب سے پہلے فلسطین کو تہ تیغ کرنا چاہتا تھاتا کہ مسلمانوں کے جان و مال اور آبرو کو محفوظ کیا جا سکے ۔ اس سے بھی بڑی وجہ یہ تھی کہ قبلہ اول پر صلیبی قابض تھے ، مگر مسلمان امراء کا یہ عالم تھا کہ و ہ صلیبیوں کے ساتھ دوستی کرتے پھرتے تھے ۔ رجب بھی ایک مسلمان فوجی سربراہ تھا ۔ وہ سلطان کے خلاف مدد حاصل کرنے کے لیے صلیبیوں کے پاس پہنچ گیا تھا ۔

اس کے اعزاز میں قلعے میں رقص کی محفل گرم کی گئی تھی ۔ رجب نے یہ دیکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی کہ برہنہ ناچنے والیوں میں زیادہ تعداد مسلمان لڑکیوں کی تھی جنہیں صلیبیوں نے کمسنی میں اغوا کر لیا اور رقص کی تربیت دی تھی ۔ اپنی قوم کی بیٹیوں کو وہ کافر کے قبضے میں ناچتا دیکھتا رہا اور ان کے ہاتھوں شراب پیتا رہا تھا ۔ اس کے ساتھ وہ مسلمان کماندار بھی تھے ۔ رات بھر وہ شراب اور رقص میں بدمست رہے اور صبح صلیبیوں کے ساتھ بات چیت کے لیے بیٹھے ۔ اس اجلاس میں صلیبیوں کے مشہور بادشاہ گائی لوزینان اور کونارڈ موجود تھے ۔ ان کے علاوہ چند ایک صلیبی فوج کے کمانڈر بھی تھے ۔ رات کو رجب انہیں بتا چکا تھا کہ سلطان ایوبی نے سوڈانیوں کے حبشی قبیلے کے مبعد کو مسمار کر کے ان کے پروہت کو ہلاک کر دیا ہے ۔ اس پر سوڈانیوں نے حملہ کیا جسے سلطان ایوبی نے پسپا کیا اور اسن نے خلیفہ العاضد کی خلافت ختم کر کے عباسی کا اعلان کر دیا مگر مصر میں کوئی خلیفہ نہیں رہے گا۔ رجب نے انہیں بتایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سلطان ایوبی مصر کا خود مختار حکمران بننا چاہتا ہے ۔ رجب نے صلیبیوں کو اس اجلاس میں بتایا کہ وہ ان سے جنگی اور مالی مدد لینے آیا ہے اور وہ سوڈان جا کر فوج تیا ر کرے گا ۔ مصر میں بد نظمی او ابتری پھیلانے کے لیے بھی اس نے صلیبیوں سے مدد مانگی ۔

''فوری طور پر دو پہلو سامنے آتے ہیں جن پر ہمیں توجہ مرکوز کرنی چاہیے ''…… کونارڈ نے کہا ……''جس حبشی قبیلے کے مذہب میں صلاح الدین ایوبی نے ظالمانہ دخل اندازی کی ہے اسے انتقام کے لیے بھڑکایا جائے ۔ اس کے ساتھ سارے سوڈان میں جتنے بھی عقیدے اور مذہب ہیں ان کے پیرو کاروں کو صلاح الدین کے خلاف یہ کہہ کو مسلح کیا جائے کہ یہ مسلمان بادشاہ لوگوں کی عبادت گاہیں اور اور ان کے دیوتائوں کے بت توڑتاپھر رہا ہے۔ پیشتر اس کے کہ وہ کسی اور عقیدے پر حملہ آور ہو اسے مصر میں ہی ختم کردیا جائے ۔ اس طرح لوگوں کے مذہبی جذبات مشتعل کر کے انہیں مصر پر حملے کے لیے آسانی سے تیار کیا جاسکتا ہے ''۔

''ہم مصر کے مسلمانوں تک کو صلاح الدین کے خلاف کھڑا کر سکتے ہیں ۔ ''……ایک صلیبی کمانڈر نے کہا ……''اگر محترم رجب برا نہ مانیں تو میں انہی کے فائدے کی بات کہہ دوں ۔مسلمان میں مذہبی جنون پیدا کر کے مسلمان کو مسلمان کے ہاتھوں مروا دینا کوئی مشکل نہیں ۔ جس طرح ہمارے مذہب میں بعض پادریوں نے اپنے آپ کو گرجوں کا حکم بنا کر اپنا وجود انسان اور خدا کے درمیان کھڑا کر دیا ہے ، بالکل اسی طرح اسلام میں بھی بعض اماموں نے مسجد پر قبضہ کر کے اپنے آپ کو خدا کا ایجنٹ بنا لیاہے ۔ ہمارے پاس دولت ہے جس کے ذور پر ہم مسلمان مولوی تیار کرکے مصر کی مسجدوںمیں بٹھا سکتے ہیں ۔ ہمارے پاس ایسے عیسائی بھی موجود ہیں جو اسلام اور قرآن سے بڑی اچھی طرح واقف ہیں ۔ انہیں ہم مسلمان اماموں کے روپ میں استعمال کریں گے ۔ صلاح الدین کے خلاف کسی مسجد میں کوئی کہنے کی ضرورت نہیں ۔ ان مولویوں کی زبان سے ہم مسلمانوں میں ایسی توہم پرستی پیدا کریں گے کہ ان کے دلو ں میں صلاح الدین کی وہ عظمت مٹ جائے گی جو اس نے پیدا کر رکھی ہے ''

'' یہ مہم فوراً شرع کردینی چاہیے ''…… رجب نے کہا ……''سلطان ایوبی نے مصر میں مدرسے کھول دئیے ہیں جہاں بچوں اور نوجوانوں کو مذہب کے صحیح رُخ سے روشناس کیا جارہاہے ۔ اس سے پہلے وہاں کوئی ایسا مدرسہ نہیں تھا ۔ لوگ مسجد میں خطبے سنتے تھے ، جن میں خلیفہ کی مدح سرائی زیادہ ہوتی تھی ۔ صلاح الدین نے خطبوں سے خلیفہ کاذکر ختم کرادیاہے۔ اگر لوگوں میں علم کی روشنی اور مذہبی بیداری پیدا ہوگئی تو ہمارا کام مشکل ہو جائے گا ۔ آپ جانتے ہیںکہ حکومت کے استحکام کے لیے لوگوں کو ذہنی طور پر پسماندہ اور جسمانی طور پر محتاج رکھنا لازمی ہے ''۔

''محترم رجب !''…… ایک صلیبی کمانڈر مُسکرا کربولا ……''آپ کو اپنے ملک کے متعلق بھی علم نہیں کہ وہاں درپردہ کیاہو رہاہے ۔ ہم نے یہ مہم اسی روز شروع کردی تھی جس روز صلاح الدین نے ہمیں بحیرئہ روم میں شکست دی تھی ۔ ہم کھلی تخریب کاری کے قائل نہیں ۔ ہم ذہنوں میں تخریب کاری کیا کرتے ہیں ۔ ذرا غور فرمائیں محترم! دو سال پہلے قاہرہ میں کتنے قحبہ خانے تھے اور اب کتنے ہیں ؟ کیا ان میں بے پناہ اضافہ نہیں ہوگیا ؟ کیا دولت مند مسلمان گھرانوں میں لڑکوں اور لڑکیوں میں قابل اعتراض معاشقے شروع نہیں ہوگئے ؟ ہم نے وہاں جو عیسائی لڑکیاں بھیجی تھیں وہ مسلمان لڑکیوں کے روپ میں مسلمان مردوں کے درمیان رقابت پیدا کرکے خون خرابے کراچکی ہیں ۔ قاہرہ میں ہم نے نہایت دلکش جواء بازی رائج کردی ہے دو مسجدوں میں ہمارے بھیجے ہوئے آدمی امام ہیں ۔ وہ نہایت خوبی سے اسلام کی شکل و صورت بگاڑ رہے ہیں ۔ وہ جہاد کے معنی بگاڑ رہے ہیں ۔ ہم نے وہاں عالموں اور فاضلوں کے بھیس میں بھی کچھ آدمی بھیج رکھے ہیں جو مسلمانوں کو جنگ و جدل کے خلاف تیار کر رہے ہیں ۔ وہ دوست اور دشمن کا تصور بھی بدل رہے ہیں ۔ مجھے ذاتی طور پر یہ توقع ہے کہ مسلمان چند برسوں تک اس ذہنی کیفیت میں داخل ہو جائیں گے جہاں وہ اپنے آپ کو بڑے فخر سے مسلمان کہیں گے مگران کے ذہنوں پر ان کے تہذیب و تمدن پر صلیب کا اثر ہوگا ''۔

''صلاح الدین کا جاسوسی کا نظا مبہت ہوشیار ہے ''…… رجب نے کہا …… ''اگر اس کے شعبہ جاسوس اور سراغرسانی کے سربراہ علی بن سفیان کو قتل کر دیا جائے تو صلاح الدین اندھااور بہرہ ہوجائے ''۔

''اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ خود کچھ بھی نہیں کر سکتے ''…… کونارڈ نے کہا …… ''آپ ایک حاکم کو قتل بھی نہیں کرا سکتے ۔ اگر آپ عقل کے لحاظ سے اتنے کمزور ہیں تو آپ ہمارے آدمیوں کو بھی پکڑوا کر مروائیں گے اور ہماری دولت بھی برباد کر دیں گے ''۔

''یہ کام میں خودکر الوں گا ''…… رجب نے کہا ……''میں نے فدائیوں سے بات کرلی ہے ۔ وہ تو صلاح الدین ایوبی کے قتل کے لیے بھی تیا ر ہیں ''۔

''آپ سوڈان کی طرف سے مصر کی سرحد پر بد امنی پیدا کرتے رہیں '' ۔ کونارڈ نے کہا ……''ملک کے اندر ہم ذہنی اورء دیگر اقسام کی تخریب کاری کر تے رہیں گے۔ ادھر عرب میں کئی ایک مسلمان امراء ہمارے قبضے میںآگئے ہیں ۔ ان میں سے بعض کو ہم نے اس قدر بے بس کر دیا ہے کہ ان سے ہم جزیہ وصول کرتے ہیں ۔ ہم چھوٹے چھوٹے حملے کر کے ان کی تھوڑی تھوڑی زمین پر قبضہ کرتے چلے جارہے ہیں ۔ آپ سوڈان کی طرف سے یہی چال چلیں ۔ مسلمانوں میں صرف دو شخص رہ گئے ہیں ۔ نورالدین زنگی اور صلاح الدین ایوبی ۔ان کے ختم ہوتے ہی اسلامی دنیا کا سورج غروب ہوجائے گا۔ بشرطیکہ آپ لوگ ثابت قدم رہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ مصر آپ کا ہوگا '' ۔

اس قسم کی بنیادی گفت و شنید کے بعد بہت دیر تک ان میں طریقہ کار اور لائحہ عمل پر بحث ہوتی رہی ۔ آخر کار رجب کو تین بڑی ہی دلکش اور بے حد چالاک لڑکیاں او سونے کے ہزار ہا سکے دئیے گئے ۔ اسے قاہرہ کے دو آدمیوں کے پتے دئیے گئے ۔ ان میں کسی ایک تک ان لڑکیوں کو خفیہ طریقے سے پہنچانا تھا ۔ ان دو آدمیوں میں سے ایک سلطان ایوبی کے جنگی شعبے کا ایک حاکم فیض الفاطمی تھا ۔ رجب کو یہ نہیں بتایا گیا کہ لڑکیوں کو کس طرح استعمال کیا جائے گا ۔ اسے اتنا ہی بتایا گیا کہ فیض الفاطمی کے ساتھ ان کا رابطہ ہے ۔ وہ لڑکیوں کا استعمال جانتا ہے اور لڑکیوں کو بھی معلوم ہے کہ انہیں کیا کرنا ہے ۔یہ تینوں عرب اور مصر کی زبان روانی سے بول سکتی تھیں ۔

اسی روز تینوں لڑکیاںاور دس محافظ رجب کے ساتھ کرکے اسے روانہ کر دیا گیا۔ اسے سب سے پہلے سوڈان کے اسی پہاڑی خطے میں جانا تھا جہاں لڑکی کی قربانی دی جاتی تھی اور جہاں سلطان ایوبی کے جانبازوں نے اُمِّ عرارہ کو حبشیوں سے چھڑا کر پروہت کو ہلاک کیا اور فرعونوں کے وقتوں کی عمارتیں تباہ کی تھیں ۔ رجب نے سوڈانیوں کی شکست اور العاضد کی خلافت سے معزولی کے بعد بھاگ کر اسی جگہ پناہ لی اور اسی جگہ کو اپنا اڈہ بنا لیا تھا ۔ اسے نے اپنے گرد حبشیوں کا وہ قبیلہ جمع کر لیا تھا جس کے پروہت کو سلطان ایوبی نے ہلاک کرایا تھا ۔ یہ لوگ ابھی تک اس جگہ کو دیوتائوں کا مسکن کہتے تھے اور پہاڑیوںکے اندر نہیںجاتے تھے ۔ اندر صرف چار بوڑھے حبشی جاتے تھے ۔ ان میں ایک اس قبیلے کا مذہبی پیشوا تھا ۔ اس نے اپنے آپ کو مرے ہوئے پروہت کا جانشیں بنالیا تھا ۔اس نے تین آدمی اپنے محاظوں کے طور پر منتخب کر لیے تھے ۔ جو اس کے ساتھ پہاڑیوں کے اندر جاتے تھے ۔ رجب نے اسی چھوٹے سے خطبے کے ایک ڈھکے چھپے گوشے کو اپنا گھر بنا لیا تھا ۔فرار ہو کر وہاں گیا اور پھر مصر میں مقیم کسی صلیبی ایجنٹ کے ساتھ فلسطین چلا گیا تھا ۔
 جاری ھے ، (صلاحُ الدین ایوبیؒ کے دور کےحقیقی واقعات کا سلسلہ "لڑکی جو فلسطین سے آئ تهی")، شئیر کریں جزاکم اللہ خیرا۔
پچھلی قسط پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں


https://www.blogger.com/blogger.g?blogID=3325535087486341154#editor/target=post;postID=8513003493091707258

No comments:

Post a Comment