شمشیرِ بے نیام، حضرت خال بد ولید رضی اللہ عنہ
( قسط نمبر44
)
ــــــــــــــــــــــــــ
مئی ۶۳۳ء کے پہلے ہفتے جو ماہِ صفر ۱۲ ہجری کا تیسرا ہفتہ تھا زرتشت کے پجاریوں کیلئے دریائے فرات کا سر سبز و شاداب خطہ جہنم بن گیا تھا۔ کس قدر ناز تھا انہیں اپنی جنگی طاقت پر، اپنی شان و شوکت پر ،اپنے گھوڑوں اور ہاتھیوں پر، وہ تو فرعونوں کے ہم پلہ ہونے کا دعویٰ کرنے لگے تھے اور کسریٰ دہشت کی علامت بنتا جا رہا تھا ۔دجلہ اور فرات کے سنگم کے وسیع علاقے میں خالدؓ نے جنہیں رسولِ اکرمﷺ نے اﷲکی تلوار کا خطاب دیاتھا فارس کے زرتشتوں کو بہت بری شکستیں دی تھیں اور ان کے ہرمز قارن بن قریانس ،انوشجان اور قباذ جیسے سالاروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا لیکن کسریٰ اردشیر نے ابھی شکست تسلیم نہیں کی تھی۔اس کے پاس ابھی بے پناہ فوج موجود تھی اور مدینہ کے مجاہدین کو وہ اب بھی بدو اور صحرائی لٹیرے کہتا تھا ۔اس نے شکست تسلیم تو نہیں کی تھی لیکن شکست اور اپنے نام ور سالاروں کی مسلمانوں کے ہاتھوں موت کا جو اسے صدمہ ہوا تھا اسے وہ چھپا نہیں سکا تھا ۔ہرمز کی موت کی اطلاع پر وہ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر دہرا ہو گیا تھا ۔اس نے سنبھلنے کی بہت کوشش کی تھی لیکن ایسے مرض کا آغاز ہو چکا تھا جس نے اسے بستر پر گرا دیا تھا۔ مؤرخوں نے اس مرض کو صدمہ کا اثر لکھاہے۔’’کیا میرے لیے شکست اور پسپائی کے سوا اب کوئی خبر نہیں رہ گئی ؟‘‘اس نے بستر پہ اٹھ کر بیٹھتے ہوئے گرج کر کہا ۔’’کیا مدینہ کے مسلمان جنات ہیں؟کیا وہ کسی کو نظر نہیں آتے؟اور وار کر جاتے ہیں۔‘‘طبیب، اردشیر کی منظورِ نظر دوجواں سال بیویاں اور اس کا وزیر حیران و پریشان کھڑے اس قاصد کو گھور رہے تھے جو ایرانیوں کی فوج کی ایک اور شکست اور پسپائی کی خبر لایا تھا۔اس کے آنے کی جب اطلاع اندر آئی تو طبیب نے باہر جاکر قاصد سے پوچھا تھا کہ وہ کیا خبر لایا ہے؟ قاصد نے خبر سنائی تو طبیب نے اسے کہا تھا کہ وہ کسریٰ کو ابھی ایسی بری خبر نہ سنائے کیونکہ اس کی طبیعت اس کی متحمل نہیں ہو سکے گی۔لیکن یہ قاصد کوئی معمولی سپاہی نہیں تھا کہ وہ طبیب کا کہا مان جاتا ۔وہ پرانا کماندار تھا۔ اس کا عہدہ سالاری سے دو ہی درجہ کم تھا۔اسے کسی سالار نے نہیں بھیجا تھا ۔اسے بھیجنے کیلئے کوئی سالار زندہ نہیں بچا تھا۔طبیب کے روکنے سے وہ نہ رکا اس نے کہا کہ اسے کسریٰ کی صحت کا نہیں، فارس کی شہنشاہی اور زرتشت کی عظمت کا غم ہے۔اگر شہنشاہ اردشیرکو اس نے دجلہ اور فرات کی جنگی کیفیت کی پوری اطلاع نہ دی تو مسلمان مدائن کے دروازے پر آ دھمکیں گے ۔اس نے طبیب کی اور کوئی بات نہ سنی ،اندر چلا گیااور اردشیر کو بتایا کہ مسلمانوں نے فارس کی فوج کو بہت بری شکست دی ہے۔اردشیر لیٹاہوا تھا ،اٹھ بیٹھا ،غصے سے اس کے ہونٹ اور اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔’’شہنشاہِ فارس!‘‘ کماندار نے کہا۔’’مدینہ والے جنات نہیں ۔وہ سب کو نظر آتے ہیں لیکن……‘‘ ’’کیا قارن مر گیا تھا؟‘‘اردشیر نے غصے سے پوچھا۔’’ہاں شہنشاہ !‘‘کماندار نے جواب دیا۔’’وہ ذاتی مقابلے میں مارا گیاتھا۔اس نے دونوں فوجوں کی لڑائی تو دیکھی ہی نہیں۔‘‘’’مجھے اطلاع دی گئی تھی کہ قباذ اور انوشجان بھی اس کے ساتھ تھے۔‘‘’’وہ بھی قارن کے انجام کو پہنچ گئے تھے۔‘‘کماندار نے کہا۔’’وہ قارن کے قتل کا انتقام لینا چاہتے تھے ۔دونوں نے اکھٹے آگے بڑھ کر مدینہ کے سالاروں کو للکارا اور دونوں مارے گئے۔شہنشاہِ فارس! کیا فارس کی اس عظیم شہنشاہی کو اس انجام تک پہنچنا ہے؟نہیں نہیں……گستاخی کی معافی چاہتا ہوں، اگر کسریٰ نے صدمے سے اپنے آپ کو یوں روگ لگالیا تو کیا ہم زرتشت کی عظمت کو مدینہ کے بدوؤں سے بچا سکیں گے؟‘‘
’’تم کون ہو؟‘‘اردشیر نے پوچھا۔’’میں کماندار ہوں ۔‘‘کماندار نے جواب دیا۔’’میں کسی کا بھیجا ہوا قاصد نہیں ۔میں زرتشت کا جانثا ر ہوں۔‘‘’’دربان کو بلاؤ۔‘‘اردشیر نے حکم دیا۔’’تم نے مجھے نیا حوصلہ دیا ہے۔مجھے یہ بتاؤکیا مسلمانوں کی نفری زیادہ ہے؟کیا ان کے پاس گھوڑے زیادہ ہیں؟کیا ہے ان کے پاس؟‘‘دربان اندر آیااور حکم کے انتظار میں جھک کر دہرا ہو گیا۔’’سردار اندرزغر کو فوراًبلاؤ۔‘‘اردشیر نے دربان سے کہااور کماندار سے پوچھا ۔’’کیا ہے ان کے پاس؟ بیٹھ جاؤ اور مجھے بتاؤ۔‘‘’’ہمارے مقابلے میں ان کے پاس کچھ بھی نہیں۔‘‘کماندار نے جواب دیا۔’’ان میں لڑنے کا جذبہ ہے ۔میں نے ان کے نعرے سنے ہیں۔وہ نعروں میں اپنے خدا اور رسول )ﷺ(کو پکارتے ہیں ۔میں نے ان میں اپنے مذہب کا جنون دیکھا ہے۔ وہ اپنے عقیدے کے بہت پکے ہیں اور یہی ان کی طاقت ہے۔ہر میدان میں انکی تعداد تھوڑی ہے۔‘‘’’ٹھہر جاؤ۔‘‘اردشیر نے کہا۔’’اندرزغر آ رہا ہے۔مجھے اپنے اس سالار پر بھروسہ ہے۔ اسے بتاؤ کہ ہماری فوج میں کیا کمزوری ہے کہ اتنی زیادہ تعداد میں ہوتے ہوئے بھاگ آتی ہے۔‘‘’’اندرزغر!‘‘ اردشیر بستر پرنیم دراز تھا۔اپنے ایک اور نامور سالار سے کہنے لگا۔’’کیا تم نے سنا نہیں۔کہ قارن بن قریان بھی مارا گیا ہے۔قباذ بھی مارا گیا اور انوشجان بھی مارا گیا ہے۔‘‘اندرزغر کی آنکھیں ٹھہر گئیں جیسے حیرت نے اس پر سکتہ طاری کر دیا ہو۔’’اسے بتاؤ کماندار!‘‘ اردشیر نے کماندار سے کہا۔’’کیا میں ان حالات میں زندہ وہ سکوں گا؟
’’‘‘کماندار نے سالار اندرزغر کو تفصیل سے بتایا کہ مسلمانوں نے انہیں دریائے معقل کے کنارے کس طرح شکست دی ہے اور یہ بھی تفصیل سے بتایا کہ مدائن کی فوج کس طرح بھاگی ہے۔’’اندرزغر!‘‘اردشیر نے کہا۔’’ہم اب ایک اور شکست کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔مسلمانوں سے صرف شکست کا انتقام نہیں لینا ۔ان کی لاشیں فرات میں بہا دینی ہیں ۔یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ تم زیادہ سے زیادہ فوج لے کر جاؤ۔ تم اس علاقے سے واقف ہو۔ تم بہتر سمجھتے ہو کہ مسلمانوں کو کہاں گھسیٹ کر لڑانا چاہیے۔‘‘’’وہ ریگستان کے رہنے والے ہیں ۔‘‘اندرزغر نے کہا۔’’اور وہ ریگستان میں ہی لڑ سکتے ہیں۔میں انہیں سر سبز اور دلدلی علاقے میں آنے دوں گااور ان پر حملہ کروں گا۔میری نظر میں دلجہ موزوں علاقہ ہے۔‘‘اس نے کماندار سے پوچھا ۔’’ان کے گھوڑ سوار کیسے ہیں؟‘‘’’ان کے سوار دستے ہی ان کی اصل طاقت ہیں ۔‘‘کماندار نے کہا۔’’ان کے سوار بہت تیز اور ہوشیار ہیں۔دوڑتے گھوڑوں سے ان کے چلائے ہوئے تیر خطا نہیں جاتے ۔ان کے سواروں کا حملہ بہت ہی تیز ہوتا ہے۔وہ جم کر نہیں لڑتے۔ایک ہلہ بول کر اِدھر اُدھر ہو جاتے ہیں۔‘‘’’یہی وہ راز ہے جو ہمارے سالار نہیں سمجھ سکتے۔‘‘اندرزغر نے اپنی ران پر ہاتھ مار کر کہا۔’’مسلمان آمنے سامنے کی جنگ لڑ ہی نہیں سکتے ۔ہم ان سے کئی گنا زیادہ فوج لے جائیں گے۔ میں انہیں اپنی فوج کے نیم دائرے میں لے کر مجبور کر دوں گا کہ وہ اپنی جان بچانے کیلئے آمنے سامنے کی لڑائی لڑیں ۔‘‘’’اندرزغر!‘‘اردشیر نے کہا۔’’یہاں بیٹھ کر منصوبہ بنا لینا آسان ہے لیکن دشمن کے سامنے جا کر اس منصوبے پر اس کے مطابق عمل کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔اس کماندار نے ایک بات بتائی ہے اس پر غور کرو۔یہ کہتا ہے کہ مسلمان اپنے مذہب اور اپنے عقیدے کے وفادار ہیں اور وہ اپنے خدا اور اپنے رسول کا نام لے کر لڑتے ہیں۔کیا ہماری فوج میں اپنے مذہب کی وفاداری ہے؟‘‘
’’اتنی نہیں جتنی مسلمانوں میں ہے اور اس پر بھی غور کرو اندرزغر!مسلمان اپنے علاقے سے بہت دور آ گئے ہیں۔یہ ان کی کمزوری ہے۔ یہاں کے لوگ ان کے خلاف ہوں گے۔‘‘ ’’نہیں شہنشاہ!‘‘کماندار نے کہا۔’’فارس کے جن علاقوں پر مسلمانوں نے قبضہ کر لیا ہے، وہاں کے لوگ ان کے ساتھ ہو گئے ہیں۔ ان کا سلوک ایسا ہے کہ لوگ انہیں پسند کرنے لگتے ہیں۔وہ قتل صرف انہیں کرتے ہیں جن پر انہیں کچھ شک ہوتا ہے۔‘‘’’یہاں کے وہ عربی لوگ ان کے ساتھ نہیں ہو سکتے جو عیسائی ہیں۔‘‘اندرزغر نے کہا۔’’میرے دل میں ان لوگوں کی جو محبت ہے اسے وہ اچھی طرح جانتے ہیں ۔میں انہیں اپنی فوج میں شامل کروں گا۔ ہم یہاں کے مسلمانوں پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔ یہ ہمیشہ باغی رہے ہیں۔ان پر ہمیں کڑی نظر رکھنی پڑے گی ۔ان کی وفاداریاں مدینہ والوں کے ساتھ ہیں۔‘‘’’ان مسلمانوں کے ساتھ پہلے سے زیادہ برا سلوک کرو۔‘‘اردشیر نے کہا۔’’انہیں اٹھنے کے قابل نہ چھوڑو۔‘‘’’ہم نے انہیں مویشیوں کا درجہ دے رکھا ہے۔‘‘اندرزغر نے کہا۔’’انہیں بھوکا رکھا ہے۔ان کے کھیتوں سے ہم فصل اٹھا کر لے آتے ہیں اور انہیں صرف اتنا دیتے ہیں جس پر وہ صرف زندہ رہ سکتے ہیں۔لیکن وہ اسلام کا نام لینے سے باز نہیں آتے۔ بھوکے مر جانا پسند کرتے ہیں لیکن اپنا مذہب نہیں چھوڑتے۔‘‘’’یہی ان کی قوت ہے۔‘‘کماندار نے کہا۔’’ورنہ ایک آدمی دس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔کپڑوں میں ملبوس آدمی زرہ پوش کر قتل نہیں کر سکتا۔مسلمانوں نے یہ کر کے دکھا دیا ہے۔‘‘’’میں اس قوت کو کچل ڈالوں گا ۔‘‘اردشیر نے بلند آواز سے کہا۔’’اندرزغر ابھی ان مسلمانوں کو نہ چھیڑنا جو ہماری رعایا ہیں۔انہیں دھوکا دو کہ ہم انہیں چاہتے ہیں۔پہلے ان کا صفایا کرو جنہوں نے ہماری شہنشاہی میں قدم رکھنے کی جرات کی ہے۔اس کے بعد ہم ان کا صفایا کریں گے جو ہمارے سائے میں سانپوں کی طرح پل رہے ہیں۔‘‘اسی روز اردشیر نے اپنے وزیر اندرزغر اور اس کے ماتحت سالاروں کو بلایا اور انہیں کہا کہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ ہم مدینہ پر حملہ کرتے اور اسلام کا وہیں خاتمہ کر دیتے۔لیکن حملہ انہوں نے کر دیا ہے اور ہماری فوج ان کے آگے بھاگی بھاگی پھر رہی ہے۔’’صرف دو معرکوں میں ہمارے چار سالار مارے گئے ہیں۔‘‘ اردشیر نے کہا۔’’ان چاروں کو میں اپنی جنگی طاقت کے ستون سمجھتا تھا۔لیکن ان کے مر جانے سے کسریٰ کی طاقت نہیں مر گئی۔سب کان کھول کر سن لو جو سالار یا نائب سالار شکست کھا کر واپس آئے گا اسے میں جلاد کے حوالے کر دوں گا۔اس کیلئے یہی بہتر ہوگا کہ وہ اپنے آپ کو خود ہی ختم کر لے یا کسی اور طرف نکل جائے۔فارس کی سرحد میں قدم نہ رکھے۔‘‘
’’اندرزغر تم مدائن اور اردگرد سے جس قدر فوج لے جانا چاہو، لے جاؤ۔سالار بہمن کومیں نے پیغام بھیج دیا ہے کہ وہ اپنی تمام تر فوج کے ساتھ فرات کے کنارے دلجہ کے مقام پر پہنچ جائے۔تم اس سے جلدی دلجہ پہنچ جاؤ گے وہاں خیمہ زن ہو کر بہمن کا انتظار کرنا جونہی وہ آجائے دنوں مل کر مسلمانوں کو گھیرے میں لینے کی کوشش کرنا۔ان کا کوئی آدمی اور کوئی ایک جانور بھی زندہ نہ رہے۔ان کی تعداد تمہارے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ۔میں کوئی مسلمان قیدی نہیں دیکھنا چاہتا۔میں ان کی لاشیں دیکھنا چاہتا ہوں۔میں دیکھنے آؤں گا کہ ان کے گھوڑوں اور اونٹوں کے مردار ان کی لاشوں کے درمیان پڑے ہیں۔تمہیں زرتشت کے نام پر حلف اٹھانا ہوگا کہ فتح حاصل کرو گے یا موت۔‘‘’’اندرزغردونوں فوجوں کاسپہ سالار ہوگا۔اندرزغر تمہارے ذہن میں کوئی شک یا وسوسہ نہیں ہونا چاہیے۔یہ بھی سوچ لو کہ مسلمان اور آگے بڑھ آئے اور ہمیں ایک اور شکست ہوئی تورومی بھی ہم پر چڑھ دوڑیں گے۔‘‘’’شہنشاہِ فارس اب شکست کی آواز نہیں سنیں گے۔‘‘سالار اندرزغرنے کہا۔’’مجھے اجازت دیں کہ میں عیسائیوں کو اپنے ساتھ لے لوں اس سے میری فوج میں بے شمار اضافہ ہو سکتا ہے۔‘‘’’تم جو بہتر سمجھتے ہو وہ کرو۔‘‘اردشیر نے کہا۔’’لیکن میں وقت ضائع کرنے کی اجازت نہیں دوں گا۔اگر عیسائی تمہارے ساتھ وفا کرتے ہیں تو انہیں ساتھ لے لو۔‘‘یہ عراق کا علاقہ تھا ۔جہاں عیسائیوں کا ایک بہت بڑا قبیلہ بکر بن وائل آباد تھا۔یہ لوگ عرب کے رہنے والے تھے۔ اسلام پھیلتا چلا گیا اور یہ عیسائی جو اسلام قبول کرنے پر آمادہ نہیں تھے عراق کے اس علاقے میں اکھٹے ہوتے رہے اور یہیں آباد ہو گئے۔ان میں وہ بھی تھے جو کسی وقت ایرانیوں کے خلاف لڑے اور جنگی قیدی ہو گئے تھے۔ایرانیوں نے انہیں اس علاقے میں آباد ہونے کیلئے آزاد کر دیا تھا۔ان میں کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا ۔انہیں مثنیٰ بن حارثہ جیساقائد مل گیا تھا جس نے انہیں پکا مسلمان بنادیا تھا۔ مسلمانوں پر تو ایرانی بے پناہ ظلم و تشدد کرتے تھے لیکن عیسائیوں کے ساتھ ان کا رویہ کچھ بہتر تھا۔ مؤرخوں نے لکھا ہے زرتشتی سالار اندرزغر ہرمز کی طرح ظالم نہیں تھا۔مسلمانوں پر اگر وہ ظلم نہیں کرتا تھا تو انہیں اچھا بھی نہیں سمجھتا تھا ۔عیسائیوں کے سا تھ اس کا سلوک بہت اچھا تھا،اسے اب عیسائیوں کی مدد کی ضرورت محسوس ہوئی۔اس نے ان کے قبیلے بکر بن وائل کے بڑوں کو بلایا۔وہ اطلاع ملتے ہی دوڑے آئے۔’’اگر تم میں سے کسی کو میرے خلاف شکایت ہے تو مجھے بتاؤ۔‘‘اندرزغر نے کہا۔’’میں اس کا ازالہ کروں گا۔‘‘’’کیایہ بہتر نہیں ہوگا کہ سالار ہمیں فوراًبتا دے کہ ہمیں کیوں بلایا گیا ہے۔‘‘ایک بوڑھے نے کہا۔’’ہم آپ کی رعایا ہیں۔ہمیں شکایت ہوئی بھی تو نہیں کریں گے۔‘‘’’ہمیں کوئی شکایت نہیں۔‘‘ایک اور نے کہا۔’’آپ نے جو کہنا ہے وہ کہیں۔‘‘’’مسلمانبڑھے چلے آ رہے ہیں۔‘‘اندرزغر نے کہا۔’’شہنشاہَِ فارس کی فوج انہیں فرات میں ڈبو دے گی۔لیکن ہمیں تمہاری ضرورت ہے۔ ہمیں تمہارے جوان بیٹوں کی ضرورت ہے۔‘‘
’’اگر شہنشاہِ فارس کی فوج اسلامی فوج کو فرات میں ڈبو دے گی تو آپ کو ہمارے بیٹوں کی کیا ضرورت پیش آ گئی ہے؟‘‘وفد کے بڑوں میں سے ایک نے پوچھا۔’’ہم سن چکے ہیں کہ فارس کی فوج کے چار سالار مارے گئے ہیں۔ آپ ہم سے پوچھتے کیوں ہیں؟ہم آپ کی رعایا ہیں،ہمیں حکم دیں۔ہم سرکشی کی جرات نہیں کر سکتے۔‘‘’’میں کسی کو اپنے حکم کا پابند کرکے میدانِ جنگ میں نہیں لے جانا چاہتا۔‘‘ اندرزغر نے کہا۔’’ میں تمہیں تمہارے مذہب کے نام پر فوج میں شامل کرنا چاہتا ہوں ۔ہمیں زمین کے کسی خطے کیلئے نہیں اپنے مذہب اور اپنے عقیدوں کے تحفظ کیلئے لڑنا ہے۔ مسلمان صرف اس لئے فتح پر فتح حاصل کرتے چلے آ رہے ہیں کیونکہ وہ اپنے مذہب کی خاطر لڑ رہے ہیں۔ وہ جس علاقے کو فتح کرتے ہیں وہاں کے لوگوں کو اسلام قبول کرنے کیلئے کہتے ہیں ۔جو لوگ اسلام قبول نہیں کرتے ان سے مسلمان جذیہ وصول کرتے ہیں۔‘‘’’کیا یہ غلط ہے کہ تم میں وہ بھی ہیں جو اس لئے اپنے گھروں سے بھاگے تھے کہ وہ اسلام قبول نہیں کرنا چاہتے تھے؟ کیا تم پسند کرو گے کہ مسلمان آجائیں اور تمہاری عبادت گاہوں کے دروازے بند ہو جائیں؟کیا تم برداشت کر لو گے کہ مسلمان تمہاری بیٹیوں کو لونڈیاں بنا کر اپنے ساتھ لے جائیں ؟ذرا غور کرو تو سمجھو گے کہ ہمیں تمہاری نہیں بلکہ تمہیں ہماری مدد کی ضرورت ہے ۔ہم تمہیں ایک فوج دے رہے ہیں ۔اسے اور زیادہ طاقتور بناؤ اور اپنے مذہب کو ایک بے بنیاد مذہب سے بچاؤ۔‘‘اندرزغرنے عیسائیوں کو مسلمانوں کے خلاف ایسا مشتعل کیا کہ وہ اسی وقت واپس گئے اور )مؤرخوں کی تحریر کے مطابق (اپنے قبیلے کی ہر بستی میں جاکر اعلان کرنے لگے کہ مسلمانوں کا بہت بڑا لشکر قتل و غارت اور لوٹ مار کرتا چلا آ رہا ہے ۔وہ صرف اسی کوبخشتے ہیں جو ان کا مذہب قبول کر لیتا ہے۔ وہ جوان اور کم سن لڑکیوں کو اپنے ساتھ لے جائیں گے۔’’اپنی لڑکیوں کو چھپا لو۔‘‘’’مال ہ دولت زمین میں دبا دو۔‘‘’’عورتیں بچوں کو لے کر جنگلوں میں چلی جائیں۔
(جاری ھے)
جزاکم اللہ خیرا۔

No comments:
Post a Comment