صلاحُ الدین ایوبیؒ کے دور کےحقیقی واقعات کا سلسلہ
داستان ایمان فروشوں کی
قسط نمبر.32۔" کھنڈروں کی آواز "
ــــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــــــــــــ ـ
سازش اور غداری کے مجرموں کا خون قاہرہ کی ریت نے ابھی اپنے اندر جذب نہیں کیا تھا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کا بھائی تقی الدین اُس کے بلاوے پر دو سو منتخب سواروں کے ساتھ قاہرہ پہنچ گیا۔ سازش کے مجرموں کو گردنیں کاٹی جا چکی تھیں اور یوں نظر آتا تھا جیسے قاہرہ کی ریت ان مرے ہوئے مسلمانوں کا خون اپنے اندر جذب کرنے سے گزیز کر رہی ہے جو صلیبیوں کے ساتھ مل کر سلطنت اسلامیہ کے پرچم کو سرنگوں کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس سب کی لاشیں دیکھیں۔ ان کے کٹے ہوئے سر ان کے بے جان جسموں کے سینوں پر رکھ دئیے گئے تھے۔ صرف ایک لاش تھی جو سب سے بڑے غدار کی تھی اور جس پر سلطان صلاح الدین ایوبی کو کلی طور پر اعتماد تھا۔ اس لاش کا سر اس کے ساتھ ہی تھا۔ ایک تیر اُس کی شہہ رگ میں داخل ہو کر دوسری طرف نکل ہوا تھا۔ یہ قاہرہ کا نائب مصلح الدین تھا۔ فوج کے سامنے جب اس کاجرم سنایا جا رہا تھا تو ایک جوشیلے اور محب اسلام سپاہی نے کمان میں تیر ڈال کر مصلح الدین کی شہہ رگ سے پار کردیا تھا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے سپاہی کی اس غیر قانونی حرکت کو ڈسپلن کے خلاف تھی، صرف اس لیے نظر انداز کرکے معاف کر دیا تھا کہ کوئی بھی صاحب ایمان اسلام کے خلاف غداری برداشت نہیں کرسکتا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے ہی اپنی فوج میں ایمان کی یہ قوت پیدا کی تھی۔
ان لاشوں کو دیکھ کر سلطان ایوبی کے چہرے پر ایسی خوشی کی ہلکی سی بھی جھلک نہیں تھی کہ اُس کی صفوں اور نظام حکومت میں سے اتنے زیادہ غدار اور سازشی پکڑے گئے اور انہیں سزائے موت دے دی گئی ہے۔ اُس کے چہرے پر اُداسی اور آنکھیں گہری سرخ تھیں ، جیسے وہ آ نسو روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔ غصہ تو تھا ہی جس کا اظہار اس نے ان الفاظ میں کیا …… ''ان میں سے کسی کا جنازہ نہیں پڑھایا جائے گا۔ ان کی لاشیں ان کے رشتہ داروں کو نہیں دی جائیں گی، تا کہ انہیں کفن بھی نہ پہنائے جائیں۔ رات کے اندھیرے میں انہیں ایک ہی گہرے گڑھے میں پھینک کر مٹی ڈال دو اور زمین ہموار کر دو۔ اس دُنیا میں ان کانشان بنی باقی نہ رہے''۔
''امیر محترم !'' …… سلطان صلاح الدین ایوبی کے ایک رفیق اور معتمد خاص بہائوالدین شداد نے سلطان صلاح الدین ایوبی سے کہا …… ''کوتوال اور شاہدوں کے بیان اور قاضی کا فیصلہ تحریر میں لاکردستاویز میں محفوظ کرلینا ضروری ہیں ، تاکہ یہ اعتراض نہ رہے کہ یہ فیصلہ صرف ایک فرد کا تھا۔ آپ کا فیصلہ برحق ہے۔ انصاف کر دیا گیا ہے، مگر قانون کا تقاضا کچھ اورہے''۔
''کیا قرآن نے یہ حکم دیا ہے کہ دینِ الٰہی کی جڑیں کفار کے ساتھ مل کر کاٹنے والے کو یہ حق دیا جائے کہ وہ قانون کے سامنے کھڑے کھڑا ہو کردین داروں سے اللہ و رسول ۖ کی عظمت کے پاسبانوں کو جھوٹا ثابت کرے '' …… سلطان صلاح الدین ایوبی نے ایسے تحمل سے کہا جس میں ایک دین دار مسلمان کا عتاب صاب جھلک رہا
تھا۔ اُس نے ان تمام حاکموں کو جو وہاں موجود تھے ، مخاطب ہو کرکہا …… ''اگر میں نے بے انصافی کی ہے تو مجھے اتنے زیادہ انسانوں کے قتل کے جرم میں سزائے موت دے دو اور میری لاش شہر سے دُور پھینک دو، جہاں صحرائی لومڑیاں اور گدھ میری کوئی ہڈی بھی اس زمین پر نہ رہنے دیں، لیکن میرے رفیقو! مجھے سزا دینے سے پہلے قرآن پاک الف لام میم سے والناس پڑھ لینا، اگر قرآن مجھے سزا دیتا ہے تو میری گردن حاضر ہے''۔
''بے انصافی نہیں ہوئی سالار اعظم؟''…… کسی اور نے کہا …… ''قاضی شداد کا مقصد یہ ہے کہ قانون کی بے حرمتی نہ ہو''۔
''میں سمجھ گیا ہوں''…… سلطان ایوبی نے کہا …… ''ان کا مقصد آئینے کی طرح صاف ہے۔ میں آپ سب کو صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ حاکم وقت ذاتی طور پرجانتا ہے کہ جسے غداری کے جرم میں سامنے لایاگیا ہے، وہ غداری کا مجرم ہے تو حاکم وقت پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ شہادتوں اور قانون کے دیگر جھمیلوں میں پڑے بغیر غدار کو وہیں سزا دے ، جس کا وہ حق دار ہے، اگر وہ سزادینے سے گریز کرتا، ڈرتا ، ہچکچاتا ہے تو وہ حاکم وقت خود بھی غدار ہے یا کم از کم نا اہل اور بے ایمان ضرورہے۔ وہ ڈرتا ہے کہ قاصی کے سامنے جاکر مجرم اُسے بھی مجرم کہہ دیں گے۔ میرا سینہ صاف ہے۔ مجھے غداروں کی صف میں کھڑا کردو۔ خدا کا ہاتھ مجھے اُس سے الگ کردے گا۔ اگر تمہارے سینے ربِ کعبہ کے نور سے منور ہیں تومجرموں کا سامنا کرنے سے مت ڈرو۔ تا ہم میرے عزیز دوست بہائو الدین شداد نے جو مشورہ دیا ہے اس پرعمل کرو۔ کاغذات تیارکرکے محترم قاضی سے فیصلہ تحریر کرالو۔ ظاہر ہے کہ یہ فیصلہ ان کا نہیں ہوگا۔ تحریر کر دیا جائے کہ امیر مصر جو افواجِ مصرکا سالار اعلیٰ بھی ہے، نے اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ان مجرموں کو سزائے موت دی ہے، جن کا جرم بلاشک و شبہہ ثابت ہوگیا تھا''۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے اپنے بھائی تقی الدین کی طرف دیکھا۔ وہ بڑے لمبے سفر سے آیاتھا، تھکا ہوا تھا۔ سلطا ن ایوبی نے اسے کہا …… ''میں تمہارے چہرے پر تفکر اور تھکن دیکھ رہاہوں ، لیکن تم آرام نہیں کر سکو گے۔ تمہارا سفر ختم نہیں ہوا، بلکہ شروع ہوا ہے۔ مجھے شوبک جلدی جاتا ہے تمہارے ساتھ کچھ ضروری باتیں کرکے چلا جائوںگا''۔
''جانے سے پہلے ایک حکم اور صادر فرماجائیے'' …… ناظم شہر نے کہا …… ''جنہیں سزائے موت دی گئی ہے، ان کی بیوائوں اور بچوں کا کیا بنے گا''۔
''ان کے لیے بھی میرے اسی حکم پر عمل کرو جو میں ان سے پہلے غداروں کے اہل و عیال کے متعلق دے چکا ہوں ''…… سلطان ایوبی نے کہا …… ''بیوائوں کے متعلق یہ چھن بین کرلو کہ اپنے خاوند وں کی طرح اُن میں سے کسی کا تعلق دشمن کے ساتھ نہ ہو۔ ہمارے زَن پرستی نے بھی غدار پیدا کیے ہیں۔ آپ نے دیکھ لیا ہے کہ صلیبیوں نے ہمارے بھائیوں کو خوبصورت لڑکیاںدے کر ان کے عوص ان کا ایمان خریدا ہے۔ ان میں سے جو بیوائیں نیک اورمومن ہیں ، ان کی شادیاں ان کی منشا کے مطابق کردو۔ کسی پر اپنا فیصلہ ٹھونسنے کی کوشش نہ کرنا۔ خیال رکھنا کہ کوئی عورت بے سہارا نہ رہے اور باعزت روٹی سے محروم نہ رہے اور اس میں محتاجی کا احسا س نہ پیدا ہو۔ یہ بھی خیال رکھنا کہ ان کے کانوں میں کو ئی یہ نہ پھونک دے کہ ان کے خاوندوںکو بے گناہ سزائے موت دی گئی ہے انہیں ذہن نشین کرادو کہ تم خوش قسمت ہو کہ ایسے گناہ گار خاوندوں سے نجات مل گئی ہے اور اُس کے بچوں کی تعلیم و تربیت خصوصی انتظامات کے تحت کرو۔ تمام اخراجات بیت المال سے لو۔ غداروں کے بچے غدار نہیں ہوا کرتے ،بشرطیکہ ان کی تعلیم و تربیت صحیح ہو۔ یہ سب مسلمانوں
کے بچے ہیں ۔ ان کی تعلیم و تربیت ایسی ہو کہ ان میں محرومی کا احساس پیدا نہ ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ باپ کے گناہ کاکفارہ بچے کو ادا کرنا پڑے''۔
٭ ٭ ٭
سلطان ایوبی کو واپسی کی جلدی تھی ، اُسے فکر یہ تھی کہ اس کی غیر حاضری میں صلیبی کوئی جنگی کاروائی نہ کردیں۔ نورالدین زنگی کی بھیجی ہوئی کمک تو وہاں )کرک اورشوبک کے علاقہ میں(پہنچ گئی تھی ۔ قاہرہ کی فوج ابھی اُدھر جارہی تھی ، لیکن ان دونوں فوجوں کو اس علاقے سے روشناس کرانا تھا۔ اُس نے اپنے دفتر میں جا کر اپنے بھائی تقی الدین ، علی بن سفیان ، اس کے نائب حسن بن عبدا للہ ، کوتوال غیاث بلبیس اورچند ایک نائبین اور حکام کو بلالیا ، وہ زیادہ تر ہدایات تقی الدین کو دینا چاہتا تھا۔ اُس نے اجلاس میں اعلا ن کیا کہ اُس کی غیر حاضری میں اُس کا بھائی تقی الدین قائم مقام امیر مصر اوریہاں کی فوج کا سالار اعلیٰ ہوگا اور اسے اتنے ہی اختیارات حاصل ہوں گے جو سلطان ایوبی کے اپنے تھے۔
''تقی الدین !''…… سلطان ایوبی نے اپنے بھائی سے کہا …… ''آج سے دل سے نکال دو کہ تم میرے بھائی ہو۔ نااہلی ، بددیانتی ، کوتاہی ، غداری یا سازش اور بے انصافی کا ارتکاب کرو گے تو اُسی سزا کے مستحق سمجھے جائو گے جو شریعت کے قانون میں درج ہے''۔
''میںاپنی ذمہ داریوں کواچھی طرح سمجھتا ہوں، امیر مصر!''…… تقی الدین نے کہا …… ''اور ان خطرات سے بھی آگاہ ہوں جومصر کو درپیش ہیں''۔
''صرف مصر کو نہیں''……سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا …… ''یہ خطرے سلطنت اسلامیہ کو درپیش ہیں اور اسلام کے فروغ اور سلطنت کی توسیع کے لیے بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔ ہمیشہ یادرکھو کہ کوئی بھی خطہ، جو سلطنت اسلامیہ کہلاتا ہے، وہ کسی ایک فرد یا گروہ کی جاگیر نہیں ۔ وہ خدائے عزوجل کی سرزمین ہے اور تم سب اس کے پاسبان اور امین ہو۔ اس مٹی کا ذرہ ذرہ تمہارے پاس امانت ہے۔اس کی مٹی بھی جب اپنے کام میں لانا چاہو تو سوچ لو کہ تم کسی دوسرے انسان کاحق تونہیں مار رہے؟ خدا کی امانت میں خیانت تو نہیں کر رہے؟…… میری باتیں غور سے سنو لو تقی الدین ! اسلام کی سب سے بڑی بدنصیبی یہ ہے کہ اس کے پیروکاروں میں غداروں اورسازش پسندوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ کسی قوم نے اتنے غدار پیدا نہیں کیے، جتنے مسلمانوں نے کیے ہیں۔ یہاں تک کہ ہماری تاریخ جو جہاد اور اللہ کے نام پر جنگ و جدل کی قابلِ فخر تاریخ ہے، غداری کی بھی تاریخ بن گی ہے اور اپنی قوم کے خلاف سازش گری ہماری روایت بن گی ہے …… علی بن سفیان سے پوچھو تقی ! ہمارے وہ جاسوس جو صلیبیوں کے علاقوںمیں سرگرم رہتے ہیں ، بتاتے ہیں کہ صلیبی حکمران، مذہبی پیشوا اور دانش ور اسلام کی اس کمزوی سے واقف ہیں کہ مسلمان زَن ، زر اور اقتدارکے لالچ میں اپنے مذہب، اپنے ملک اور اپنی قوم کا تختہ اُلٹ دینے سے بھی گریز نہیں کرتا''۔
سلطان صلاح الدین ایوبی نے اجلاس کے شرکاء پر نگاہ دوڑائی اور کہا …… ''ہمارے جاسوسوں نے ہمیں بتایا ہے کہ صلیبیوں نے اپنے جاسوسوں کو ذہن نشین کرایا ہے کہ مسلمان کی تاریخ جتنی فتوحات کی ہے، اتنی ہی غداری کی تاریخ ہے۔ مسلمانوں نے اتنی فتوحات حاصل نہیں کیں، جتنے غدار پیدا کیے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے فوراً بعد مسلمان خلافت پرایک دوسرے کے خلاف لڑنے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے اقتدار کی خاطر ایک دوسرے کو قتل کیا۔ ایک خلیفہ یا امیر مقرر ہوا تو خلافت اور امارت کے دوسرے امیدواروں نے اُس کے خلاف یہاں تک
سازشیں کیں کہ اسلام کے دشمنوں تک سے درپردہ مدد لی اور جس کے ہاتھ میں خلافت اورامارت آگئی ، اُس نے ہر اُس قائد کو قتل کرایا جس سے اقتدار کو خطرہ محسوس ہوا۔ قومی وقار ختم ہوتا گیا اور ذاتی اقتدار رہ گیا۔ پھر تحفظ اسی کا ہوتا رہا۔ سلطنتکی توسیع ختم ہوئی، پھر سلطنت کا دفاع ختم ہوا اور پھر سلطنت سکڑنے لگی۔ صلیبی ہماری اس تاریخی کمزوری سے آگاہ ہیں کہ ہم لوگ ذاتی اقتدار کے تحفظ اور استحکام کے لیے سلطنت کا بہت بڑا حصہ بھی قربان کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔ یہی ہماری تاریخ بنتی جارہی ہے''۔
''تقی الدین اور میرے رفیقو! میں جب ماضی پر نگاہ ڈالتا ہوں اور جب اپنے موجودہ دور میں غداروں کی بھرمار اور سازشوں کے جال کو دیکھتا ہوں تو یہ خطرہ محسوس کرتا ہوں کہ ایک وقت آئے گا کہ مسلمان تاریخ کی تحریروں کے ساتھ بھی غداری کریں گے۔ وہ قوم کی آنکھوں میں دھول جھونک کر لکھیں گے کہ وہ بہادر ہیں اور انہوں نے دشمن کو ناک چنے چبوا دئیے ہیں، مگر درپردہ دشمن کو دوست بنائے رکھیں گے۔ اپنی شکستوں پرپردے ڈالے رکھیں گے۔ سلطنت اسلامیہ سکڑتی چلی جائے گی اور ہمارے خود ساختہ خلیفے اس کا الزام کسی اور پر تھوپیں گے۔ مسلمانوں کی ایک نسل ایسی آئے گی جس کے پاس صرف نعرہ رہ جائے گا ''اسلام زندہ باد''۔ وہ نسل اپنی تاریخ سے آگاہ نہیں ہوگی۔ اس نسل کو یہ بتانے والا کوئی نہ ہوگا کہ اسلام کے پاسبان اور علم بردار وہ تھے جو وطن سے دُور ریگزاروں میں، پہاڑوں میں ، وادیوں میں اور اجنبی ملکوں میں جا کر لڑے۔ وہ دریا اور سمندر پھلانگ گئے۔ انہیں کڑکتی بجلیاں ، آندھیاں اور اولوں کے طوفان بھی نہ روک سکے۔ وہ اُن ملکوںمیں لڑے جہاں کے پتھر بھی ان کے دشمن تھے۔ وہ بھوکے لڑے، پیاسے لڑے، ہتھیاروں اور گھوڑوں کے بغیر بھی لڑے۔ وہ زخمی ہوئے تو کسی نے ان کے زخموں پر مرہم نہ رکھا، وہ شہید ہوگئے تو ان کے رفیقوں کو ان کے لیے قبریں کھودنے کی مہلت نہ ملی۔ وہ خون بہاتے گئے، اپنا بھی اوردشمن کا بھی۔ پیچھے ایوانِ خلافت میں شراب بہتی رہی۔ برہنہ لڑکیوں کے ناچ ہوتے رہے۔ یہودی اور صلیبی سونے سے اور اپنی بیٹیوں کے حسن سے ہمارے خلیفوں اور ہمارے امیروں کو اندھا کرتے گئے۔ جب خلیفوں نے دیکھا کہ قوم ان تیغ زنوں کی پجاری ہوتی جا رہی ہے ، جنہوں نے یورپ اور ہندوستان میں اسلام کے جھنڈے گاڑدئیے ہیں تو خلیفوں نے ان مجاہدینِ اسلام پر لوٹ مار اور زناکاری جیسے الزام تھوپنے شروع کردئیے۔ انہیں کمک اور رسد سے محروم کردیا۔ مجھے قاسم اور وہ کمسن اور خوبرو بیٹا یاد آتا ہے ، جس نے اس حال میں ہندوستان کے ایک طاقتور حکمران کو شکست دی اور ہندوستان کے اتنے بڑے حصے پر قبضہ کرلی تھا کہ اُس نے کمک نہیں مانگی، رسد نہیں مانگی۔ مفتوحہ علاقوں کا ایسا انتظام کیا کہ ہندو اُس کے غلام ہوگئے اور اُس کی شفقت سے متاثر ہو کر مسلمان ہوگئے۔ مجھے جب یہ لڑکا یاد آتا ہے تو دل میں درد اُٹھتا ہے۔ اُس وقت کے خلیفہ نے اس کے اس ساتھ کیا سلوک کیا تھا؟ اُس پر زنا کا الزام عائد کیا اور مجرم کی حیثیت سے واپس بلایا'' …… سلطان صلاح الدین ایوبی کو ہچکی سے آئی اور وہ خاموش ہوگیا۔
بہائو الدین شداد اپنی یاداشتوں میں لکھتاہے …… ''میرا عزیز دوست صلاح الدین ایوبی اپنی فوج کے سینکڑوں شہیدوں کی لاشیں دیکھتا تو اس کی آنکھوں میں چمک اور چہرے پر رونق آجایا کرتی تھی ، مگر صرف ایک غدار کو سزائے موت دے کر جب اُس کی لاش دیکھتا تو اس کا چہرہ بجھ جاتا اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے تھے''…… محمد بن قاسم کا ذکر کرتے کرتے اُسے ہچکی آئی اور وہ خاموش ہوگیا۔ میں دیکھ رہا تھا کہ وہ آنسو روک رہا ہے۔ کہنے لگا …… ''دشمن اُس کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔ اپنوں نے اسے شہید کر دیا۔ دشمن نے اُسے فاتح تسلیم کیا۔ اپنوں نے اُسے زانی کہا…… صلاح الدین ایوبی نے زیاد کے بیٹے طارق کا بھی ذکر کیا اور اُ س روز وہ اتنا جذباتی ہوگیاتھا کہ اس کی زبان رکتی ہی نہیں تھی ، حالانکہ وہ کم گو تھا۔ حقیقت پسند تھا۔ ہم
سب پر خاموشی طاری تھی اور ہم سب جسم کے اندر عجیب سا اثر محسوس کر رہے تھے۔ صلاح الدین ایوبی بلاشک و شبہ عظیم قائد تھا ۔ وہ ماضی کو نہیں بھولتا تھا۔ حال کے خطروں اور تقاضوں سے نبردآزما رہتا اور اُس کی نظریںصدیوں بعد آنے والے مستقبل پر لگی رہتی تھیں ''۔
''صلیبیوں کی نظریں ہمارے مستقبل پر لگی ہوئی ہیں''…… سلطان ایوبی نے کا …… ''صلیبی حکمران اور فوجی حکام کہتے ہیں کہ وہ اسلام کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں گے۔ وہ ہماری سلطنت پر قابض نہیں ہونا چاہتے۔ وہ ہمارے دلوں کو نظریات کی تلوار سے کاٹنا چاہتے ہیں۔ میرے جاسوسوں نے مجھے بتایا ہے کہ صلیبیوں کا سب سے زیادہ اسلام دشمن بادشاہ فلپ آگسٹس کہتاہے کہ انہوں نے اپنی کو ایک مقصد دے دیا ہے اور ایک روایت پیدا کر دی ہے ۔ اب صلیبیوں کی آنے والی نسلیں اس مقصد کی تکمیل کے لیے سرگرم رہیں گی۔ ضروری نہیں کہ وہ تلوار کے زور سے اپنا مقصدحاصل کریں گے۔ان کے پاس کچھ حربے اوربھی ہیں …… تقی الدین !جس طرح ان کی نظر مستقبل پرہے، اسی طرح ہمیں بھی مستقبل پر نظر رکھنی چاہیے، جس طرح انہوں نے ہم میں غدار پیدا کرنے کی روایت قائم کی ہے، اسی طرح ہمیں ایسے ذرائع اختیار کرنے چاہئیں کہ غداری کے جراثیم ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائیں۔ غداوں کو قتل کرتے چلے جانا کوئی علاج نہیں ، غداری کا رحجان ختم کرنا ہے۔اقتدار کی ہوس ختم کرکے حُبِّ رسول ۖ پیدا کرنی ہے۔ یہ اسی صورت میں پیدا ہوسکتی ہے کہ قوم کی آنکھوں میں رسول ۖ کے دشمن کا تصور موجود ہو۔ مسلمانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ صلیبیوں کی تہذیب میں ایسی بے حیائی ہے، جو پُر کشش ہے۔ قوم ان کی تہذیب میں جذب ہوتی چلی جا رہی ہے۔ اُن کے ہاں شراب بھی جائز ہے، عورتوں کا غیر مردوں کے ساتھ ناچنا ، کودنا اورتنہا رہنا بھی جائز ہے۔ہمارے اور اُن کے درمیان یہی سب سے بڑا فرق ہے کہ ہم عصمتوںکے پاسبان ہیں اوروہ عصمتوں کے بیوپاری۔ یہی وہ فرق ہے جو ہمارے مسلمان بھائی مٹادیتے ہیں۔ تقی الدین ! تمہارا ایک محاذ زمین کے اوپر ہے ، دوسرا زمین کے نیچے۔ ایک محاذ دشمن کے خلاف ہے اور دوسرا اپنوں کے خلاف۔ اگر اپنوں میں غدار نہ ہوتے تو ہم اس وقت یہاں نہیں یورپ کے قلب میں بیٹھے ہوئے ہوتے اور صلیبی ہمارے خلاف اپنی حسین بیٹیوں کی جائے کوئی بہتر ہتھیار استعمال کرتے اور اچھی قسم کی جنگی چالیں چلتے۔ ایمان کی حرارت تیز ہوتی تو اس وقت تک صلیب ایندھن کی طرح جل چکی ہوتی''۔
''مجھے آپ کی بہت سی دشواریوں کا یہاں آکر علم ہوا ہے''…… تقی الدین نے کہا …… ''محترم نورالدین زنگی بھی پوری طرح آگاہ نہیں کہ مصرمیں آپ غداروں کی ایک فوجکے گھیرے میں آئے ہوئے ہیں ۔ آپ اُن سے کمک مانگ لیتے۔ انہیں مدد کے لیے کہتے''۔
''تقی بھائی!''…… سلطان ایوبی نے جواب دیا…… ''مدد صرف اللہ سے مانگی جاتی ہے۔ مدد اپنوں سے مانگی جائے یا غیروں سے ، اپنا ایمان کمزور کر دیتی ہے۔ صلیبیوں کی فوج زرہ بکتر میں ہے۔ میرے سپاہی معمولی سی کپڑوں میں ملبوس ہیں، پھر بھی انہوں نے صلیب کو شکست دی ہے۔ ایمان لوہے کی طرح مضبوط ہو تو زرہ بکتر کی ضرورت نہیں رہتی۔ زرہ بکتر اور خندقیں تحفظ کا احساس پیدا کرتی ہیں اور سپاہی کو اپنے اندرقید کر لیتی ہیں ۔ یاد رکھو، میدان میں خندق سے باہر رہو، گھوم پھر کر لڑو، دشمن کے پیچھے نہ جائو۔ اسے اپنے پیچھے لائو۔ مرکز کو قائم رکھو، پہلوئوں کو پھیلادو اور دشمن کو دونوں بازوئوں میں جکڑ لو۔ محفوظ وہاں رکھوجہاںسے وہ دشمن کے عقب میں جا سکے۔ چھاپہ ماروں کے بغیر کبھی جنگ نہ لڑنا۔ چھاپہ ماروں سے دشمن کی رسد تباہ کرائو۔ وہ رسد جو پیچھے سے آئے اور وہ بھی جو دشمن اپنے ساتھ رکھے۔ چھاپہ ماروں کو دشمن کے
جانوروں کو مارنے یا ہراساں کرنے کے لیے استعمال کرو۔ آمنے سامنے کی ٹکڑ سے بچو۔ جنگ کو طول دو۔ دشمن کو پریشان کیے رکھو…… میں جو فوج چھوڑ چلاہوں، یہ محاذ سے آئی ہے۔ اس میں جان پر کھیل جانے والے چھاپہ مار دستے بھی ہیں۔ اسے صرف اشارے کی ضرورت ہے۔ میں نے اس فوج میں ایمان کی حرارت پیدا کر رکھی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اپنے آپ کو بادشاہ سمجھ کر اس فوج کا ایمان سرد کردو۔ ہم پر جو حملہ ہو رہاہے ، وہ ہمارے ایمان پر ہورہا ہے۔ صلیبی تمدن کے اثرات بڑی تیزی سے مصر میں آرہے ہیں''۔
سلطان صلاح الدین ایوبی نے اپنے بھائی تقی الدین کو پوری تفصیل سے بتایا کہ سوڈان میں مصر پر حملے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ سوڈانیوں میں اکثریت وہاں کے حبشیوںکی ہے، جو مسلمان ہیں ، نہ عیسائی۔ ان میں مسلمان بھی ہیں، جن میں مصر کی اُس فوج کے بھگوڑے بھی ہیں ، جسے بغاوت کے جرم میں توڑ دیا گیا تھا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا …… ''لیکن گھر بیٹھے دشمن کا انتظار نہ کرتے رہنا۔ جاسوس تمہیں خبر دیتے رہیں گے۔ حسن بن عبد اللہ تمہارے ساتھ ہے، جہاں محسوس کرو کہ دشمن کی تیاری مکمل ہو چکی ہے اور وہ اب حملے کے لیے اجتماع کر رہا ہے، تم وقت ضائع کیے بغیر حملہ کردو اور دشمن کوتیاری کی حالت میں ہی ختم کردو، لیکن پیچھے کے انتظامات مضبوط رکھنا۔ قوم کو محاذ کے حالات سے بے خبر نہ رکھنا۔ اگر خدانخواستہ شکست ہوجائے تو اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو تسلیم کرلینا اور قوم کو بتادینا کہ شکست کے اسباب کیا تھے۔ جنگ قوم کے خون اور پیسے سے لڑی جاتی ہے۔ بیٹے قوم کے شہید اور اپاہج ہوتے ہیں ۔ لہٰذا قوم کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ جنگ کو بادشاہوں کا کھیل نہ سمجھنا۔ یہ ایک قومی مسئلہ ہے۔ اس میں قوم کو اپنے ساتھ رکھنا …… میںنے جس فاطمی خلافت کو معزول کیاتھا، اس کے حواری ہمارے خلاف سرگرم ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے درپردہ خلیفہ مقرر کر رکھا ہے۔ ان کا خلیفہ العاضد تو مر گیا ہے ، لیکن وہ خلافت کو اس اُمید پر زندہ رکھے ہوئے ہیں کہ سوڈانی مصر پر حملہ کریں گے۔ ہماری فوج بغاوت کرے گی اور صلیبی چپکے سے اندر آکر فاطمی خلافت بحال کردیں گے۔ فاطمیوں کو حسن بن صباح کے قاتل گروہ کی حمایت حاصل ہے۔ میں علی بن سفیان کے اپنے ساتھ لے جا رہا ہوں۔ اس کا نائب حسن بن عبداللہ اور کوتوال غیاث بلبیس تمہارے ساتھ رہیں گے۔ یہ اس زمین دوز گروہ پر نظر رکھیں گے…… فوج کی بھرتی تیزکر دو اورانہیں جنگی مشقیں کراتے رہو ''۔
''تھوڑے ہی عرصے سے ہمیں اطلاعیں مل رہی ہیں کہ مصر کے جنوب مغربی علاقے سے فوج کے لیے بھرتی نہیں مل رہی ''……حسن بن عبد اللہ نے کہا …… ''یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہاں کے لوگ فوج کے خلاف ہوتے جارہے ہیں ''۔
''معلوم کرایا ہے کہ باعث کیا ہے؟'' …… علی بن سفیان نے پوچھا۔
''میرے دو مخبر اس علاقے میں قتل ہو چکے ہیں''…… حسن بن عبد اللہ نے کہا …… ''وہاں سے خبر لینا آسان نہیں ، تاہم میں نے نئے مخبر بھیج دئیے ہیں''۔
''میں اپنے ذرائع سے معلوم کر رہا ہوں''……غیاث بلبیس نے کہا …… ''مجھے شک ہے کہ اس وسیع علاقے کے لوگ نئے وہم میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ یہ علاقہ دشوار گزار ہے۔ لوگ سخت جان ہیں ، لیکن عقیدوں کے ڈھیلے اور توہمات پرست ہیں''۔
''توہم پرستی بہت بڑی لعنت ہے''…… سلطان ایوبی نے کہا …… ''اُس علاقے پر نظر رکھو اور وہاں کے لوگوں کو توہمات سے بچائو''۔
٭ ٭ ٭
تین چار روز بعد کرک کے قلعے میں بھی ایک اجلاس منعقد ہوا۔ وہ صلیبی حکمرانوں میں اور فوج کے اعلی کمانڈروں کا اجلاس تھا۔ انہیں یہ تو معلوم تھا کہ صلاح الدین ایوبی فلسطین کاایک قلعہ )شوبک( لے چکا ہے اور اب کرک پر حملہ کرے گا۔ انہیں اس احساس نے پریشان کررکھا تھا کہ اگر مسلمانوں نے کرک کو بھی شوبک کی طرح فتح کرلیا تو یروشلم کو بچانا مشکل ہوجائے گا۔ صلیبی جان گئے کہ سلطان صلاح الدین ایوبی سنبھل سنبھل کر آگے بڑھ رہا ہے۔ وہ ایک جگہ لیتا ہے فوج کی کمی نئی بھرتی سے پوری کرتا ہے اسے پوری فوج کے ساتھ ٹریننگ دیتا ہے اور جب اسے یقین ہوجاتا ہے کہ وہ اگلی ٹکر لینے کے قابل ہوگیا ہے تو آگے بڑھتا ہے۔ چنانچہ وہ کرک کے دفاع کو مضبوط کررہے تھے اور باہر آکر لڑنے کی بھی سکیم بنا چکے تھا مگر اس اجلاس میں انہیں اپنی سکیم میں ردوبدل کی ضرورت محسوس ہورہی تھی کیونکہ ان کے انٹیلی جنس کے سربراہ ہرمن نے انہیں سلطان ایوبی اس کی فوج اور مصر کے تازہ حالات کے متعلق انقلابی خبریں دی تھیں۔
صلیبی جاسوسوں نے بہت ہی تھوڑے وقت میں کرک میں ایہ اطلاع پہنچا دی تھی کہ سلطان صلاح الدین ایوبی اس فوج کو قاہرہ لے گیا ہے جو اس محاذ پر لڑی اور شوبک کا قلعہ لیا تھا اور قاہرہ میں جو فوج ہے اسے عجلت میں محاذ پر بھیج دیا گیا ہے اور نورالدین زنگی نے اپنی بہترین فوج کی کمک اس محاذ پر بھیج دی ہے اور سلطان ایوبی کا بھائی تقی الدین دمشق سے قاہرہ پہنچ گیا ہے جہاں وہ سلطان ایوبی کا قائم مقام ہوگا اور سلطان ایوبی قاہرہ چلا گیا ہے۔ جہاں وہ سازشیوں کو سزائے موت دے کر محاذ کی طرف روانہ ہوگیا ہے۔ صلیبیوں کے لیے یہ خبر اچھی نہ تھی کہ قاہرہ کا نائب ناظم مصلح الدین بھی پکڑا گیا اور غداری کے جرم میں مارا گیا ہے۔ مصلح الدین صلیبیوں کا کارآمد اور اہم ایجنٹ تھا۔ صلیبی نظام جاسوسی کا سربراہ ہرمن اجلاس کو ان تبدیلیوں سے آگاہ کررہا تھا۔ اس نے کہا… ''مصلح الدین کے مارے جانے سے ہمیں نقصان تو ہوا ہے لیکن تقی الدین کا تقرر ہمارے لیے امید افزا ہے۔ وہ بے شک صلاح الدین ایوبی کا بھائی ہے لیکن وہ سلطان ایوبی نہیں ہے، میرے تخریب کار جاسوس اسے چکر دینے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ یہ بھی امید افزا ہے کہ صلاح الدین ایوبی اور ع لی بن سفیان قاہرہ سے غیر حاضر ہیں''۔
''میں حیران ہوں کہ تمہارے حشیشین کیا کررہا ہے؟''… ریمانڈ نے پوچھا… ''کیا وہ دوہرا کھیل تو نہیں کھیل رہے؟ کمبخت ابھی تک صلاح الدین ایوبی کو قتل نہیں کرسکے۔ ہم بہت رقم ضائع کرچکے ہیں''۔
''رقم ضائع نہیں ہورہی'… ہرمن نے کہا… ''مجھے امید ہے کہ صلاح الدین ایوبی محاذ تک نہیں پہنچ سکے گا۔ اس کے ساتھ چوبیس باڈی گارڈ قاہرہ گئے ہیں۔ ان میں چار حشیشین ہیں ان کے لیے موقع آگیا ہے۔ میں نے انتظام کردیا ہے۔ وہ صلاح الدین کو راستے میں قتل کردیں گے''۔
''ہمیں خوش فہمیوں میں مبتلا نہیں رہتا چاہیے''… فلپ آگسٹس نے کہا… ''یہ فرض کرکے سوچو کہ صلاح الدین ایوبی قتل نہیں ہوسکا اور وہ زندہ سلامت محاذ پر موجود ہے۔ اس کے پاس اب تازہ دم فوج ہے۔ اس نے نئی بھرتی کو ٹریننگ دے لی ہے اور اسے نورالدین زنگی کی کمک مل گئی ہے۔ اس نے شوبک جیسا مضبوط اڈہ بھی حاصل کرلیا ہے۔ لہٰذا اب اس کی رسد قاہرہ سے نہیں آئے گی۔ شوبک میں اس نے بے شمار رسد جمع کرلی ہے۔ اس صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ میں اسے موقع نہیں دینا چاہتاکہ وہ کرک کا محاصرہ کرلے اور ہم محاصرے میں لڑیں''۔
''اب ہم محاصرے تک نوبت نہیں آنے دیں گے''… ایک اور صلیبی حکمران نے کہا… ''ہم باہر لڑیں گے اور اس انداز سے لڑیں گے کہ شوبک کا محاصرہ کرلیں''۔
''صلاح الدین ایوبی لومڑی ہے'' … فلپ آگسٹس نے کہا… ''اسے صحرا میں شکست دینا آسان نہیں۔ وہ ہمیں شوبک کے محاصرے کی اجازت دے دے گا مگر ہمارا محاصرہ کرلے گا۔ میں اس کی چالیں سمجھ چکا ہوں اگر تم اسے آمنے سامنے لاکر لڑا سکتے ہوتو تمہیں فتح کی ضمانت میں دے سکتا ہوں مگر تم اسے سامنے نہیں لاسکو گے''۔۔
بہت دیر کے بحث ومباحثے کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ نصف فوج کو قعلے سے باہر بھیج دیا جائے اور سلطان صلاح الدین ایوبی کی فوج کے قریب خیمہ زن کردیان جائے اور اس کی فوج کی نقل وحرکت پر گہری نظر رکھی جائے۔ اس سکیم میں باہر لڑنے والی فوج کی تعداد کے متعلق فیصلہ کیا گیا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کی فوج سے تین گنا نہ ہوتو دگنی ضرور ہو۔ عقب سے حملے کے لیے الگ فوج مقرر کی گئی اور پلان میں یہ بھی شامل کیا گیا کہ مسلمان فوج کی کمک اور رسد شوبک سے آگے گی۔ لہٰذا شوبک اور مسلمان کے درمیانی فاصلے کو چھاپہ مار وں کی زد میں رکھنے کا انتظام کیا جائے۔ فوجی کمانڈروں نے کہا کہ سامنے اتنی زیادہ قوت سے حملہ کیا جائے کہ صلاح الدین ایوبی جم کر لڑنے پر مجبو رہوجائے۔ صلیبیوں کو دراصل اپنی بکتر فوج پر بھروسہ تھا۔ ان کی بیشتر فوج زرہ پوش تھی، سروں پر آہنی خود تھے، پیشیانیوں سے ناک اور منہ تک چہرے آہنی خودوں کے مضبوط نقابوں میں ڈھکے ہوئے تھے۔ انہوں نے اونٹوں کو بھی زرہ پوش کرلیا تھا، اونٹوں کے سروں پر آہنی غلاف چڑھا دئیے گئے تھے اور پہلوئوں کے ساتھ لوہے کی پتریاں لٹکتی تھیں جو تیروں کو روک لیتی تھیں۔ انہوں نے کوشش کی تھی کہ بہتر قسم کے گھوڑے حاصل کرسکیں۔ یورپی ممالک سے لائے ہوئے گھوڑے صحرا میں جلدی تھک جاتے اور پیاس سے بے حال ہوجاتے تھے۔ صلیبیوں نے عربی علاقوں سے گھوڑے خریدے تھے مگر ان کی تعداد اتنی زیادہ نہیں تھی۔ انہوں نے مسلمانوں کے قافلوں سے گھوڑے چھیننے شروع کردیئے تھے۔ گھوڑے چرائے بھی تھے، سلطان ایوبی کے گھوڑے بہتر تھے۔ عربی نسل کے یہ صحرائی گھوڑے پیاس سے بے نیاز میلوں بھاگ سکتے تھے۔
ان جنگی تیاریوں اور اہتمام کے علاوہ صلیبیوں نے نظریاتی جنگ کا محاذ جو کھولا تھا، اس کے متعلق ان کے انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر، ہرمن نے رپورٹ پیش کی کہ صلاح الدین ایوبی کو مصر کے جنوب کے سرحدی علاقے سے بھرتی نہیں ملے گی۔ یہ وہی علاقہ تھا جس کے متعلق سلطان صلاح الدین ایوبی کی انٹیلی جنس کے نائب سربراہ حسن بن عبداللہ نے رپور ٹ دی تھی کہ وہاں کے لوگ اب فوج میں بھرتی نہیں ہوتے بلکہ بعض لوگ فوج کے خلاف بھی ہوگئے ہیں۔ یہ جفاکش اور جنگجو قبائل کا علاقہ تھا جس نے سلطان ایوبی کو نہایت اچھے سپاہی دیئے تھے مگر اب ہرمن کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا تھا کہ صلیبی تخریب کار اس علاقے میں پہنچ گئے ہیں، وہاں نوبت یہاں تک پہنچی ہوئی تھی کہ حسن بن عبداللہ نے یہ معلوم کرنے کے لیے اس علاقے کے لوگ فوج کے خلاف کیوں ہوگئے ہیں، دو مخبر بھیجے تھے، دونوں قتل ہوگئے تھے۔ ان کی لاشیں نہیں ملی تھیں۔ پراسرار سی ایک اطلاع ملی تھی کہ ہمیشہ کے لیے غائب کردیئے گئے ہیں۔ وہ علاقہ جو بہت وسیع وعریض تھا، جاسوسوں اور مخبروں کے لیے بہت ہی مضبوط قلعہ بن گیا تھا، وہاں سے کوئی معلومات حاصل ہوتی ہی نہیں تھی، اتنا ہی پتہ چلا تھا کہ وہاں کے لوگ ہیں تو مسلمان لیکن تو ہم پرست اور عقیدے کے بہت ڈھیلے ہیں۔
ہرمن نے تفصیلات بتائے بغیر کہا کہ اس کا تجربہ کامیاب رہا ہے۔ وہ اب مصر کے تمام سرحدی علاقے میں اس طریق کار کو پھیلائے گا۔ پھر ان اثرات کو مصر کے اندر لے جانے کی کوشش کرے گا۔ اس نے امید ظاہر کی کہ وہ مصر کے قصبوں اور شہروں کو بھی اپنے اثر میں لے لے گا۔ اس نے کہا … ''میں مسلمانوں کی ایک ایسی خامی کو ان کے خلاف استعمال کررہا ہوں، جسے وہ اپنی خوبی سمجھتے ہیں۔ مسلمان درویشوں، فقیروں، وظیفے اور چلے کرنے والوں عاملوں اور
مولویوں اور کٹیا میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرتے رہنے والے مجذوب قسم کے لوگوں کے فوراً مرید بن جاتے ہیں۔ درویشوں وغیرہ کا یہ گروہ اسلامی فوج کے ان سااروں کے خلاف ہے جنہوں نے ہمارے خلاف جنگیں لڑ کر شہرت حاصل کی ہے۔ یہ درویش اپنے متعلق لوگوں کو یقین دلاتے ہیں کہ خدا ان کے ہاتھ میں ہے اور وہ خدا کے خاص بندوں میں سے ہیں۔ وہ صرف نام پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ان میں میدان جنگ میں جانے کی ہمت اور جرأت نہیں، لہٰذا وہ گھر بیٹھے وہی شہرت حاصل کرنا چاہتے ہیں جو سالاروں نے جہاد میں حاصل کی ہے۔ اگر دیانت داری اور غیر جانب داری سے دیکھا جائے تو مسلمانوں کے یہ فوجی لیڈر جن میں صلاح الدین ایوبی اور نورالدین زنگی بھی شامل ہیں۔ قابل تحسین انسان ہیں۔ ان میں سے جنہوں نے یورپ تک اسلام پھیلا دیا اور سپین کو اپنی سلطنت میں شامل کرلیا تھا، بجا طور پر حق رکھتے ہیں کہ قوم اپنی عبادت میں بھی ان کا نام لے مگر ان کے خلیفوں نے اپنا نام عبادت میں شامل کرکے فوجی لیڈروں کی اہمیت گھٹا دی… اس کے ساتھ مسلمانوں میں نام نہاد عالموں اور اماموں کا ایک گروہ پیدا ہوا جو عمل سے گھبراتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہیں وہ عالم اور امام ہیں۔ یہ گروہ خلیفوں کی آڑ میں جہاد کے معنی مسخ کررہا ہے تاکہ لوگ جہاد میں جانے کے بجائے ان کے گرد جمع ہوں اور انہیں خدا کے برگزیدہ انسان مانیں۔ ان کے پاس پراسرار سی باتیں اور باتیں کرنے کا ایسا طلسماتی انداز ہے کہ لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ان برگزیدہ انسانوں کے سینے میں وہ راز چھپا ہوا ہے جو خدا نے ہر بندے کو نہیں بتایا۔ چنانچہ سیدھے سادھے مسلمان ان کے جال میں پھنستے جارہے ہیں۔ میں مسلمانوں کو اسلام کی ہی باتیں سنا سنا کر اسلام کی بنیادی روح سے دور لے جارہا ہوں۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہودیوں نے نظریاتی تخریب کاری کرکے اسلام کو کافی حد تک کمزور کردیا ہے۔ میں انہی کے اصولوں پر کام کررہا ہوں۔''
یہی وہ محاذ تھا جس کے متعلق سلطان صلاح الدین ایوبی پریشان رہتا تھا۔ پریشانی کا اصل باعث یہ تھا کہ اس محاذ پر اپنی ہی قوم کے افراد اس کے خلاف لڑ رہے تھے اور یہ محاذ اسے نظر نہیں آتا تھا۔
٭ ٭ ٭
تقی الدین اور اپنے ان حکام کو جنہیں قاہرہ میں رہنا تھا، ہدایات دے کر سلطان صلاح الدین ایوبی محاذ کی طرف روانہ ہوگیا۔ اس کے ساتھ چوبیس ذاتی محافظوں کا دستہ تھا۔ صلیبیوں کو باڈی گارڈز کی نفری کا علم تھا اور انہیں یہ بھی علم تھا کہ اس دستے میں چار حششین ہیں جو نہایت کامیاب اداکاری سے اور بہادری کے کارناموں سے محافظ دستے کے لیے منتخب ہوگئے تھے۔ ان کا مقصد صلاح الدین ایوبی کا قتل تھا لیکن انہیں موقع نہیں مل رہا تھا کیونکہ محافظ دستے کی نفری چوبیس سے کہیں زیادہ رہتی اور ان کی ڈیوٹی بدلتی رہتی تھی، کبھی بھی ایسا نہ ہوا کہ ان چاروں کی ڈیوٹی اکٹھی لگی ہو۔ محافظوں کے کمانڈر بہت ہوشیار اور چوکس رہتے تھے۔ انہیں یہ تو علم تھا کہ ان کے درمیان قاتل بھی موجود ہیں، وہ بیدار رہتے تھے کہ کوئی محافظ کوتاہی نہ کرے۔ اب سلطان ایوبی سفر میں تھا۔ اس نے خود ہی کہا تھا کہ وہ محافظوں کی پوری فوج کو ساتھ نہیں رکھے گا، چوبیس کافی ہیں، حالانکہ راستے میں صلیبی چھاپہ ماروں کا خطرہ تھا۔
سلطان ایوبی قاہرہ سے دن کے پچھلے پہر روانہ ہوا تھا۔ آدھی رات سفر میں اور باقی آرام میں گزری۔ سحر کی تاریکی میں اس نے کوچ کا حکم دیا۔ دوپہر کا سورج گھوڑوں کو پریشان کرنے لگا تو ایک ایسی جگہ یہ قافلہ رک گیا جہاں پانی بھی تھا، درخت بھی اور ٹیلوں کا سایہ بھی تھا۔ ذرا سی دیر میں سلطان ایوبی کے لیے خیمہ نصب کردیا گیا۔ اس کے اندر سفر ی چارپائی اور بستر بچھا دیا گیا۔ کھانے پینے سے فارغ ہوکر سلطان ایوبی اونگھنے کے لیے لیٹ گیا۔ دو محافظ خیمے کے آگے اور
پیچھے کھڑے ہوگئے۔ دستے کے باقی محافظ قریب ہی سایہ دیکھ کر بیٹھ گئے۔ کچھ گھوڑوں کو پانی پلانے کے لیے لے گئے۔ علی بن سفیان اور دیگر حکام جو سلطان صلاح الدین ایوبی کے ساتھ تھے، ایک درخت کے نیچے جاکر لیٹ گئے۔ انہوں نے خیمے نصب نہیں کرائے تھے۔ اس جگہ کے خدوخال ایسے تھے کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کا خیمہ ان کی نظروں سے اوجھل تھا۔ صحرا کا سورج زمین وآسمان کو جلا رہا تھا جس کسی کو جہاں چھائوں ملی وہاں بیٹھ یا لیٹ گیا۔
یہ پہلا موقعہ تھا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کے خیمے پر جن دو محافظوں کی ڈیوٹی لگی، وہ دونوں حشیشین تھے، جو ایک عرصہ سے ایسے ہی موقع کی تلاش میں تھے۔ اس موقع کو پوری طرح موزوں بنانے کے لیے یہ صورت پیدا ہوگئی کہ محافظوں کی زیادہ تر نفری گھوڑوں کو پانی پلانے چلی گئی تھی۔ پانی ایک ٹیلے کے دوسری طرف تھا۔ قافلے کا سامان اٹھانے والے اونٹوں کے شتربان بھی اونٹوں کو پانی کے لیے لے گئے تھے جو محافظ ڈیوٹی والوں کے علاوہ پیچھے رہ گئے تھے۔ ان میں دو اور حشیشین تھے۔ انہوں نے اشاروں اشاروں میں طے کرلیا۔ صلاح الدین ایوبی کے خیمے کے سامنے کھڑے محافظ نے خیمے کا پردہ ذ را سا ہٹا کر اندر دیکھا اور باہر والوں کو اشارہ کیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی اس حالت میں گہری نیند سویا ہوا تھا کہ اس کے پیٹھ خیمے کے دروازے کی طرف تھی۔ محافظ دبے پائوں اندر چلا گیا۔ اس نے خنجر نہیں نکالا، تلوار نہیں نکالی، بلکہ اس کے ہاتھ میں جو برچھی تھی وہ بھی اس نے خیمے کے باہر رکھ دی تھی۔ ہر محافظ کی طرح وہ قوی ہیکل جوان تھا۔ دیکھنے میں وہ سلطان ایوبی کی نسبت دگنا نہیں تو ڈیڑھ گنا طاقتور ضرور تھا۔
جاری ھے ، " " کھنڈروں کی آواز "")، شئیر کریں جزاکم اللہ خیرا۔
داستان ایمان فروشوں کی
قسط نمبر.32۔" کھنڈروں کی آواز "
ــــــــــــــــــــــــــ
سازش اور غداری کے مجرموں کا خون قاہرہ کی ریت نے ابھی اپنے اندر جذب نہیں کیا تھا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کا بھائی تقی الدین اُس کے بلاوے پر دو سو منتخب سواروں کے ساتھ قاہرہ پہنچ گیا۔ سازش کے مجرموں کو گردنیں کاٹی جا چکی تھیں اور یوں نظر آتا تھا جیسے قاہرہ کی ریت ان مرے ہوئے مسلمانوں کا خون اپنے اندر جذب کرنے سے گزیز کر رہی ہے جو صلیبیوں کے ساتھ مل کر سلطنت اسلامیہ کے پرچم کو سرنگوں کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس سب کی لاشیں دیکھیں۔ ان کے کٹے ہوئے سر ان کے بے جان جسموں کے سینوں پر رکھ دئیے گئے تھے۔ صرف ایک لاش تھی جو سب سے بڑے غدار کی تھی اور جس پر سلطان صلاح الدین ایوبی کو کلی طور پر اعتماد تھا۔ اس لاش کا سر اس کے ساتھ ہی تھا۔ ایک تیر اُس کی شہہ رگ میں داخل ہو کر دوسری طرف نکل ہوا تھا۔ یہ قاہرہ کا نائب مصلح الدین تھا۔ فوج کے سامنے جب اس کاجرم سنایا جا رہا تھا تو ایک جوشیلے اور محب اسلام سپاہی نے کمان میں تیر ڈال کر مصلح الدین کی شہہ رگ سے پار کردیا تھا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے سپاہی کی اس غیر قانونی حرکت کو ڈسپلن کے خلاف تھی، صرف اس لیے نظر انداز کرکے معاف کر دیا تھا کہ کوئی بھی صاحب ایمان اسلام کے خلاف غداری برداشت نہیں کرسکتا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے ہی اپنی فوج میں ایمان کی یہ قوت پیدا کی تھی۔
ان لاشوں کو دیکھ کر سلطان ایوبی کے چہرے پر ایسی خوشی کی ہلکی سی بھی جھلک نہیں تھی کہ اُس کی صفوں اور نظام حکومت میں سے اتنے زیادہ غدار اور سازشی پکڑے گئے اور انہیں سزائے موت دے دی گئی ہے۔ اُس کے چہرے پر اُداسی اور آنکھیں گہری سرخ تھیں ، جیسے وہ آ نسو روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔ غصہ تو تھا ہی جس کا اظہار اس نے ان الفاظ میں کیا …… ''ان میں سے کسی کا جنازہ نہیں پڑھایا جائے گا۔ ان کی لاشیں ان کے رشتہ داروں کو نہیں دی جائیں گی، تا کہ انہیں کفن بھی نہ پہنائے جائیں۔ رات کے اندھیرے میں انہیں ایک ہی گہرے گڑھے میں پھینک کر مٹی ڈال دو اور زمین ہموار کر دو۔ اس دُنیا میں ان کانشان بنی باقی نہ رہے''۔
''امیر محترم !'' …… سلطان صلاح الدین ایوبی کے ایک رفیق اور معتمد خاص بہائوالدین شداد نے سلطان صلاح الدین ایوبی سے کہا …… ''کوتوال اور شاہدوں کے بیان اور قاضی کا فیصلہ تحریر میں لاکردستاویز میں محفوظ کرلینا ضروری ہیں ، تاکہ یہ اعتراض نہ رہے کہ یہ فیصلہ صرف ایک فرد کا تھا۔ آپ کا فیصلہ برحق ہے۔ انصاف کر دیا گیا ہے، مگر قانون کا تقاضا کچھ اورہے''۔
''کیا قرآن نے یہ حکم دیا ہے کہ دینِ الٰہی کی جڑیں کفار کے ساتھ مل کر کاٹنے والے کو یہ حق دیا جائے کہ وہ قانون کے سامنے کھڑے کھڑا ہو کردین داروں سے اللہ و رسول ۖ کی عظمت کے پاسبانوں کو جھوٹا ثابت کرے '' …… سلطان صلاح الدین ایوبی نے ایسے تحمل سے کہا جس میں ایک دین دار مسلمان کا عتاب صاب جھلک رہا
تھا۔ اُس نے ان تمام حاکموں کو جو وہاں موجود تھے ، مخاطب ہو کرکہا …… ''اگر میں نے بے انصافی کی ہے تو مجھے اتنے زیادہ انسانوں کے قتل کے جرم میں سزائے موت دے دو اور میری لاش شہر سے دُور پھینک دو، جہاں صحرائی لومڑیاں اور گدھ میری کوئی ہڈی بھی اس زمین پر نہ رہنے دیں، لیکن میرے رفیقو! مجھے سزا دینے سے پہلے قرآن پاک الف لام میم سے والناس پڑھ لینا، اگر قرآن مجھے سزا دیتا ہے تو میری گردن حاضر ہے''۔
''بے انصافی نہیں ہوئی سالار اعظم؟''…… کسی اور نے کہا …… ''قاضی شداد کا مقصد یہ ہے کہ قانون کی بے حرمتی نہ ہو''۔
''میں سمجھ گیا ہوں''…… سلطان ایوبی نے کہا …… ''ان کا مقصد آئینے کی طرح صاف ہے۔ میں آپ سب کو صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ حاکم وقت ذاتی طور پرجانتا ہے کہ جسے غداری کے جرم میں سامنے لایاگیا ہے، وہ غداری کا مجرم ہے تو حاکم وقت پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ شہادتوں اور قانون کے دیگر جھمیلوں میں پڑے بغیر غدار کو وہیں سزا دے ، جس کا وہ حق دار ہے، اگر وہ سزادینے سے گریز کرتا، ڈرتا ، ہچکچاتا ہے تو وہ حاکم وقت خود بھی غدار ہے یا کم از کم نا اہل اور بے ایمان ضرورہے۔ وہ ڈرتا ہے کہ قاصی کے سامنے جاکر مجرم اُسے بھی مجرم کہہ دیں گے۔ میرا سینہ صاف ہے۔ مجھے غداروں کی صف میں کھڑا کردو۔ خدا کا ہاتھ مجھے اُس سے الگ کردے گا۔ اگر تمہارے سینے ربِ کعبہ کے نور سے منور ہیں تومجرموں کا سامنا کرنے سے مت ڈرو۔ تا ہم میرے عزیز دوست بہائو الدین شداد نے جو مشورہ دیا ہے اس پرعمل کرو۔ کاغذات تیارکرکے محترم قاضی سے فیصلہ تحریر کرالو۔ ظاہر ہے کہ یہ فیصلہ ان کا نہیں ہوگا۔ تحریر کر دیا جائے کہ امیر مصر جو افواجِ مصرکا سالار اعلیٰ بھی ہے، نے اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ان مجرموں کو سزائے موت دی ہے، جن کا جرم بلاشک و شبہہ ثابت ہوگیا تھا''۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے اپنے بھائی تقی الدین کی طرف دیکھا۔ وہ بڑے لمبے سفر سے آیاتھا، تھکا ہوا تھا۔ سلطا ن ایوبی نے اسے کہا …… ''میں تمہارے چہرے پر تفکر اور تھکن دیکھ رہاہوں ، لیکن تم آرام نہیں کر سکو گے۔ تمہارا سفر ختم نہیں ہوا، بلکہ شروع ہوا ہے۔ مجھے شوبک جلدی جاتا ہے تمہارے ساتھ کچھ ضروری باتیں کرکے چلا جائوںگا''۔
''جانے سے پہلے ایک حکم اور صادر فرماجائیے'' …… ناظم شہر نے کہا …… ''جنہیں سزائے موت دی گئی ہے، ان کی بیوائوں اور بچوں کا کیا بنے گا''۔
''ان کے لیے بھی میرے اسی حکم پر عمل کرو جو میں ان سے پہلے غداروں کے اہل و عیال کے متعلق دے چکا ہوں ''…… سلطان ایوبی نے کہا …… ''بیوائوں کے متعلق یہ چھن بین کرلو کہ اپنے خاوند وں کی طرح اُن میں سے کسی کا تعلق دشمن کے ساتھ نہ ہو۔ ہمارے زَن پرستی نے بھی غدار پیدا کیے ہیں۔ آپ نے دیکھ لیا ہے کہ صلیبیوں نے ہمارے بھائیوں کو خوبصورت لڑکیاںدے کر ان کے عوص ان کا ایمان خریدا ہے۔ ان میں سے جو بیوائیں نیک اورمومن ہیں ، ان کی شادیاں ان کی منشا کے مطابق کردو۔ کسی پر اپنا فیصلہ ٹھونسنے کی کوشش نہ کرنا۔ خیال رکھنا کہ کوئی عورت بے سہارا نہ رہے اور باعزت روٹی سے محروم نہ رہے اور اس میں محتاجی کا احسا س نہ پیدا ہو۔ یہ بھی خیال رکھنا کہ ان کے کانوں میں کو ئی یہ نہ پھونک دے کہ ان کے خاوندوںکو بے گناہ سزائے موت دی گئی ہے انہیں ذہن نشین کرادو کہ تم خوش قسمت ہو کہ ایسے گناہ گار خاوندوں سے نجات مل گئی ہے اور اُس کے بچوں کی تعلیم و تربیت خصوصی انتظامات کے تحت کرو۔ تمام اخراجات بیت المال سے لو۔ غداروں کے بچے غدار نہیں ہوا کرتے ،بشرطیکہ ان کی تعلیم و تربیت صحیح ہو۔ یہ سب مسلمانوں
کے بچے ہیں ۔ ان کی تعلیم و تربیت ایسی ہو کہ ان میں محرومی کا احساس پیدا نہ ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ باپ کے گناہ کاکفارہ بچے کو ادا کرنا پڑے''۔
٭ ٭ ٭
سلطان ایوبی کو واپسی کی جلدی تھی ، اُسے فکر یہ تھی کہ اس کی غیر حاضری میں صلیبی کوئی جنگی کاروائی نہ کردیں۔ نورالدین زنگی کی بھیجی ہوئی کمک تو وہاں )کرک اورشوبک کے علاقہ میں(پہنچ گئی تھی ۔ قاہرہ کی فوج ابھی اُدھر جارہی تھی ، لیکن ان دونوں فوجوں کو اس علاقے سے روشناس کرانا تھا۔ اُس نے اپنے دفتر میں جا کر اپنے بھائی تقی الدین ، علی بن سفیان ، اس کے نائب حسن بن عبدا للہ ، کوتوال غیاث بلبیس اورچند ایک نائبین اور حکام کو بلالیا ، وہ زیادہ تر ہدایات تقی الدین کو دینا چاہتا تھا۔ اُس نے اجلاس میں اعلا ن کیا کہ اُس کی غیر حاضری میں اُس کا بھائی تقی الدین قائم مقام امیر مصر اوریہاں کی فوج کا سالار اعلیٰ ہوگا اور اسے اتنے ہی اختیارات حاصل ہوں گے جو سلطان ایوبی کے اپنے تھے۔
''تقی الدین !''…… سلطان ایوبی نے اپنے بھائی سے کہا …… ''آج سے دل سے نکال دو کہ تم میرے بھائی ہو۔ نااہلی ، بددیانتی ، کوتاہی ، غداری یا سازش اور بے انصافی کا ارتکاب کرو گے تو اُسی سزا کے مستحق سمجھے جائو گے جو شریعت کے قانون میں درج ہے''۔
''میںاپنی ذمہ داریوں کواچھی طرح سمجھتا ہوں، امیر مصر!''…… تقی الدین نے کہا …… ''اور ان خطرات سے بھی آگاہ ہوں جومصر کو درپیش ہیں''۔
''صرف مصر کو نہیں''……سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا …… ''یہ خطرے سلطنت اسلامیہ کو درپیش ہیں اور اسلام کے فروغ اور سلطنت کی توسیع کے لیے بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔ ہمیشہ یادرکھو کہ کوئی بھی خطہ، جو سلطنت اسلامیہ کہلاتا ہے، وہ کسی ایک فرد یا گروہ کی جاگیر نہیں ۔ وہ خدائے عزوجل کی سرزمین ہے اور تم سب اس کے پاسبان اور امین ہو۔ اس مٹی کا ذرہ ذرہ تمہارے پاس امانت ہے۔اس کی مٹی بھی جب اپنے کام میں لانا چاہو تو سوچ لو کہ تم کسی دوسرے انسان کاحق تونہیں مار رہے؟ خدا کی امانت میں خیانت تو نہیں کر رہے؟…… میری باتیں غور سے سنو لو تقی الدین ! اسلام کی سب سے بڑی بدنصیبی یہ ہے کہ اس کے پیروکاروں میں غداروں اورسازش پسندوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ کسی قوم نے اتنے غدار پیدا نہیں کیے، جتنے مسلمانوں نے کیے ہیں۔ یہاں تک کہ ہماری تاریخ جو جہاد اور اللہ کے نام پر جنگ و جدل کی قابلِ فخر تاریخ ہے، غداری کی بھی تاریخ بن گی ہے اور اپنی قوم کے خلاف سازش گری ہماری روایت بن گی ہے …… علی بن سفیان سے پوچھو تقی ! ہمارے وہ جاسوس جو صلیبیوں کے علاقوںمیں سرگرم رہتے ہیں ، بتاتے ہیں کہ صلیبی حکمران، مذہبی پیشوا اور دانش ور اسلام کی اس کمزوی سے واقف ہیں کہ مسلمان زَن ، زر اور اقتدارکے لالچ میں اپنے مذہب، اپنے ملک اور اپنی قوم کا تختہ اُلٹ دینے سے بھی گریز نہیں کرتا''۔
سلطان صلاح الدین ایوبی نے اجلاس کے شرکاء پر نگاہ دوڑائی اور کہا …… ''ہمارے جاسوسوں نے ہمیں بتایا ہے کہ صلیبیوں نے اپنے جاسوسوں کو ذہن نشین کرایا ہے کہ مسلمان کی تاریخ جتنی فتوحات کی ہے، اتنی ہی غداری کی تاریخ ہے۔ مسلمانوں نے اتنی فتوحات حاصل نہیں کیں، جتنے غدار پیدا کیے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے فوراً بعد مسلمان خلافت پرایک دوسرے کے خلاف لڑنے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے اقتدار کی خاطر ایک دوسرے کو قتل کیا۔ ایک خلیفہ یا امیر مقرر ہوا تو خلافت اور امارت کے دوسرے امیدواروں نے اُس کے خلاف یہاں تک
سازشیں کیں کہ اسلام کے دشمنوں تک سے درپردہ مدد لی اور جس کے ہاتھ میں خلافت اورامارت آگئی ، اُس نے ہر اُس قائد کو قتل کرایا جس سے اقتدار کو خطرہ محسوس ہوا۔ قومی وقار ختم ہوتا گیا اور ذاتی اقتدار رہ گیا۔ پھر تحفظ اسی کا ہوتا رہا۔ سلطنتکی توسیع ختم ہوئی، پھر سلطنت کا دفاع ختم ہوا اور پھر سلطنت سکڑنے لگی۔ صلیبی ہماری اس تاریخی کمزوری سے آگاہ ہیں کہ ہم لوگ ذاتی اقتدار کے تحفظ اور استحکام کے لیے سلطنت کا بہت بڑا حصہ بھی قربان کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔ یہی ہماری تاریخ بنتی جارہی ہے''۔
''تقی الدین اور میرے رفیقو! میں جب ماضی پر نگاہ ڈالتا ہوں اور جب اپنے موجودہ دور میں غداروں کی بھرمار اور سازشوں کے جال کو دیکھتا ہوں تو یہ خطرہ محسوس کرتا ہوں کہ ایک وقت آئے گا کہ مسلمان تاریخ کی تحریروں کے ساتھ بھی غداری کریں گے۔ وہ قوم کی آنکھوں میں دھول جھونک کر لکھیں گے کہ وہ بہادر ہیں اور انہوں نے دشمن کو ناک چنے چبوا دئیے ہیں، مگر درپردہ دشمن کو دوست بنائے رکھیں گے۔ اپنی شکستوں پرپردے ڈالے رکھیں گے۔ سلطنت اسلامیہ سکڑتی چلی جائے گی اور ہمارے خود ساختہ خلیفے اس کا الزام کسی اور پر تھوپیں گے۔ مسلمانوں کی ایک نسل ایسی آئے گی جس کے پاس صرف نعرہ رہ جائے گا ''اسلام زندہ باد''۔ وہ نسل اپنی تاریخ سے آگاہ نہیں ہوگی۔ اس نسل کو یہ بتانے والا کوئی نہ ہوگا کہ اسلام کے پاسبان اور علم بردار وہ تھے جو وطن سے دُور ریگزاروں میں، پہاڑوں میں ، وادیوں میں اور اجنبی ملکوں میں جا کر لڑے۔ وہ دریا اور سمندر پھلانگ گئے۔ انہیں کڑکتی بجلیاں ، آندھیاں اور اولوں کے طوفان بھی نہ روک سکے۔ وہ اُن ملکوںمیں لڑے جہاں کے پتھر بھی ان کے دشمن تھے۔ وہ بھوکے لڑے، پیاسے لڑے، ہتھیاروں اور گھوڑوں کے بغیر بھی لڑے۔ وہ زخمی ہوئے تو کسی نے ان کے زخموں پر مرہم نہ رکھا، وہ شہید ہوگئے تو ان کے رفیقوں کو ان کے لیے قبریں کھودنے کی مہلت نہ ملی۔ وہ خون بہاتے گئے، اپنا بھی اوردشمن کا بھی۔ پیچھے ایوانِ خلافت میں شراب بہتی رہی۔ برہنہ لڑکیوں کے ناچ ہوتے رہے۔ یہودی اور صلیبی سونے سے اور اپنی بیٹیوں کے حسن سے ہمارے خلیفوں اور ہمارے امیروں کو اندھا کرتے گئے۔ جب خلیفوں نے دیکھا کہ قوم ان تیغ زنوں کی پجاری ہوتی جا رہی ہے ، جنہوں نے یورپ اور ہندوستان میں اسلام کے جھنڈے گاڑدئیے ہیں تو خلیفوں نے ان مجاہدینِ اسلام پر لوٹ مار اور زناکاری جیسے الزام تھوپنے شروع کردئیے۔ انہیں کمک اور رسد سے محروم کردیا۔ مجھے قاسم اور وہ کمسن اور خوبرو بیٹا یاد آتا ہے ، جس نے اس حال میں ہندوستان کے ایک طاقتور حکمران کو شکست دی اور ہندوستان کے اتنے بڑے حصے پر قبضہ کرلی تھا کہ اُس نے کمک نہیں مانگی، رسد نہیں مانگی۔ مفتوحہ علاقوں کا ایسا انتظام کیا کہ ہندو اُس کے غلام ہوگئے اور اُس کی شفقت سے متاثر ہو کر مسلمان ہوگئے۔ مجھے جب یہ لڑکا یاد آتا ہے تو دل میں درد اُٹھتا ہے۔ اُس وقت کے خلیفہ نے اس کے اس ساتھ کیا سلوک کیا تھا؟ اُس پر زنا کا الزام عائد کیا اور مجرم کی حیثیت سے واپس بلایا'' …… سلطان صلاح الدین ایوبی کو ہچکی سے آئی اور وہ خاموش ہوگیا۔
بہائو الدین شداد اپنی یاداشتوں میں لکھتاہے …… ''میرا عزیز دوست صلاح الدین ایوبی اپنی فوج کے سینکڑوں شہیدوں کی لاشیں دیکھتا تو اس کی آنکھوں میں چمک اور چہرے پر رونق آجایا کرتی تھی ، مگر صرف ایک غدار کو سزائے موت دے کر جب اُس کی لاش دیکھتا تو اس کا چہرہ بجھ جاتا اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے تھے''…… محمد بن قاسم کا ذکر کرتے کرتے اُسے ہچکی آئی اور وہ خاموش ہوگیا۔ میں دیکھ رہا تھا کہ وہ آنسو روک رہا ہے۔ کہنے لگا …… ''دشمن اُس کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔ اپنوں نے اسے شہید کر دیا۔ دشمن نے اُسے فاتح تسلیم کیا۔ اپنوں نے اُسے زانی کہا…… صلاح الدین ایوبی نے زیاد کے بیٹے طارق کا بھی ذکر کیا اور اُ س روز وہ اتنا جذباتی ہوگیاتھا کہ اس کی زبان رکتی ہی نہیں تھی ، حالانکہ وہ کم گو تھا۔ حقیقت پسند تھا۔ ہم
سب پر خاموشی طاری تھی اور ہم سب جسم کے اندر عجیب سا اثر محسوس کر رہے تھے۔ صلاح الدین ایوبی بلاشک و شبہ عظیم قائد تھا ۔ وہ ماضی کو نہیں بھولتا تھا۔ حال کے خطروں اور تقاضوں سے نبردآزما رہتا اور اُس کی نظریںصدیوں بعد آنے والے مستقبل پر لگی رہتی تھیں ''۔
''صلیبیوں کی نظریں ہمارے مستقبل پر لگی ہوئی ہیں''…… سلطان ایوبی نے کا …… ''صلیبی حکمران اور فوجی حکام کہتے ہیں کہ وہ اسلام کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں گے۔ وہ ہماری سلطنت پر قابض نہیں ہونا چاہتے۔ وہ ہمارے دلوں کو نظریات کی تلوار سے کاٹنا چاہتے ہیں۔ میرے جاسوسوں نے مجھے بتایا ہے کہ صلیبیوں کا سب سے زیادہ اسلام دشمن بادشاہ فلپ آگسٹس کہتاہے کہ انہوں نے اپنی کو ایک مقصد دے دیا ہے اور ایک روایت پیدا کر دی ہے ۔ اب صلیبیوں کی آنے والی نسلیں اس مقصد کی تکمیل کے لیے سرگرم رہیں گی۔ ضروری نہیں کہ وہ تلوار کے زور سے اپنا مقصدحاصل کریں گے۔ان کے پاس کچھ حربے اوربھی ہیں …… تقی الدین !جس طرح ان کی نظر مستقبل پرہے، اسی طرح ہمیں بھی مستقبل پر نظر رکھنی چاہیے، جس طرح انہوں نے ہم میں غدار پیدا کرنے کی روایت قائم کی ہے، اسی طرح ہمیں ایسے ذرائع اختیار کرنے چاہئیں کہ غداری کے جراثیم ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائیں۔ غداوں کو قتل کرتے چلے جانا کوئی علاج نہیں ، غداری کا رحجان ختم کرنا ہے۔اقتدار کی ہوس ختم کرکے حُبِّ رسول ۖ پیدا کرنی ہے۔ یہ اسی صورت میں پیدا ہوسکتی ہے کہ قوم کی آنکھوں میں رسول ۖ کے دشمن کا تصور موجود ہو۔ مسلمانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ صلیبیوں کی تہذیب میں ایسی بے حیائی ہے، جو پُر کشش ہے۔ قوم ان کی تہذیب میں جذب ہوتی چلی جا رہی ہے۔ اُن کے ہاں شراب بھی جائز ہے، عورتوں کا غیر مردوں کے ساتھ ناچنا ، کودنا اورتنہا رہنا بھی جائز ہے۔ہمارے اور اُن کے درمیان یہی سب سے بڑا فرق ہے کہ ہم عصمتوںکے پاسبان ہیں اوروہ عصمتوں کے بیوپاری۔ یہی وہ فرق ہے جو ہمارے مسلمان بھائی مٹادیتے ہیں۔ تقی الدین ! تمہارا ایک محاذ زمین کے اوپر ہے ، دوسرا زمین کے نیچے۔ ایک محاذ دشمن کے خلاف ہے اور دوسرا اپنوں کے خلاف۔ اگر اپنوں میں غدار نہ ہوتے تو ہم اس وقت یہاں نہیں یورپ کے قلب میں بیٹھے ہوئے ہوتے اور صلیبی ہمارے خلاف اپنی حسین بیٹیوں کی جائے کوئی بہتر ہتھیار استعمال کرتے اور اچھی قسم کی جنگی چالیں چلتے۔ ایمان کی حرارت تیز ہوتی تو اس وقت تک صلیب ایندھن کی طرح جل چکی ہوتی''۔
''مجھے آپ کی بہت سی دشواریوں کا یہاں آکر علم ہوا ہے''…… تقی الدین نے کہا …… ''محترم نورالدین زنگی بھی پوری طرح آگاہ نہیں کہ مصرمیں آپ غداروں کی ایک فوجکے گھیرے میں آئے ہوئے ہیں ۔ آپ اُن سے کمک مانگ لیتے۔ انہیں مدد کے لیے کہتے''۔
''تقی بھائی!''…… سلطان ایوبی نے جواب دیا…… ''مدد صرف اللہ سے مانگی جاتی ہے۔ مدد اپنوں سے مانگی جائے یا غیروں سے ، اپنا ایمان کمزور کر دیتی ہے۔ صلیبیوں کی فوج زرہ بکتر میں ہے۔ میرے سپاہی معمولی سی کپڑوں میں ملبوس ہیں، پھر بھی انہوں نے صلیب کو شکست دی ہے۔ ایمان لوہے کی طرح مضبوط ہو تو زرہ بکتر کی ضرورت نہیں رہتی۔ زرہ بکتر اور خندقیں تحفظ کا احساس پیدا کرتی ہیں اور سپاہی کو اپنے اندرقید کر لیتی ہیں ۔ یاد رکھو، میدان میں خندق سے باہر رہو، گھوم پھر کر لڑو، دشمن کے پیچھے نہ جائو۔ اسے اپنے پیچھے لائو۔ مرکز کو قائم رکھو، پہلوئوں کو پھیلادو اور دشمن کو دونوں بازوئوں میں جکڑ لو۔ محفوظ وہاں رکھوجہاںسے وہ دشمن کے عقب میں جا سکے۔ چھاپہ ماروں کے بغیر کبھی جنگ نہ لڑنا۔ چھاپہ ماروں سے دشمن کی رسد تباہ کرائو۔ وہ رسد جو پیچھے سے آئے اور وہ بھی جو دشمن اپنے ساتھ رکھے۔ چھاپہ ماروں کو دشمن کے
جانوروں کو مارنے یا ہراساں کرنے کے لیے استعمال کرو۔ آمنے سامنے کی ٹکڑ سے بچو۔ جنگ کو طول دو۔ دشمن کو پریشان کیے رکھو…… میں جو فوج چھوڑ چلاہوں، یہ محاذ سے آئی ہے۔ اس میں جان پر کھیل جانے والے چھاپہ مار دستے بھی ہیں۔ اسے صرف اشارے کی ضرورت ہے۔ میں نے اس فوج میں ایمان کی حرارت پیدا کر رکھی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اپنے آپ کو بادشاہ سمجھ کر اس فوج کا ایمان سرد کردو۔ ہم پر جو حملہ ہو رہاہے ، وہ ہمارے ایمان پر ہورہا ہے۔ صلیبی تمدن کے اثرات بڑی تیزی سے مصر میں آرہے ہیں''۔
سلطان صلاح الدین ایوبی نے اپنے بھائی تقی الدین کو پوری تفصیل سے بتایا کہ سوڈان میں مصر پر حملے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ سوڈانیوں میں اکثریت وہاں کے حبشیوںکی ہے، جو مسلمان ہیں ، نہ عیسائی۔ ان میں مسلمان بھی ہیں، جن میں مصر کی اُس فوج کے بھگوڑے بھی ہیں ، جسے بغاوت کے جرم میں توڑ دیا گیا تھا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا …… ''لیکن گھر بیٹھے دشمن کا انتظار نہ کرتے رہنا۔ جاسوس تمہیں خبر دیتے رہیں گے۔ حسن بن عبد اللہ تمہارے ساتھ ہے، جہاں محسوس کرو کہ دشمن کی تیاری مکمل ہو چکی ہے اور وہ اب حملے کے لیے اجتماع کر رہا ہے، تم وقت ضائع کیے بغیر حملہ کردو اور دشمن کوتیاری کی حالت میں ہی ختم کردو، لیکن پیچھے کے انتظامات مضبوط رکھنا۔ قوم کو محاذ کے حالات سے بے خبر نہ رکھنا۔ اگر خدانخواستہ شکست ہوجائے تو اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو تسلیم کرلینا اور قوم کو بتادینا کہ شکست کے اسباب کیا تھے۔ جنگ قوم کے خون اور پیسے سے لڑی جاتی ہے۔ بیٹے قوم کے شہید اور اپاہج ہوتے ہیں ۔ لہٰذا قوم کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ جنگ کو بادشاہوں کا کھیل نہ سمجھنا۔ یہ ایک قومی مسئلہ ہے۔ اس میں قوم کو اپنے ساتھ رکھنا …… میںنے جس فاطمی خلافت کو معزول کیاتھا، اس کے حواری ہمارے خلاف سرگرم ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے درپردہ خلیفہ مقرر کر رکھا ہے۔ ان کا خلیفہ العاضد تو مر گیا ہے ، لیکن وہ خلافت کو اس اُمید پر زندہ رکھے ہوئے ہیں کہ سوڈانی مصر پر حملہ کریں گے۔ ہماری فوج بغاوت کرے گی اور صلیبی چپکے سے اندر آکر فاطمی خلافت بحال کردیں گے۔ فاطمیوں کو حسن بن صباح کے قاتل گروہ کی حمایت حاصل ہے۔ میں علی بن سفیان کے اپنے ساتھ لے جا رہا ہوں۔ اس کا نائب حسن بن عبداللہ اور کوتوال غیاث بلبیس تمہارے ساتھ رہیں گے۔ یہ اس زمین دوز گروہ پر نظر رکھیں گے…… فوج کی بھرتی تیزکر دو اورانہیں جنگی مشقیں کراتے رہو ''۔
''تھوڑے ہی عرصے سے ہمیں اطلاعیں مل رہی ہیں کہ مصر کے جنوب مغربی علاقے سے فوج کے لیے بھرتی نہیں مل رہی ''……حسن بن عبد اللہ نے کہا …… ''یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہاں کے لوگ فوج کے خلاف ہوتے جارہے ہیں ''۔
''معلوم کرایا ہے کہ باعث کیا ہے؟'' …… علی بن سفیان نے پوچھا۔
''میرے دو مخبر اس علاقے میں قتل ہو چکے ہیں''…… حسن بن عبد اللہ نے کہا …… ''وہاں سے خبر لینا آسان نہیں ، تاہم میں نے نئے مخبر بھیج دئیے ہیں''۔
''میں اپنے ذرائع سے معلوم کر رہا ہوں''……غیاث بلبیس نے کہا …… ''مجھے شک ہے کہ اس وسیع علاقے کے لوگ نئے وہم میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ یہ علاقہ دشوار گزار ہے۔ لوگ سخت جان ہیں ، لیکن عقیدوں کے ڈھیلے اور توہمات پرست ہیں''۔
''توہم پرستی بہت بڑی لعنت ہے''…… سلطان ایوبی نے کہا …… ''اُس علاقے پر نظر رکھو اور وہاں کے لوگوں کو توہمات سے بچائو''۔
٭ ٭ ٭
تین چار روز بعد کرک کے قلعے میں بھی ایک اجلاس منعقد ہوا۔ وہ صلیبی حکمرانوں میں اور فوج کے اعلی کمانڈروں کا اجلاس تھا۔ انہیں یہ تو معلوم تھا کہ صلاح الدین ایوبی فلسطین کاایک قلعہ )شوبک( لے چکا ہے اور اب کرک پر حملہ کرے گا۔ انہیں اس احساس نے پریشان کررکھا تھا کہ اگر مسلمانوں نے کرک کو بھی شوبک کی طرح فتح کرلیا تو یروشلم کو بچانا مشکل ہوجائے گا۔ صلیبی جان گئے کہ سلطان صلاح الدین ایوبی سنبھل سنبھل کر آگے بڑھ رہا ہے۔ وہ ایک جگہ لیتا ہے فوج کی کمی نئی بھرتی سے پوری کرتا ہے اسے پوری فوج کے ساتھ ٹریننگ دیتا ہے اور جب اسے یقین ہوجاتا ہے کہ وہ اگلی ٹکر لینے کے قابل ہوگیا ہے تو آگے بڑھتا ہے۔ چنانچہ وہ کرک کے دفاع کو مضبوط کررہے تھے اور باہر آکر لڑنے کی بھی سکیم بنا چکے تھا مگر اس اجلاس میں انہیں اپنی سکیم میں ردوبدل کی ضرورت محسوس ہورہی تھی کیونکہ ان کے انٹیلی جنس کے سربراہ ہرمن نے انہیں سلطان ایوبی اس کی فوج اور مصر کے تازہ حالات کے متعلق انقلابی خبریں دی تھیں۔
صلیبی جاسوسوں نے بہت ہی تھوڑے وقت میں کرک میں ایہ اطلاع پہنچا دی تھی کہ سلطان صلاح الدین ایوبی اس فوج کو قاہرہ لے گیا ہے جو اس محاذ پر لڑی اور شوبک کا قلعہ لیا تھا اور قاہرہ میں جو فوج ہے اسے عجلت میں محاذ پر بھیج دیا گیا ہے اور نورالدین زنگی نے اپنی بہترین فوج کی کمک اس محاذ پر بھیج دی ہے اور سلطان ایوبی کا بھائی تقی الدین دمشق سے قاہرہ پہنچ گیا ہے جہاں وہ سلطان ایوبی کا قائم مقام ہوگا اور سلطان ایوبی قاہرہ چلا گیا ہے۔ جہاں وہ سازشیوں کو سزائے موت دے کر محاذ کی طرف روانہ ہوگیا ہے۔ صلیبیوں کے لیے یہ خبر اچھی نہ تھی کہ قاہرہ کا نائب ناظم مصلح الدین بھی پکڑا گیا اور غداری کے جرم میں مارا گیا ہے۔ مصلح الدین صلیبیوں کا کارآمد اور اہم ایجنٹ تھا۔ صلیبی نظام جاسوسی کا سربراہ ہرمن اجلاس کو ان تبدیلیوں سے آگاہ کررہا تھا۔ اس نے کہا… ''مصلح الدین کے مارے جانے سے ہمیں نقصان تو ہوا ہے لیکن تقی الدین کا تقرر ہمارے لیے امید افزا ہے۔ وہ بے شک صلاح الدین ایوبی کا بھائی ہے لیکن وہ سلطان ایوبی نہیں ہے، میرے تخریب کار جاسوس اسے چکر دینے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ یہ بھی امید افزا ہے کہ صلاح الدین ایوبی اور ع لی بن سفیان قاہرہ سے غیر حاضر ہیں''۔
''میں حیران ہوں کہ تمہارے حشیشین کیا کررہا ہے؟''… ریمانڈ نے پوچھا… ''کیا وہ دوہرا کھیل تو نہیں کھیل رہے؟ کمبخت ابھی تک صلاح الدین ایوبی کو قتل نہیں کرسکے۔ ہم بہت رقم ضائع کرچکے ہیں''۔
''رقم ضائع نہیں ہورہی'… ہرمن نے کہا… ''مجھے امید ہے کہ صلاح الدین ایوبی محاذ تک نہیں پہنچ سکے گا۔ اس کے ساتھ چوبیس باڈی گارڈ قاہرہ گئے ہیں۔ ان میں چار حشیشین ہیں ان کے لیے موقع آگیا ہے۔ میں نے انتظام کردیا ہے۔ وہ صلاح الدین کو راستے میں قتل کردیں گے''۔
''ہمیں خوش فہمیوں میں مبتلا نہیں رہتا چاہیے''… فلپ آگسٹس نے کہا… ''یہ فرض کرکے سوچو کہ صلاح الدین ایوبی قتل نہیں ہوسکا اور وہ زندہ سلامت محاذ پر موجود ہے۔ اس کے پاس اب تازہ دم فوج ہے۔ اس نے نئی بھرتی کو ٹریننگ دے لی ہے اور اسے نورالدین زنگی کی کمک مل گئی ہے۔ اس نے شوبک جیسا مضبوط اڈہ بھی حاصل کرلیا ہے۔ لہٰذا اب اس کی رسد قاہرہ سے نہیں آئے گی۔ شوبک میں اس نے بے شمار رسد جمع کرلی ہے۔ اس صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ میں اسے موقع نہیں دینا چاہتاکہ وہ کرک کا محاصرہ کرلے اور ہم محاصرے میں لڑیں''۔
''اب ہم محاصرے تک نوبت نہیں آنے دیں گے''… ایک اور صلیبی حکمران نے کہا… ''ہم باہر لڑیں گے اور اس انداز سے لڑیں گے کہ شوبک کا محاصرہ کرلیں''۔
''صلاح الدین ایوبی لومڑی ہے'' … فلپ آگسٹس نے کہا… ''اسے صحرا میں شکست دینا آسان نہیں۔ وہ ہمیں شوبک کے محاصرے کی اجازت دے دے گا مگر ہمارا محاصرہ کرلے گا۔ میں اس کی چالیں سمجھ چکا ہوں اگر تم اسے آمنے سامنے لاکر لڑا سکتے ہوتو تمہیں فتح کی ضمانت میں دے سکتا ہوں مگر تم اسے سامنے نہیں لاسکو گے''۔۔
بہت دیر کے بحث ومباحثے کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ نصف فوج کو قعلے سے باہر بھیج دیا جائے اور سلطان صلاح الدین ایوبی کی فوج کے قریب خیمہ زن کردیان جائے اور اس کی فوج کی نقل وحرکت پر گہری نظر رکھی جائے۔ اس سکیم میں باہر لڑنے والی فوج کی تعداد کے متعلق فیصلہ کیا گیا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کی فوج سے تین گنا نہ ہوتو دگنی ضرور ہو۔ عقب سے حملے کے لیے الگ فوج مقرر کی گئی اور پلان میں یہ بھی شامل کیا گیا کہ مسلمان فوج کی کمک اور رسد شوبک سے آگے گی۔ لہٰذا شوبک اور مسلمان کے درمیانی فاصلے کو چھاپہ مار وں کی زد میں رکھنے کا انتظام کیا جائے۔ فوجی کمانڈروں نے کہا کہ سامنے اتنی زیادہ قوت سے حملہ کیا جائے کہ صلاح الدین ایوبی جم کر لڑنے پر مجبو رہوجائے۔ صلیبیوں کو دراصل اپنی بکتر فوج پر بھروسہ تھا۔ ان کی بیشتر فوج زرہ پوش تھی، سروں پر آہنی خود تھے، پیشیانیوں سے ناک اور منہ تک چہرے آہنی خودوں کے مضبوط نقابوں میں ڈھکے ہوئے تھے۔ انہوں نے اونٹوں کو بھی زرہ پوش کرلیا تھا، اونٹوں کے سروں پر آہنی غلاف چڑھا دئیے گئے تھے اور پہلوئوں کے ساتھ لوہے کی پتریاں لٹکتی تھیں جو تیروں کو روک لیتی تھیں۔ انہوں نے کوشش کی تھی کہ بہتر قسم کے گھوڑے حاصل کرسکیں۔ یورپی ممالک سے لائے ہوئے گھوڑے صحرا میں جلدی تھک جاتے اور پیاس سے بے حال ہوجاتے تھے۔ صلیبیوں نے عربی علاقوں سے گھوڑے خریدے تھے مگر ان کی تعداد اتنی زیادہ نہیں تھی۔ انہوں نے مسلمانوں کے قافلوں سے گھوڑے چھیننے شروع کردیئے تھے۔ گھوڑے چرائے بھی تھے، سلطان ایوبی کے گھوڑے بہتر تھے۔ عربی نسل کے یہ صحرائی گھوڑے پیاس سے بے نیاز میلوں بھاگ سکتے تھے۔
ان جنگی تیاریوں اور اہتمام کے علاوہ صلیبیوں نے نظریاتی جنگ کا محاذ جو کھولا تھا، اس کے متعلق ان کے انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر، ہرمن نے رپورٹ پیش کی کہ صلاح الدین ایوبی کو مصر کے جنوب کے سرحدی علاقے سے بھرتی نہیں ملے گی۔ یہ وہی علاقہ تھا جس کے متعلق سلطان صلاح الدین ایوبی کی انٹیلی جنس کے نائب سربراہ حسن بن عبداللہ نے رپور ٹ دی تھی کہ وہاں کے لوگ اب فوج میں بھرتی نہیں ہوتے بلکہ بعض لوگ فوج کے خلاف بھی ہوگئے ہیں۔ یہ جفاکش اور جنگجو قبائل کا علاقہ تھا جس نے سلطان ایوبی کو نہایت اچھے سپاہی دیئے تھے مگر اب ہرمن کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا تھا کہ صلیبی تخریب کار اس علاقے میں پہنچ گئے ہیں، وہاں نوبت یہاں تک پہنچی ہوئی تھی کہ حسن بن عبداللہ نے یہ معلوم کرنے کے لیے اس علاقے کے لوگ فوج کے خلاف کیوں ہوگئے ہیں، دو مخبر بھیجے تھے، دونوں قتل ہوگئے تھے۔ ان کی لاشیں نہیں ملی تھیں۔ پراسرار سی ایک اطلاع ملی تھی کہ ہمیشہ کے لیے غائب کردیئے گئے ہیں۔ وہ علاقہ جو بہت وسیع وعریض تھا، جاسوسوں اور مخبروں کے لیے بہت ہی مضبوط قلعہ بن گیا تھا، وہاں سے کوئی معلومات حاصل ہوتی ہی نہیں تھی، اتنا ہی پتہ چلا تھا کہ وہاں کے لوگ ہیں تو مسلمان لیکن تو ہم پرست اور عقیدے کے بہت ڈھیلے ہیں۔
ہرمن نے تفصیلات بتائے بغیر کہا کہ اس کا تجربہ کامیاب رہا ہے۔ وہ اب مصر کے تمام سرحدی علاقے میں اس طریق کار کو پھیلائے گا۔ پھر ان اثرات کو مصر کے اندر لے جانے کی کوشش کرے گا۔ اس نے امید ظاہر کی کہ وہ مصر کے قصبوں اور شہروں کو بھی اپنے اثر میں لے لے گا۔ اس نے کہا … ''میں مسلمانوں کی ایک ایسی خامی کو ان کے خلاف استعمال کررہا ہوں، جسے وہ اپنی خوبی سمجھتے ہیں۔ مسلمان درویشوں، فقیروں، وظیفے اور چلے کرنے والوں عاملوں اور
مولویوں اور کٹیا میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرتے رہنے والے مجذوب قسم کے لوگوں کے فوراً مرید بن جاتے ہیں۔ درویشوں وغیرہ کا یہ گروہ اسلامی فوج کے ان سااروں کے خلاف ہے جنہوں نے ہمارے خلاف جنگیں لڑ کر شہرت حاصل کی ہے۔ یہ درویش اپنے متعلق لوگوں کو یقین دلاتے ہیں کہ خدا ان کے ہاتھ میں ہے اور وہ خدا کے خاص بندوں میں سے ہیں۔ وہ صرف نام پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ان میں میدان جنگ میں جانے کی ہمت اور جرأت نہیں، لہٰذا وہ گھر بیٹھے وہی شہرت حاصل کرنا چاہتے ہیں جو سالاروں نے جہاد میں حاصل کی ہے۔ اگر دیانت داری اور غیر جانب داری سے دیکھا جائے تو مسلمانوں کے یہ فوجی لیڈر جن میں صلاح الدین ایوبی اور نورالدین زنگی بھی شامل ہیں۔ قابل تحسین انسان ہیں۔ ان میں سے جنہوں نے یورپ تک اسلام پھیلا دیا اور سپین کو اپنی سلطنت میں شامل کرلیا تھا، بجا طور پر حق رکھتے ہیں کہ قوم اپنی عبادت میں بھی ان کا نام لے مگر ان کے خلیفوں نے اپنا نام عبادت میں شامل کرکے فوجی لیڈروں کی اہمیت گھٹا دی… اس کے ساتھ مسلمانوں میں نام نہاد عالموں اور اماموں کا ایک گروہ پیدا ہوا جو عمل سے گھبراتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہیں وہ عالم اور امام ہیں۔ یہ گروہ خلیفوں کی آڑ میں جہاد کے معنی مسخ کررہا ہے تاکہ لوگ جہاد میں جانے کے بجائے ان کے گرد جمع ہوں اور انہیں خدا کے برگزیدہ انسان مانیں۔ ان کے پاس پراسرار سی باتیں اور باتیں کرنے کا ایسا طلسماتی انداز ہے کہ لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ان برگزیدہ انسانوں کے سینے میں وہ راز چھپا ہوا ہے جو خدا نے ہر بندے کو نہیں بتایا۔ چنانچہ سیدھے سادھے مسلمان ان کے جال میں پھنستے جارہے ہیں۔ میں مسلمانوں کو اسلام کی ہی باتیں سنا سنا کر اسلام کی بنیادی روح سے دور لے جارہا ہوں۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہودیوں نے نظریاتی تخریب کاری کرکے اسلام کو کافی حد تک کمزور کردیا ہے۔ میں انہی کے اصولوں پر کام کررہا ہوں۔''
یہی وہ محاذ تھا جس کے متعلق سلطان صلاح الدین ایوبی پریشان رہتا تھا۔ پریشانی کا اصل باعث یہ تھا کہ اس محاذ پر اپنی ہی قوم کے افراد اس کے خلاف لڑ رہے تھے اور یہ محاذ اسے نظر نہیں آتا تھا۔
٭ ٭ ٭
تقی الدین اور اپنے ان حکام کو جنہیں قاہرہ میں رہنا تھا، ہدایات دے کر سلطان صلاح الدین ایوبی محاذ کی طرف روانہ ہوگیا۔ اس کے ساتھ چوبیس ذاتی محافظوں کا دستہ تھا۔ صلیبیوں کو باڈی گارڈز کی نفری کا علم تھا اور انہیں یہ بھی علم تھا کہ اس دستے میں چار حششین ہیں جو نہایت کامیاب اداکاری سے اور بہادری کے کارناموں سے محافظ دستے کے لیے منتخب ہوگئے تھے۔ ان کا مقصد صلاح الدین ایوبی کا قتل تھا لیکن انہیں موقع نہیں مل رہا تھا کیونکہ محافظ دستے کی نفری چوبیس سے کہیں زیادہ رہتی اور ان کی ڈیوٹی بدلتی رہتی تھی، کبھی بھی ایسا نہ ہوا کہ ان چاروں کی ڈیوٹی اکٹھی لگی ہو۔ محافظوں کے کمانڈر بہت ہوشیار اور چوکس رہتے تھے۔ انہیں یہ تو علم تھا کہ ان کے درمیان قاتل بھی موجود ہیں، وہ بیدار رہتے تھے کہ کوئی محافظ کوتاہی نہ کرے۔ اب سلطان ایوبی سفر میں تھا۔ اس نے خود ہی کہا تھا کہ وہ محافظوں کی پوری فوج کو ساتھ نہیں رکھے گا، چوبیس کافی ہیں، حالانکہ راستے میں صلیبی چھاپہ ماروں کا خطرہ تھا۔
سلطان ایوبی قاہرہ سے دن کے پچھلے پہر روانہ ہوا تھا۔ آدھی رات سفر میں اور باقی آرام میں گزری۔ سحر کی تاریکی میں اس نے کوچ کا حکم دیا۔ دوپہر کا سورج گھوڑوں کو پریشان کرنے لگا تو ایک ایسی جگہ یہ قافلہ رک گیا جہاں پانی بھی تھا، درخت بھی اور ٹیلوں کا سایہ بھی تھا۔ ذرا سی دیر میں سلطان ایوبی کے لیے خیمہ نصب کردیا گیا۔ اس کے اندر سفر ی چارپائی اور بستر بچھا دیا گیا۔ کھانے پینے سے فارغ ہوکر سلطان ایوبی اونگھنے کے لیے لیٹ گیا۔ دو محافظ خیمے کے آگے اور
پیچھے کھڑے ہوگئے۔ دستے کے باقی محافظ قریب ہی سایہ دیکھ کر بیٹھ گئے۔ کچھ گھوڑوں کو پانی پلانے کے لیے لے گئے۔ علی بن سفیان اور دیگر حکام جو سلطان صلاح الدین ایوبی کے ساتھ تھے، ایک درخت کے نیچے جاکر لیٹ گئے۔ انہوں نے خیمے نصب نہیں کرائے تھے۔ اس جگہ کے خدوخال ایسے تھے کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کا خیمہ ان کی نظروں سے اوجھل تھا۔ صحرا کا سورج زمین وآسمان کو جلا رہا تھا جس کسی کو جہاں چھائوں ملی وہاں بیٹھ یا لیٹ گیا۔
یہ پہلا موقعہ تھا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کے خیمے پر جن دو محافظوں کی ڈیوٹی لگی، وہ دونوں حشیشین تھے، جو ایک عرصہ سے ایسے ہی موقع کی تلاش میں تھے۔ اس موقع کو پوری طرح موزوں بنانے کے لیے یہ صورت پیدا ہوگئی کہ محافظوں کی زیادہ تر نفری گھوڑوں کو پانی پلانے چلی گئی تھی۔ پانی ایک ٹیلے کے دوسری طرف تھا۔ قافلے کا سامان اٹھانے والے اونٹوں کے شتربان بھی اونٹوں کو پانی کے لیے لے گئے تھے جو محافظ ڈیوٹی والوں کے علاوہ پیچھے رہ گئے تھے۔ ان میں دو اور حشیشین تھے۔ انہوں نے اشاروں اشاروں میں طے کرلیا۔ صلاح الدین ایوبی کے خیمے کے سامنے کھڑے محافظ نے خیمے کا پردہ ذ را سا ہٹا کر اندر دیکھا اور باہر والوں کو اشارہ کیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی اس حالت میں گہری نیند سویا ہوا تھا کہ اس کے پیٹھ خیمے کے دروازے کی طرف تھی۔ محافظ دبے پائوں اندر چلا گیا۔ اس نے خنجر نہیں نکالا، تلوار نہیں نکالی، بلکہ اس کے ہاتھ میں جو برچھی تھی وہ بھی اس نے خیمے کے باہر رکھ دی تھی۔ ہر محافظ کی طرح وہ قوی ہیکل جوان تھا۔ دیکھنے میں وہ سلطان ایوبی کی نسبت دگنا نہیں تو ڈیڑھ گنا طاقتور ضرور تھا۔
جاری ھے ، " " کھنڈروں کی آواز "")، شئیر کریں جزاکم اللہ خیرا۔

No comments:
Post a Comment