Thursday, 17 November 2016

شمشیرِ بے نیام، حضرت خال بد ولید رضی اللہ عنہ


شمشیرِ بے نیام، حضرت خال بد ولید رضی اللہ عنہ
( قسط نمبر45
)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
‘’’جوان آدمی ہتھیار گھوڑے اور اونٹ لے کر ہمارے ساتھ آ جائیں۔‘‘
’’شہنشاہِ فارس کی فوج ہمارے ساتھ ہے ۔‘‘’’یسوع مسیح کی قسم! ہم اپنی عزت پر کٹ مریں گے۔‘‘’’اپنا مذہب نہیں چھوڑیں گے۔‘‘ایک شور تھا،للکار تھی جو آندھی کی طرح دشت و جبل کو جن و انس کو لپیٹ میں لیتی آ رہی تھی۔کوئی بھی کسی سے نہیں پوچھتا تھا کہ یہ سب کیا ہے؟کس نے بتایا ہے کہ مسلمانوں کا لشکر آ رہا ہے؟کدھر سے آ رہا ہے؟ جوش و خروش تھا۔ عیسائی مائیں اپنے جوان بیٹوں کو رخصت کر رہی تھیں۔ بیویاں خاوندوں کو اور بہنیں بھائیوں کو الوداع کہہ رہی تھیں۔ایک فوج تیار ہوتی جا رہی تھی جس کی نفری تیزی سے بڑھتی جا رہی تھی۔ کسریٰ کی فوج کے کماندار وغیرہ آ گئے تھے۔ وہ ان لوگوں کو ایک جگہ اکھٹاکرتے جا رہے تھے جو کسریٰ کی فوج میں شامل ہو کر مسلمانوں کے خلاف لڑنے کیلئے آ رہے تھے۔
ایک بستی میں لڑنے والے عیسائی جمع ہو رہے تھے ۔سورج کبھی کا غروب ہو چکا تھا ۔بستی میں مشعلیں گھوم پھر رہی تھیں اور شور تھا۔ بستی دن کی طرح بے دار اور سر گرم تھی۔دو آدمی جو اس بستی والوں کیلئے اجنبی تھے بستی میں داخل ہوئے اور لوگوں میں شامل ہو گئے۔’’ہم ایک للکار سن کر آئے ہیں ۔‘‘ان میں سے ایک نے کہا۔’’ہم روزگار کی تلاش میں بڑی دور سے آئے ہیں اور شاید مدائن تک چلے جائیں۔ یہ کیا ہو رہا ہے؟‘‘’’تم ہو کون؟‘‘کسی نے ان سے پوچھا۔’’مذہب کیا ہے تمہارا؟‘‘دونوں نے اپنی اپنی شہادت کی انگلیاں باری باری اپنے دونوں کندھوں سے لگائیں اور اپنے سینے پر انگلیاں اوپر نیچے کرکے صلیب کا نشان بنایا اور دونوں نے بیک زبان کہا کہ وہ عیسائی ہیں۔’’پھر تم مدائن جا کر کیا کرو گے؟ ‘‘انہیں ایک بوڑھے نے کہا ۔’’تم تنومند ہو ۔تمہارے جسموں میں طاقت ہے ۔کیا تم اپنے آپ کو کنواری مریم کی آبرو پر قربان ہونے کے قابل نہیں سمجھتے؟کیا تمہارے لیے تمہارا پیٹ مقدس ہے؟‘‘’’نہیں!‘‘ ان میں سے ایک نے کہا۔’’ہمیں کچھ بتاؤ اور تم میں جو سب سے زیادہ سیانا ہے ہمیں اس سے ملاؤ۔ ہم کچھ بتانا چاہتے ہیں۔‘‘وہاں فارس کی فوج کا ایک پرانا کماندار موجود تھا۔ ان دونوں کو اس کے پاس لے گئے ۔’’سنا ہے تم کچھ بتانا چاہتے ہو؟‘‘کماندار نے کہا۔’’ہاں۔‘‘ایکنے کہا۔’’ہم اپنا راستہ چھوڑ کر ادھر آئے ہیں ۔سنا تھا کہ مسلمانوں کے خلاف ایک فوج تیار ہو رہی ہے۔‘‘’’ہاں ہو رہی ہے۔‘‘کماندار نے کہا۔’’ کیا تم اس فوج میں شامل ہونے آئے ہو؟‘‘’’عیسائی ہو کر ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم اس فوج میں شامل نہیں ہوں گے۔‘‘ان میں سے ایک نے کہا۔’’ہم کاظمہ سے تھوڑی دور کی ایک بستی کے رہنے والے عرب ہیں ۔ہم مسلمانوں کے ڈر سے بھاگ کر ادھر آئے ہیں۔ اب آگے نہیں جائیں گے۔تمہارے ساتھ رہیں گے۔ہم بتانا یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔لیکن سامنے وہ بہت تھوڑی تعداد کو لاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ تمہاری فوج ان سے شکست کھا جاتی ہے۔‘‘’’اسے زمین پر لکیریں ڈال کر سمجھاؤ۔‘‘اس کے دوسرے ساتھی نے اسے کہا۔پھر ایرانی کماندار سے کہا۔’’ہمیں معمولی دماغ کے آدمی نہ سمجھنا۔ہم تمہیں اچھی طرح سمجھا دیں گے کہ مسلمانوں کے لڑنے کا طریقہ کیاہے؟اور وہ اس وقت کہاں ہیں؟اور تم لوگ انہیں کہاں لا کر لڑاؤ تو انہیں شکست دے سکتے ہو۔ہم جو کچھ بتائیں یہ اپنے سالار کو بتا دینا۔‘‘ایک مشعل لاکر اس کا ڈنڈہ زمین میں گاڑھ دیا گیا۔یہ دونوں آدمی زمین پر بیٹھ کر انگلیوں سے لکیریں ڈالنے لگے ۔انہوں نے جنگی اصطلاحوں میں ایسا نقشہ پیش کیاکہ کماندار بہت متاثر ہوا۔’’اگر ہمیں پتا چل جائے کہ مدائن کی فوج کس طرف سے آ رہی ہے تو ہم تمہیں بہتر مشورہ دے سکتے ہیں۔‘‘ان میں سے ایک نے کہا۔’’اور کچھ خطروں سے بھی خبردار کر سکتے ہیں۔‘‘’’دو فوجیں مسلمانوں کو کچلنے کیلئے آ رہی ہیں ۔‘‘کماندار نے کہا۔’’ مسلمان ان کے آگے نہیں ٹھہر سکیں گے۔‘‘’’بشرطیکہ دونوں فوجیں مختلف سمتوں سے آئیں۔‘‘ایک اجنبی عیسائی نے کہا۔
’’وہ مختلف سمتوں سے آ رہی ہیں۔‘‘ کماندار نے کہا۔’’ایک فوج مدائن سے ہمارے بڑے ہی دلیر اور قابل سالار اندرزغر کی زیرِ کمان آ رہی ہے اور دوسری فوج ایسے ہی ایک نامور سالار بہمن جازویہ لا رہا ہے۔ دونوں دلجہ کے مقام پر اکھٹی ہوں گی۔ ان کے ساتھ بکر بن وائل کا پورا قبیلہ ہو گا ۔چند چھوٹے چھوٹے قبیلوں نے بھی اپنے آدمی دیئے ہیں۔‘‘’’تو پھر تمہارے سالاروں کو جنگی چالیں چلنے کی ضرورت نہیں۔‘‘دوسرے نے کہا ۔’’تمہاری فوج تو سیلاب کی مانند ہے۔ مسلمان تنکوں کی طرح بہہ جائیں گے۔ کیا تم ہم دونوں کو اپنے ساتھ رکھ سکتے ہو؟ہم نے تم میں خاص قسم کی ذہانت دیکھی ہے ۔تم سالار نہیں تو نائب سالار کے عہدے کے لائق ضرور ہو۔‘‘’’تم میرے ساتھ رہ سکتے ہو۔‘‘ کماندار نے کہا۔’’ہم اپنے گھوڑے لے آئیں؟‘‘ دونوں میں سے ایک نے کہا۔’’ہم تمہیں صبح یہیں ملیں گے۔‘‘’’صبح کوچ ہو رہا ہے۔‘‘کماندار نے کہا۔’’ان تمام لوگوں کو جو لڑنے کیلئے جا رہے ہیں ایک جگہ جمع کیاجا رہا ہے۔تم ان کے ساتھ آ جانا۔ میں تمہیں مل جاؤں گا۔‘‘دونوں بستی سے نکل گئے۔ انہوں نے اپنے گھوڑے بستی سے کچھ دور جا کر ایک درخت کے ساتھ باندھ دیئے اور بستی میں پیدل گئے تھے۔ بستی سے نکلتے ہی وہ دوڑپڑے اور اپنے گھوڑوں پر جا سوار ہوئے ۔’’کیا ہم صبح تک پہنچ سکیں گے بن آصف!‘‘ ایک نے دوسرے سے پوچھا۔’’خدا کی قسم! ہمیں پہنچنا پڑے گا خواہ اڑکر پہنچیں۔‘‘بن آصف نے کہا ۔’’یہ خبر ابنِ ولید تک بر وقت نہ پہنچی توہماری شکست لازمی ہے۔گھوڑے تھکے ہوئے نہیں۔اﷲکا نام لو اور ایڑھ لگا دو۔‘‘دونوں نے ایڑھ لگائی اور گھوڑے دوڑ پڑے۔’’اشعر !‘‘بن اآصف نے بلند آواز سے اپنے ساتھی سے کہا۔’’یہ تو طوفان ہے ۔اب آ تش پرستوں کو شکست دینا آسان نہیں ہو گا۔صرف بکر بن وائل کی تعداد دیکھ لو، کئی ہزار ہو گی۔‘‘’’میں نے اپنے سالار ابنِ ولید کو پریشانی کی حالت میں دیکھا تھا۔‘‘ اشعر نے کہا۔’’کیا تم اس کی پریشانی کو نہیں سمجھے اشعر؟‘‘بن آصف نے کہا۔’’ہم اتنے طاقتور دشمن کے پیٹ میں آ گئے ہیں۔‘‘
’’اﷲہمارے ساتھ ہے۔‘‘اشعر نے کہا۔’’آتش پرست اس زمین کیلئے لڑ رہے ہیں جو وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی ہے اور ہم اﷲ کی راہ میں لڑ رہے ہیں جس کی یہ زمین ہے۔‘‘یہ دونوں گھوڑ سوار خالدؓ کے اس جاسوسی نظا م کے بڑے ذہین آدمی تھے جو خالدؓ نے فارس کی سرحد کے اندر آ کر قائم کیا تھا۔انہیں احساس تھا کہ وہ مدینہ سے بہت دور اجنبی زمین پر آ گئے ہیں۔جہاں اﷲ کے سوا ان کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہے۔خالد ؓنے دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کیلئے ہر طرف اپنے ٓنکھیں بچھا رکھی تھیں۔
خالدؓ فجر کی نماز سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ ان کے خیمے کے قریب دو گھوڑے آ رکے۔سوار کود کر اترے۔ خالدؓ نماز با جماعت پڑھ کر آ رہے تھے ان سواروں کو دیکھ کران کے قریب جا رکے ۔گھوڑوں کا پسینہ اس طرح پھوٹ رہا تھا جیسے دریا میں سے گزر کر آئے ہوں۔ان کی سانسیں پھونکنی کی طرح چل رہی تھیں۔سواروں کی حالت گھوڑوں سے بھی بری تھی۔’’اشعر!‘‘خالد ؓنے کہا۔’’بن آصف ،کیا خبر لائے ہو؟‘‘’’اندر چلو، ذرا دم لے لو۔‘‘’’دم لینے کا وقت نہیں سالار!‘‘بن آصف نے خالدؓ کے پیچھے ان کے خیمے میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔’’آتش پرستوں کا سیلاب آ رہا ہے۔ہم نے یہ خبرعیسائیوں کی ایک بستی سے لی ہے ۔بکر بن وائل کی الگ فوج تیار ہو گئی ہے، یہ مدائن کی فوج کے ساتھ اندرزغر نام کے ایک سالار کی زیرِ کمان آ رہی ہے۔دوسری فوج بہمن جازویہ کی زیرِ کمان دوسری طرف سے آ رہی ہے۔‘‘’’کیا یہ فوجیں ہم پر مختلف سمتوں سے حملہ کریں گی؟‘‘خالدؓ نے پوچھا۔’’نہیں۔‘‘اشعر نے جواب دیا۔’’دونوں فوجیں دلجہ میں اکھٹا ہوں گی۔‘‘’’اور تم کہتے ہو کہ سیلاب کی طرح آگے بڑھیں گی ۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’کماندار نے یہی بتایا ہے۔‘‘بن آصف بولا۔ان دونوں کی رپورٹ ابھی مکمل ہوئی تھی کہ ایک شتر سوار خیمے کے باہر آ رکا اور اونٹ سے اتر کر بغیر اطلاع خیمے میں آ گیا ۔اس نے خالد ؓکو بتایا کہ فلاں سمت سے ایرانیوں کی ایک فوج بہمن جاذویہ کی قیادت میں آ رہی ہے۔یہ بھی ایک جاسوس تھا جو کسی بھیس میں اس طرف نکل گیا تھا۔جِدھر سے بہمن کی فوج آ رہی تھی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اندرزغر اور بہمن جاذویہ کو اس طرح کوچ کرنا تھا کہ دونوں کی فوجیں بیک وقت یا تھوڑے سے وقفے کے دلجہ پہنچتیں۔مگر ہوا یوں کے اندرزغر پہلے روانہ ہوگیا۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ وہ کسریٰ اردشیر کے قریب تھا ۔اس لئے اردشیر اس کے سر پر سوار تھا۔ بہمن دور تھا۔ اسے کوچ کا حکم قاصد کی زبانی پہنچا تھا وہ دو دن بعد روانہ ہوا۔کسی بھی مؤرخ نے اس فوج کی تعداد نہیں لکھی جو اندرزغر کے ساتھ تھی۔ بہمن کی فوج کی تعدادبھی تاریخ میں نہیں ملتی۔ صرف یہ ایک بڑا واضح اشارہ ملتا ہے کہ آتش پرستوں کی فوج جو مسلمانوں کے خلاف آ رہی تھی وہ واقعی سیلاب کی مانند تھی ۔اردشیر نے کہا تھا کہ وہ ایک اور شکست کا خطرہ نہیں مول لے گا۔چنانچہ اس نے اتنی زیادہ فوج بھیجی تھی جتنی اکھٹی ہو سکتی تھی۔
اندرزغر کی فوج کا تو شمار ہو بھی نہیں سکتا تھا۔ اپنی باقاعدہ فوج کے علاوہ اس نے بکر بن وائل کے معلوم نہیں کتنے ہزار عیسائی اپنی فوج میں شامل کر لیے تھے۔ ان میں پیادہ بھی تھے اور سوار بھی۔اس فوج میں مزید اضافہ کوچ کے دوران اس طرح ہوا کہ جنگِ دریا میں آتش پرستوں کے جو فوجی مسلمانوں سے شکست کھاکر بھاگے تھے وہ ابھی تک قدم گھسیٹتے مدائن کو جا رہے تھے ۔وہ صرف تھکن کے مارے ہوئے نہیں تھے ان پر مسلمانوں کی دہشت بھی طاری تھی۔پسپائی کے وقت مسلمانوں کے ہاتھوں ان کی فوج کا قتلِ عام ہوا تھا۔انہوں نے کشتیوں میں سوار ہوکر بھاگنے کی کوشش کی تھی۔اس لیے وہ خالدؓ کے مجاہدین کیلئے بڑا آسان شکار ہوئے تھے۔اس بھگدڑ میں جو کشتیوں میں سوار ہو گئے تھے ان پر مجاہدین نے تیروں کا مینہ برسا دیا تھا ۔ایسی کشتیوں میں جو سپاہی زندہ رہے تھے، ان کی ذہنی حالت بہت بری تھی۔ان کی کشتیوں میں ان کے ساتھی جسموں میں تیر لیے تڑپ تڑپ کر مر ہے تھے۔ اس طرح زندہ سپاہیوں نے لاشوں اور تڑپ تڑپ کر مرتے ساتھیوں کے ساتھ سفر کیا تھا،کشتیاں خون سے بھر گئی تھیں۔زندہ سپاہیوں کو کشتیاں کھینے کی بھی ہوش نہیں تھی،کشتیاں دریا کے بہاؤ کے ساتھ ساتھ خود ہی بہتی کہیں سے کہیں جا پہنچی تھیں،اور دور دور کنارے سے لگی تھیں اور زرتشت کے یہ پجاری بہت بری جسمانی اور ذہنی حالت میں مدائن کی طرف چل پڑے تھے۔وہ دو دو چار چار اور اس سے بھی زیادہ کی ٹولیوں میں جا رہے تھے۔ پرانی تحریروں سے پتا چلتا ہے کہ ان میں کئی ایک نے جب اندرزغر کی فوج کو آتے دیکھا تو بھاگ اٹھے۔وہ تیز دوڑ نہیں سکتے تھے۔ انہیں پکڑ لیا گیا اور فوج میں شامل کر لیا گیا۔کچھ تعداد ایسے سپاہیوں کی ملی جو دماغی توازن کھو بیٹھے تھے ان میں کچھ ایسے تھے جو بولتے ہی نہیں تھے ۔ان سے بات کرتے تھے تو وہ خالی خالی نگاہوں اور بے تاثر چہروں سے ہر کسی کو دیکھتے تھے ۔بعض بولنے کے بجائے چیخیں مارتے اور دوڑ پڑتے تھے۔’’پیشتر اس کے کہ یہ ساری فوج کیلئے خوف و ہراس کا سبب بن جائیں ۔انہیں فوج سے دور لے جا کر ختم کر دو۔‘‘ان کے سالار اندرزغر نے حکم دیا۔اس کے حکم کی تعمیل کی گئی۔مدائن کی یہ فوج تازہ دم تھی۔اس نے ابھی مسلمانوں کے ہاتھ نہیں دیکھے تھے لیکن دریا کے معرکے سے بچے ہوئے سپاہی جب راستے میں اس تازہ دم فوج میں شامل ہوئے تو ہلکے سے خوف کی ایک لہر ساری فوج میں پھیل گئی ۔شکست خوردہ سپاہیوں نے اپنے آپ کو بے قصور ثابت کرنے اور یہ ظاہر کرنے کیلئے کہ وہ بے جگری سے لڑے ہیں ،مسلمانوں کے متعلق اپنی فوج کو ایسی باتیں سنائیں جیسے مسلمانوں میں کوئی مافوق الفطرت طاقت ہو اور وہ جن بھوت ہوں۔خالدؓ کی جنگی قیادت کی یہ خوبی تھی کہ وہ دشمن کو جسمانی شکست ایسی دیتے تھے کہ دشمن پر نفسیاتی اثر بھی پڑتا تھا جوایک عرصے تک دشمن کے سپاہیوں پر باقی رہتا اور اسی دشمن کے ساتھ جب ایک اور معرکہ لڑاجاتا تو وہ نفسیاتی اثر خالد ؓکو بہت فائدہ دیتا تھا۔یہ اثر پیدا کرنے کیلئے خالدؓ دشمن کو پسپا کرنے پر ہی مطمئن نہیں ہو جاتے تھے بلکہ دشمن کا تعاقب کرتے اور اسے زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچاتے تھے۔

(جاری ھے)
جزاکم اللہ خیرا۔

No comments:

Post a Comment