Friday, 18 November 2016

طارق بن زیاد.

طارق بن زیاد.قسط نمبر.
از صادق حسین.
فریادی_________قیروان کے مسلمان نماز جمعہ کی تیاری میں ہمہ تن مصروف تھے-
قیروان براعظم افریقہ میں ایک نہایت مشہور شہر تھا-
اس شہر میں غربی مملکت اسلامیہ کے وائسرائے رہتے ان کا نام موسی بن نصیر تھا-
نہایت ہوشیار آزمودہ کار بہادر اور مدبر شخص تھے-
خلیفہ نے انہیں امیر افریقہ کا معزز خطاب عطا فرمایا تھا-
انہوں نے مغرب پر حملے کر کے کافی شہرت حاصل کر لی تھی-عیسائی دنیا ان سے خوب واقف تھی-
ان کا طرز حکومت نہایت اچھا تھا عدل و انصاف سے حکمرانی کرتے تھے-
ان سے نہ صرف مسلم رعایا بلکہ غیر مسلم رعایا بھی بہت خوش تھی-
ہم 93ہجری کے واقعات قلم بند کر رہے ہیں جس وقت ولید بن عبدالملک خلیفہ تھے-
ان کا دارالسلطنت دمشق میں تھا-
قیروان کو مسلمانوں نے آباد کیا تھا-
اس کی آبادی کے متعلق عیسائی مورخ ایک عجیب روایت بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ 60ہجری میں معاویہ بن فدیح افریقہ کے غربی فتوحات کرتے کرتے ایک خوش نما اور بہشت زار گھاٹی میں پہنچے.
وہ جگہ انہیں اتنی پسند آئی کہ وہاں شہر بسانے کا ارادہ کر لیا مگر مشکل یہ پیش آئی کہ تمام گھاٹی میں حشرات الارض چیتے تیندوے اور شیر ڈکارتے پھرتے اور سانپ اژدہے نیز اور بھی ہر قسم کے حشرات الارض تھے-
انسان کے ان دشمنوں کی وجہ سے وہاں بنی نوع کا آباد ہونا اور وہاں کوئی شہر بسانا غیر ممکن تھا لیکن معاویہ بن فدیح نے وہاں شہر آباد کرنے کا ارادہ کر لیا تھا اور اس ارادے کی تکمیل کے لیے وہ گھاٹی کے قریب ہی ٹھہر گئے-
ایک روز صبح کی نماز پڑھتے ہی گهنے درختوں کی قطاروں اور شاخوں کو چیرتے ہوئے گھاٹی میں جا پہنچے اور بلند آواز سے بولے-"
اے جانورو!اس سایہ دار مقام میں مسلمان آباد ہونا چاہتے ہیں-وہ مسلمان جو رسول خدا حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے اطاعت گزار اور اللہ کے فرمانبردار بندے ہیں-
تم اب اس مقام سے نکل جاؤ اور اب یہ تمہارا گھر نہیں رہا ہے-"
یہ کہہ کر وہ لوٹ گئے اور متواتر تین دن گھاٹی کے درمیان جا جا کر اسی طرح سے کہتے رہے-
تیسرے روز جانور وہاں سے نکل گئے اور گھاٹی ہر قسم کے درندوں اور حشرات الارض سے یکسر خالی ہو گئی"-
ایک وہ مسلمان تھے جن کا کہنا جانور تک مانتے تھے اور ایک ہم مسلمان ہیں ہمارا کہنا ہمارا نفس ہی نہیں مانتا
حقیقت یہی ہے کہ سچے مسلمان قرون اولیٰ کے لوگ ہی تھے جو ہر وقت اللہ سے ڈرتے رہتے تھے-
اس کی عبادت حضور قلب سے کرتے تهے اور اوامر نواہی کا خیال رکهتے تهے.
اللہ ان سے خوش تھا ان کی دعاؤں میں اثر تھا جو مانگتے تھے قبول ہوتی تھی جو آرزو کرتے اللہ پوری فرما دیتا تھا-
ہم مسلمان کہلاتے ہیں تو محض اس وجہ سے کہ مسلمانوں کی اولاد ہیں ورنہ ہمارے رنگ ڈھنگ مسلمانوں سے بالکل علیحدہ ہیں.
نماز ہم نہیں پڑھتے روزے ہم نہیں رکهتے حرام و حلال کو ہم نہیں سمجھتے، پھر ہم کس بات کے مسلمان ہیں اور کیوں اللہ ہم سے راضی ہو؟
گھاٹی کے خالی ہوتے ہی معاویہ بن فدیح نے شہر کی بنیاد ڈالی اور تھوڑے عرصے میں ایک عظیم الشان شہر آباد ہو گیا"'
دور دور سے تاجر و صناع اور پیشہ ور لوگ آ آ کر آباد ہونے لگے.
جب وائسرائے اس شہر میں آ کر رہنے لگا تو اس وقت سے اس کی رونق دن دگنی اور رات چوگنی بڑھنے لگی.
اسلامی حکومت تھی، اسلامی شہر تھا لہذا اسلامی احکام نافذ تھے-
جمعہ کے روز تمام بازار ساری دکانیں اور کاروبار بند ہوتے تھے-
ہر مسلمان اور مسلمانوں کا ہر بچہ نماز جمعہ کی تیاری صبح سے ہی شروع کر دیتا تھا-
عین اس شوق و شغف سے جیسے کہ آج کل کے زمانہ کے مسلمان عید کی نماز کی تیاری کرتے ہیں-
قیروان میں پانچ سو حمام تھے-
لوگ لوگ وہاں جا جا کر غسل کر رہے تھے اور کپڑے بدل بدل کر مسجد کی طرف جا رہے تھے-
آج اس لئے بھی لوگ جلدی پہنچنا چاہتے تھے کہ انہوں نے سنا تھا کہ سیوطا سے کچھ عیسائی فریاد لے کر آئے ہیں اور موسیٰ بن نصیر آج ان کی فریاد سنیں گے"-
زوال کے وقت سے پہلے ہی عالی شان مسجد لبریز ہو گئی اگرچہ مسجد اتنی بڑی تھی کہ پچاس ہزار آدمی اس میں آ سکتے تھے، لیکن اس وقت اتنے مسلمان آ چکے تھے کہ اتنی بڑی وسیع مسجد بھی تنگ ہو گئ تھی-
مینار پر چڑھ کر اذان دی گئی-
چونکہ یہ مسجد شہر کے بالکل وسط میں تھی اس لیے اذان کی آواز گھر گھر پہنچ گئی"-
تھوڑی دیر بعد موسیٰ بن نصیر معہ اپنے بڑے بیٹے عبدالعزیز کے آئے-
یہ کافی ضعیف تھے-
ان کی ڈاڑھی لمبی اور سفید تھی.
چہرہ نورانی پیشانی کشادہ اور آنکھیں بڑی بڑی خوش نما تھیں"
موسی نے خطبہ پڑھ کر نماز پڑھائی-
نماز کے بعد وہ مکبر آئے-
تمام لوگ خاموش ہو گئے-
سب سے پہلے انہوں نے اللہ کی تعریف اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی توصیف کی اور اس کے بعد فرمایا!
مسلمانو!
یہ ہم مسلمانوں پر اللہ کا احسان ہے کہ وہ قومیں جو اپنے آپ کو بہت معزز و باعظمت سمجھتی اور جانتی ہیں آج دربار خلافت پر فریادی آ رہی ہیں-
تمہارے پڑوس میں ایک قلعہ سیوطا ہے جو ایک صوبہ کا دارالسلطنت ہے،
وہاں کا گورنر جولین فریاد لے کر آیا ہے، اگرچہ ابھی یہ معلوم نہیں ہوا کہ وہ کیا کہے گا مگر میرا خیال ہے کہ وہ اندلس کے بادشاہ رازرق (راڈرک) کا ستایا ہوا ہے-
عیسائی بادشاہوں کی عیش پرستی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ رعایا کی جان و مال اور عزت و آبرو کو سخت خطرہ لاحق ہو گیا ہے-
میں نے کونٹ جولین کو بلایا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ تم سب خاموش اپنی اپنی جگہ بیٹھے رہو اور سنو وہ کیا کہتا ہے -"
موسی مکبر سے اتر کر نیچے ہی بیٹھ گیا اور انہوں نے اپنے سامنے اتنی جگہ خالی کرا لی کہ آٹھ دس آدمی بیٹھ سکیں-
یہ جس طرف سے گزرے لوگ ان کے لیے راستہ چھوڑتے چلے گئے-
اور موسیٰ کی طرف بڑھنے لگے-
ان میں ایک اڈهیر عمر شخص تھا-
اس کا رنگ سرخ ہو سفید تھا- قدرے ڈاڑھی بھی تھی.
نہایت بیش قیمت ریشمی لباس اور ہیرے جواہرات کے چند ہار بھی پہنے ہوئے تھے-
یہی کونٹ جولین تھا-
ایک بہت بوڑھا شخص لمبا جبہ پہنے ہوئے تھا جو ٹخنوں تک نیچا تھا-
کمر ریشم کے ڈور سے باندھے اور اونچی ٹوپی اوڑھے تھا-
اس کی ڈاڑھی ناف تک لمبی تھی، یہ اشببلیا کا راہب تھا-
باقی آدمی جولین کے ملازم تھے-
انہوں نے آتے ہی مسجد میں نظر ڈالی انہیں وہاں اس قدر مسلمان دیکھ کر حیرت ہوئی-
وہ بڑهہ کر موسی کے پاس پہنچے-
موسی ان کے استقبال کے لئے کھڑے ہو گئے-
کونٹ جولین وغیرہ نے انہیں سلام کیا انہوں نے سلام کا جواب دیے کر نہایت خندہ پیشانی سے ان کا استقبال کیا-
جب وہ اطمینان سے بیٹھ گئے تب موسیٰ نے پوچھا اب فرمائیے آپ کیا کہنا چاہتے ہیں"-
کونٹ جولین نے کہا میں مظلوم ہوں شاہ راڈرک نے میری عزت پر ہاتھ ڈالا ہے-
وہ ایسا ظالم و جابر بادشاہ ہے کہ اس سے اٹلی فرانس اور دوسرے ممالک کے بادشاہ تک خائف ہیں-
اس درندہ خصلت سے میرا انتقام کوئی نہیں لے سکتا اور جب تک میں انتقام نہ لے لوں اس وقت تک میرے سینے میں بھڑکنے والی آگ تهنڈی نہیں ہو گی-
موسی:لیکن اس نے آپ کی توہین کیا کی ہے؟
جولین: توہین؟
اس بد بخت اور ظالم نے میرے خاندانی ناموس کی دھجیاں اڑا دی ہیں-
اب اشببلیا کے راہب نے کہا-"
اس نے پاجیانہ حرکت کی ہے کہ جس پر تہزیب انسانیت شرافت اور مذہب سب ماتم کرتے رہ گئے ہیں-
موسیٰ:میں زرا تفصیل سے سننا چاہتا ہوں"-
راہب: میں بھی تفصیل ہی سے عرض کروں گا-
یہ تو آپ جانتے ہیں کہ اندلس کا بادشاہ راڈرک ہے-
موسیٰ: میں جانتا ہوں-
راہب: ایک عرصے سے اندلس میں یہ قانون ہے کہ ہر گورنر ہر والئ قلعہ یا والئ شہر ہر رئیس ہر رکن سلطنت اور مشیر کی اولاد دارالسلطنت میں بادشاہ اور بادشاہ کی بیگم کے محل میں ان کے ظل سایہ عاطفت سے بلوغت تک پرورش پاتے ہیں-"
طریقہ یہ ہے کہ لڑکے بادشاہ کے اور لڑکیاں ملکہ کے زیر نظر رہتی ہیں-
ان کی تعلیم و تربیت وہیں ہوتی ہے اور جب سن بلوغت کو پہنچ جاتے ہیں تب رخصت کر دئیے جاتے ہیں-
موسی : لیکن یہ نرالا قانون کس لیے ہے؟
راہب: اس لیے کہ تمام رئیسوں امیروں اور گورنروں کے بچے تہزیب اور شائستگی سیکھ لیں اور درباری نشست و برخاست کے آداب سے واقف ہو جائیں-
موسیٰ: میرا خیال ہے کہ یہ بات نہیں ہے-
راہب: آپ کے خیال میں کیا بات ہو سکتی ہے؟ "
موسی: بادشاہ اس لئے امیروں رئیسوں نیز سلطنتِ کے مشیروں کی اولادیں اپنے پاس رکھتے ہیں تاکہ ان میں سے کوئی بغاوت نہ کر سکیں-"
راہب: یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے حضور-
خیر یہ قاعدہ ہے نہ صرف قاعدہ بلکہ قانون اور اسی پر عمل درآمد ہوتا چلا آ رہا ہے-
کونٹ جولین کی ایک لڑکی ہے نہایت حسین و جمیل اور خوبرو اس کا نام فلورنڈا ہے-
وہ لڑکی عہد طفولیت سے ہی بادشاہ بیگم کے پاس تھی،
اب سن بلوغت کو پہنچ گئی ہے-
چونکہ وہ بہت خوبصورت ہے اس پر رازرق فریفتہ ہو گیا ہے اور اس نے جبراً اس کی عصمت ریزی کر ڈالی ہے-
یہ سن کر موسی کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا-
انہوں نے غیظ و غضب سے لہجے میں کہا اس قدر مظالم. ......"
راہب: جی ہاں! اس لڑکی نے اپنی مظلومیت کی داستان اپنے باپ کو لکھ بھیجی-
انہیں بڑا غصہ آیا مگر مصلحت سمجھ کر ضبط کر لیا اور بادشاہ کے پاس جا کر بہانہ بنایا کہ فلورنڈا کی ماں سخت بیمار ہے-
اس کے جانبر ہونے کی توقع نہیں ہے اور وہ ایک نظر اپنی بیٹی کو دیکھنا چاہتی ہے اور اس نے کہا کہ وہ اسے لے آئے-
آپ کو شاید یہ معلوم نہ ہو رازرق سے پہلے اندلس کا بادشاہ گاتهہ سے تھا اس طرح رازرق نے خاندان گاتهہ کی توہین کی ہے-
موسی:کیا عیسائیوں کو.

No comments:

Post a Comment