شمشیرِ بے نیام، حضرت خال بد ولید رضی اللہ عنہ
( قسط نمبر46
)
ــــــــــــــــــــــــــ
خالدؓ کے جاسوسوں نے یہ اطلاع بھی انہیں دی کہ پچھلے معرکے کے بھاگے ہوئے سپاہی بھی مدائن سے آنے والی فوج میں شامل ہورہے ہیں۔ خالدؓ نے اپنے سالاروں کو بلایا اور انہیں نئی صورتِ حال سے آگاہ کیا ۔’’میرے عزیرساتھیو!‘‘خالدؓنے انہیں کہا۔’’ ہم یہاں صرف اﷲکے بھروسے پر لڑنے کیلئے آئے ہیں۔ جنگی نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے توہم فارس کی فوج سے ٹکر لینے کے قابل نہیں۔اپنے وطن سے ہم بہت دور نکل آئے ہیں ہمیں کمک نہیں مل سکتی۔ ہم واپس بھی نہیں جائیں گے ۔ہم فارسیوں کو اور کسریٰ کو نہیں آگ کے خداؤں کو شکست دینے کا عزم کیے ہوئے ہیں۔‘‘ ’’میں تم سب کے چہروں پر تھکن کے آثار دیکھ رہا ہوں۔ تمہاری آنکھیں بھی تھکی تھکی سی ہیں اور تمہاری باتوں میں بھی تھکن ہے لیکن ربِ کعبہ کی قسم !ہماری روحیں تھکی ہوئی نہیں۔ ہمیں اب روح کی طاقت سے لڑناہے ۔‘‘’’ایسی باتیں زبان پر نہ لا ابنِ ولید!‘‘ایک سالار عاصم بن عمرو نے کہا۔’’ ہمارے چہروں پر تھکن کے آثار ہیں مایوسی کے نہیں ۔‘‘’’ہمارے ارادوں میں کوئی تھکن نہیں ابنِ ولید۔‘‘دوسرے سالار عدی بن حاتم نے کہا۔’’ہم نے آرام کر لیا ہے ۔سپاہ نے بھی آرام کر لیا ہے۔‘‘’’میں اسی لیے یہاں خیمہ زن ہوگیاتھا کہ اﷲکے سپاہی آرام کر لیں۔‘‘ خالدؓ نے کہا ۔’’تمہارے ارادے تھکے ہوئے نہیں تو مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ میں دوسری باتیں کرنا چاہتا ہوں جو زیادہ ضروری ہیں۔تم نے دیکھا ہے کہ ہم نے فارسیوں کو پہلے معرکے میں شکست دی تو وہ پھر ہمارے سامنے آ گئے ۔ان کے ساتھ ان کے وہ سپاہی بھی آ گئے جو پہلے معرکے سے بھاگے تھے ۔اب مجھے پھر اطلاع ملی ہے کہ دوسرے معرکے سے بھاگے ہوئے سپاہی مدائن سے آنے والی فوج کے سا تھ راستے میں ملتے آ رہے ہیں۔ اب تمہیں یہ کوشش کرنی ہے کہ اگلے معرکے میں آتش پرستوں کا کوئی سپاہی زندہ نہ جا سکے ۔ہلاک کرو یا پکڑ لو۔ کسریٰ کی فوج کا نام و نشان مٹا دینا چاہتا ہوں۔‘‘’’ہمارا اﷲ یونہی کرے گا۔‘‘تین چار آوازیں سنائی دیں۔’’سب اﷲکے اختیار میں ہے ۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’ ہم اسی کی خوشنودی کیلئے گھروں سے اتنی دور آگئے ہیں ۔اب جو صورت ہمارے سامنے ہے اس پر سنجیدگی سے غور کرو۔یہ فیصلے جذبات سے نہیں کیے جا سکتے ہیں۔اس حقیقت کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے کہ فارسیوں کی جنگی طاقت اور تعداد جواب آ رہی ہے ،ہم اس کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ۔لیکن پسپائی کو دل سے نکال دو۔تازہ اطلاعوں کے مطابق مدائن کی فوج دجلہ عبور کر آئی ہے۔آج رات فرات کو بھی عبورکر لے گی،پھر وہ دلجہ پہنچ جائے گی،ان کی دوسری فوج بھی آ رہی ہے۔ہمارے جاسوس اس کا کوچ دیکھ رہے ہیں اور مجھے اطلاعیں دے رہے ہیں……‘‘’’خدائے ذوالجلال ہماری مدد کر رہا ہے ۔یہ اسی کی ذاتِ باری کا کرم ہے کہ فارس کی یہ دوسری فوج جو اک سالار بہمن جاذویہ کی زیرِ کمان آ رہی ہے۔اس کی رفتار تیز نہیں ۔وہ پڑاؤ زیادہ کر رہی ہے۔ہم اپنی قلیل نفری سے دونوں فوجوں سے ٹکر لے سکتے ہیں ۔میری عقل اگر صحیح کام کر رہی ہے تو میں یہی ایک بہتر طریقہ سمجھتا ہوں کہ مدائن کی فوج جو سالار اندرزغر کے ساتھ آ رہی ہے وہ دلجہ تک جلدی پہنچ جائے گی۔پیشتر اس کے کہ بہمن کی فوج بھی اس سے آ ملے،ہم اندرزغر پر حملہ کر دیں گے ،کیا میں نے بہتر سوچا ہے؟‘‘
’’اس سے بہتر اورکوئی فیصلہ نہیں ہو سکتا۔‘‘سالار عاصم نے کہا۔’’مجھے مدائن کی اس فوج میں ایک کمزوری نظر آرہی ہے۔اس فوج میں عیسائیوں کی فوج کے قبیلوں کے لوگ بھی ہیں جو لڑنا تو جانتے ہوں گے لیکن انہیں جنگ اور باقاعدہ معرکے کا تجربہ نہیں ۔میں انہیں ایک مسلح ہجوم کہوں گا ۔دشمن کی دوسری کمزوری وہ سپاہی ہیں جو پچھلے معرکے سے بھاگے ہوئے مدائن کی فوج کو راستے میں ملے تھے۔مجھے یقین ہے کہ وہ ڈرے ہوئے ہوں گے۔انہوں نے اپنے ہزاروں ساتھیوں کو تلواروں تیروں اور برچھیوں کا شکار ہوتے دیکھا ہے،پسپائی کی صورت میں وہ سب سے پہلے بھاگیں گے۔‘‘’’خدا کی قسم عمرو!‘‘خالدؓ نے پرجوش آواز میں کہا۔’’تجھ میں وہ عقل ہے جو ہر بات سمجھ لیتی ہے۔‘‘خالدؓ نے ان سب پر نگاہ دوڑائی جو وہاں موجود تھے۔انہوں نے کہا۔’’تم میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو اس بات کو نہ سمجھ سکاہو۔لیکن دشمن کے اس پہلو کو نہ بھولنا کہ اس کے پاس سازوسامان اور رسد اور کمک کی کمی نہیں۔صرف اندرزغر کی فوج ہماری فوج سے چھ گنا زیادہ ہے۔میں نے جو طریقہ سوچا ہے وہ موزوں اور موثر ضرور ہوگا لیکن آسان نہیں۔لڑنا سپاہ نے ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ ہم یہاں کیوں آئے ہیں۔پھر بھی انہیں اچھی طرح سے سمجھا دوکہ ہم واپس جانے کیلئے نہیں آئے اور ہم مدائن میں ہوں گے یا خدائے بزرگ و برتر کے حضور پہنچ جائیں گے۔‘‘دومؤرخوں طبری اور یاقوت نے لکھا ہے کہ یہ فہم و فراست کی جنگ تھی۔اگر تعداد اور سازوسامان اور دیگر جنگی احوال وکوائف کو دیکھا جاتا تو آتش پرستوں اور مسلمانوں کا کوئی مقابلہ ہی نہ تھا۔خالدؓ کا چہرہ اُترا ہوا تھا۔ان کی راتیں گہری سوچ میں گذر رہی تھیں۔خیمہ گاہ میں وہ چلتے چلتے رک جاتے اور گہری سوچ میں کھو جاتے۔انہیں زمین پر بیٹھ کر انگلی سے مٹی پر لکیریں ڈالتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔خالدؓ کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ وہ آتش پرستوں سے فیصلہ کن معرکہ لڑے بغیر واپس نہ آنے کا عہدکر چکے تھے۔انہوں نے حسبِ معمول اپنی فوج کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔پہلے کی طرح دائیں اور بائیں پہلوؤں پر سالارعاصم بن عمرو اور سالار عدی بن حاتم کو رکھا۔اپنے ساتھ انہوں نے صرف ڈیڑھ ہزار نفری رکھی جن میں پیدل تھے اور گھڑ سوار بھی۔اس تقسیم کے بعد انہوں نے کوچ کاحکم دیا ۔یہ حکم انہوں نے جاسوس کی اس اطلاع کے مطابق دیا کہ اندرزغر کی فوج دریائے فرات عبور کر رہی ہے۔خالد ؓنے اپنی رفتار ایسی رکھی کہ آتش پرست دلجہ میں جونہی پہنچیں ،وہ اس کے سامنے ہوں۔یہ جنگی فہم وفراست کا غیر معمولی مظاہرہ تھا۔ایسے ہی ہوا ،جیسے انہوں نے سوچاتھا۔اندرزغرکی فوج دلجہ پہنچی تو اسے خیمے گاڑنے کا حکم ملا کیونکہ اسے بہمن کی فوج کا انتظار کرناتھا۔فوج اتنے لمبے سفر کی تھکی ہوئی خیمے گاڑنے لگی اور اس کے ساتھ ہی شور بپا ہو گیا کہ بہمن جاذویہ کی فوج آ رہی ہے۔تما م سپاہ اس کے استقبال میں خوشی کا شوروغل مچانے لگی لیکن یہ شور اچانک خاموش ہو گیا۔’’یہ مدینہ کی فوج ہے۔‘‘کسی نے بلند آواز سے کہااور اس کے ساتھ یہ کئی آوازیں سنائی دیں۔’’دشمن آگیا ہے……تیار……ہوشیار۔‘
اندرزغر گھوڑے پر سوار آگے گیااور اچھی طرح دیکھا۔یہ خالدؓ کی فوج تھی اور جنگی ترتیب میں رہ کر پڑاؤ ڈال رہی تھی،یہ فوج خیمے نہیں گاڑ رہی تھی جس کا مطلب یہ تھا کہ مسلمان لڑائی کیلئے تیار ہیں۔’’سالارِ اعلیٰ!‘‘اندرزغرکو ایک سالار نے کہا۔’’ہماری دوسری فوج نہیں پہنچی۔معلوم ہوا ہے کہ وہ ابھی دور ہے۔ورنہ ہم ان مسلمانوں کو ابھی کچل ڈالتے۔یہ تیار ہیں اور ہماری سپاہ تھکی ہوئی ہے۔‘‘’’کیا تم نہیں دیکھ رہے کہ ان کی تعداد کتنی تھوڑی ہے۔‘‘اندرزغر نے کہا۔’’بمشکل دس ہزار ہوں گے۔میں انہیں چیونٹیوں سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتا۔ان کے گھوڑ سوار دستے کہاں ہیں؟‘‘’’کہاں ہو سکتے ہیں؟‘‘اس کے سالار نے کہا۔’’کھلا میدان ہے، جو کچھ ہے صاف نظر آ رہا ہے۔‘‘’’معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے سالاروں کو اور کمانداروں کو ایک ایک کے چھ چھ نظر آتے رہے ہیں۔‘‘اندرزغر نے کہا۔’’شکست کھا کر بھاگنے والوں نے مدائن میں بتایا تھا کہ مسلمانوں کا رسالہ بڑا زبردست ہے اور اس کے سوار لڑنے کے اتنے ماہر ہیں کہ کسی کے ہاتھ نہیں آتے……مجھے تو ان کارسالہ کہیں نظر نہیں آرہا۔‘‘’’ہمیں جھوٹی اطلاعیں دی گئی ہیں۔‘‘سالار نے کہا۔’’ہم بہمن کا انتظارنہیں کریں گے،اس کے آنے تک ہم ان مسلمانوں کو ختم کر چکے ہوں گے۔‘‘مؤرخوں نے لکھا ہے کہ مسلمانوں کے گھوڑ سوار وہاں نہیں تھے ۔وہی تھوڑے سے سوار تھے جو پیادوں کے ساتھ تھے یا خالد ؓکے ساتھ کچھ گھوڑ سوار محافظ تھے ۔آتش پرستوں کے حوصلے بڑھ گئے ۔اندرزغر کیلئے یہ فتح بڑی آسان تھی۔خالد ؓنے اتنی تھوڑی سی نفری کے ساتھ اتنے بڑے لشکر کے سامنے آکر غلطی کی تھی۔جس میدان میں دونوں فوجیں آمنے سامنے کھڑی تھیں وہ ہموار میدان تھا ۔اس کے دائیں اور بائیں دو بلند ٹیکریاں تھیں۔ ایک ٹیکری آگے جا کر مڑ گئی تھی۔ اس کے پیچھے ایک اور ٹیکری تھی۔ خالدؓ نے اپنی فوج کو جنگی ترتیب میں کر رکھا تھا ۔ادھر آتش پرست بھی جنگی ترتیب میں ہو گئے اور دونوں فوجوں کے سالار ایک دوسرے کا جائزہ لینے لگے۔خالدؓ نے دیکھا کہ آتش پرستوں کے پیچھے دریا تھا لیکن اندرزغرنے اپنی فوج کو دریا سے تقریباً ایک میل دور رکھا تھا۔آتش پرستوں کے پہلے سالاروں نے اپنا عقب دریا کے بہت قریب رکھا تھا تاکہ عقب محفوظ رہے۔لیکن اندرزغر نے اپنے عقب کی اتنی احتیاط نہ کی ۔اسے یقین تھا کہ یہ مٹھی بھر مسلمان اس کے عقب میں آنے کی جرات نہیں کریں گے۔’’زرتشت کے پجاریو!‘‘اندرزغر نے اپنی سپاہ سے خطاب کیا۔’’ یہ ہیں وہ مسلمان جن سے ہمارے ساتھیوں نے شکست کھائی ہے۔انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ لو، کیا ان سے شکست کھا کر تم ڈوب نہیں مرو گے۔کیا تم انہیں فوج کہو گے؟یہ ڈاکوؤں اور لٹیروں کا گروہ ہے۔ ان میں سے کوئی ایک بھی زندہ نہ جائے۔‘‘وہ دن یونہی گزر گیا۔سالار ایک دووسرے کی فوج کو دیکھتے اور اپنی اپنی فوج کی ترتیب سیدھی کرتے رہے۔اگلے روز خالدؓ نے اپنی فوج کو حملے کا حکم دے دیا۔فارس کی فوج تہہ در تہہ کھڑی تھی۔مسلمانوں کا حملہ تیز اور شدید تھا لیکن دشمن کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ مسلمانوں کوپیچھے ہٹنا پڑا۔ دشمن نے اپنی اگلی صف کو پیچھے کرکے تازہ دم سپاہیوں کو آگے کر دیا۔خالدؓ نے ایک اور حملے کیلئے اپنے چند ایک دستوں کو آگے بھیجا۔ گھمسان کا معرکہ رہا لیکن مسلمانوں کو پیچھے ہٹنا پڑا۔آتش پرستوں کی تعداد بھی زیادہ تھی اور وہ نیم زرہ پوش بھی تھے۔ مسلمانوں کو یوں محسوس ہوا جیسے وہ ایک دیوار سے ٹکرا کر واپس آ گئے ہوں ۔
خالدؓ نے کچھ دیر اور حملے جاری رکھے مگر مجاہدین تھکن محسوس کرنے لگے۔
ــــــــــــــــــــــــــ
متعدد مجاہدین زخمی ہو کر بیکار ہو گئے۔ خالدؓ نے اس خیال سے کہ ان کی فوج حوصلہ نہ ہار بیٹھے خود حملے کیلئے سپاہیوں کے ساتھ جانے لگے۔اس سے مسلمانوں کا جذبہ تو قائم رہا لیکن ان کے جسم شل ہو گئے۔ آتش پرست ان پر قہقہے لگا رہے تھے۔اس وقت تک مسلمانوں نے خالدؓ کی زیرِ کمان جتنی لڑائیاں لڑی تھیں ان میں یہ پہلی لڑائی تھی جس میں مسلمانوں میں اپنے سالارکے خلاف احتجاج کیا۔احتجاج دبا دبا ساتھا لیکن فوج میں بے اطمینانی صاف نظر آنے لگی۔ خالدؓ جیسے عظیم سالار کے خلاف سپاہیوں کی بے اطمینانی عجیب سی بات تھی۔وہ پوچھتے تھے کہ اپنا سوار دستہ کہاں ہے؟ وہ محسوس کر رہے تھے کہ خالدؓ اپنے مخصوص انداز سے نہیں لڑ رہے۔خالدؓ سپاہیوں کی طرح ہر حملے میں آگے جاتے تھے پھر بھی ان کے سپاہیوں کو کسی کمی کا احساس ہو رہا تھا۔دشمن کی اتنی زیادہ نفری دیکھ کر بھی مسلمانوں کے حوصلے ٹوٹتے جا رہے تھے۔ انہیں شکست نظر آنے لگی تھی۔آتش پرستوں نے ابھی ایک بھی ہلہ نہیں بولا تھا۔ اندرزغر مسلمانوں کو تھکا کر حملہ کرنا چاہتا تھا۔ مسلمان تھک چکے تھے ۔خالدؓاپنی فوج کی یہ کیفیت دیکھ رہے تھے اسی لیے انہوں نے حملے روک دیئے تھے ،وہ سوچ ہی رہے تھے کہ اب کیا چال چلیں کہ آتش پرستوں کی طرف سے ایک دیو ہیکل آدمی سامنے آیا اور اس نے مسلمانوں کو للکار کر کہاکہ جس میں میرے مقابلے کی ہمت ہے آگے آ جائے۔یہ ہزار مرد پہلوان اور تیغ زن تھا۔فارس میں ’’ہزار مرد‘‘ کا لقب اس جنگجو پہلوان کو دیا جاتا تھا جسے کوئی شکست نہیں دے سکتا تھا۔ ہزار مردکا مطلب تھا کہ یہ ایک آدمی ایک ہزار آدمیوں کے برابر ہے۔اندرزغر اس دیو کو آگے کرکے مسلمانوں کا تماشہ دیکھنا چاہتا تھا ۔مسلمانوں میں اس کے مقابلے میں اترنے والا کوئی نہ تھا۔ خالدؓ گھوڑے سے کود کر اترے تلوار نکالی اور ہزار مرد کے سامنے جا پہنچے۔ کچھ دیردونوں کی تلواریں ٹکراتی رہیں اور دونوں پینترے بدلتے رہے۔آتش پرست پہلوان مست بھینسالگتا تھا ۔اس میں اتنی طاقت تھی کہ اس کا ایک وار انسان کو دو حصوں میں کاٹ دیتا ۔خالد ؓنے یہ طریقہ اختیار کیا کہ وار کم کر دیئے اسے وار کرنے کا موقع دیتے رہے تاکہ وہ تھک جائے اس پر انہوں نے یہ ظاہر کیا جیسے وہ خود تھک کر چور ہو گئے ہوں۔
ایرانی پہلوان خالدؓ کو کمزور اور تھکا ہوا آدمی سمجھ کر ان کے ساتھ کھیلنے لگا۔کبھی تلوار گھماکر کبھی اوپر سے نیچے کو وار کرتا اور کبھی وار کرتا اور ہاتھ روک لیتا ۔وہ طنزیہ کلامی بھی کر رہا تھا۔ وہ اپنی طاقت کے گھمنڈ میں لاپرواہ سا ہو گیا۔ ایک بار اس نے تلوار یوں گھمائی جیسے خالدؓ کی گردن کاٹ دے گا۔ خالد ؓیہ وار اپنی تلوار پر روکنے کے بجائے تیزی سے پیچھے ہٹ گئے۔ پہلوان کا وار خالی گیا تو وہ گھوم گیا۔اس کا پہلو خالدؓ کے آگے ہو گیا۔خالدؓ اسی کے انتظا رمیں تھے انہوں نے نوک کی طرف سے پہلوان کے پہلو میں تلوار کا اس طرح وار کیا کہ برچھی کی طرح تلوار اس کے پہلو میں اتار دی۔وہ گرنے لگا تو خالدؓ نے اس کے پہلو سے تلوار کھینچ کر ایسا ہی ایک اور وار کیا،اور تلوار اس کے پہلو میں دور اندر تک لے گئے ۔طبری اور ابو یوسف نے لکھا ہے کہ پہلوان گرا اور مر گیا۔خالدؓ اس کے سینے پر بیٹھ گئے اور حکم دیا کہ انہیں کھانا دیا جائے۔ انہیں کھانا دیا گیا جو انہوں نے ہزار مرد کی لاش پر بیٹھ کر کھایا ۔اس انفرادی معرکے نے مسلمانوں کے حوصلے میں جان ڈال دی۔
آتش پرست سالار اندرزغر نے بھانپ لیا تھا کہ مسلمان تھک گئے ہیں چنانچہ اس نے حملے کا حکم دے دیا ۔اسے بجا طور پراپنی فتح کی پوری امید تھی ۔یہ آتش پرست سمندر کی موجوں کی طرح آئے، مسلمانوں کو اب کچلے جانا تھا۔ انہوں نے اپنی جانیں بچانے کیلئے بے جگری سے مقابلہ کیا ۔ایک ایک مسلمان کا مقابلہ دس دس بارہ بارہ آتش پرستوں سے تھا۔اب ہر مسلمان ذاتی جنگ لڑ رہا تھا اس کے باوجود انہوں نے ڈسپلن کا دامن نہ چھوڑا اور بھگدڑ نہ مچنے دی۔اس موقع پر بھی سپاہیوں کو خیال آیا کہ خالدؓ اپنے پہلوؤں کو اس طریقے سے کیوں نہیں استعمال کرتے جو ان کا مخصوص طریقہ تھا۔خالد ؓخود سپاہیوں کی طرح لڑ رہے تھے اور ان کے کپڑوں پر خون تھا۔جو ان کے کسی زخم سے نکل رہا تھا۔چونکہ ایرانیوں کی نفری زیادہ تھی اس لئے جانی نقصان انہی کا زیادہ ہو رہا تھا۔اندرزغر نے اپنے دستوں کو پیچھے ہٹالیا اور تازہ دم دستوں سے دوسرا حملہ کیا۔یہ حملہ زیادہ نفری کا تھا۔مسلمان ان میں نظر ہی نہیں آتے تھے اندرزغر کا یہ عہد پورا ہو رہا تھا کہ ایک بھی مسلمان کو زندہ نہیں جانے دیں گے۔اندرزغر نے مسلمانوں کا کام جلدی تمام کرنے کیلئے مزید دستوں کو ہلہ بولنے کا حکم دے دیا۔اب تو مسلمانوں کیلئے بھاگ نکلنا بھی ممکن نہ رہا۔وہ اب زخمی شیروں کی طرح لڑ رہے تھے۔ خالدؓ اس معرکے سے آگے نکل گئے تھے ،ان کا علمبردار ان کے ساتھ تھا۔انہوں نے علم اپنے ہاتھ میں لے کر اوپر کیا اور ایک بار دائیں اور ایک بار بائیں کیا پھر علم علمبردار کو دے دیا،یہ ایک اشارہ تھا ۔اس کے ساتھ ہی میدانِ جنگ کے پہلوؤں میں جو ٹیکریاں تھیں ان میں سے دو ہزار گھوڑ سوار نکلے ۔ان کے ہاتھوں میں برچھیاں تھیں جو انہوں نے آگے کر لیں، گھوڑے سر پڑ دوڑے آ رہے تھے۔ وہ ایک ترتیب میں ہو کر آتش پرستوں کے عقب میں آ گئے ۔جنگ کے شوروغل میں آتش پرستوں کو اس وقت پتا چلا کہ ان پر عقب سے حملہ ہو گیا ہے جب مسلمانوں کے گھوڑ سوار ان کے سر پر آ گئے۔یہ تھے مسلمان کے وہ سوار دستے جنہیں اندرزغر ڈھونڈ رہا تھا ۔خود خالدؓ کی سپاہ پوچھ رہی تھی کہ اپنے سواار دستے کہاں ہیں۔خالد ؓنے اپنی نفری کی کمی اور دشمن کی نفری کی افراط دیکھ کر یہ طریقہ اختیار کیا کہ رات کو تمام گھوڑ سواروں کو ٹیکری کے عقب میں اس ہدایت کے ساتھ بھیج دیا تھا کہ اپنی فوج کو بھی پتا نہ چل سکے۔ان کے علم کے دائیں بائیں ہلنے کا اشارہ مقرر کیا تھا گھوڑوں کو ایسی جگہ چھپایا گیا تھا جو دشمن سے ڈیڑھ میل کے لگ بھگ دور تھیں۔وہاں سے گھوڑوں کے ہنہنانے کی آواز دشمن تک نہیں پہنچ سکتی تھی ۔ایک روایت یہ بھی ہے کہ رات کو گھوڑوں کے منہ باندھ دیئے گئے تھے ان دو ہزار گھوڑ سواروں کے کماندار بُسر بن ابی رہم اور سعید بن مرّہ تھے۔ جب صبح لڑائی شروع ہوئی تھی تو ان دونوں کے کمانداروں نے گھوڑ سوار وں کو پابرکاب کر دیا تھا اور خود ایک ٹیکری پر کھڑے ہوکر اشارے کا انتظار کرتے رہے تھے۔آتش پرستوں پر عقب سے قیامت ٹوٹی ،توخالد ؓ نے اگلی چال چلی جو پہلے سے طے کی ہوئی تھی۔ پہلوؤں کے سالاروں عاصم بن عمرو اور عدی بن حاتم نے لڑتے ہوئے بھی اپنے آپ کو بچا کررکھا ہوا تھا انہیں معلوم تھا کہ کیا کرنا ہے۔جب گھوڑ سواروں نے دشمن پر عقب سے ہلہ بولا تو پہلوؤں کے ان دونوں سالاروں نے اپنے اپنے پہلو پھیلا کر آتش پرستوں کو گھیرے میں لے لیا۔دشمن کو دھوکا دینے کیلئے خالدؓنے اپنا محفوظہ)ریزرو( بھی معرکے میں پہلے ہی جھونک دیا تھا۔
آتش پرستوں کے فتح کے نعرے آ ہ وبکا میں تبدیل ہو گئے ۔مسلمان گھوڑ سواروں کی برچھیاں انہیں کاٹتی اور گراتی جا رہی تھیں۔دشمن میں بھگدڑ تو ان ہزاروں عیسائیوں نے مچائی جنہیں جنگ کا تجربہ نہیں تھا اور اس بھگدڑ میں اضافہ دشمن کے ان سپاہیوں نے کیا جو پہلے معرکوں سے بھاگے ہوئے تھے ۔وہ جانتے تھے کہ مسلمان کسی کو زندہ نہیں چھوڑیں گے ۔اب مسلمانوں کے نعرے گرج رہے تھے ۔جنگ کا پانسہ ایسا پلٹا کہ زرتشت کی آگ سرد ہو گئی ۔بعض مؤرخوں نے دلجہ کے معرکے کو دلجہ کا جہنم لکھا ہے۔ آتش پرستوں کیلئے یہ معرکہ جہنم سے کم نہ تھا۔اتنا بڑا لشکر ڈری ہوئی بھیڑ بکریوں کی صورت اختیار کر گیا۔ وہ بھاگ رہے تھے کٹ رہے تھے ۔گھوڑ ے تلے روندے جا رہے تھے۔ مؤرخوں نے لکھا ہے کہ اندرزغر زندہ بھاگ گیا لیکن مدائن کی طرف جانے کے بجائے اس نے صحرا کا رخ کیا ،اسے معلوم تھا کہ اگر وہ واپس گیا تو اردشیر اسے جلاد کے حوالے کر دے گا۔وہ صحرا میں بھٹکتا رہا اور بھٹک بھٹک کر مر گیا۔دوسرے آتش پرست سالار بہمن جاذویہ کی فوج ابھی تک دلجہ نہیں پہنچی تھی ۔مسلمانوں کو ایسا ہی ایک اور معرکہ لڑنا تھا ۔ آتش پرستوں کے دوسرے سالار بہمن جاذویہ کو بھی دلجہ پہنچنا تھا اور کسریٰ اردشیر کے مطابق اس کے لشکر کو اپنے ساتھی سالار اندرزغر کے لشکر کے ساتھ مل کر خالدؓ کے لشکر پر حملہ کرنا تھا مگر وہ دلجہ سے کئی میل دور تھااور اسے یقین تھا کہ وہ اور اندرزغر مسلمانوں کو تو کچل ہی دیں گے، جلدی کیا ہے ۔اس کا لشکر آخری پڑاؤ سے چلنے لگا تو چار پانچ سپاہی پڑاؤ میں داخل ہوئے ۔ان میں دو زخمی تھے اور جو زخمی نہیں تھے ان کی سانسیں پھولی ہوئی تھیں ۔تھکن اتنی کہ وہ قدم گھسیٹ رہے تھے ۔چہروں پر خوف اور شب بیداری کے تاثرات تھے اور ان تاثرات پر دھول کی تہہ چڑھی ہوئی تھی۔’’کون ہو تم؟‘‘ان سے پوچھا گیا۔’’کہاں سے آ رہے ہو؟‘‘
’’ہم سالار اندرزغر کے لشکر کے سپاہی ہیں۔‘‘ ان میں سے ایک نے تھکن اور خوف سے کانپتی ہوئی آواز میں کہا۔’’سب مارے گئے ہیں۔‘‘ دوسرے نے کہا۔’’ وہ انسان نہیں ہیں۔‘‘ ایک اور کراہتے ہوئے بولا۔’’ تم نہیں مانو گے ……تم یقین نہیں کرو گے دوستوں!‘‘ ’’یہ جھوٹ بولتے ہیں ۔‘‘جاذویہ کے لشکر کے ایک کماندار نے کہا۔’’ یہ بھگوڑے ہیں اور سب کو ڈرا کر بے قصور بن رہے ہیں ۔انہیں سالار کے پاس لے چلو ۔ہم ان کے سر قلم کر دیں گے۔ یہ بزدل ہیں۔‘‘ انہیں سالار بہمن جاذویہ کے سامنے لے گئے ۔’’تم کون سی لڑائی لڑ کر آرہے ہو؟‘‘جاذویہ نے کہا۔’’ لڑائی تو ابھی شروع ہی نہیں ہوئی ہے ۔میرا لشکر تو ابھی……‘‘
’’محترم سالار!‘‘ ایک نے کہا۔’’جس لڑائی میں آپ نے شامل ہونا تھا وہ ختم ہو چکی ہے ۔سالار اندرزغر لاپتا ہیں ،ہمارے تیغ زن پہلوان ہزار مرد مسلمانوں کے سالارکے ہاتھوں مارا گیا ہے۔ہم جیت رہے تھے ،مسلمانوں کے پاس گھوڑ سوار دستے تھے ہی نہیں تھے ۔ہمیں حکم ملا کہ عرب کے ان بدوؤں کو کاٹ دو ۔ان کی تعداد بہت تھوڑی تھی، ہم ان کے جسموں کی بوٹیاں بکھیرنے کیلئے نعرے لگاتے اور خوشی کی چیخیں بلند کرتے آگے بڑھے۔ جب ہم ان سے الجھ گئے تو ہمارے پیچھے سے نا جانے کتنے ہزار گھوڑ سوار ہم پر آ پڑے۔ پھر ہم میں سے کسی کو اپنا ہوش نہ رہا۔‘‘’’سالاراعلی مقام!‘‘زخمی سپاہی نے ہانپتے ہوئے کہا ۔’’سب سے پہلے ہمارا جھنڈا گرا۔ کوئی حکم دینے والا نہ رہا۔ہر طرف نفسا نفسی اور بھگدڑ تھی۔مجھے اپنوں کی صرف لاشیں لظر آتی تھیں۔‘‘’’میں کس طرح یقین کر لوں کہ اتنے بڑے لشکر کو اتنے چھوٹے لشکر نے شکست دی ہے ؟‘‘جاذویہ نے کہا۔اتنے میں اسے اطلاع دی گئی کہ چند اور سپاہی آ ئے ہیں ۔انہیں بھی اس کے سامنے کھڑا کر دیا گیا۔یہ تیرہ چودہ سپاہی تھے ۔ان کی حالت اتنی بری تھی کہ تین چار گر پڑنے کے انداز سے بیٹھ گئے۔’’تم مجھے ان میں سب سے زیادہ پرانے سپاہی نظر آتے ہو۔‘‘جاذویہ نے ایک ادھیڑ عمر سپاہی سے جس کا جسم توانا تھا ‘کہا۔’’کیا تم مجھے بتا سکتے ہو کہ میں نے جو سنا ہے یہ کہاں تک سچ ہے؟تم یہ بھی جانتے ہو گے کہ بزدلی کی ، میدانِ جنگ سے بھاگ آنے کی اور جھوٹ بولنے کی سزا کیا ہے؟‘‘’’اگر آپ نے یہ سنا ہے کہ سالار اندرزغر کی فوج مدینہ کی فوج کے ہاتھوں کٹ گئی ہے تو ایسا ہی سچ ہے جیسا آپ سالار ہیں اور میں سپاہی ہوں۔ ‘‘اس پرانے سپاہی نے کہا۔’’اور یہ ایسے ہی سچ ہے جیسے وہ آسمان پر سورج ہے اور ہم سب زمین پر کھڑے ہیں۔میں نے مسلمانوں کے خلاف یہ تیسری لڑائی لڑی ہے۔ ان کی نفری تینوں لڑائیوں میں کم تھی۔بہت کم تھی۔زرتشت کی قسم !میں جھوٹ بولوں تو یہ آگ مجھے جلا دے جس کی میں پوجا کرتا ہوں۔ ان کے پاس کوئی ایسی طاقت ہے جو نظر نہیں آتی ‘ان کی یہ طاقت اس وقت ہم پر حملہ کرتی ہے جب انہیں شکست ہونے لگتی ہے۔‘‘’’مجھے اس لڑائی کا بتاؤ۔‘‘ سالار بہمن جاذویہ نے کہا۔’’تمہارے لشکر کو شکست کس طرح ہوئی؟‘‘اس سپاہی نے پوری تفصیل سے سنایا کہ کس طرح مسلمان اچانک سامنے آ گئے اور انہوں نے حملہ کر دیا اور اس کے بعد یہ معرکہ کس طرح لڑا گیا۔
’’ان کی وہ جو طاقت ہے جس کا میں نے ذکر کیا ہے ۔‘‘سپاہی نے کہا۔’’ وہ گھوڑ سوار دستے کی صورت میں سامنے آئی۔اس دستے میں ہزاروںگھوڑے تھے ان کے حملے سے پہلے یہ گھوڑے کہیں نظر نہیں آئے تھے۔ اتنے ہزار گھوڑوں کو کہیں چھپایا نہیں جا سکتا۔ہمارے پیچھے دریا تھا‘ گھوڑے دریا کی طرف سے آئے اور ہمیں اس وقت پتا چلا جب مسلمان سواروں نے ہمیں کاٹنا اور گھوڑوں تلے روندنا شروع کر دیا تھا۔اعلی مقام! یہ ہے وہ طاقت جس کی میں بات کر رہا ہوں ۔‘‘’’تم میں ایمان کی طاقت ہے۔‘‘خالدؓ اپنے لشکر سے خطاب کر رہے تھے۔’’ یہ خدائے وحدہ لاشریک کا فرمان ہے کہ تم میں صرف بیس ایما ن والے ہوئے تو وہ دو سو کفار پر غالب آ ئیں گے۔‘‘ آتش پرستوں کا لشکر اور ان کے ساتھی عیسائی بھاگ کر دور نکل گئے تھے ۔ میدانِ جنگ میں لاشیں بکھری ہوئی تھیں اور ایک طرف مالِ غنیمت کا انبار لگا ہوا تھا۔خالدؓ اس انبار کے قریب اپنے گھوڑے پر سوار اپنی فوج سے خطاب کر رہے تھے۔ ’’خدا کی قسم!‘‘ خالدؓ کہہ ر ہے تھے ۔’’قرآن کا فرمان تم سب نے عملی صورت میں دیکھ لیا ہے ۔کیا تم آ تش پرستوں کے لشکر کو دیکھ کر گھبرا نہیں گئے تھے؟آنے والی نسلیں کہیں گی کہ یہ کمال خالد بن ولید کا تھا کہ اس نے اپنے سواروں کو چھپا کر رکھا ہوا تھا اور انہیں اس وقت استعمال کیا جب دشمن مسلمانوں کو کاٹنے اور کچلنے کیلئے آگے بڑھ آیا تھا لیکن میں کہتا ہوں کہ یہ کرشمہ ایمان کی قوت کا تھا۔ خدا ان کے ساتھ ہوتا ہے جو اس کے رسولﷺکی ذات پر ایمان لاتے ہیں۔میرے دوستو !ہمیں اور آگے جانا ہے ۔یہ آتش پرستوں کی نہیں اﷲکی سرزمین ہے اور ہمیں زمین کے آخری سرے تک اﷲکا پیغام پہنچانا ہے۔‘‘
(جاری ھے)
جزاکم اللہ خیرا۔

No comments:
Post a Comment