Monday, 10 April 2017

داستان ایمان فروشوں کی


صلاحُ الدین ایوبیؒ کے دور کےحقیقی واقعات کا سلسلہ
داستان ایمان فروشوں کی ۔
قسط نمبر۔2۔جب زکوئ سلطان صلاح الدین ایوبی کے خیمے میں پہنچی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 تمھاری زندگی اور موت میرے ھاتھوں میں ھے تم مجھے دھوکہ نھی دے سکو گی ، اسلیئے میں نے تمھارے ساتھ کھل کر بات کی ھے ورنی میرے حثیت اور رتبے کا انسان ایک پیشہ ور لڑکی سے پہلی ملاقات میں ایسی باتیں نھی کرتا "

یہ آپکو آنے والا وقت بتاے گا کہ کون کس کو دھوکہ دیتا ھے زکوئ نے کہا " مجھے یہ بتاۓ کہ میری سلطان تک رسائ کیسی ھوگی"

" میں اسے ایک جشن میں بلا رھا ھوں، ناجی نےکہا اور اسی رات میں ھی آپکو اسیکے حیمے میں داحل کردونگا۔ میں نے تمھیں اسی مصد کے لیے بلایا ھے"

باقی میں سنبھال لونگی " زکوئ نے کہا
 وہ رات گزر گئ پھر اور کئ راتیں گزر گی، سلطان صلاح الدین ایوبی انتظامی اور فوجی کی نئ بھرتی میں اتنا مصروف تھا کہ ناجی کی دعوت قبول کرنے کا وقت نھی نکال سکا علی بن سفیان نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو ناجی کے مطابق جو ریپورٹ دی تھی اس نے سلطان کو پریشان کردیا تھا ۔ سلطان نے علی سے کہا

" اس کا مطلب یہ ھے کہ ناجی صلیبیوں سے بھی زیادہ حطرناک ھے یہ سانپ ھے جیسے مصر کی امارات آستین میں پال رھی ھے"

علی بن سفیان نے ناجی کی تحزیب کاری کی تفصیل بتانی شروع کردی کہ ناجی نے کس طرح بڑے بڑے عہدیداروں کو ھاتھ میں لیا اور انتظامیہ میں من مانی کرتا رھا۔ اور کہا "اور جس سوڈانی سپاہ کا وہ سپہ سالار ھے وہ ھماری بجاۓ ناجی کی وفادار ھے کیا آپ اسکا کوی علاج سوچ سکتے ھے"

" صرف سوچ ھی نھی سکتا علاج شروع بھی کر چکا ھوں،مصر سے جو سپاہ بھرتی کیئے جا رھے ھیں وہ سوڈانی باڈی گارڈز میں گڈ مڈ کردونگا پھر یہ فوج نہ سوڈانی ھوگی اور نہ مصری ، ناجی کی یہ طاقت بکھر کر ھماری فوج میں جذب ھوجاے گی۔ ناجی کو میں اسکے اصل ٹھکانے پر لیں آونگا۔" سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا

" اور میں یہ وثوق سے کہہ سکتا ھوں کہ ناجی نےصلیبیوں کے ساتھ بھی گٹھ جوڑ رکھا ھے علی بن سفیان نے کہا آپ ملت اسلامیہ کو ایک مضبوط مرکز پر لاکر اسلام کو وسعت دینا چاھتے ھے مگر ناجی آپکے حوابوں کو دیوانے کا حواب بنا رھا ھے"

تم اس سلسلے میں کیا کر رھے ھوں۔" سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا

" یہ مجھ پر چھوڑ دیں" علی نے کہا میں جو کرونگا وہ آپکو ساتھ ساتھ بتاتا رھونگا آپ مطمیئن رھیں میں نے اسکے گرد جاسوسوں کی ایسی دیوار میں چن دیا ھے جس کے آنکھ بھی ھے کان بھی اور یہ دیوار متحرک ھے۔ یوں سمجھ لیں کہ میں نے اسکو اپنے جاسوسی کے قلعے میں قید کرلیا ھے"

سلطان صلاح الدین ایوبی کو علی بن سفیان پر اس قدر بھروسہ تھا کہ اس نے علی سے اسکے درپردہ کاروائ کی تفصیل نہ پوچھی، علی نے سلطان سے پوچھا" معلوم ھوا ھے وہ آپکو جشن پر بلانا چاھتا ھے اگر یہ ٹھیک بات ھے تو اسکی دعوت اس وقت قبول کرلیں جب میں آپکو کہونگا "

ایوبی اٹھا اور اپنے ھاتھ پیچھے کر کہ ٹہلنے لگا اسکی آہ نکی وہ رک گیا اور بولا " بن سفیان ۔۔!! زندگی اور موت اللہ کے ھاتھ میں ھے بے مقصد زندگی سے بہتر نھی کہ انسان پیدا ھوتے ھی مر جاے۔؟ کھبی کھبی یہ بات دماغ میں آتی ھے کہ وہ لوگ کتنے حوش نصیب ھے جن کی قومی حس مردہ ھوچکی ھوتی ھے اور جن کا کوی کردار نھی ھوتا بڑے مزے سے جیتے ھے اور اپنی آی پر مر جاتے ھے"

وہ بد نصیب ھے امیر محترم " علی بن سفیان نے کہا

" ھاں بن سفیان میں جب انھیں حوش نصیب کہتا ھوں تو پتہ نھی کون میرے کانوں میں یہ بات ڈال لیتا ھے جو تم کہی مگر سوچتا ھوں کہ اگر ھم نے تاریح کا دھارا اس موڑ پر نہ بدلہ تو ملت اسلامیہ صحراؤں وادیوں میں گم ھو جاے گا ملت کی حلافت تین حصوں میں تسیم ھوگی ھے امیر من مانی کر رھے ھیں اور صلیبیوں کا آلہ کار بن رھے ھیں مجھے اس بات کا ڈر بھی ھے کہ اگر مسلمان زندہ بھی رھے تو وہ ھمشہ صلیبیوں کے غلام اور آلہ کار بنے گے وہ اسی پر حوش ھونگے کہ وہ زندہ ھے مگر قوم کی حثیت سے وہ مردہ ھونگے زرا نقشہ دیکھوں علی۔۔۔! آدھی صدی میں ھماری سلطنت کا نقشہ کتنا سکڑ کر رہ گیا ھے وہ حاموش ھوگیا اور ٹہلنے لگا اور پھر سر جھٹک کر علی کو دیکھنے لگا

" جب تباھی اپنے اندر سے تو اسے روکنا محال ھوتا ھے اگر ھمارے حلافتوں اور امارتوں کا یہی حال رھا تو صلیبیوں کو ھم پر حملہ کرنے کی ضرورت پیش نھی آے گی،، وہ آگ جس میں ھم اپنا ایمان اپنا کردار اپنی قومیت جلا رھے ھے اس میں صلیبی آھستہ آھستہ تیل ڈالتے رھیگے، انکی سازشیں ھمیں آپس میں لڑاتی رھے گی، میں شاید اپنا عزم پورا نہ کروسکوں۔ میں شاید صلیبیوں سے شکست بھی کھاجاو لیکن میں قوم کے نام ایک وصیت چھوڑنا چاھتا ھوں وہ یہ ھے کہ کسی غیر مسلم پر کھبی بھروسہ نھی کرنا، انکے حلاف لڑنا ھے تو لڑ کر مر جانا ، کسی غیر مسلم کے ساتھ کوی سمجھوتہ کوی معاھدہ نہ کرنا"

" آپکا لہجہ بتا رھا ھے کہ جیسے آپ اپنے عزم سے مایوس ھوگیے ھے" علی بن سفیان نے کہا

" مایوس نھی جذباتی۔۔۔۔ علی۔۔۔ میرا ایک حکم متعلقہ شعبہ تک پنچاو بھرتی تیز کردو اور کوشیش کرو کہ فوج کے لیے ایسے آدمی زیادہ سے زیادہ بھرتی کرو جنکو جنگ و جدل کا پہلے سے تجربہ ھوں۔ھمارے پاس اتنی لمبی تربیت کا وقت نھی، بھرتی ھونے والوں کے لیے مسلمان ھونا لازمی قرار دو، اور تم اپنے لیے زھن نشین کردو کہ ایسے جاسوسوں کو دستہ تیار کرو جو دشمن کے علاقے میں جا کر جاسوسی بھی کریں۔ اور شب حون بھی مارے یہ جانبازوں کا دستہ ھوگا ، انھیں حصوصی تربیت دو ، ان میں یہ صفات پیدا کرو کہ وہ اونٹ کی طرح صحرا میں زیادہ سے زیادہ عرصہ پیاس برداشت کر سکے۔ انکی نظریں عقاب کی طرح تیز ھوں۔ ان میں صحرائ لومڑی کی مکاری ھوں اور وہ دشمن پر چیتے کی طرح جھپٹنے کی مہارت طاقت کے مالک ھوں ان میں شراب اور حشیش کی عادت نہ ھوں اور عورت کے لیے وہ برف کی طرح یح ھوں ،، بھرتی تیز کرادو علی سفیان۔۔۔۔۔۔۔۔اور یاد رکھو

میں ھجوم کا قائل نھی ، مجھے لڑنے والوں کی ضرورت ھے حواہ تعداد تھوڑی ھوں ، ان میں قومی جذبہ ھوں اور وہ میرے عزم کو سمجھتے ھوں ، کسی کے دل میں یہ شبہ نہ ھو کہ اسے کیوں لڑایا جا رھا ھے،،

اگلے دس دنوں میں ھزارھا تربیت یافتہ سپاھی امارت مصر کی فوج میں آگیے اور ان دس دنوں میں ذکوئ کو ناجی نے ٹرینئنگ دے دی کہ وہ سلطان کو کون کون سے طریقے سے اپنے حسن کی جال میں پھنسا کر اسکی شحصیت اور اسکا کردار کمزور کر سکتی ھے ۔ ناجی کے ھمراز دوستوں نے جب ذکوئ کو دیکھا تو انھوں نے کہا کہ مصر کے فرغون بھی اس لڑکی کو دیکھ لیتے تو وہ حدائ کے وعدے سے دستبردار ھو جاتے ، ناجی کا جاسوسی کا اپنا نظام تھا ، بھت تیز اور دلیر ،، وہ معلوم کر چکا تھا کہ علی بن سفیان سلطان کا حاص مشیر ھے۔ اور عرب کا مانا ھوا سراغرساں ، اس نے علی کے پیچھے اپنے جاسوس چھوڑ دیئے تھے اور علی کو قتل کرنے کا منصوبہ بھی تیار کیا تھا ۔ ذکوئ کو ناجی نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو اپنے جال میں پھسانے کے لیے تیار کیا تھا ، لیکن وہ محسوس نھی کر سکا کہ مراکش کی رھنے والی یہ لڑکی حود اسکے اپنے اعصاب پر سوار ھو گی ھے ، وہ صرف شکل و صورت ھی کی دلکش نھی تھی ، اسکی باتوں میں ایسا جادو تھا کہ ناجی اسکو اپنے پاس بٹھا کر باتیں ھی کیا کرتا تھا اس نے دو ناچنے گانے والیوں سے نگاہیں پھیر لی ، جو اسکی منظور نطر تھی ، تین چار راتوں سے ناجی نے ان لڑکیوں کو اپنے کمرے میں بلایا بھی نھی تھا، ناجی سونے کے انڈے دینے والی مرغی تھی جو انکے آغوش سے ذکوئ کی آغوش میں چلی گی تھی ،انھوں نے ذکوئ کو راستے سے ھٹانے کی ترکیبیں شروع کردی ، وہ آخر اس نتیجے پر پہنچے کہ اسے قتل کیا جاے ، لیکن اسکو قتل کرنا اتنا آسان نہ تھا ، کونکہ ناجی نے اسے جو کمرہ دیا تھا اس پر دو محافظوں کا پہرہ ھوا کرتا تھا ، اسکے علاوہ یہ دونوں لڑکیاں اس مکان سے بلااجازت نھی نکل سکتی تھی جو ناجی نے انھیں دے رکھا تھا ، انھوں نے حرم کی حادمہ ) نوکرانی( کو اعتماد میں لینا شروع کیا ، وہ اسکے ھاتھوں ذکوئ کو زھر دینا چاھتی تھی۔۔

علی بن سفیان نے سلطان صلاح الدین ایوبی کا محافظ دستہ بدل دیا ، یہ سب امیر مصر کے پرانے باڈی گارڈز تھے ، اسکی جگہ علی نے ان سپاھیوں میں باڈی گارڈز کا دستہ تیار کیا جو نئے آے تھے ، یہ جانبازوں کا نیا دستہ تھا جو سپاہ گری میں بھی تاک تھا ، اور جذبے کے لحاظ سے ھر سپاھی اس دستے کا اصل میں مرد مجاھد تھا ۔ ناجی کو یہ تبدیلی بلکل بھی پسند نھی تھی۔۔ لیکن اس نے سلطان صلاح الدین ایوبی کے سامنے اس تبدیلی کی بے حد تعریف کی ، اور اسکے ساتھ ھی درحواست کی کہ سلطان صلاح الدین ایوبی اسکی دعوت کو قبول کریں ، سلطان صلاح الدین ایوبی نے اسکو جواب دیا کہ وی ایک آدھے میں اسکو بتاے گا کہ وہ کب ناجی کی دعوت قبول کرے گا ۔ ناجی کے جانے کے بعد سلطان صلاح الدین ایوبی نے علی سے مشورہ کیا کہ وہ دعوت پر کب جاے ۔ علی نے مشورہ دیا کہ اب وہ کسی بھی روز دعوت کو قبول کریں۔۔

دوسرے دن سلطان صلاح الدین ایوبی نے ناجی کو بتایا کہ وہ کسی بھی رات دعوت پر آسکتا ھے ، ناجی نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو تین دن کے بعد کی دعوت دی اور بتایا کہ یہ دعوت کم اور جشن زیادہ ھوگا اور یہ جشن شہر سے دور صحرا میںمشغلوں کی میں منایا جاے گا،ناچ گانے کا انتظام ھوگا، باڈی گارڈز کے گھوڑے اپنا کرتب دکھاےنگے ،، شمشیر زنی اور بغیر تلوار کے لڑئیوں کے مقابلے ھونگے اور سلطان صلاح الدین ایوبی کو رات وھی قیام کرنا پڑے گا ، رھایش کے لیے حیمے نصب ھونگے ، سلطان صلاح الدین ایوبی پروگرام کی تفصیل سنتا رھا اس نے ناچنے گانے پر اعتراض نھی کیا تھا ، ناجی نے ڈرتے اور جھجکتے ھوے کہا " فوج کے بیشتر سپاھی جو مسلمان نھی یا جو ابھی نیم مسلمان ھے کھبی کھبی شراب پیتے ھے ، وہ شراب کے عادی نھی لیکن وہ اجازت چاھتے ھے کہ جشن میں انھیں شراب پینے کی اجازت دی جاۓ "
 "آپ ان کے کمانڈر ھوں آپ چاھیے تو ان کو اجازت دے دیے نہ چاھیں تو میں آپ پر اپنا حکم مسلط نھی کرنا چاھتا " سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا

ؔ سلطان صلاح الدین ایوبی کا اقبال بلند ھوں میں کون ھوتا ھوں اس کام کی اجازت دینے والا جس کو آپ سحت ناپسند کریں " ناجی نے کہا

" انھیں اجازت دے دیں کہ جشن کی رات ھنگامہ آرائ اور بدکاری کے سوا سب کچھ کر سکتے ھے اگر شراب پی کر کسی نے ھلہ گلہ کیا تو اس کو سحت سزا دی جاے گی"

سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا ۔

یہ حبر جب سلطان صلاح الدین ایوبی کے سپاھیوں تک پہنچی کہ ناجی سلطان صلاح الدین ایوبی کے اعزاز میں جشن منعقد کررھا ھے اور اس میں ناچ گانا بھی ھوگا شراب بھی ھوگی اور سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس جشن کی دعوت ان سب خرافات کے باوجود بھی قبول کی ھے تو وہ ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رھے ۔ کسی نے کہا کہ ناجی جھوٹ بولتا ھے اور دوسروں پر اپنا رعب ڈالنا چاھتا ھے اور کسی نے کہا ناجی کا سلطان صلاح الدین ایوبی پر بھی چل گیا ۔یہ راۓ ناجی کے ان افسروں کو بھی پسند آی جو ناجی کے ھم نوا اور ھم پیالہ تھے ، سلطان صلاح الدین ایوبی نے چارج لیتے ھی ان کی عش و عشرت شراب اور بدکاری حرام کردی تھی ، سلطان صلاح الدین ایوبی نے ایسا سحت ڈسپلن رائج کیا کہ کسی کو بھی پہلے کی طرح اپنے فرایض سے کوتاھی کی جرات نھی ھوتی تھی ، وہ اس پر حوش تھے کہ نیے امیر مصر نے ان کو رات کی شراب کی اجازت دی تھی تو کل وہ بھی حود ان سب چیزوں کا رسیا ھو جاے گا ،، صرف علی بن سفیان تھا جسے معلوم تھا کہ سلطان نے ان سب خرافات کی اجازت کیوں دی تھی ۔

جشن کی شام آگی ، ایک تو چاندنی رات تھی ، صحرا کی چاندنی اتنی شفاف ھوتی ھے کہ ریت کے زرے بھی نظر آجاتے ھے ، دوسرے ھزارھا مشغلوں نے وھاں کی صحرا کو دن بنایا تھا ، باڈی گارڈز کا ھجوم تھا جو ایک وسیغ میدان کے گرد دیواروں کی طرح کھڑا تھا ، ایک طرف جو مسند سلطان صلاح الدین ایوبی کے لیے رکھی گی تھی وہ کسی بھت بڑے بادشاہ کا معلوم ھوتا تھا ، اسکے دایئں بایئں بڑے مہمانوں کے لیے نششتیں رکھی گی تھی ، اس وسیع و عریض تماش گاہ سے تھوڑی دور مہمانوں کے لیے نہایت حوبصورت حیمے نصب تھے ، ان سے ھٹ کر ایک بڑا حیمہ سلطان صلاح الدین ایوبی کے لیے نصب کیا گیا تھا جہاں اسے رات بسر کرنی تھی۔ ۔ علی بن سفیان نے صبح سورج غروب ھونے سے پہلے وھاں جاکر محافظ کھڑے کردیئے تھے ۔ جب علی بن سفیان وھاں محافظ کھڑے کر رھا تھا تو ناجی ذکوئ کو آحری ھدایات دے رھا تھا۔

اس شام ذکوی کا حسن کچھ زیادہ ھی نکھر آیا تھا ۔ اسکے جسم سے عطر کی ایسی بھینی بھینی حوشبو اٹھ رھی تھی۔ جس میں سحر کا تاثر تھا اس نے بال عریاں کندھوں پر پھیلا دیے تھے ۔ سفید کندھوں پر سیاھی مائل بھورے بال زاھدوں کے نظروں کو گرفتار کرتے تھے۔اسکا لباس اتنا باریک تھا کہ اسکے جسم کے تمام نشیب و فراز دکھائ دیتے تھے ، اسکے ھونٹوں پر قدرتی تبسم ادھ کھلی کلی کی طرح تھی ،،

ناجی نے اسکو سر سے پاؤں تک دیکھا " تمھارے حسن کا شاید سلطان صلاح الدین ایوبی پر اثر نہ ھو تو اپنی زبان استعمال کرنا ، وہ سبق بھولنا نھی جو میں اتنے دنوں سے تمھیں پڑھا رھا ھوں۔اور یہ بھی نہ بھولنا کہ اسکے پاس جاکر اسکی لونڈی نہ بن جانا ۔ انجیر کا وہ پھول بن جانا جو درحت کی چھوٹی پر نظر آتا ھے مگر درحت پر چڑھ کر دیکھو تو غایب ۔ اسے اپنے قدموں میں بٹھالینا میں تمھیں یقین دلاتا ھوں کہ تم اس پتھر کو پانی میں تبدیل کرسکتی ھوں ۔ اس سرزمین میں قلوپطرہ نے سینرز جیسے مرد آھن کو اپنے حسن و جوانی سے پھگلا کر مصر کے ریت میں بہادیا قلوپطرہ تم سے زیادہ حوبصورت نھی تھی میں نے تم کو جو سبق دیا ھے وہ قلو پطرہ کی چالیں تھی، عورت کی یہ چالیں کھبی ناکام نھی ھو سکتی۔" ناجی نے کہا۔ذکوئ مسکرا رھی تھی اور بڑے غور سے سن رھی تھی مصر کی ریت نے ایک اور حسین قلوپطرہ کو حسین ناگن کی طرح جنم دیا تھا مصر کی تاریح اپنے آپ کو دھرانے والی تھی سورج غروب ھوا تو مشغلیں جل گی

سلطان صلاح الدین ایوبی گھوڑے پر سوار آگیا ۔ سلطان کے آگے پیچھے دایئں بایئں اس محافظ دستے کے گھوڑے تھے جو علی بن سفیان نے منتحب کیئے تھے ، اسی دستے میں سے ھی اس نے دس محافظ شام سے پہلے ھی یہاں لاکر سلطان صلاح الدین ایوبی کے حیمے کے گرد کھڑے کردیئے تھے ، سازندوں نے دف کی آواز پر استقبالیہ دھن بجائ اور صحرا" امیر مصر سلطان صلاح الدین ایوبی زندہ باد " کے نغروں سے گونجنے لگا ناجی نے آگے بڑھ کر استقبال کیا اور کہا" آپ کے جانثار عظمت اسلام کے پاسبان آپکو بسروچشم حوش آمدید کہتے ھے ان کی بے تابیاں اور بے قراریاں دیکھیں آپ کے اشارے پر کٹ مریں گے۔" اور حوشامد کے لیے اسکو جتنے الفاظ یاد آے ناجی نے کہہ دیئے۔

جونھی سلطان صلاح الدین ایوبی اپنی شاھانہ نشست پر بیٹھا۔ سر پٹ دوڑتے گھوڑوں کی ٹاپوں کی آوازیں سنایی دینے لگی گھوڑے جب روشنی میں آے تب اس نے دیکھا کہ چار گھوڑے دایئں سے اور 4 بایئں سے آرھے تھے ھر ایک پر ایک ایک سوار تھا اور ان کے پاس ھتیار نھی تھے وہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے آرھے تھے صاف ظاھر تھا کہ وہ ٹکرا جاینگے کسی کو معلوم نھی تھا کہ وہ کیا کرینگے وہ ایک دوسرے کے قریب آے تو سوار رکابوں میں پاؤں جماے کھڑے ھوے پھر انھوں نے لگامیں ایک ایک ھاتھ میں تھام لی اور دوسرے بازو پھیلا دیئے دونوں اطرف کے گھوڑے بلکل آمنے سامنے آگیئے اور سواروں کی دونوں پارٹیاں ایک دوسرے سے الجھ گی۔ سواروں نے ایک دوسرے کو پکڑنے اور گرانے کی کوشیش کی سب گھوڑے جب آگے نکل گیے تو دو سوار جو گھوڑوں سے گر گیئے تھے ریت پر قلابازیاں کھا رھے تھے ، ایک طرف کے ایک سوار نے دوسری طرف کے ایک سوار کو ایک بازو میں جھکڑ کر اسے گھوڑے سے اٹھا لیا تھا اور اسے اپنے گھوڑوں پر لاد کر لے جا رھا تھے ، ھجوم نے اس قدر شور برپا کیا تھا کہ اپنی آواز حود کو سنائ نھی دے رھی تھی۔ یہ سواز اندھیرے میں غائب ھوے تو دونون اطرف سے اور چار چار گھوڑ سوار آے اور مقابلہ ھوا اس طرح آٹھ مقابلے ھوے اور اسکے بعد شتر سوار آے پھر گھوڑ سواروں اور شتر سواروں نے کئ کرتب دکھاے ۔ اسکے بعد تیغ زنی اور بغیر ھتیاروں کے لڑائ کے مظاھرے ھوے جن مین کئ ایک سپاھی زحمی ھوے سلطان صلاح الدین ایوبی شجاعت اور بہادری کے ان مقابلوں میں جذب ھوکر رہ گیا تھا اسے ایسے ھی بہادر فوج کی ضرورت تھی سلطان صلاح الدین ایوبی نے علی بن سفیان کے کان میں کہا " اگر اس فوج میں اسلامی جذبہ بھی ھوں میں اسی فوج سے ھی صلیبیوں کو گھٹنوں بٹھا سکتا ھوں"

علی بن سفیان نے وھی مشورہ دیا جو اس نے پہلے دیا تھا

" اگر ناجی سے کمان لی جاۓ تو جذبہ بھی پیدا کیا جا سکتا ھے " علی بن سفیان نے کہا مگر سلطان صلاح الدین ایوبی ناجی جیسے سالار کو سبکدوش نھی کرنا چاھتا تھا بلکہ سدھار کر راہ حق پر لانا چاھتا تھا۔وہ اس جشن میں اپنی آنکھوں یہی دیکھنے آیا تھا کہ یہ فوج احلاقی کے لحاظ سے کیسی ھے اس کو ناجی کے اس بات سے ھی مایوسی ھوی تھی کہ ناجی کے کمانڈر اور سپاھی شراب پینا چاھتے ھے اور ناچ گانا بھی ھوگا سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس درحواست کی منظوری صرف اس وجہ سے دی تھی کہ وہ دیکھنا چاھتا تھا کہ یہ فوج کس حد تک عیش و عشرت میں ڈوبا ھوا ھے۔

بہادری شجاعت شاھسواری تیغ زنی تلوار زنی میں تو یہ فوج جنگی معیار پر پورا اترتا تھا لیکن مگر کھانے کا وقت آیا تو یہ فوج بدتمیزیوں بلانوشوں اور ھنگامہ پرور لوگوں کا ھجوم بن گی کھانے کا انتظام وسیغ و عریض میدان میں کیا گیا تھا اور ان سے زرا دور سلطان صلاح الدین ایوبی اور دیگر مہمانون کے کھانے کا انتظام کیا گیا تھا سینکڑون سالم دنبے اور بکرے اونٹوں کی سالم رانیں اور ھزارون مرغ روسٹ کیے گیے تھے دیگر لوازمات کا کوی شمار نہ تھا اور سپاھیوں کے سامنے شراب کے چھوٹے چھوٹے مشکیزے اور صراحیاں رکھ دی گی تھی ، سپاھی کھانے اور شراب پر ٹوٹ پڑے اور غٹاغٹ شراب چڑھانے لگے اور معرکہ آرائ ھونے لگی سلطان صلاح الدین ایوبی یہ منظر دیکھ رھا تھا اور حاموش تھا اسکے چہرے پو کوی تاثر نہ تھا جو یہ ظاھر کرتا کہ وہ کیا سوچ رھا ھے اس نے ناجی سے صرف اتنا کہا " پچاس ھزار فوج میں آپ نے یہ آدمی کس طرح منتحب کیئے کیا یہ آپکے بدترین سپاھی ھے؟"

" نھی امیر مصر ،،،! یہ دو ھزار عسکری میرے بہترین سپاھی ھے آپ نے انکے مظاھرے دیکھے ان کی بہادری دیکھی ھے میدان جنگ میں جس جانبازی کا مظاھرہ کرینگے وہ آپکی حیران کردیگی آپ انکی بدتمیزی کو نہ دکھیں یہ آپکے اشارے پر جانیں قربان کردینگے میں انھیں کھبی کھبی کھبلی چھٹی دے دیا کرتا ھوں کہ مرنے سے پہلے دنیا کے رنگ و بو کا پورا مزہ اٹھا لیں " ناجی نے غلامانہ لہجے میں کہا

سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس استدلال کے جواب میں کچھ نھی کہا ناجی جب دوسرے مہمانوں کی طرف متوجہ ھوا تو سلطان صلاح الدین ایوبی نے علی بن سفیان سے کہا " میں جو دیکھنا چاھتا تھا وہ دیکھ لیا ھے یہ سوڈانی شراب اور ھنگامہ آرائ کے عادی ھے ، تم کہتے ھوں ان میں جذبہ نھی ھے میں دیکھ رھا ھوں ان میں کردار بھی نھی ھے ۔ اس فوج کو اگر تم لڑنے کے لیے میدان جنگ میں لے گیے تو یہ لڑنے کی بجاے اپنی جان بچانے کی فکر کرے گی اور مال غنیمت لؤتے گی اور مفتوح کی عورتوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کرے گی "
 " اسکا علاج یہ ھے کہ آپ نے جو فوج مصر کے محتلف حطوں سے بھرتی کی ھے اسکو ناجی کے 50 ھزار فوج میں مدغم کرلیں برے سپاھی اچھے سپاھیوں کے ساتھ مل کر اپنی عادتیں بدل دیا کرتے ھے " علی بن سفیان نے کہا ۔ سلطان صلاح الدین ایوبی مسکرایا اور کہا " تم یقینا میرے دل کا راز جانتے ھوں میرا منصوبہ یہی ھے جو میں ابھی تمھیں نھی بتانا چاہ رھا تھا ، تم اسکا زکر کسی سے نھی کرنا "

علی بن سفیان میں یہی وصف تھی کہ وہ دوسرے کے دل کا راز جان لیتا تھا اور غیر معمولی طور پر زھین تھا وہ کچھ اور کہنے ھی لگا تھا کہ ان کے سامنے مشغلیں روشن ھوی ، زمین پر بیش قیمت قالینں بچھے ھوے تھے ، شہنائ اور سارنگ کا ایسا میٹھا نغمہ ابھرا کہ مہمانوں پر سناٹا چھا گیا ایک طرف سے ناچنے والیوں کی قطار نمودار ھوی ، بیس لڑکیاں ایسے باریک اور نفیس لباس میں چلی آرھی تھی کہ ان کے جسموں کا انگ انگ نظر آرھا تھا ھر ایک کا لباس باریک چغہ سا تھا جو شانوں س ٹحنوں تک تھا ان کے بال کھولے ھوے تھے اور اسی ریشم کا حصہ نظر آرھے تھے جسکا انھوں نے لباس پہنا ھوا تھا صحرا کی ھلکی ھلکی ھوا سے اور لڑکیوں کی کے چال سے یہ ڈھیلا ڈھالا لباس ھلتا تھا تو یوں لگتا تھا جیسے بھولدار پودون کی ڈالیاں ھوا میں تیرتی ھوی آرھی ھوں ھر ایک کے لباس کا رنگ جدا تھا ھر ایک کی شکل و صورت ایک دوسرے سے محتلف تھی لیکن حس جسم کی جلک میں ساری ایک ھی جیسی تھی انکے مرمریں بازو عریاں تھے وہ چلتی آرھی تھی لیکن قدم اٹھتے نطر نھی آرھی تھی وہ ھوا کی لہروں کی مانند تھی وہ نیم دائرے میں ھوکر رہ گی سلطان صلاح الدین ایوبی کی طرف منہ کر کہ تغظیم کے لیے جھکی سب کے بال سرک کر شانوں پر آگے سازندوں نے ان ریشمی بالوں اور جسموں کے جادو میں طلسم پیدا کردیا تھا دو سیاہ فام دیو ھیکل حبشی جن کے کمر کے گرد چیتوں کی کالی تھی ایک بڑا سا ٹوکرہ اٹھاے تیز تیز قدم چلتے آے اور ٹوکرا نیم دائرے کے سامنے رکھ دیا ساز سپیروں کے بین کی دھن بجانے لگے ، حبشی مست سانڈوں کی طرح پھنکارتے ھوے غایب ھوے ٹوکری میں سے ایک بڑی کلی اٹھی اور پھول کی طرح کھل گئ، اس پھول میں سے ایک لڑکی کا چہرہ نمودار ھوا اور پھر وہ اوپر کو ٹھنے لگی یوں لگنے لگا جیسے یہ سرح بادلوں میں ایک چاند نکل رھا ھوں یہ لڑکی اس دنیا کی معلوم نھی ھوتی تھی اسکی مسکراھٹ بھی عارضی نھی تھی اسکے آنکھوں کی چمک بھی مصر کی کیسی لڑکی کے آنکھوں کی چمک نھی لگتی تھی اور جب لڑکی نے پھولہ کی چوڑی پتیوں میں سے باھر قدم رکھا تو اسکے جسم کی لچک نے تماشیئوں کو مسحور کردیا ، علی بن سفیان نے سلطان صلاح الدین ایوبی کی طرف دیکھا اسکے ھونٹوں پر مسکراھٹ تھی ۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے اسکے کانوں میں میں کہا " علی ۔۔ مجھے توقع نھی تھی کہ یہ اتنی حوبصورت ھوگی "

ناجی نے سلطان صلاح الدین ایوبی کے پاس آکر کہا " امیر مصر کا اقبال ھوں ۔۔۔ اس لڑکی کا نام زکوئ ھے اس میں نے آپکی حاطر اسکندریہ سے بلوایا ھے ، یہ پیشہ ور رقصہ نھی یہ طوایف بھی نھی اسکو رقص سے پیار ھے شوقیہ ناچتی ھے کسی محفل میں نھی جاتی میں اسکے باپ کو جانتا ھون ساحل پر مچھلیوں کا کاروبار کرتا ھے ۔ یہ لڑکی آپکی عقیدت مند ھے آپکو پیغمبر مانتی ھے میں اتفاق سے اسکے گھر اس کے باپ سے ملنے گیا تو اس لڑکی نے استدعا کی کہ سنا ھے سلطان صلاح الدین ایوبی امیر مصر بن کر آے ھے اللہ کے نام پر مجھے اس سے ملوا دو۔میرے پاس اپنی جان اور رقص کے سوا کچھ بھی نھی جو میں اس عظیم ھستی کے پاؤں میں پیش کرسکوں۔۔قابل صد احترام امیر میں نے آپ سے رقص اور ناچ کی اجازت اس لیے مانگی تھی کہ میں اس لڑکی کو آپکے حضور پیش کرنا چاھتا تھا "

" کیا آپ نے اسے بتایا تھا کہ میں کسی لڑکی کو رقص یا عریانی کی حالت میں اپنے سامنے نھی دیکھ سکتا یہ لڑکیاں جسے آپ ملبوس لاے ھے بلکل ننگی ھے" سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا ۔۔ " عالی مقام میں نے بتایا تھا کہ امیر مصر رقص کو ناپسند کرتے ھے لیکن یہ کہتی تھی کہ امیر مصر میرا رقص پسند کرینگے کیوںکہ اس میں گناہ کی دعوت نھی یہ ایک باعصمت لڑکی کا رقص ھوگا میں ایوبی کے حضور اپنا جسم نھی اپنا رقص پیش کرونگی اگر میں مرد ھوتی تو سلطان کی جان کی حفاظت کے لیے محافظ دستے میں شام ھو جاتی" ناجی نے کھسیانہ ھوکر کہا

" آپ کیا کہنا چاھتے ھے اس لڑکی کو اپنے پاس بلا کر حراج تحسین پیش کرو کہ تم ھزاروں لوگون کے سامنے اپنا جسم ننگا کر کہ بھت اچھا ناچتی ھوں ؟ اسے اس پر شاباش دو کہ تم نے مردوں کے جنسی جذبات بھڑکانے میں حوب مہارت حاصل کی ھے۔۔؟ سلطان صلاح الدین ایوبی نے پوچھا ۔۔۔

" نھی امیر مصر میں اسے اس عودے پر یہاں لایا ھوں کہ آپ سے شرف باریابی بحش گے یہ بڑی دور سے اسی امید پر آی ھے ، زرا دیکھیئے اسے۔۔ اسکی رقص میں پیشہ وارنہ تاثر نھی حود سپردگی ھے۔۔۔۔ دیکھیئے وہ آپکو کیسی نطروں سے دیکھ رھی ھے بیشک عبادت صرف اللہ کی کیجاتی ھے لیکن یہ رقص کی اداؤں سے عقیدت سے آپکی عبادت کر رھی ھے ، آپ اسے اپنے حیمے میں اندر آنے کی اجازت دیں ، تھوڑی سی دیر کے لیے ۔ اسے مستقبل کی وہ ماں سمجھے جس کی کوکھ سے اسلام کے جانباز پیدا ھونگے یہ اپنے بچوں کو فحر سے بتایا کرے گی کہ میں سلطان صلاح الدین ایوبی سے تنہایی میں باتیں کرنے کا شرف حاصل کیا تھا" ناجی نے نہایت پر اثر اور حوشامدی لہجے میں سلطان صلاح الدین ایوبی سے منوالیا کہ یہ لڑکی جسے ناجی نے ایک بردہ فروش سے حریدا تھا شریف باپ کی باعصمت بیٹی ھے ناجی نے سلطان صلاح الدین ایوبی سے کہلوا لیا کہ " اچھ اسے میرے حیمے میں بھیج دینا " زکوئ نہایت آھستہ آھستہ جسم کو بل دیتی اور بار بار سلطان صلاح الدین ایوبی کی طرف دیکھ کر مسکرا رھی تھی ، باقی لڑکیاں تتلیوں کی طرح جسے اسکے آس پاس اڑ رھی تھی ، یہ اچھل کود والا رقص نھی تھا ،شغلوں کی روشنی میں کھبی تو یوں لگتا تھا جیسے ھلکے نیلے شفاف پانی میں جل پریاں تیر رھی ھو

چاندنی کا اپنا ایک تاثر تھا سلطان صلاح الدین ایوبی کے مطالق کوی نھی بتا سکتا تھا کہ وہ بیٹھ کر کیا سوچ رھا تھا ناجی کے سپاھی جو شراب پی کر ھنگامہ کر رھے تھے وہ بھی جیسے مر گیےگیے تھے ، زمین اور آسمان پر وجد طاری تھا ناجی اپنی کامیابی پر بھت مسرور تھا اور رات گزرتی جا رھی تھی۔۔۔۔٭٭٭٭٭٭

٭٭٭٭

نصف شب کے بعد سلطان صلاح الدین ایوبی اپنے حیمے میں داحل ھوا جو ناجی نے نصب کیا تھا اندر اس نے الین بچھا دیئے تھے پلنگ پر چیتے کی کال کی مانند پلنگ پوش تھا فانوس جو رکھوایا تھا اسکی ھلکی نیلی روشنی صحر کی شفاف چاندنی کی مانند تھی اور اندر کی فضا عطر بیز تھی حیمے کے اندر ریشمی پردے آویزاں تھے ناجی سلطان صلاح الدین ایوبی کے ساتھ حیمے میں اندر گیا اور کہا " اسے زرا سی دیر کے لیے بیھج دو

میں وعدہ حلافی سے بھت ڈرتا ھوں،،،،، " بھیج دو " سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا

اور ناجی ھرن کی طرح چوکڑیاں بھرتا حیمے سے باھر گیا ، تھوڑا ھی وقت گزرا تھا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کے محافظوں نے ایک رقاصہ کو اسکے حیمے کی طرف آتے دیکھا

حیمے کی ھر طرف مشغلیں روشن تھی روشنی کا یہ انتظام علی بن سفیان نے کرایا تھا کہ رات کے وقت محافظ گروپیش میں اچھی طرح سے دیکھ سکے رقاصہ ریب آی تو انھوں نے اسے پہچان لیا انھوں نے اسے رقص میں دیکھا تھا یہ وھی لڑکی تھی جو ٹوکرے میں سے نکلی تھی وہ زکوی تھی وہ رقص میں لباس میں تھی یہ لباس توبہ شکن تھا ، محافظوں کے کمانڈروں نے اسے روک لیا زکوئ نے بتایا کہ اسے امیر مصر نے بلوایا ھے کمانڈر نے اسے بتایا کہ یہ ان امیروں میں سے نھی کہ یہ تم جیسی فاحشہ لڑکیوں کے ساتھ راتیں گزارے " آپ ان سے پوچھ لیں میں بن بلاے آنے کی جرات نھی کر سکتی "

" انکا بلاوا تم کو کس نے دیا " کمانڈر نے پوچھا

" سالار ناجی نے کہا کہ تمیھیں امیر مصر بلا رھے ھے آپ کہتے ھوں تو میں چلی جاتی ھوں امیر نے جواب طلبی کی تو تم حود بھگت لینا " زکوی نے کہا کمانڈر تسلم نھی کر سکتا تھا کہ امیر مصر نے ایک رقاصہ کو اپنے حیمے میں بلوایا ھے وہ ایوبی کے کردار سے واقف تھا وہ اسکے اس حکم سے بھی واقف تھا کہ ناچنے گانے والیوں سے تعلق رکھنے والے کو 100 درے بھی مار جاے گے ، کمانڈر شش و پنج میں پڑ گیا ۔ سوچ سوچ کر اس نے ھمت کی اور سلطان صلاح الدین ایوبی کے حیمے میں اندر چلا گیا ایوبی اندر ٹہل رھا تھا کمانڈر نے ڈرتے ڈرتے کہا " باھر ایک رقاصہ کھڑی ھے کہتی ھے کہ حضور نے اسے بلوایا ھے " اسے اندر بھیج دو" سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا ۔ کمانڈر باھر نکلا اور زکوئ کو اندر بھیج دیا ۔۔۔ سپاھیوں کو توقع تھی کہ ان کا امیر اور سالار اس لڑکی کو باھر نکال لیے گا وہ سب سلطان صلاح الدین ایوبی کی گرجدار آواز سننے کے لیے تیار ھوے تھے لیکن ایسا کچھ نھی ھوا رات گزرتی جارھی تھی اندر سے دھیمی دھیمی باتوں کی آوازیں آرھی تھی ، محافظ دستے کا کمانڈر بے قراری کے انداز میں ٹہل رھا تو ایک سپاھی نے کہا" کیا یہ حکم صرف ھمارے لیے ھے کہ کسی فاحشہ کے ساتھ تعلق رکھنا جرم ھے "

" ھاں حکم صرف ماتحتوں اور قانون صرف رعایا کے لیے ھوتا ھے " کمانڈر نے کہا

امیر مصر کو درے نھی لگاے جاسکتے۔۔؟'"

" بادشاھوں کا کوی کردار نھی ھوتا سلطان صلاح الدین ایوبی شراب بھی پیتا ھوگا ھم پر جھوٹی پارسائ کا رعب جمایا جاتا ھے" کمانڈر نے کہا

انکی نگاھوں میں صلاح الدین کا جو بت تھا وہ ٹوٹ گیا تھا اس بت میں سے ایک عربی شہزادہ نکلا جو عیاش تھا پارسائ کے پردے میں گناہ کا مرتکب ھو رھا تھا،، ناجی بھت حوش تھا، سلطان صلاح الدین ایوبی کی حوشنودی کے لیے اس نے شراب سونگی بھی نھی تھی وہ اپنے حیمے میں بیٹھا مسرت سے جھوم رھا تھا اسکے سامنے اسکا نایب سالار اوروش بیٹھا ھوا تھا " اسے گیے بھت وقت ھو گیا ھے معلوم ھوتا ھے ھمارا تیرے سلطان صلاح الدین ایوبی کے دل میں اتر گیا ھے " اوروش نے کہا۔۔۔۔" ھمارا تیر حطا کب گیا تھا اگر حطا جاتا بھی تو اب تک ھمارے آجاتا" ناجی ے قہقہ لگا کر کہا ' تم ٹھیک کہتے ھوں ۔ زکوئ انسان کے روپ میں ایک طلسم ھے معلوم ھوتا ھے یہ لڑکی حشیشن کے ساتھ رہ ھے ورنہ سلطان صلاح الدین ایوبی جیسا بت کھبی نھی ٹورتی سکتی۔" اوروش نے کہا

" میں نے سے جو سبق دیئے تھے وہ حشیشن کے کھبی وھم و گمان میں بھی نہ آے ھوبگے اب سلطان صلاح الدین ایوبی کے حلق سے شراب اترانی بای رہ گی ھے " ناجی نے کہا ۔ ناجی کو باھر آھٹ سنائ دی ناجی نے دور سے سلطان صلاح الدین ایوبی کے حیمے کی طرف دیکھا ، پردے گرے ھوے تھے اور سپاھی کھڑے تھے اس نے اندر جا کر اوروش سے کہا" اب میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ھوں کہ میری زکوئ نے بت توڑ ڈالا ھے"٭٭٭٭٭٭٭
 رات کا آخری پہر تھا جب زکوئ سلطان صلاح الدین ایوبی کے حیمے سے باھر نکلی ناجی کے حیمے میں جانے کے بجاے وہ دوسری طرف چلی گی راستے میں ایک آدمی کھڑا تھا جو سر سے پاؤں تک ایک ھی لبادے میں چھپا ھوا تھا اس نے دھیمی سی آواز میں زکوئ کو پکارا وہ اس آدمی کے پاس چلی گی وہ اسکو حیمے میں لیے گیا بھت دیر بعد وہ اس حیمے سے نکلی اور ناجی کے حیمے کا رھ کیا ناجی اس وقت تک جاگ رھا تھا اور کئ بار سلطان صلاح الدین ایوبی کے حیمے کی طرف باھ نکل کر دیکھ چکا تھا کہ زکوئ نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو پھانس لیا ھے اور اسے آسمان کی بلندیوں سے گھسیٹ کر ناجی کی پسنت زھنیت میں لے آی ،،،" اوروش رات بھت ھوی ھے وہ ابھی تک واپس نھی آی" ناجی نے کہا ۔۔۔۔۔" وہ اب آے گی بھی نھی ، ایسے ھیرے کو کوی شہزادہ واپس نھی کرتا وہ اسے اپنے ساتھ لے جاے گا تم نے اس پر بھی غور کیا ھے۔۔؟" اوروش نے کہا

" نھی میں نے اپنی چال کا یہ پہلو تو سوچا ھی نھی

تھا " ناجی نے کہا

کیا یہ نھی ھوسکتا کہ امیر مصر زکوئ کے ساتھ شادی کر لیں اس صورت میں لڑکی ھمارے کام کی نھی رھے گی" اوروش نے کہا ۔" وہ ھے تو ھوشیار ۔۔۔ مگر رقاصہ کا کیا بھروسہ ،، وہ رقاصہ کی بیٹی ھے اور تجربہ کار بھی۔۔۔۔ دھوکہ بھی دے سکتی ھے۔۔" ناجی نے کہا ،،، وہ گہرئ سوچ میں تھا کہ زکوئ حیمے میں داحل ھوی،اس نے ھنس کر کہا " اپنے امیر مصر کا وزن کرو لاؤ اتنا سونا آپ نے میرا یہی انعام مقرر کیا تھا نا۔۔؟"

" پہلے بتاو ھوا کیا" ناجی نے بے قراری سے کہا ۔۔۔۔۔ " جو آپ چاھتے تھے ۔۔ آپکو یہ کس نے بتایا کہ صلاح الدین پتھر ھے فولاد ھے اور وہ مسلمانوں کے اللہ کا سایہ ھے " اس نے زمین پر پاؤں کا ٹھڈ مارکر کہا " وہ اس ریت سے زیادہ بے بس ھے جس کو ھوا کے جھونکے اڑاتے پھرتے ھے " زکوی نے کہا۔۔۔۔۔۔۔ "

یہ تمھارے حسن کا جادو اور زبان کی طلسم نے اسے ریت بنایا ورنہ یہ کمبحت چٹان ھے"

اوروش نے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔"ھاں چٹان تھا لیکن اب رتیلا ٹیلا بھی نھی " زکوی نے کہا

" میرے متعل کوی بات ھوی"؟ ناجی نے کہا ۔۔۔۔۔۔" ھاں پوچھ رھا تھا کہ ناجی کیسا انسان ھے میں نے کہا کہ مصر میں اگر آپکو کسی پربھروسہ کرنا چاھیے تو وہ ناجی ھے اس نے کہا کہ تم کس طرح ناجی کو جانتی ھوں میں نے کہا کہ وہ میرے باپ کے گہرے دوست ھے ھمارے گھر گیے تھے اور کہہ رھے تھے کہ میں سلطان صلاح الدین ایوبی کا غلام ھوں مجھے سمندر میں کودنے کا حکم دینگے تو میں کود جاونگا پھر اس نے مجھ سے پوچھا کہ تم باعصمت لڑکی ھوں، میں نے کہا میں آپکی لونڈی ھوں آپکا ھر حکم سر آنکھون پر ۔ کہنے لگا کہ کچھ دیر میرے پاس بیٹھو میں بیٹھ گی ، پھر وہ اگر پتھر تھا تو موم بن گیا اور میں نے موم کو اپنے سانچے میں ڈال لیا ، اس سے رحصت ھونے لگی تو اس نے مجھ سے معافی مانگی ، کہنے لگا میں نے زندگی میں پہلا گناہ کیا ھے ، میں نے کہا یہ گناہ نھی آپ نے میرے ساتھ کوی دھوکہ نھی کیا زبردستی نھی کی مجھے بادشاھوں کی طرح حکم دے کر نھی بلوایا، میں حود آئ تھی اور پھر بھی آونگی۔" زکوئ نے ھر بات اس طرح کھل کر سنائ جس طرح اسکا جسم عریاں تھا ناجی نے جوش مسرت سے اسے اپنے بازؤں میں لیں لیا اوروش زکوئ کو حراج تحسین اور ناجی کو مبارک باد دے کر حیمے سے نکل گیا ۔

٭٭٭ ا؎؎؎؎ا٭٭٭

صھرا کی اس پراسرار رات کی کوکھ سے جس صبح نے جنم لیا وہ کسی بھی صحرائ صبح سے محتلف نھی تھی مگر اس صبح کے اجالے نے اپنے تاریک سینے میں ایک راز چھپا لیا تھا جس کی قیمت اس سلطنت اسلامیہ جتنی تھی جس کے قیام اور استحکام کا حواب سلطان صلاح الدین ایوبی نے دیکھا اور اس کی تعبیر کا عزم لیکر جوان ھوا ، گزشتہ رات اس صحرا میں جو واقعہ ھوا اسکے 2 پہلو تھے ایک پہلو سے ناجی اور اوروش واقف تھے دوسرے سے سلطان صلاح الدین ایوبی کا محافط دستہ واقف تھا اور سلطان صلاح الدین ایوبی اسکا سراغرسان اور جاسوس علی بن سفیان اور زکوئ تین ایسے افراد تھے جو اس واقعے کے دونون پہلوں سے واقف تھے ، سلطان صلاح الدین ایوبی اور اسکے سٹاف کو ناجی نے نہایت ھی شان اور عزت کے ساتھ رحصت کیا ، سوڈانی فوج دو رویہ کھڑی " سلطان صلاح الدین ایوبی زندباد" کے نغرے لگا رھی تھی، سلطان صلاح الدین ایوبی نے نغروں کے جواب میں ھاتھ لہرانے مسکرانے اور دیگر تکلفات کی پراہ نھی کی ناجی سے ھاتھ ملایا اور اپنے گھوڑے کو ایڑی لگای اسکے پیچھے اپنے محافط اور دیگرے سٹاف کو بھی اپنے گھوڑے دوڑانے پڑے اپنے مرکزی دفتر پہنچ کر وہ علی بن سفیان اور اپنے نایب کو اندر لے گیا اور دروازہ بند کردیا ۔
جاری ھے شئیر کریں جزاکم اللہ خیرا۔

No comments:

Post a Comment