Friday, 18 November 2016

طارق بن زیاد

فاتح اندلس طارق بن زیاد
از صادق حسین.
قسط نمبر 4.
بشارت____________چونکہ سمندر کا ساحل قیروان سے زرا فاصلے پر تھا-
اس لیے شہر کے تمام مسلمان تو رخصت کرنے کے لیے ساحل تک نہ آ سکے مگر پھر بھی پندرہ بیس ہزار آدمی ساحل تک آئے-
دور تک مسلمانوں کے عمامے اور چوڑے چوڑے سفید دامن ہوا میں لہراتے نظر آ رہے تھے-
یہ جو لشکر اندلس جا رہا تھا پیدل تھا، اس لیے کہ اتنے جہاز تیار نہ ہو سکے تھے جو کہ گھوڑوں کے لیے بھی کفایت کرتے-
بے سروسامانی کا یہ حال تھا کہ سب کے پاس زرہ بکتر بھی نہ تھیں نہ پورے ہتھیار-
پھر کل سات ہزار کی تعداد تھی مگر انہیں ان باتوں کا زرا بھی خیال نہ تھا-
سب سے آگے مجاہدین کے دستے تھے-
ان کے ایک طرف طارق تھے-
یہ نو عمر تھے مگر بہت بہادر اور جوشیلے تهے دوسری طرف مغیث الرومی تهے-
اڈهیڑ عمر کے تهے مگر جوش و خروش میں جوانوں کے برابر تھے-"
مجاہدین کے پیچھے ان کو رخصت کرنے والوں کے گروہ تھے جو دور دور تک پھیلے ہوئے تھے، جو لوگ رخصت کرنے آئے ان کے پاس قسم قسم کے میوے پھل ترکاریاں اور کھانے تهے اور وہ انہیں مجاہدین میں تقسیم کر رہے تھے-
ہر شخص یہ چاہتا تھا کہ مجاہدین اس کا ہدیہ قبول کر لیں تاکہ ثواب میں داخل ہو جائے-
مجاہدین بھی جو چیز ان کے سامنے پیش کی جاتی خوش دلی سے قبول کر لیتے اور ایک سوداگر تو اس قدر میوے اور پھل اپنے غلاموں کے سروں اور خچروں پر لاد لائے تھے کہ تقسیم کرنے کے باوجود بہت سارا بچ گیا-
چونکہ ساحل قریب آ گیا تھا اس لیے انہیں فکر ہوا اور انہوں نے موسٰی سے عرض کی کہ مجاہدین کو کچھ دیر کے لیے روک دیں تاکہ جو کچھ ان کے پاس رہ گیا ہے وہ بھی تقسیم کر دیں-"
موسی نے درخواست منظور کر لی-
لشکر روک دیا گیا اور سوداگر نے جلدی جلدی میوں کی جھولیاں بھر بھر کر مجاہدین میں بانٹنا شروع کر دیں-
راہب کونٹ جولین اور ان کے ساتھی مسلمانوں کی یہ خاطر مدارات دیکھ دیکھ کر حیران ہو رہے تھے-
راہب سے نہ رہا گیا-"
اس نے جولین سے کہا-"
آپ دیکھتے ہیں ان مسلمانوں کو؟ ہماری قوم میں ایک عزیز اپنے عزیز کی اس درجہ مدارات نہیں کرتا جیسی یہ لوگ محض ان کے مسلمان ہونے کی وجہ سے کر رہے ہیں-"موسی نے اس کی بات سن لی-
انہوں نے فرمایا مقدس بزرگ یہ مسلمان جو لڑائی پر جا رہے ہیں ہمارے بھائی ہیں-
نہیں کہا جا سکتا کہ ان میں سے کون واپس آئے گا اور کون شہید ہو جائے گا! !!
ہم اپنے جگر گوشوں کو اندلس بھیج رہے ہیں-
اس لئے چاہتے ہیں کہ اچھی سے اچھی اور پیاری سے پیاری چیزیں انہیں دے دیں-
ٹھیک اسی طرح سے کہ جیسے ایک مامتا کی ماری ماں اپنے لاڈلے بیٹے کو سفر میں جاتے وقت دیا کرتی ہے-"
جولین: حقیقت تو یہ ہے کہ جو خلوص و محبت مسلمانوں میں ہے وہ کسی اور قوم میں نہیں ہے-
دیکھئے انہیں رخصت کرنے کتنے آدمی آئے ہیں، کیسے کیسے تحفے لائے ہیں اور کیسی شفقت سے پیش آ رہے ہیں-
مجھے تو بڑا رشک آ رہا ہے-
کاش میری قوم کے لوگ بھی ایسے ہی ہوتے-"
موسی: جو لشکر آپ کے ساتھ جا رہا ہے وہ کسی چیز کا بھوکا نہیں ان میں سے بہت سے متمول اچھے خاصے گھرانوں کے افراد ہیں اور وہ ان لوگوں کی چیزیں اس لئے نہیں لے رہے کہ وہ انہیں پسند کرتے ہیں بلکہ اس لیے لے رہے ہیں کہ ان کی دل شکنی نہ ہو اور ان کو بھی ثواب ملے-"
لشکر اب ساحل پر پہنچ گیا تھا-
سامنے ہی چار جہاز لنگر ڈالے کھڑے تھے-
ان کے پاس چھوٹی چھوٹی کشتیاں سمندر میں تیر رہی تھیں-
ایک طرف کونٹ جولین کا جہاز کھڑا تھا وہ بہت چھوٹا تھا-
مسلمانوں کے جہاز اس سے کہیں بڑے تھے فوراً کشتیاں کنارے کی طرف آئیں-
ان میں سامان لادا گیا اور وہ جہاز پر اتار کر واپس لائی گئیں-
پھر مجاہدین رخصت کرنے والوں سے مل کر کشتیوں میں بیٹھے اور جہازوں کی طرف چلے-
مسلمانوں نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا-
تھوڑے تھوڑے کر کے تمام مجاہدین اسلام جہازوں پر پہنچ گئے-
آخر میں طارق اور مغیث الرومی گئے ان کے پہنچتے ہی کشتیاں آٹها لی گئیں-
اسلامی علم جہازوں پر لہرا دئیے گئے -
بادبان کھولے گئے اور لنگر اٹھا دیئے گئے-
جہازوں کے روانہ ہوتے ہی مجاہدین نے کنارے پر کھڑے مسلمانوں کو ہاتھ اٹھا کر سلام کئے اور انہوں نے بھی اشاروں سے ہی جواب دیا-
اس وقت تمام مسلمانوں کے دل بھر آئے اور انہوں نے ہاتھ اٹھا اٹھا کر دعائیں مانگیں-
جب تک جہاز نظر آتے رہے ساحل والے مسلمان دیکھتے رہے اور دعائیں مانگتے رہے-
جب سمندر نے جہازوں کو اپنے دامن میں لے کر ان کی نظروں سے اوجھل کر دیا تب وہ لوٹے اور قیروان کی طرف چل دئیے-
چونکہ سوار ہوتے ہوتے دیر ہو گئی تھی، اس لیے جہاز عصر کے وقت چلے-
مسلمانوں نے عصر کی نماز پڑھی اور جب دن چھپ گیا تو مغرب کی نماز ادا کی-
رات ہونے پر سمندر کا نیلگوں پانی سیہ نظر آنے لگا-
آسمان پر ستارے چمک رہے تھے-
چونکہ مسلمانوں کو رخصت کرنے والوں نے اس قدر تحائف دئیے تھے کہ ان کو الگ سے کھانا تیار کرنے کی ضرورت ہی نہ رہی-
تمام لوگ عشاء کی نماز پڑھ کر سو گئے-
رات گئے طارق کی آنکھ کھلی، وہ اٹھ کر بیٹھ گئے-
ان کا چہرہ دمک رہا تھا-
وہ بلند آواز درود شریف پڑھنے لگے-
مغیث الرومی بھی ان کے قریب ہی تهے، لہٰذا ان کی بھی آنکھ گئی-
وہ کلمہ پڑھ کر اٹھ بیٹھے اور اٹھتے ہی طارق کو سلام کر کے بولے-"
صبح ہو گئی ہے؟ "
طارق نے جواب دیا، نہیں ابھی نہیں ہوئی-"
مغیث الرومی: میں آپ کے اٹھنے اور درود شریف پڑھنے سے یہی سمجھا تھا-
طارق: میں نے انتہائی خوش کن خواب دیکھا ہے-
مغیث:کیا خواب دیکھا ہے؟
طارق: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زیارت ہوئی ہے-
مغیث:سبحان اللہ زہے نصیب!
طارق: حقیقت میں میں اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھنے لگا ہوں!
مغیث:جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا دیدار خواب میں ہو جائے اس سے زیادہ خوش قسمت کون ہو سکتا ہے!
طارق: یہی بات میں سو رہا تھا کہ میں نے ایک روشنی دیکھی-
نہایت ٹھنڈی اور بہت تیز، مگر آنکھوں کو ناگوار نہ معلوم ہوئی تھی-
میں حیران ہو کر دیکھ رہا تھا کہ عجیب روشنی کہاں سے آ رہی ہے-
جب میں نے آنکھ اٹھا کر دیکھا تو آسمان سے لمعات نور برس کر جہاز تک آ رہے تھے تھوڑی دیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے-آپ تبسم فرما رہے تھے میں نے بے اختیار آٹھ کر سلام کیا-
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے سلام کا جواب دے کر فرمایا-
طارق مبارک ہو اور اللہ ذوالجلال تم کو اس مہم میں فتح عطا فرمائیں گے-
اس بشارت کو سن کر میرا دل فرط مسرت سے سینے میں اچھلنے لگا اور فوراً ہی میری آنکھ کھل گئی-
آہ! کاش! تھوڑی دیر اور یہ منظر رہتا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے چہرہ انوار کی تھوڑی اور زیارت کرتا-
مغیث الرومی:جتنی زیارت مقدر میں تھی کر لی-
اللہ کا ہزار ہزار شکر و احسان ہے کہ اس نے اپنے پیارے حبیب کو بشارت دے کر بھیجا-
طارق: میں اپنی قسمت پر جس قدر بھی نازاں کروں کم ہے-"
مغیث الرومی: بے شک!
اسی اثنا میں صبح کی اذان ہوئی-
مسلمان آٹھ اٹھ کر نماز کے لیے جمع ہونے لگے.
پھر یہ دونوں بھی نماز پڑھنے کے لیے چلے گئے
_______________________
ایک اور مظلوم_____________
ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ سات ہزار لشکر چار جہازوں میں روانہ ہوا تھا-
ہر جہاز میں الگ الگ جماعت کے ساتھ نماز پڑھی جاتی تھی-
نماز سے فارغ ہو کر یہ لوگ جہازوں کے تختوں پر آئے-
وہ ابنائے جسے یہ لوگ عبور کر رہے تھے، صرف چودہ میل چوڑی تھی-
دراصل اندلس یا اسپین افریقہ کے براعظم سے ہم آغوش ہو کر یورپ کو ایشیا سے ملانا چاہتا تھا کہ ایک طرف سے بحیرہ روم اور دوسری طرف بحر ظلمات ایک دوسرے سے مصافحہ کرنے کے لیے بڑھے اور ایک چھوٹا سا آبنائے قائم کر کے یورپ اور ایشیا کو الگ الگ کر دیا-
اسی آبنائے کا زیادہ حصہ طے ہو چکا تھا اور بہت تھوڑا باقی رہ گیا تھا-
سامنے جزیرہ خضر جسے سبز جزیرہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، ملحقہ پہاڑیاں نظر آ رہی تھیں-
یہ ایسا سر سبز خطہ تھا کہ دور ہی سے لہلہاتا ہوا نظر آ رہا تھا-
مسلمانوں کو یہ مقام دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی-
طارق کے جہاز میں اس وقت کونٹ جولین آ گیا تھا-
اس نے طارق کے پاس آ کر کہا-"
مبارک ہو، آپ اندلس کی زرخیز اور سر سبز وادی کے قریب آ گئے ہیں-"
طارق نے اس سے دریافت کیا-"
یہ کون سا مقام کہلاتا ہے؟ "
جولین: یہ جزیرہ سبزہ مشہور جگہ ہے-
طارق: اور یہ پہاڑیاں اور اس کے ملحقہ دامن کیا کہلاتے ہیں؟ "
جولین: اس کا نام راک ہے، اسے قلعہ الاسد بھی کہتے ہیں-
طارق:کیا یہاں شیر زیادہ رہتے ہیں؟ "
جولین:یہ ایسا دل کش مقام ہے کہ یہاں ہر جانور اور انسان کا جی رہنے کو چاہتا ہے نیز شیر کثرت سے پائے جاتے ہیں-
اب جہازوں کا رخ قلع الاسد کی طرف ہی ہو گیا تھا اور ہر لمحہ ان کا جہاز جزیرہ خضر کے قریب ہوتے جا رہے تھے-
آفتاب نکل آیا تھا اور اس کی شعاعیں سمندر کے نیلگوں پانی پر رقص کر رہی تھیں-
صبح کا سہانا منظر تھا ہوا کے خوشگوار جھونکے چل رہے تھے-
جزیرہ خضر کے سبز زار پر آفتاب کی بنفشی شعاعیں عجیب دل کش منظر پیدا کر رہی تھیں-
مغیث الرومی نیز تمام مجاہدین اسلام کی نگاہیں اس طرف لگی ہوئی تھیں-
طارق نے کہا؛: کس قدر دل کش منظر ہے-"
جولین:اندلس کا چپہ چپہ دل کش ہے-:
اس میں چاندی کی کانیں اور دوسری چیزیں بھری پڑی ہیں-
ہم عیسائی واقف ہی نہیں کہ کس جگہ سے کیا چیز نکالی جا سکتی ہے-
طارق: اللہ کا شکر ہے کہ ہم بعافیت تمام اندلس کے کنارے پر آ گئے-
اب جہاز لائنز راک یا قلعہ الاسد کے قریب پہنچ گئے گئے تھے کہ آگے بڑھنا________جاری ہے.

No comments:

Post a Comment