فاتح اندلس طارق بن زیاد.
از صادق تمیمی.
قسط نمبر 3.
عجیب خواب__________کو دیکھ اور اس کا خواب سن رہے تھے-
جب وہ خاموش ہوا تو موسی نے کہا! "
عجیب خواب دیکھا ہے تم نے-"
جولین نے کہا ہاں عجیب خواب ہے زرا ایک بات تو بتائیں؟ "
عبد العزیز؟ "
جولین کیا آپ کبھی اندلس گئے ہیں؟
عبد العزیز:کبھی نہیں گیا-
موسی:آپ نے یہ سوال کیوں کیا؟ "
جولین:اس لیے کہ انہوں نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ اندلس کی سر زمین کے متعلق ہے-"
موسی:کیا وہاں کے پہاڑ اور میدان سر سبز ہیں؟ "
جولین:جی ہاں حقیقت میں اندلس بہشت کا نمونہ ہے-
قدرت نے دنیا کے مختلف حصوں میں جو چیزیں پیدا کی ہیں وہ سب اندلس کو بخش دی ہیں-
وہ پھلوں کی بہتات اور آسمان کے صاف رہنے کے لحاظ سے ملک شام ہے-
آب و ہوا کی عمدگی کے خیال سے یمن یا عرب کا نخلستان ہے-
میوں کی کثرت کی وجہ سے اور تازگی کے اعتبار سے حجاز ہے
زرخیزی اور پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو کے انداز سے ہندوستان ہے-
بیش قیمت کانوں کے باعث کیٹے ہے-
نیز سمندر کے ساحلوں کی خوش قطع اور فائدہ رسانی کے میں عدن ہے-"
موسی:آپ نے تو اس کی بڑی تعریف کر ڈالی ہے-
جولین:وہ ملک ہی تعریف کے قابل ہے مگر آپ کے صاحبزادے نے جو خواب دیکھا ہے، اس نے مجھے ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے-
موسیٰ:کیوں؟ "
جولین: اس لیے کہ انہوں نے کبھی اندلس نہیں دیکھا مگر خواب میں اندلس پہنچ گئے جس بت کا انہوں نے بتایا ہے وہ مریڈا کے کھنڈرات میں ہے نہایت مشہور ہے-
اس کا نام" گلیشا" ہے دنیا بھر میں اتنا بڑا اور اچھا بت کہیں نہیں ہے-
موسی: اور وہ عورت؟
جولین: جس عورت کو انہوں نے خواب میں دیکھا وہ شاہ رازرق کی بیوی نائلہ ہے-
اس کا طوق دنیا بھر میں بے نظیر ہے اور وہ حسین بھی ایسی ہے کہ جیسا کہ انہوں نے بیان کیا ہے سارے اندلس میں وہ طوق والی حسینہ کے نام سے مشہور ہے-
موسی: تعجب ہے میرے بیٹے خواب میں اندلس ہو آئے ہیں-
عبد العزیز: کیا آپ مجھے بیداری میں اندلس جانے کی اجازت دیں گے؟
موسی: نہیں میں نے اس مہم کے لیے اور ہی بہادر کو منتخب کر لیا ہے-
عبد العزیز: نے مایوسی سے کہا اور وہ کون ہے؟
موسی: جب دربار خلافت سے اجازت آ جائے گی تو اس وقت تمہیں اور سب مسلمانوں کو معلوم ہو جائے گا-"
اس وقت ایک خادم نے آ کر اطلاع دی حضور قاصد دمشق سے واپس آ گیا ہے سب یہ خبر سن کر خوش ہو گئے-
موسی نے کہا جلدی سے اسے اندر بلاو-"
خادم واپس چلا گیا اور سب بے چینی سے اس کے آنے کا انتظار کرنے لگے-"
___________________________
روانگی_______جب قاصد کے آنے میں زرا دیر ہوئی تو ان لوگوں میں قیاس آرائیاں ہونے لگیں-
جولین نے کہا کیا آپ کے خیال میں اعلی حضرت خلیفہ المسلمین نے لشکر کشی کی اجازت دے دی ہو گی؟ "
موسی: میں صحیح طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ ایک مہم ہندوستان پر بھیجی جا رہی ہے اور وہ اشد ضروری ہے-
جولین: کیوں؟ .موسی: اس لئے کہ سندھ کے مغرور و متکبر راجہ نے چند مسلمانوں کو قید کر لیا ہے-
انہیں چھڑانے کے لیے ہندوستان پر لشکر کشی ضروری ہو گئی ہے-
جولین: آپ مسلمانوں میں بڑا اتفاق ہے و اتحاد ہے-
موسی: کیوں نہ ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے
کل مومن اخواہ
تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں-"
جب ایک بھائی پر مصیبت آئے تو یا اسے تکلیف ہو تو دوسرا بھائی اس سے متاثر نہ ہو گا؟ "
اور اگر مسلمان کسی مسلمان کو تکلیف اور پریشانی میں دیکھے گا تو اس کی مدد نہیں کرتا تو اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ و سلم دونوں ناخوش ہوتے ہیں-
یہی وجہ ہے کہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کی ہر ممکن امداد کرنے پر مجبور ہے اور اسی وجہ سے مسلمانوں میں یگانگت اور بھائی چارہ ہے-
جولین: ٹھیک فرما رہے ہیں آپ جو محبت جو خلوص اور جو پیار مسلمانوں میں ہے وہ تمام دنیا میں کہیں بھی کسی قوم میں نہیں.
اتنے میں قاصد اندر آ گیا-
اس نے بلند آواز میں کہا السلام علیکم و رحمۃ اللہ-"
موسی نے و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ کہہ کر اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا-
وہ ایک طرف بیٹھ گیا-
موسی نے دریافت کیا-"
کہو اعلی حضرت خلیفہ المسلمین بخیریت ہیں؟ "
قاصد: جی ہاں اللہ کے فضل و کرم سے.
موسی: اور دوسرے حکومت کے اکابرین ملت-
قاصد: سب خیریت سے ہیں اور سب نے سلام کہا ہے-
موسی: و علیکم السلام اور عام مسلمان؟
قاصد: وہ بھی اچھی طرح ہیں مگر ادنی مسلمانوں سے لے کر اعلی تک حتی کہ خلیفہ بھی ان مسلمانوں کی وجہ سے جنہیں ہندوستان کے مغرور راجہ داہر نے قید کر لیا ہے سخت پریشان اور بے قرار ہیں اور سب کی نگاہیں اس مہم پر لگی ہوئی ہیں جو کہ وہاں بھیجی جا رہی ہے-
موسی: اچھا میری عرض داشت کا جواب ملا؟
قاصد: جی ہاں-"
موسی: لاو !
قاصد نے خلیفہ کا مراسلہ نکال کر پیش کیا-
موسی نے لے کر اول اسے چوما اور پھر کهول کر پڑھا لکھا تھا:::
منجانب ولید بن عبدالملک خلیفہ المسلمین از دمشق بجانب موسیٰ بن نصیر وائسرائے بلاد مغرب:
السلام علیکم و رحمۃ بعد از حمد و صلوٰۃ کے قلمی ہے کہ اسلام اور مسلمان دنیا سے فسق و فجور بدکاری بد امنی کو دور کرنے آئے ہیں اگرچہ ہندوستان کی مہم در پیش ہے مگر اس مہم کی وجہ سے کونٹ جولین کی مدد سے باز نہیں رہ سکتے-
وہ مظلوم ہیں اور مظلوم کی حمایت کرنا مسلمان کا اولین فرض ہے-
ہم اس مہم کا کلی اختیار تم کو دیتے ہیں تم نہایت ہوشیاری سے اسے شروع کرو-
یہاں تجربہ کار لوگوں کو اندلس بھیجو اور کسی ایسے افسر کا انتخاب کرو جو اس مہم کے لیے مناسب اور موزوں ہو-
اول اول زیادہ لشکر بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے-
تھوڑا سا لشکر بھیجو ضرورت لاحق ہو تو کچھ اور لشکر بھیج دینا-
فقط والسلام و رحمۃ اللہ.
اس شاہی مراسلہ کو پڑھ کر اتنی مسرت موسی کو نہ ہوئی ہو گی جتنی یہ سن کر کونٹ جولین اور راہب کو ہوئی-"
راہب نے کہا کہیے اب تو دربار خلافت سے بھی اجازت مل گئی ہے اب کیا ارادہ ہے آپ کا؟ "
موسی: مجھے صرف اسی کا انتظار تھا خلیفہ نے میری عرض داشت منظور کر لی ہے اب کوئی رکاوٹ نہیں ہے پرسوں جمعہ کی نماز کے بعد ان شاءالله لشکر روانہ ہو جائے گا-"
ان راہب اور کونٹ جولین دونوں آداب کر کے اٹھ کر چلے.
موسی نے اسی روز سات ہزار آزمودہ کار اور شیر دل نوجوانوں کا انتخاب کر کے انہیں تیاری کا حکم دیا-
اندلس کی مہم پر جانے کے لیے ہزاروں آدمی تیار بیٹھے تھے-
سب کا خیال تھا کہ کم سے کم پندرہ بیس ہزار لشکر تو بھیجا ہی جائے گا مگر ان کی حیرت اور مایوسی کی کوئی حد نہ رہی، جب انہوں نے دیکھا کہ صرف سات ہزار لشکر بھیجا جانا منظور ہوا ہے جو منتخب ہو گئے انہوں نے خوش ہو کر تیاریاں شروع کر دیں اور منتخب نہ ہوئے وہ ان کی خدمت کرنے لگے-
صرف ایک ہی دن درمیان میں تھا-
آنکھ جھپکتے ہی وہ بھی گزر گیا اور جمعہ کا وہ روز سعید آ گیا جب اندلس پر جانے والا لشکر روانہ ہونے والا تھا-"
حسب معمول مسلمان غسل کر کے اور نئے کپڑے پہن کر مسجد کی طرف جانے لگے-
نماز کے وقت سے بہت پہلے مسجد پر ہو گئی-
وقت پر اذان ہوئی نماز ہوئی اور سنتوں وغیرہ سے فارغ ہو کر موسی مکبر پر آئے-
انہیں دیکھتے ہی سب لوگ اس قدر خاموش ہو گئے کہ سانس لینے کی آواز صاف طور پر سنائی دینے لگی:
موسی نے کہا: مسلمانو قابل تعریف وہی ذات ہے جس نے یہ دنیا بنائی ہے-
جسے ہم دیکھتے ہیں اور وہ عالم جو ہماری نظروں سے پوشیدہ ہے، وہ بنائے ہیں-
وہ خالق کل ہے اور قادر مطلق! نہ اسے نیند آتی ہے نہ تهکان محسوس ہوتی ہے، وہ اکیلا ہے، اس کی خدائی میں کوئی شریک نہیں ہے-
وہ ہمیشہ سے ہے اس وقت سے جب کوئی بھی نہ تھا اسی نے سب کچھ بنایا اور وہ ہمیشہ رہے گا، یعنی اس وقت بھی جب کہ تمام عالم ریزہ ریزہ ہو جائیں گے-
زمین پهٹ جائے گی اور آسمان ٹکرے ٹکڑے ہو جائے گا-
سیاروں کا وجود باقی نہ رہے گا وہی عبادت کے لائق ہے اور یہ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر و احسان ہے کہ ہم مسلمان اس کی عبادت کرتے ہیں-
یاد رکھو میں صرف مسلمان ہی توحید کے حامل اور مبلغ ہیں اور اب قیامت تک توحید مسلمانوں ہی میں رہے گی-
چونکہ اب کوئی نبی نہیں آئے گا، اس لیے یہی شریعت یہی قرآن شریف اور یہی مزہب توحید کا علمبردار رہے گا-
گزشتہ کتابوں یعنی توریت انجیل اور زبور وغیرہ میں بھی تحریفیں ہوتی رہیں-
انسان ان میں ردو بدل کرتے رہے-
قرآن مجید میں ایک نقطہ اور زیر زبر اور پیش کا بھی فرق نہیں آ سکے گا-
یہ اس لیے کہ اللہ نے خود اس کی حفاظت اپنے ذمہ لی ہے-
اللہ رب العزت قرآن شریف میں ارشاد فرماتا ہے:
ان نحن نزلنا الذکر و انا له لحفظون.
ترجمہ: بے شک ہم نے ہی اس قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں (سورۃ الحجر آیت نو)
خیال کرو اللہ سے زیادہ حفاظت کرنے والا کون ہے؟ یہی وجہ ہے کہ آج تک اس میں ایک نقطے کا فرق نہیں آیا اور نہ آئندہ آ سکتا ہے-
اس کے بعد قابل تعریف باعث تخلیق عالم فخر بنی آدم احمد مجتبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات گرامی ہے.
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہزاروں صعوبتیں، لاکھوں تکلیفیں برداشت کیں اور دنیا کے سامنے بے ڈهڑک ہو کر اللہ کا پیغام پہنچا دیا-
ہمیں فخر ہے کہ ہم اس رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی امت ہیں جو اللہ کا لاڈلا ہے-
فرشتوں کا حبیب ہے، دنیا والوں کا پیارا ہے-
ان پر درود سلام ایک بار نہیں ہزار بار نہیں لاکھوں بار ان گنت درود سلام-
اسلام کے بہادر فرزندو : دربار خلافت پر کونٹ جولین فریادی بن کر آئے ہیں-
اعلی حضرت خلیفہ المسلمین نے ان کی فریاد سن کر ان کی مدد کرنے کا وعدہ کر لیا ہے اور آج لشکر روانہ ہونے والا ہے جو اندلس سے بدکاری عیش پرستی بد امنی اور انسان پرستی مٹا دے گا-
دعا کرو کہ پروردگار عالم مجاہدین کو فتح عطا فرمائے-"
تمام مسلمانوں نے ہاتھ اٹھا کر نہایت خلوص اور سچے دل سے دعا مانگی-
اب موسی نے کہا:"
غالباً سب لوگوں کو اس بات کے معلوم کرنے کا اشتیاق ہو گا کہ اندلس جانے والے لشکر پر افسر یا سپہ سالار کس کو مقرر کیا جائے گا-
میرے پاس سینکڑوں درخواستیں تحریری اور زبانی آئی ہیں-
ہر شخص چاہتا ہے کہ اسے یہ اعزاز حاصل ہو-
اس میں میرا بیٹا عبد العزیز بھی ہے لیکن میں نے ایسے افسر کا انتخاب کیا ہے جو اس مہم کے لیے ہر طرح سے موزوں اور مناسب ہے-
وہ ایک بربری غلام ہے لیکن میں نے اسے آزاد کر دیا ہے-
اس کا نام طارق ہے"-
طارق بربر کا رہنے والا تھا- جب مسلمانوں نے بربر پر لشکر کشی کی تو وہ اپنے ملک کی حفاظت میں نہایت شجاعت و بسالت سے لڑا اور لڑتے لڑتے گرفتار ہو گیا،
چونکہ جو لوگ لڑائی میں گرفتار ہوتے ہیں وہ غلام بنا لئے جاتے ہیں، اس لیے طارق بھی غلام بن گیا اور موسی کے پاس رہنے لگا،
مسلمانوں کی ہم نشینی نے اسے مسلمان ہونے پر برانگنختہ کر دیا اور وہ مسلمان ہو گیا-
موسی نے اسے فورا آزاد کر کے مراکش کا گورنر بنا دیا-
دنیا کی کوئی قوم بھی ایسے ایثار ایسی مساوات کا مظاہرہ نہیں کرتی کہ ادنیٰ درجہ کے شخص کو جو اچھوت تھا مسلمان ہوتے ہی جلیل القدر عہدہ دے دیا گیا ہو-
ہندوستان میں تو اچھوتوں کی یہ حالت زار ہے کہ مجال نہیں وہ کسی مندر شوالہ اور دهارمک عمارت میں چلے جائیں-
اعلی ذات کے ہندو_______جاری ہے. اب تک اتنا ہی پوسٹ ہوا ہے

No comments:
Post a Comment