Thursday, 17 November 2016

شمشیرِ بے نیام، حضرت خال بد ولید رضی اللہ عنہ


شمشیرِ بے نیام، حضرت خال بد ولید رضی اللہ عنہ 
( قسط نمبر77
)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ان میں کوئی سالار ایسا ہے جو نرم مزاج ہو ؟‘‘اس نے پوچھا۔’’ابو عبیدہ!‘‘یہو دی نے جواب دیا۔’’بڑا ہی قابل بڑا ہی دلیر سالار ہے۔مگر رحم دل ہے۔‘‘’’اپنی فوج میں اس کی حیثیت کیا ہے؟‘‘’’ابنِ ولید کے بعد حیثیت ابو عبیدہ کی ہے۔‘‘دوسرے یہودی نے کہا۔’’ان کی خلافت میں جو قدرومنزلت ابو عبیدہ کی ہے وہ ابنِ ولید کی نہیں۔ابنِ ولید کا درجہ اس کے بعد کا ہے۔تمام مسلمان خود خلیفہ اور ابنِ ولید ابو عبیدہ کا احترام کرتے ہیں۔‘‘یہاں سے توما کے دماغ میں ایک فریب کاری آگئی۔یہودی اور عیسائی عرب مشیروں اور دانشوروں نے اس کی رہنمائی اور مدد کی،اور ایک منصوبہ تیار ہو گیا۔جو مختصراً اس طرح تھا کہ توما ابو عبیدہ کے آگے اس شرط پر ہتھیار ڈالے گا کہ اسے اس کی فوج اور شہر کے ہر اس باشندے کو جو شہر چھوڑ کر جانا چاہے اسے اس کے مال و اسباب وعورتوں اور بچوں سمیت نکل جانے دیا جائے۔شہر میں لوٹ مار نہ ہو۔تومانے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ جزیہ اداکرے گا یہ بھی طے پایا کہ خالدؓ کو قبل از وقت پتا نہ چلے۔یہ منصوبہ اس بنیاد پر بنایا گیا تھا کہ ابو عبیدہ شہر کے اس دروازے )باب جابیہ(کے سامنے اپنے دستوں کے ساتھ تھے۔جو اس دروازے )باب الشرق(کے بالمقابل تھا۔دونوں دروازوں کے درمیان پورا شہر حائل تھا اور فاصلہ ایک میل سے کچھ زیادہ تھا توما آسانی سے اپنے ایلچی ابو عبیدہ کے پاس بھیج سکتا تھا۔توما نے یہ کانفرنس اس رات سے دو تین راتیں پہلے منعقد کی تھی جس رات یونس ابن مرقس خالدؓ کے پاس آیاتھا۔اگلی رات کا واقعہ ہے ،خالدؓ ،قعقاعؓ اور ایک بڑے بہادر مجاہد مذعور بن عدی شہرِ پناہ کے دروازے بابِ الشرق سے کچھ دور کھڑے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں رسے تھے، دیوار کے ساتھ لگے ایک سو مجاہدین کھڑے تھے۔ یہ سارے لشکر میں سے چنے ہوئے نڈر اور ذہین مجاہدین تھے۔ یونس ابن مرقس خالدؓ کے ساتھ تھا۔اسی نے خالدؓکو یہ جگہ بتائی تھی وہ رسے کے ذریعے یہیں سے اترا تھا۔ خالدؓ اپنی زندگی کا بہت بڑا خطرہ مول لے رہے تھے، وہ سپہ سالار تھے انہیں اوپر نہیں جانا چاہیے تھا۔ پکڑے جانے کا امکان تھا۔مارے جانے کا خطرہ تھا، لیکن اس خطرے میں وہ کسی اور کو نہیں ڈالنا چاہتے تھے۔ انہیں اعتماد تھا کہ ان کے ناہونے سے مجاہدین میں بد دلی نہیں پھیلے گی اور ابو عبیدہؓ ان کی جگہ لے لیں گے،یہ فیصلہ پہلے ہی ہو چکا تھاکہ خالدؓکی غیر حاضری میں سالارِ اعلیٰ ابو عبیدہؓ ہوں گے۔خالدؓ نے اپنے ہاتھ سے کمند اوپر پھینکی دیوار کی بلندی تیرہ چودہ گز تھی۔کمند دیوار کے اوپراٹک گئی۔انہوں نے کچھ دیر انتظار کیا، دیوار پر کوئی حرکت نہ ہوئی،جس کا مطلب یہ تھا کہ اوپر کوئی نہیں تھا۔اگر کوئی تھا بھی تو اسے پتا نہیں چلا تھا کہ دیوار پر کمند پھینکی گئی ہے۔
خالدؓنے اپنے آپ کو مزید خطرے میں یوں ڈالا کہ سب سے پہلے خود کمند کے ذریعے اوپر گئے۔ ان کے پیچھے قعقاعؓ اور مذعور اوپر گئے۔اوپرکوئی بھی نہیں تھا، دیوار کا یہ حصہ شہر سے کچھ دور تھا۔شہر کی آوازوں سے پتا چلتا تھا کہ لوگ جاگ رہے ہیں، اور کسی تقریب میں مصروف ہیں۔ خالدؓ کو یقین آگیا کہ یونس ابن مرقس انہیں دھوکا نہیں دے رہا۔انہوں نے دیوار یعنی شہر کی فصیل کے ساتھ دو تین رسے باندھ کر نیچے لٹکا دیئے۔ جو وہ اسی مقصد کیلئے ساتھ لے گئے تھے۔ان کے ایک سو مجاہدین میں سے پچاس ان رسوں سے اوپر چلے گئے۔ یونس ابن مرقس بھی ان کے ساتھ گیا۔وہ خالدؓکا گائیڈ تھا۔ خالدؓنے ان جانبازوں میں سے کچھ کو اس کام کیلئے دیوار پر بٹھا دیا کہ رومی فوج کے آدمی اگر اوپر آجائیں تو انہیں ختم کر دیں،لیکن خاموشی سے تاکہ شہر میں کسی کو کچھ پتا نہ چلے۔ ہر کام خاموشی سے کرنا تھا۔خالدؓ نے قعقاعؓ اور مذعور کو اپنے ساتھ رکھا اور پچاس جانبازوں میں سے باقی کو اپنے ساتھ فصیل سے اتار کر لے گئے۔ جوں ہی وہ دیوار سے اترے انہیں کسی کی باتیں سنائی دیں۔’’رومی سپاہی۔‘‘یونس ابن مرقس نے خالدؓ کے کان میں سرگوشی کی۔’’میں ان کی زبان سمجھتا ہوں، انہیں ان کی زبان میں رعب سے کہو کہ جلدی چلو۔‘‘خالدؓ نے یونس ابن مرقس سے کہا اور اپنے جانبازوں سے کہا ۔’’تلواریں نکال لو اور اتنی تیزی سے وار کرنے ہیں کہ رومیوں کو منہ سے کوئی آواز نکالنے کی مہلت نہ ملے۔‘‘یونس ابن مرقس نے فوجی افسروں کی طرح بڑے رعب سے رومی سپاہیوں کو بلایا۔ ان کے آنے تک خالدؓ کے جانباز گھیرے کی ترتیب میں ہو گئے۔ رومی سپاہی کم و بیش چالیس تھے۔ وہ دوڑے آئے، رات کا وقت تھا، چاند آدھی رات کے لگ بھگ افق سے اٹھتا تھا۔جب رومی سپاہی آرہے تھے اس وقت چاند شہر کی فصیل سے اوپر آگیاتھا۔رومی سپاہی خالدؓ کے جانبازوں کو اپنے آدمی سمجھے ہوں گے وہ قریب آئے تو مسلمان جانباز سواروں سے ان پر ٹوٹ پڑے، ان میں سے سات آٹھ نے تلواریں نکالیں اور مقابلے کی کوشش کی لیکن مارے گئے،مگر خاموشی ٹوٹ گئی۔ دو تین رومی سپاہیوں نے زخمی ہوتے ہی بڑی اونچی آوازوں میں شور بپا کیا کہ مسلمان قلعے میں داخل ہو گئے ہیں۔’’اب دروازہ فوراً کھلنا چاہیے۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’رومی فوج کو آنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔میرے پیچھے آؤ۔‘‘
جہاں دروازہ تھا وہاں ڈیوڑھی تھی۔خالدؓ اپنے جانبازوں سے آگے تھے ،وہ دوڑتے ہوئے دروازے والی ڈیوڑھی میں گئے وہاں صرف دو رومی سپاہی تھے جن کے ہاتھوں میں برچھیاں تھیں وہ شور سن چکے تھے۔ اس لئے مقابلے کیلئے تیار تھے۔لیکن خالدؓ نے انہیں مقابلے کی زیادہ مہلت نہ دی۔ ایک کو خالدؓنے اور دوسرے کو قعقاعؓ نے مار ڈالا۔
دروازہ کھولا خالدؓنے حکم دیااور زیادہ آدمی باہر تیار رہو۔رومی آرہے ہیں۔‘‘دروازے کے اند رکی طرف بڑے وزنی تالے لگے ہوئے تھے اوربڑی زنجیریں باندھ کر دروازے کو مستحکم کیا ہوا تھا۔بڑی مشکل سے تالے توڑے گئے اور زنجیریں بھی اتار لی گئیں۔خالدؓدروازہ کھول کر باہر نکلے ان کے باقی پچاس جانباز باہر کھڑے تھے۔ خالدؓنے انہیں اندر بلایا اور کہا کہ وہ دروازے کے باہر پھیل کر مقابلے کیلئے تیار رہیں۔رومی فوج آرہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس دروازے کے سامنے جو دستے تھے انہیں خالدؓ تیاری کا حکم دے آئے تھے ،اور یہ حکم بھی کہ دروازہ کھلتے ہی طوفان کی طرح دروازے میں داخل ہوجائیں۔دروازہ کھلتے ہی یہ دستے طوفان کی طرح دروازے میں داخل ہونے لگے۔ چاند اب اور اوپر آگیا تھا۔ اپنے پرائے کی پہچان میں سہولت پیدا ہو گئی تھی۔ادھر سے رومی فوج کا ایک دستہ باب الشرق کی طرف آرہا تھا۔یہ مسلمانوں کی طوفانی لپیٹ میں آگیا۔ذرا سی دیر میں یہ دستہ لاشوں میں تبدیل ہو گیا۔ دمشق کی تمام تر رومی فوج فصیل کی طرف دوڑی،اور جن دستوں کو جن دروازوں کی ذمہ داری دی گئی تھی، وہ تقسیم ہو کر ان دروازوں کے سامنے چلے گئے۔سارے شہر میں بھگدڑ مچ گئی۔ شہری پہلے ہی ڈرے ہوئے تھے وہ بھاگ نہیں سکتے تھے۔دروازے بند تھے وہ اپنی قیمتی چیزیں اِدھر اُدھر چھپا رہے تھے۔ عورتوں کا یہ عالم تھا کہ چیختی چلاتی تھیں۔’’ہمارے آدمی بے غیرت ہیں۔‘‘عورتوں کی چیخ نما آوازیں سنائی دینے لگیں۔’’ہمارے آدمی ہمیں مسلمانوں سے نہیں بچا سکتے ۔ہمارے آدمی بزدل ہیں اپنی جانیں بچاتے پھر رہے ہیں۔‘‘عورتوں کی اس طعنہ زنی نے دمشق کے جوانوں کو گرما دیا وہ تلواریں اور برچھیاں لے کر نکل آئے،اس طرح رومی فوج کو سہارا مل گیا لیکن خالدؓ کے دستے رومیوں پر حاوی ہو چکے تھے۔ مسلمان محاصرے سے تنگ آئے ہوئے تھے۔ وہ دمشق کو فتح کرنے کیلئے قہر اور غضب سے لڑرہے تھے۔ تقریباً تمام مؤرخوں نے لکھا ہے کہ خالدؓ نے ایسا دانستہ طور پر کیا تھا یا ان کے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ انہوں نے دوسرے دروازوں پر جو سالار متعین کیے تھے انہیں نہ بتایا،کہ آج رات وہ کیا کرنے والے ہیں۔خالدؓ نے ابو عبیدہؓ تک کو اطلاع نہ دی کہ وہ بہت بڑا خطرہ مول لے رہے ہیں۔کسی بھی تاریخ میں اس سوال کا جواب نہیں ملتا کہ خالدؓ نے ایسی غلطی کیوں کی تھی؟ابو عبیدہؓ وہاں سے بہت دور تھے۔ انہوں نے شہر میں شور سنا تو کہنے لگے کہ رومیوں نے کسی دروازے سے باہر جاکر اس دروازے والے مسلمان دستوں پر حملہ کیا ہے۔رومی ایسے حملے پہلے بھی کر چکے تھے ،دوسرے دروازوں والے مسلمان سالار بھی غلط فہمی میں رہے۔ خالدؓ شہر کے اندر اتنے الجھ گئے تھے کہ دوسرے سالاروں کو اندر نہ بلاسکے انہوں نے شاید یہ بھی سوچا ہو گا کہ دوسرے سالار دروازوں کے باہر اپنے دستوں کو تیار رکھیں تاکہ رومی فوج کسی دروازے سے بھاگ نہ سکے۔’’یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ مسلمان دستے شہر کی فصیل اور دروازوں سے قریب نہیں تھے وہ فصیل سے کم از کم ایک ایک میل دور تھے۔
قریب ہو کر وہ تیروں کی زَد میں آتے تھے، اتنی دور سے وہ شہر کے اندر کا شور اچھی طرح سن نہیں سکتے تھے۔ توما کو جب اطلاع ملی، کہ مسلمان شہر میں داخل ہو گئے ہیں تو اس نے اپنے مشیروں کو بلایا۔ ’’کون کون سے دروازے سے مسلمان اندر آئے ہیں؟‘‘توما نے پوچھا۔’’صرف ایک دروازے سے۔‘‘ اسے کسی نے جواب دیا۔’’شرقی دروازے سے۔باقی سب دروازے بند ہیں۔‘‘’’کیا کسی نے فصیل پر جا کردیکھا ہے؟‘‘توما نے پوچھا۔’’کیا مسلمانوں کی باقی فوج بھی قریب آگئی ہے؟‘‘’’دیکھاہے۔¬‘‘اسے جواب ملا۔’’ان کے باقی دستے جہاں پہلے تھے وہیں ہیں۔‘‘’’بابِ جابیہ کو دیکھا ہے؟‘‘تومانے پوچھا۔’’کیا ابو عبیدہ کے دستے بھی آگے نہیں آئے؟‘‘’’نہیں!‘‘اسے بتایا گیا۔’’وہ دستے بھی آگے نہیں آئے۔یہ صرف ان کے سپہ سالار خالد ابنِ ولید کے دستے ہیں۔‘‘توما کے مشیر اور سالار آگئے۔’’ہم شہر کو نہیں بچا سکیں گے۔‘‘توما نے ان سے کہا۔’’مجھے ابھی تک کسی نے نہیں بتایا کہ مسلمانوں نے دروازہ کس طرح کھول لیا ہے؟انہیں اندر سے کوئی مدد نہیں مل سکتی تھی۔‘‘’’کیا فائدہ یہ سوچنے کا کہ مسلمان شہر میں کس طرح داخل ہو گئے ہیں۔‘‘ایک مشیر نے کہا۔’’وہ اندر آگئے ہیں۔اب یہ سوچنا ہے کہ کیا کیا جائے؟‘‘’’اسی منصوبے پر عمل کیا جائے جو ہم نے پہلے سوچا تھا۔‘‘ایک اور مشیر نے کہا۔’’ابو عبیدہ کو صلح کا پیغام بھیجیں۔‘‘اس مسئلے پر کچھ تبادلہ خیالات ہوتا رہا۔ آخر طے پایا کہ ابو عبیدہؓ کی طرف ایک ایلچی بھیجاجائے۔’’ اور میں نے جو دستے محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔انہیں ادھر بھیج دیا جائے۔جدھر مسلمان اندر آگئے ہیں۔‘‘توما نے حکم دیا۔’’انہیں میرا پیغام دیاجائے کہ دمشق شہر کی نہیں بلکہ سلطنت روم کی آبرو اور آن ان کے ہاتھ میں ہے۔وہ جانیں قربان کر دیں اور مسلمانوں کے سالار ابنِ ولید کو زندہ یا مردہ میرے پاس لے کر آئیں۔‘‘ہنری سمتھ ، ابو سعید ، واقدی اور طبری نے لکھا ہے کہ توما ذہنی طور پر ہتھیار ڈال چکا تھا وہ اپنے محفوظہ کے دستوں کو اس لئے شہر کی لڑائی میں جھونک رہا تھا کہ خالدؓ کو اپنے فریب کارانہ منصوبے کی کامیابی تک روکا جا سکے۔اس کے یہودی اور عیسائی مشیر معمولی دماغوں کے آدمی نہیں تھے۔
رات گزرتی جا رہی تھی، اور شہر کے اندر کی لڑائی بڑھتی جارہی تھی۔اب گلیوں میں لڑائی ہو رہی تھی۔پلہ خالدؓ کے دستوں کا بھاری تھا، رومیوں کے محفوظہ کے دستوں نے خالدؓ کیلئے مشکل پیدا کر دی۔ لیکن خالدؓ ہمت ہارنے والے نہیں تھے۔ان کے آگے بڑھنے کی رفتار کم ہو گئی تھی۔ادھر ابو عبیدہؓ فجر کی نماز پڑھ چکے تو انہیں بتایا گیا کہ رومی سپہ سالار کے دو ایلچی آئے ہیں۔ ابو عبیدہؓ نے انہیں بلا لیا۔’’کیا تمہارے سالار کے ابھی ہوش ٹھکانے نہیں آئے؟‘‘ابو عبیدہؓ نے ایلچیوں سے کہا۔’’کہو تم کیوں آئے ہو؟‘‘’’سپہ سالار توما کا پیغام لائے ہیں۔‘‘ایک ایلچی نے کہا۔’’جب تک ہتھیار نہیں ڈالو گے میں صلح کیلئے تیار نہیں ہو سکتا۔‘‘ابو عبیدہؓ نے کہا۔
’’اے عرب کے رحم دل سالار!‘‘دوسرے ایلچی نے کہا۔’’ہم لڑائی اور خونریزی ختم کرنے آئے ہیں۔سپہ سالار توما نے ہمیں پیغام دیا ہے کہ وہ ہتھیار ڈالنے پر ر ضا مند ہے۔ہم صرف یہی چاہتے ہیں کہ ہمیں شہر سے نکل جانے دیا جائے۔شہر میں لوٹ مار نہ ہو، کسی کو قتل نہ کیا جائے ،ہر
شہری اور فوجی اپنے ساتھ اپنا جو مال و اموال لے جا سکتا ہے لے جانے کی اجازت دی جائے۔‘‘’’ہم ناحق خون بہانے نہیں آئے اے رومیو!‘‘ابو عبیدہؓ نے کہا۔’’خدا کی قسم! میں اپنے ان ساتھیوں کا خون تمہیں معاف نہیں کر سکتاجو تم نے بہایا ہے۔‘‘’’شہنشاہِ ہرقل کے داماد سپہ سالار توما نے کہا ہے کہ ہم تاوان ادا کریں گے ۔‘‘ایک ایلچی نے کہا۔’’آپ اسے شاید جزیہ کہتے ہیں یا جو کچھ بھی کہتے ہیں۔‘‘’’ہمارا شہنشاہ اﷲہے۔‘‘ابو عبیدہؓ نے کہا۔’’تم نے ہرقل کواس طرح شہنشاہ کہا ہے جیسے وہ ہمارا بھی شہنشاہ ہو، اور وہ ہمیں خیرات دے رہا ہو۔‘‘ ’’ہرقل ہتھیار ڈال دے گا، تو بھی ہم اسے شہنشاہ ہی کہیں گے۔‘‘ایلچی نے کہا۔’’ہم اس کے نوکر ہیں اور اس کا حکم بجا لاتے ہیں۔کیا آپ ہم پر اور دمشق کی عورتوں اور بچوں پر رحم نہیں کریں گے؟‘‘’’اے سالارِ مدینہ!‘‘دوسرے ایلچی نے کہا۔’’دمشق کے شہری تو لڑا ئی نہیں چاہتے تھے ،وہ تو بہت پہلے سے سپہ سالار توما کو کہہ رہے تھے کہ مدینہ والوں کے ساتھ صلح کر لو، اگر اسلام کے متعلق ہم نے جوسنا ہے وہ درست ہے تو آپ کو زیادہ نہیں سوچنا چاہیے۔‘‘ ’’خدا کی قسم!‘‘ابو عبیدہؓ نے کہا۔’’تم میرے سپہ سالار خالد بن ولید کے پاس جاتے تووہ بھی وہی کہتا جو میں کہوں گا۔ہمارے آگے جو جھک جاتا ہے اور ہم سے جو صلح کی بھیک مانگتا ہے، اسے ہم بخش دیتے ہیں کہ اسلام کا حکم یہی ہے۔اگر کوئی آخر دم تک لڑے اور ہم بزورِ شمشیر اس سے ہتھیار ڈلوائیں تو پھر ہم اسے رحم کے قابل نہیں سمجھتے۔‘‘اس وقت خالدؓ شہر کے مشرقی حصے میں لڑ رہے تھے اور وہ رومی فوجیوں کا اور ان شہری جوانوں کا جو اپنی فوج کے دوش بدوش لڑ رہے تھے صفایا کرتے جا رہے تھے۔رومیوں کی فوج دوسرے دروازوں کے آگے بھی چلی گئی تھی اس طرح یہ فوج تقسیم ہو کر کمزور ہو گئی تھی۔اس سے خالدؓنے بہت فائدہ اٹھایا۔ادھر بابِ جابیہ کھل گیا اور ابو عبیدہؓ اپنے دستوں کے ساتھ توما کے ایلچیوں کی رہنمائی میں شہر میں داخل ہوئے۔ توما نے تین اور دروازے کھول کر اعلان کرادیا کہ صلح ہو گئی ہے اور رومی دمشق سے جا رہے ہیں۔معاہدہ ہو گیا ہے کہ لوٹ مار نہیں ہو گی، مسلمان کسی شہری کو قتل نہیں کریں گے اور کسی عورت کو مسلمان اپنے قبضے میں نہیں لیں گے۔غروبِ آفتاب میں کچھ وقت ابھی باقی تھا،جب ابو عبیدہؓ شہر میں داخل ہوئے تھے، خود توما نے آگے بڑھ کر ابو عبیدہؓ کا استقبال کیا۔ توما کے ساتھ اس کا ایک سالار ہربیس بھی تھا،دمشق کا بڑا پادری بھی تھا۔
’’اے رومیو!‘‘ابو عبیدہؓ نے توما اور ہربیس سے کہا۔’’تم خوش قسمت ہو کہ تم نے خود ہی شہر ہمارے حوالے کر دیا ہے اس سے تم نےاپنے آپ کو اپنی فوج اور اپنے شہریوں کو بہت بڑی ذلت سے بچالیا ہے اور تم نے اپنے مال و اموال کو بھی بچا لیا ہے،اور یہ شور کیسا ہے؟کیا کہیں لڑائی ہو رہی ہے؟‘‘’’لوگ صلح کی خوشی میں شوروغل مچا رہے ہیں۔‘‘توما نے جھوٹ بولا۔’’وہ دیکھیں ۔میری فوج دیوار کے ساتھ کھڑی ہے۔ سب کے ہتھیار زمین پر پڑے ہیں۔‘‘اس وقت خالدؓ شہر کے اس حصے پر غالب آچکے تھے جس میں رومی فوج کے دو تین دستوں نے ان کا مقابل کیا تھا ، اب خالدؓ بچ بچ کر آگے بڑھ رہے تھے، وہ حیران تھے کہ شہر کی باقی فوج ان کے مقابلے کیلئے کیوں نہیں آرہی۔اسے خالدؓ پھندہ سمجھ رہے تھے۔اسی خطرے کے پیشِ نظر وہ محتاط ہو کر آگے بڑھ رہے تھے۔ باہر سے ان کا رابطہ ٹوٹ گیا تھا۔انہیں ایسی توقع نہیں تھی کہ دروازے کھل جائیں گے اور ان کی باقی فوج بھی اندر آجائے گی۔خالدؓ اپنے آپ کو بڑی ہی خطرناک صورتِ حال میں پھنسا ہوا محسوس کر رہے تھے۔دمشق کے وسطی حصے میں شہر کا بڑا گرجا تھا۔جو کلیسائے مریم کہلاتا تھا۔ابو عبیدہؓ کو وہاں لے جایا جا رہا تھا، وہ گرجے کے قریب پہنچے ہی تھے کہ خالدؓ اپنے محافظوں کے ساتھ ادھر آنکلے ۔انہوں نے ابو عبیدہؓ کو ایسے پر امن انداز سے توما وغیرہ کے ساتھ دیکھا کہ ان کی تلواریں نیاموں میں تھیں تو خالدؓ بن ولید پریشان ہو گئے۔ابو عبیدہؓ نے خالدؓ اور ان کے محافظوں کو دیکھا، خالدؓ کے ہاتھ میں تلوار اور ڈھال تھی۔تلوار خون سے لال تھی ، دستے تک خون گیا ہوا تھا۔خالدؓ پسینے میں نہائے ہوئے تھے اور ان کے کپڑوں پر خون کے بے شمار چھینٹے اور دھبے تھے۔ان کا سانس پھولا ہو اتھا۔خالدؓ کے محافظوں کی بھی حالت ویسی ہی تھی۔اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ خالدؓ لڑتے ہوئے یہاں تک پہنچے تھے۔محافظوں کے پاس برچھیاں تھیں جن کی انیاں جیسے خون میں سے نکالی گئی تھیں۔خالدؓ اور ابو عبیدہؓ ایک دوسرے کو حیرت زدگی کے عالم میں دیکھتے رہے۔
’’ابو سلیمان!‘‘ابو عبیدہؓ نے آخر سکوت توڑا اور خالدؓسے کہا۔’’کیا تو اﷲکا شکر ادا نہیں کرے گا کہ اس کی ذاتِ باری نے یہ شہر ہمیں عطا کر دیا ہے۔اﷲنے صلح منظور کرنے کی سعادت مجھے عطا فرمائی ہے۔ ان لوگوں نے بغیر لڑے میرے آگے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔پھر تو کیوں خون ٹپکاتی تلوار اپنے ہاتھ میں لیے پھرتا ہے؟ میں نے انہیں شہر سے اپنے مال و اموال لے جانے کی اجازت دے دی ہے۔‘‘’’ابو عبیدہ!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’کون سی صلح کی بات کرتے ہو؟کیا تو دیکھ نہیں رہا کہ میں نے لڑ کر یہ شہر حاصل کیا ہے؟خدا کی قسم!رومیوں نے مجھے امن اور صلح کا پیغام دے کر اندر نہیں بلایا۔میرے لیے انہوں نے دروازہ نہیں کھولا تھا۔ میں خود شہر میں داخل ہوا ہوں، میں نے خون بہایا ہے اور میرے آدمیوں کا خون بہایا گیا ہے۔میں رومیوں کو یہ حق نہیں دے سکتا کہ یہ خیر و عافیت سے شہر سے نکل جائیں۔ ان کے شہرکے خزانے اور جو کچھ بھی شہر میں ہے وہ ہمارا مالِ غنیمت ہے اور میں نہیں سمجھ سکا کہ یہ صلح کس نے کی ہے اور کیوں کی ہے؟‘‘

(جاری ھے)
جزاکم اللہ خیرا

شمشیرِ بے نیام، حضرت خال بد ولید رضی اللہ عنہ


شمشیرِ بے نیام، حضرت خال بد ولید رضی اللہ عنہ 
( قسط نمبر76
)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دراصل توما ذہنی طور پر شکست تسلیم کر چکا تھا۔اس کے سامنے اب یہی ایک مسئلہ رہ گیا تھا کہ کوئی ایسی صورت پیدا ہو کہ مسلمانوں کے ساتھ باعزت سمجھوتہ ہوجائے۔مؤرخوں کے بیانات کے مطابق اسے کسی نے یہ بتایا تھا کہ مسلمانوں کے نائب سالار ابوعبیدہؓ نرم مزاج اور صلح جو انسان ہیں۔اگر ان تک رسائی ہوجائے تو باعزت سمجھوتہ ہو سکتا ہے۔خالدؓ کے متعلق وہ جانتا تھا کہ وہ مکمل شکست اور ہتھیار ڈالنے سے کم بات نہیں کرتے۔توما نے اپنے مشیروں کو بلایا۔باہر مسلمانوں کی کیفیت یہ تھی کہ ان کے حوصلے بڑھ گئے تھے اور وہ للکار ہے تھے کہ رومیو!شہر ہمارے حوالے کردو۔ لیکن شہر میں داخل ہونے کا کوئی ذریعہ نظر نہیں آتاتھا۔خالدؓ نے فیصلہ کرلیا کہ مجاہدین کو ایک دو دن آرام کیلئے دے کر شہر کے دروازے توڑنے کی یا دیوار میں سرنگ لگانے کی کوشش کریں گے۔صبح طلوع ہوئی تو اﷲنے ایک غیر مسلم کو خالدؓ کے سامنے کھڑا کردیا۔یہ ایک یونانی تھا جس کا نام یونس ابن مرقس تھا۔وہ رات کے وقت جب رومی اندر بیٹھے اپنے زخم چاٹ رہے تھے، شہر کی دیوار سے ایک رسّے کے ذریعے اترا تھا۔اس نے کہا کہ وہ ایک لڑکی کو حاصل کرنے کیلئے اپنی جان کا خطرہ مول لے کر آیا ہے۔یہ لڑکی بھی یونانی تھی اور یہ ۱۸ ستمبر ۶۳۴ء )۱۹ رجب ۱۳ھ( کا واقعہ ہے۔۱۸ ستمبر ۶۳۴ء کی رات تھی۔خالدؓ کو بتایا گیا کہ قلعے کے اندر سے ایک آدمی آیا ہے جو اپنا نام یونس ابن مرقس بتاتا ہے۔’’وہ قلعے سے نہیں آیا۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’اگر قلعے کے اندر ہی سے آیا ہے تو صاف نیت سے نہیں آیا،اگر باہر سے آیا ہے تو بھی اس کی نیت ٹھیک نہیں ہو سکتی۔وہ رومیوں کا جاسوس ہوگا……اسے میرے پاس بھیج دو۔‘‘وہ ایک جواں سال آدمی تھا۔خوبرو اور پھرتیلا تھا۔خالدؓ کے دو محافظوں نے اس کی تلاشی لی۔اس نے کمر بند میں ایک خنجر اڑسا ہوا تھا جو اس نے چھپا کر نہیں رکھا تھا۔یہ اس سے لے کر اسے خالدؓ کے خیمے میں بھیج دیا گیا۔خالدؓ نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا پھر اس پر نظریں جما دیں۔’’سالارِ اعلیٰ مجھے شک کی نگاہوں سے دیکھ سکتے ہیں۔‘‘اس جواں سال آدمی نے کہا۔’’میں آپ کے دشمن کے قلعے سے آیا ہوں۔آپ کو مجھ پر شک کرنا چاہیے……میرا نام یونس ابن مرقس ہے اور میں یونانی ہوں۔آپ کی اور رومیوں کی جنگ کے ساتھ مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔‘‘’’یونان کے جوان!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ اپنے آنے کا مقصدفوراً بتا دو؟‘‘’’مقصد میرا ذاتی ہے۔‘‘یونس ابن مرقس نے کہا۔’’اگر آپ یہ پورا کردیں تو میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں۔‘‘’’تُو میری کیا مدد کر سکتا ہے؟‘‘’’میں آپ کو قلعے کے اندر پہنچا سکتا ہوں۔‘‘یونس ابن مرقس نے کہا۔’’پھر دمشق آپ کا ہوگا۔‘‘
’’تو قلعے سے نکلاکیسے؟‘‘خالدؓ نے کہا۔’’میں کیسے یقین کروں کہ تو جھوٹ نہیں بول رہا؟‘‘’’میں باب الشرق کے قریب فصیل سے رسہ لٹکا کر اترا ہوں۔‘‘یونس ابن مرقس نے کہا۔’’میرے آنے کا مقصد بھی سن لیں سالارِ اعلیٰ!دمشق میں یونانیوں کے تین چار خاندان آبادہیں۔ایک یونانی لڑکی کے ساتھ میری محبت ہے۔میں آپ کونہیں بتا سکتا کہ ہم ایک دوسرے کو کس قدر چاہتے ہیں۔آپ کی فوج نے دمشق کا محاصرہ کیا تو اس سے تھوڑی ہی دیر پہلے اس لڑکی کے ساتھ میری شادی ہو گئی۔اتنے میں شور اٹھا کہ مسلمانوں نے شہر کا محاصرہ کر لیا ہے۔لڑکی کے والدین نے لڑکی کو میرے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔کہتے ہیں کہ محاصرہ ٹوٹ جانے کے بعد ہی لڑکی کو میرے حوالے کریں گے……‘‘
’’سالارِ اعلیٰ !میں محبت کے ہاتھوں اتنا مجبور ہوں کہ انتظار نہیں کر سکتا۔دراصل لڑکی کی ماں کی نیت ٹھیک نہیں۔وہ اپنی بیٹی کی شادی ایک بڑے ہی مالدار تاجر کے ساتھ کرنا چاہتی تھی لیکن اس کی بیٹی نے میری محبت کی خاطر اسے مجبور کر دیا کہ اس کی شادی میرے ساتھ کردے۔آپ کی فوج نے شہر کو محاصرے میں لے لیا تو اسے بہانہ مل گیا۔اس نے کہا کہ ہر کوئی شہرکے دفاع میں لگا ہوا ہے اچھا نہیں لگتا کہ تم دونوں شادی کی تقریب مناؤ۔‘‘’’لیکن میں کیا کر سکتا ہوں؟‘‘خالدؓ نے کہا۔’’کیا میں یہاں محبت کی داستانیں سننے آیا ہوں؟تو وہ بات فوراً کیوں نہیں کہہ دیتا جو تو کہنے آیا ہے۔اگر تو یہاں کسی اورنیت سے آیا ہے تو تو یہاں سے زندہ کس طرح جائے گا۔‘‘’’آہ ابنِ ولید!‘‘یونس ابن مرقس نے آہ لے کر کہا۔’’کون ہے جو تیرے خیمے میں بری نیت سے آنے کی جرات کر سکتا ہے۔جس نے سلطنت روم جیسے عظیم اور جابر سلطنت کی بنیادوں تک کو ہلا ڈالا ہے اسے مجھ جیسے معمولی آدمی سے نہیں ڈرنا چاہیے……اور یہ بھی سوچ کہ میں رومی نہیں یونانی ہوں۔مجھے صرف اپنی بیوی چاہیے اور تجھے دمشق……راز کی بات یہ ہے کہ تین چار دن لڑائی نہیں ہوگی۔‘‘’’کیوں نہیں ہوگی؟‘‘’’دمشق کا سالار توما زخمی ہے۔‘‘یونس ابن مرقس نے جوا ب دیا۔’’لیکن لڑائی نہ ہونے کی صرف یہ وجہ نہیں۔ایک وجہ یہ بھی ہے کہ شہر کے لوگ سالار توما کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جنگ بندی اور صلح کی بات کرے۔شہر میں اناج کی قلت قحط کی حد تک پہنچ گئی ہے،اور سب سے بڑی وجہ لڑائی نہ ہونے کی یہ ہے کہ کل رات دمشق کے لوگوں کا ایک جشن ہے جس میں روم کی فوج بھی شریک ہوگی۔کسی کو کسی کا ہوش نہیں ہوگا۔میں آپ کی یہ مدد کروں گا کہ فصیل پر کمند پھینکنے کی موزوں جگہ بتا دوں گا۔آپ کے چند ایک آدمی فصیل پر چڑھ آئیں اور اندر سے ایک دروازہ کھول دیں پھر آپ کی فوج شہر میں داخل ہو جائے۔‘‘
بعض مؤرخوں نے لکھا ہے کہ اہلِ دمشق اپنا کوئی سالانہ جشن منا رہے تھے۔ایسے جشن میں وہ اتنی زیادہ شراب پیتے اور رنگ رلیوں میں ایسے مگن ہوتے تھے کہ انہیں اپنے پرائے کی ہوش نہیں رہتی تھی،اور فوج بھی اس میں شریک ہوتی تھی لیکن اب ایسی حالت میں دمشق والوں کا ایسا جشن منانا کہ وہ اپنے ہوش و حواس بھی کھو بیٹھیں قابلِ یقین نہیں لگتا تھا۔دمشق کے اندر کی حالت بیان کی جا چکی ہے۔وہاں تو قحط اور خوف و ہراس کی کیفیت تھی۔روم کی فوج کی بے شمار نفری ماری جا چکی تھی۔لاشیں باہر گل سڑرہی تھیں اور زخمی اندر کراہ رہے تھے۔ان حالات میں جشن کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ایک یورپی مؤرخ ہنری سمتھ نے اس واقعہ کو یوں بیان کیا ہے وہ حقیقی لگتا ہے۔اس نے شام سے رومیوں کی پسپائی کے بیان میں لکھا ہے کہ دمشق کے محاصرے میں رومیوں کی حالت اتنی بری ہو گئی تھی کہ وہ ہتھیار ڈالنے پر آگئے تھے۔ان کے مذہبی پیشواؤں نے رومی سالار توما سے کہا تھا کہ ان سے خدا ناراض ہے۔خدا کو راضی کرنے کیلئے مذہبی قسم کے جشن کا اہتمام کیا گیا تھا۔دمشق میں دوسرے عقیدوں کے لوگ بھی تھے جو اپنے انداز سے مذہبی تقریب منعقد کر رہے تھے۔چونکہ یہ مذہب کا اور فتح کیلئے دعا کا معاملہ تھا اس لیے ا س میں ہرکسی کی شرکت لازمی تھی۔فوج کو بھی اس میں شامل ہونا تھا۔اس یورپی مؤرخ نے یہ بھی لکھا ہے کہ ایسا کوئی خطرہ نہیں تھا کہ مسلمان قلعے پر چڑھائی کردیں گے،یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔مسلمانوں کی اپنی حالت ایسی مضبوط نہیں رہی تھی کہ وہ ہلہ بول دیتے۔یہ تو خالدؓ کا عزم تھا اور انہیں اپنے تمام سالاروں کا بھرپور تعاون حاصل تھا کہ دمشق کو چند دنوں میں سر کرنا ہے۔یونس ابن مرقس کے متعلق تمام مؤرخ متفق ہیں۔اس نے خالدؓ کو قائل کر دیا کہ وہ انہیں قلعے میں داخل کر دے گا اور اس کے عوض وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ اس کی بیوی اسے دلا دی جائے۔خالدؓنے اس یونانی پر اعتبار کر لیااور اسے سب سے پہلے اسلام کی دعوت دی۔’’میں نے اسلام کے متعلق بہت کچھ سنا ہے۔‘‘یونس ابن مرقس نے کہا۔’’لیکن مجھے کوئی بتانے والا نہیں تھا اور میرا ہاتھ تھامنے والا کوئی نہ تھا۔مجھے اپنے پاس رکھیں، میں اسلام قبول کرتا ہوں۔کیا مجھے اپنا نام بدلنا پڑے گا؟‘‘’’نہیں !‘‘خالدؓ نے کہا۔’’تمہارا نام پہلے ہی اسلامی ہے۔‘‘خالدؓ نے اسے مسلمان کر لیا اور اس سے پوچھنے لگے کہ کمند کہاں اور کس طرح لگائی جائے،اور اندر کی طرف دروازے کی حفاظت کا کیا انتظام ہے؟
یونس ابن مرقس نے انہیں پوری تفصیل سے سب کچھ بتایا۔یونس ابن مرقس کو اتنا ہی معلوم تھا کہ دو تین دن لڑائی نہیں ہو گی،اور کل رات لوگ ایک جشن یا تقریب منائیں گے۔اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ رومی سالار توماہمت ہار چکا ہے،اور وہ کوئی اور چال چل رہا ہے۔یہ چال توما اور اس کے مشیروں نے مل کر سوچی تھی۔جس طرح مسلمانوں کے پاس اسی علاقے کے جاسوس موجود تھے ۔اسی طرح رومیوں کے پاس ایسے جاسوس موجود تھے جو خالدؓ اور اس کے تمام سالاروں کے کردار اور عادات کے تعلق پوری واقفیت رکھتے تھے۔یہ عرب کے عیسائی تھے اور مکہ ،مدینہ اور انہی علاقوں کے رہنے والے یہودی بھی تھے۔یہ سب صرف جاسوس ہی نہیں تھے بلکہ ان میں سے دو چار توما کے مشیر بھی بنے ہوئے تھے۔توما نے باہر نکل کر مسلمانوں پر حملے کیے تھے پورا زور لگا لیا تھا مگر صرف جانی نقصان کے اسے کچھ بھی حاصل نہ ہو اتھا۔شہریوں نے اسے الگ پریشان کر رکھا تھا۔ شہر میں خوراک ختم تھی اور اس کی اپنی حالت یہ تھی کہ ایک تیر کا اگلا حصہ اس کی آنکھ میں اترا ہوا تھا اور اوپر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ ’’پھر بھی میں شہر کو تباہی اور لوٹ مار سے اور لوگوں کے قتلِ عام سے بچانا چاہتا ہوں۔‘‘ توما نے اپنے سلاروں اور مشیروں کو بلاکر انہیں اپنی صورتِ حال بتائی اور کہا کہ ہم لڑ نہیں سکتے۔مسلمان آسانی سے اندر نہیں آسکتے لیکن اناج اور رسد کا جو حال ہے وہ تم سب جانتے ہو مسلمانوں نے صرف محاصرہ ہی جاری رکھا تو لوگ بھوک سے مرنے لگیں گے۔‘‘’’اور وہ بغاوت بھی کر سکتے ہیں۔‘‘ایک مشیر نے کہا۔’’بغاوت کریں یا نہ کریں۔‘‘توما نے کہا۔’’ یہ میرافرض ہے کہ انہیں ہر تکلیف سے بچائے رکھوں۔مجھے تمہارے مشوروں کی ضرورت ہے ۔کیا کوئی ایسی صورت ہو سکتی ہے کہ ہم شہر خالی کرنا چاہیں تو مسلمان ہمیں اجازت دید یں اور ہمیں کوئی نقصان نہ اٹھانا پڑے۔‘‘’’خالدابنِ ولید بڑا جابر سالار ہے ۔‘‘ایک یہودی مشیر نے کہا۔’’وہ ہمیں پر امن طریقہ سے نہیں نکلنے دے گا۔ا س کی فوج کا جو نقصان ہو چکا ہے وہ بھی نہیں بخشے گا۔ ہمیں کہے گا اسلام قبول کرو۔‘‘’’یہ میں کبھی نہیں کروں گا۔‘‘توما نے کہا۔’’اگر آپ نہیں کریں گے تو وہ آپ سے اتنا تاوان مانگے گا جو آپ اپنے خزانے کے علاوہ لوگوں کے گھروں سے اکٹھا کریں تو بھی مشکل سے پورا ہوگا۔‘‘یہودی مشیر نے کہا۔
توما گہری سوچ میں پڑ گیا۔

(جاری ھے)
جزاکم اللہ خیرا

شمشیرِ بے نیام، حضرت خال بد ولید رضی اللہ عنہ


شمشیرِ بے نیام، حضرت خال بد ولید رضی اللہ عنہ 
( قسط نمبر75
)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
شرجیلؓ بن حسنہ نے خالدؓ بن ولید کو لڑائی کی ساری روئیداد سنائی اور یہ بھی بتایا کہ رومی سالار توما اگر مرا نہیں تو وہ لڑائیکیلئے ناکارہ ہو گیا ہے ۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی کتنی نفری شہید اور کتنی نفری زخمی ہو گئی ہے۔’’اگر رومیوں نے ایسا ہی ایک اور حملہ کیا تو شاید ہم نہ روک سکیں۔‘‘شرجیلؓ نے خالدؓ سے کہا۔’’مجھے کمک کی ضرورت ہے۔‘‘’’حسنہ کے بیٹے!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’ایسا حملہ کسی اور دروازے سے ہم میں سے کسی اور پر بھی ہو سکتا ہے۔کسی بھی دستے کی نفری کم نہیں کی جاسکتی……ابنِ حسنہ!خدا کی قسم، تو ہمت ہارنے والوں میں سے نہیں تھا۔کیا اپنے اتنے زیادہ ساتھیوں کے خون نے تیرا حوصلہ کمزور کر دیا ہے؟‘‘’’نہیں ابنِ ولید!‘‘شرجیلؓ نے کہا۔’’اگر مجبوری ہے تو میں ایک آدمی کی بھی کمک نہیں مانگوں گا۔‘‘’’میں تجھے تنہا نہیں چھوڑوں گا۔ تفصیل سے پڑھئے
‘‘خالدؓ نے کہا۔’’تجھ پر حملہ ہوا تو ہم دیکھتے رہیں گے، اگر حملہ تیری برداشت سے باہر ہوا تو ضرار تیری مدد کو پہنچے گا۔پھر بھی ضرورت پڑی تو میں آجاؤں گا……تیرے پاس جتنی بھی نفری رہ گئی ہے اسے تیار رکھ۔ رومیوں کے سالار کو اگر آنکھ میں تیر لگا ہے تو ایک دو دن رومی باہر آکر حملہ نہیں کریں گے۔‘‘خالدؓ کی رائے صحیح نہیں تھی،توما نے ایک معجزہ کر دکھایا تھا۔وہ صحیح معنوں میں جنگجو تھا۔چونکہ وہ شاہی خاندان کافرد تھا، اس لیے سلطنتِ روم کی جو محبت اس کے دل میں تھی وہ قدرتی تھی۔بعد میں پتا چلا تھا کہ اس کی آنکھ میں تیر لگا تو اسے اٹھا کر اندر لے گئے۔جراح نے دیکھا کہ تیر اتنا زیادہ اندر نہیں اترا کہ توما کی ہلاکت کا باعث بن جائے۔کھوپڑی کی ہڈی کو تیر نے مجروح نہیں کیا تھا۔یہ صرف آنکھ میں اترا لیکن نکالا نہیں جا سکتا تھا۔
’’کاٹ دو اسے!‘‘توما نے جراح سے کہا۔’’باقی اندر ہی رہنے دو،اور اس آنکھ پر پٹی باندھ دو،دوسری آنکھ پر پٹی نہ آئے۔میں آج رات ایک اور حملہ کروں گا۔‘‘’’سالارِ اعلیٰ!‘‘جراح نے کہا۔’’کیا کہہ رہے ہیں آپ؟آپ لڑائی کے قابل نہیں۔‘‘’’اس ایک آنکھ کے بدلے مسلمانوں کی ایک ہزار آنکھیں ضائع کروں گا۔‘‘توما نے کہا۔’’میں انہیں صرف شکست نہیں دوں گا، میں ان کے وطن عرب تک ان کا تعاقب کروں گا۔میں اپنے کام کو اس وقت مکمل سمجھوں گا جب ان کے ملک کو اس قابل رہنے دوں گا کہ وہاں صرف جانور رہ جائیں گے۔‘‘توما کے یہ الفاظ متعدد مؤرخوں نے لکھے ہیں اور واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے۔ان میں یورپی تاریخ دان ہنری سمتھ خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ان سب کی تحریروں کے مطابق توما کے حکم سے جراح نے تیر آنکھ کے قریب سے کاٹ دیااور اوپر پٹی کس کر باندھ دی۔یہ جذبے اور عزم کی پختگی کا کرشمہ تھا کہ تومانے اتنے شدید زخم کو برداشت کر لیا اور حکم دیا کہ آج ہی رات باہر نکل کر مسلمانوں پر حملہ کیا جائے گا۔’’اتنی ہی فوج بابِ توما کے سامنے اکٹھی کی جائے جتنی میں دن کے حملے میں لے کر گیا تھا۔‘‘توما نے حکم دیا اور اٹھ کھڑا ہوا۔چلتے چلتے اس نے شراب پی اور ہتھیار بند ہو کر باہر نکل گیا۔
اُن راتوں کو چاند پورا ہوتا تھا۔فضاء صاف رہتی تھی۔اس لئے چاندنی شفاف ہوتی تھی۔توما نے بڑا اچھا طریقہ اختیار کیا۔اس نے اپنے تمام دستوں کے کمانڈروں کو حکم دیا کہ تین اور دروازوں بابِ صغیر، بابِ شرق، اور بابِ جابیہ۔سے باہر جا کر مسلمانوں پر اس طرح حملے کریں کہ اپنے آپ کو لڑائی میں اتنا زیادہ نہ الجھائیں بلکہ انہیں اپنے ساتھ لڑائی میں مصروف رکھیں، وہ خود بڑا حملہ بابِ توما سے کر رہا تھا۔دوسرے دروازوں سے حملے کرانے سے اسکا مطلب یہ تھا کہ شرجیلؓ کو کسی طرف سے مدد نہ مل سکے۔’’تمہارا دشمن اس وقت حملے کی توقع نہیں رکھتا ہوگا۔‘‘توما نے اپنے نائب سالاروں سے کہا۔’’تم انہیں سوتے میں دبوچ لو گے۔‘‘توما کی فوج چار دروازوں سے باہر نکلی۔وقت آدھی رات کا تھا۔چاندنی اتنی صاف تھی کہ اپنے پرائے کو پہچانا جا سکتا تھا، مسلمانوں پر چار جگہوں سے حملے ہوئے،ایک دروازے کے سامنے سالار ابو عبیدہؓ تھے، دوسرے کے سامنے یزیدؓ بن ابو سفیان تھے، ابو عبیدہؓ نے رومیوں کو جلدی بھگا دیا اور رومی قلعے میں واپس چلے گئے۔یزیدؓ بن ابو سفیان کی حالت کمزور سی ہو گئی۔رومیوں نے ان پر بڑا ہی شدید ہلہ بولا تھا۔یزیدؓ نے مقابلہ تو کیا لیکن رومی ان پر حاوی ہوتے جا رہے تھے ۔ضرار بن الازور مدد دینے کے کام پر معمور تھے ۔انہیں پتا چلا کہ یزیدؓ کو مدد کی ضرورت ہے تو وہ دو ہزار سوار اور پیادہ مجاہدین کے ساتھ یزیدؓ کے پاس پہنچ گئے۔ضرار کی جسمانی حالت لڑنے کے قابل نہیں تھی،ان کے بازو میں تیر لگا تھا اور جسم پر دو تین اور گہرے زخم تھے۔پھر بھی وہ میدانِ جنگ میں موجود تھے اور ان کی برچھی پورا کام کر رہی تھی۔ضرار نے اپنی اور یزیدؓ کی فوج کو ملا کر حملے کا حکم دیا۔یہ بڑا ہی شدید حملہ تھا،رومیوں پر ایسا رعب طاری ہوا کہ وہ قلعے میں واپس چلے گئے۔ان کی لاشیں اور زخمی پیچھے رہ گئے۔تیسرے دروازے کے سامنے رافع بن عمیرہ کے دستے تھے۔ان پر بھی رومیوں نے شدید حملہ کیا اور رافع کے پاؤں اکھاڑ دیئے۔مسلمان بڑی بے خوفی سے لڑرہے تھے لیکن رومیوں کا دباؤ بڑا سخت تھا۔اتفاق سے خالدؓ نے دیکھ لیا اور وہ چار سو سواروں کو ساتھ لے کر رافع کے پاس پہنچے۔’’میں فارس جلیل ہوں!‘‘خالدؓ نے نعرہ لگایا۔’’میں خالد ابنِ ولید ہوں۔‘‘خالدؓ نے رومیوں پر صرف چار سو سواروں سے حملہ کر دیا۔رومی جو رافع کے دستوں پر غلبہ پا رہے تھے ، پیچھے کو دوڑ پڑے، اور دروازے میں داخل ہو کر دروازہ بند کر دیا۔
اصل لڑائی تو بابِ توماکے سامنے ہو رہی تھی۔توما نے خود وہاں حملہ کیا تھا۔شرجیلؓ کی نفری تھوڑی تھی۔مجاہدین کی تعداد کم رہ گئی تھی،اور وہ دن کی لڑائی کے تھکے ہوئے بھی تھے ۔شرجیلؓ نے اب بھی پہلوؤں کے تیر اندازوں کو استعمال کیا ۔رومی تیر کھا کھاکر گرتے تھے
لیکن حملے کیلئے آگے بڑھے آرہے تھے۔شرجیلؓ نے دن کے حملے میں توما کی گرجدار آواز سنی تھی، انہوں نے رات کو بھی اسی آواز کی للکار سنی تو وہ حیران رہ گئے کہ توما حملے کی قیادت کر رہا ہے۔یہی وجہ تھی کہ رومی تیروں کی بوچھاڑوں میں بھی آگے بڑھے آرہے تھے۔چاندنی رات میں دونوں فوجوں کی بڑی سخت ٹکر ہوئی۔شرجیلؓ کے مجاہدین نے حملہ روک لیا اور بڑی خونریز لڑائی ہوتی رہی۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ یہ لڑائی کم و بیش دو گھنٹے جاری رہی اور وہ دونوں فوجوں کے آدمی گرتے رہے۔شرجیلؓ کو کسی طرف سے بھی مدد ملنے کی توقع نہیں تھی۔ لڑائی شدت اختیار کرتی گئی۔شرجیلؓ کو توما کی آواز حیران کر رہی تھی، اور توما شرجیلؓ کو ڈھونڈ رہا تھا۔اس کی دلیری غیر معمولی تھی۔اسے چاندنی میں مسلمانوں کا پرچم نظر آگیا، اور وہ شرجیلؓ کو للکار کر ان کی طرف بڑھا۔شرجیلؓ اس کے مقابلے کیلئے تیار ہو گئے۔
’’ایک آنکھ کے بدلے ایک ہزار آنکھیں لوں گا۔‘‘توما نے کہا۔’’خدا کی قسم!تو دوسری آنکھ بھی دینے آیا ہے۔‘‘شرجیلؓ نے کہا۔دونوں آمنے سامنے آگئے،اور دونوں گھوڑوں سے اترآئے۔دونوں کے ہاتھوں میں تلواریں اور ڈھالیں تھیں اور دونوں تیغ زنی کے ماہر تھے۔شرجیلؓ کو توقع تھی کہ توما کی ایک ہی آنکھ ہے اور اس کی دوسری آنکھ بھی زخمی ہے اس لیے وہ لڑ نہیں سکے گالیکن وہ پوری مہارت سے لڑ رہا تھا۔شرجیلؓ کو یہ تو معلوم ہی نہیں تھا کہ تیر ابھی توما کی آنکھ میں ہی ہے۔شرجیلؓ کا ہر وار توما بچا جاتا تھا، اور توما کا ہر وار شرجیلؓ بچا رہے تھے۔شرجیلؓ نے ایک وار بڑا ہی زور دار کیا، ان کی تلوار پہلے توما کی آہنی خود پر لگی، اور وہاں سے پھسل کر کندھے پر لگی جہاں آہنی زرہ تھی۔اتنا زور دار وار لوہے پر پڑا تو تلوار ٹوٹ گئی۔توما نے للکار کر وار کیا، جو شرجیلؓ نے ڈھال پر لیا۔وہ اب تلوار کے بغیر تھے ،وار صرف روک سکتے تھے۔توما بڑھ بڑھ کر وار کر رہا تھا۔شرجیلؓ کے دو مجاہدین نے دیکھ لیا کہ شرجیلؓ تلوار کے بغیر خطرے میں ہیں تو وہ شرجیلؓ اور توما کے درمیان آگئے۔شرجیلؓ نے اِدھر اُدھر دیکھا،وہ کسی کی تلوار ڈھونڈ رہے تھے ۔کچھ دور انہیں اپنے ایک شہید مجاہد کی لاش کے قریب اس کی تلوار پڑی نظر آئی۔انہوں نے دوڑ کر تلوار اٹھا لی اور واپس آئے لیکن توما وہاں نہیں تھا،شرجیلؓ نے اپنے دونوں مجاہدین سے پوچھا کہ توما کہاں ہے؟انہوں نے بتایا کہ وہ پیچھے ہٹتے ہٹتے لڑائی کے ہنگامے میں گم ہو گیا ہے۔انہوں نے اسے گھوڑے پر سوارہوتے دیکھا تھا۔
شرجیلؓ کے اعصاب پر بڑا تکلیف دہ دباؤتھا۔انہیں پوری طرح یقین نہیں تھا کہ وہ رومیوںکو شکست دے سکیں گے۔لڑنے میں شرجیلؓ اور ان کے دستے نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔انہوں نے چند سو سواروں کو الگ کرکے پہلو سے رومیوں پر ایک زور دار ہلّہ بولا۔کچھ تو اس ہلّے نے کام کیا،کچھ رومی مایوس ہو گئے اور وہ پیچھے ہٹنے لگے،رومیوں میں یہ خوبی تھی کہ وہ بے ترتیب ہو کر نہیں بھاگتے تھے بلکہ ترتیب اور تنظیم سے پیچھے ہٹتے تھے۔شرجیلؓ نے انہیں پیچھے ہٹتے دیکھا تو ان کے پیچھے نہ گئے کیونکہ مسلمانوں کی نفری تھوڑی رہ گئی تھی۔شرجیلؓ خطرہ مول لینا نہیں چاہتے تھے،پیچھے جانے کے بجائے انہوں نے تیراندازوں کو آگے کرکے پیچھے ہٹتے ہوئے رومیوں پر تیروں کا مینہ برسا دیا۔رومی اپنی لاشوں اور زخمیوں کو پیچھے چھوڑتے،دروازے میں جا کر غائب ہو گئے۔رومی جس دروازے سے بھی باہرآئے تھے وہ لاشیں اور زخمی پھینک کر اُسی دروازے سے اندر چلے گئے۔سب سے بڑا حملہ توما نے کیا تھا وہ بھی ناکام رہا۔اگر بات ناکامی تک ہوتی تو رومی ایسے حملے پھر بھی کر سکتے تھے لیکن انہیں جو جانی نقصان اٹھانا پڑاوہ ان کی برداشت سے باہر تھا۔ان کی نفری پہلے ہی کچھ اتنی زیادہ نہیں تھی اور اب تو آدھی رہ گئی تھی،توما کیلئے ایک دشواری یہ پیدا ہو گئی کہ جب شہر پناہ کے دروازے بند ہو گئے اور توما شہر میں آکر رکا تو کئی شہریوں نے اسے گھیر لیا۔’’سالارِ معظم!‘‘ایک آدمی نے کہا۔’’ہم سلطنتِ روم کے وفادار ہیں۔ہم نہیں چاہتے کہ روم کی شہنشاہی کو مزید نقصان پہنچے۔ہم پہلے ہی عرض کر چکے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ صلح کی بات کی جائے۔‘‘’’شہریوںمیں جو بے چینی اور بد امنی پھیل چکی ہے اسے آپ نہیں دیکھ رہے۔‘‘ایک اور نے کہا۔’’فوج جو نقصان اٹھا چکی ہے وہ آپ کے سامنے ہے اور آپ خود بھی زخمی ہیں، خطرہ ہی ہے کہ شہری جو اب نیم فاقہ کشی تک پہنچ گئے ہیں اپنی ہی فوج کیلئے نقصان کا باعث بن جائیں گے۔‘‘توما جابر قسم کا سالار تھا۔اس کی دلیری اور عزم کی پختگی میں کوئی شک نہیں تھا لیکن اس کی حالت یہ ہو گئی تھی کہ جو شہری اس کے ساتھ بات کرتا تھا وہ اس شہری کی طرف دیکھنے لگتا تھا۔یہ وہ توما تھا جو کسی کی بات برداشت نہیں کرتا تھا۔اس کے چہرے کے تاثرات میں شکست صاف نظر آرہی تھی۔اس نے اپنی اس آنکھ پر ہاتھ رکھ لیا جس کے اندر تیر کا ایک ٹکڑا موجود تھااور اوپر پٹی بندھی ہوئی تھی۔صاف پتا چلتا تھا کہ اسے یہ زخم پریشان کر رہا ہے۔’’مجھے سوچنے دو۔‘‘اس نے ہاری ہوئی آواز میں کہا۔’’میں صلح کر لوں گا لیکن کوئی ایسی شرط نہیں مانوں گا جو روم کی شہنشاہی کی تذلیل کا باعث بنے۔‘‘

(جاری ھے)
جزاکم اللہ خیرا

شمشیرِ بے نیام، حضرت خال بد ولید رضی اللہ عنہ


شمشیرِ بے نیام، حضرت خال بد ولید رضی اللہ عنہ
( قسط نمبر74
)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تم نہ کہتے تو بھی ہم اس بستی کی طرف دیکھنا گوارا نہ کرتے۔‘‘ایک مسلمان سوار نے کہا۔’’ان لوگوں سے کہو کہ ہم سے نہ ڈریں، ہم تم سب کے محافظ ہیں،ہم پانی پی کر چلے جائیں گے۔‘‘دونوں عربوں نے بستی کے لوگوں سے کہا کہ وہ ڈریں نہیں اور اپنے گھروں میں رہیں۔ان عربوں نے سواروں کو اور ان کے گھوڑوں کو پانی پلایا،اور اس دوران وہ سواروں کے ساتھ باتیں بھی کرتے رہے۔باتوں باتوں میں ان عربوں نے سواروں کو بتایا کہ ایک گھوڑے پر رومیوں نے ایک آدمی کو باندھ رکھا تھااس کا سر ننگا تھا اور اس کی قمیض بھی نہیں تھی اور اس کے ایک بازو پر پٹیاں بندھی ہوئی تھیں۔’’اسے انہوں نے یہاں پانی پلانے کیلئے روکا تھا۔‘‘ایک عرب نے بتایا۔’’وہ تمہارا ساتھی معلوم ہوتا تھا۔‘‘مسلمان سواروں کو شک نہ رہا۔یہ ضرار تھے۔سواروں نے ان عربوں سے مزید معلومات لیں۔ضرار کے ساتھ تقریباً ایک سو رومی تھے۔وہ رومی لشکر کی پسپائی سے بہت پہلے وہاں سے گزرے تھے اور وہ حمص کی طرف جا رہے تھے۔مسلمان سواروں نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ وہ پیچھے جاکر سپہ سالار کو ضرار بن الازور کے متعلق یہ اطلاع دے۔’’الحمدﷲ!‘‘خالدؓ نے یہ خبر سن کر کہا۔’’ضرار زندہ ہے اور وہ زندہ رہے گا۔انہوں نے اسے قتل کرنا ہوتا تو کر چکے ہوتے۔وہ اسے اپنے بادشاہ کے پاس لے جا رہے ہیں……ابنِ عمیرہ کو بلاؤ۔‘‘رافع بن عمیرہ آئے تو خالدؓ نے انہیں ضرار کے متعلق جو اطلاع ملی تھی، پوری سنا کرکہا کہ وہ ایک سو سوار چن لیں جو جان پر کھیلنے والے شہسوار ہوں،انہیں ساتھ لے کر حمص کی طرف ایک ایسا راستہ اختیار کریں جو راستہ نہ ہو۔مطلب یہ تھا کہ راستہ چھوٹا کرکے حمص کی طرف جائیں اور ان ایک سو رومیوں کو روکیں، اور ابن الازور کو رہا کرائیں۔رافع جب سواروں کا انتخاب کر رہے تھے تو ضرار کی بہن کو پتا چل گیا کہ رافع ضرار کو آزاد کرانے جا رہے ہیں،وہ رافع کے پاس دوڑی گئیں اور کہنے لگیں کہ وہ بھی ان کے ساتھ جائیں گی۔’’نہیں بنت الازور!‘‘رافع نے کہا۔’’خدا کی قسم!جو کام ہمارا ہے، وہ ہم ایک عورت سے نہیں کرائیں گے۔تجھے تیرا بھائی چاہیے۔وہ تمہیں مل جائے گا۔نہیں ملے گا تو ہم بھی واپس نہیں آئیں گے۔‘‘’’میں اگر سپہ سالار سے اجازت لے لوں!‘‘’’ابنِ ولید تجھے اجازت نہیں دے گا الازور کی بیٹی!‘‘رافع نے کہا۔خولہ مایوس ہو گئیں۔رافع چنے ہوئے ایک سو سواروں کے ساتھ بڑی عجلت سے روانہ ہوگئے۔انہوں نے حمص کی طرف جانے والے راستے کا اندازہ کر لیا تھا۔وہ اس راستے سے دور دور تیز رفتار سے گھوڑے دوڑاتے گئے، وہ زیادہ دور نہیں گئے ہوں گے کہ ایک طرف سے ایک گھوڑا سر پٹ دوڑتا آ رہا تھا۔وہ رومی نہیں ہو سکتا تھا،رومی ہوتا تو اکیلا نہ ہوتا۔وہ خالدؓ کا قاصد ہو سکتا تھا ، کوئی نیا حکم لایا ہوگا۔وہ قریب آیا تو اس کا سبز عمامہ اور چہرے پر کپڑے کا نقاب نظر آیا۔’’ابنِ عمیرہ!‘‘سوار نے للکار کر کہا۔’’اپنے بھائی کو آزاد کرانے کیلئے میں آگئی ہوں۔‘‘
’’کیا سپہ سالار نے تجھے اجازت دے دی ہے؟‘‘رافع نے پوچھا۔’’اپنے بھائی کو قید سے چھڑانے کیلئے مجھے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔‘‘خولہ بنت الازور نے کہا۔’’اگر تو مجھے اپنے سواروں میں شامل ہونے نہیں دے گا تو میں اکیلی آگے جاؤں گی۔‘‘’’خدا کی قسم بنتِ الازور!‘‘رافع نے کہا۔’’میں تجھے اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔آہمارے ساتھ چل۔‘‘یہ جواں سال عورت ساتھ چل پڑی۔ایک سو رومی سوار ضرار بن الازور کو گھوڑے پر اس حالت میں بٹھائے لے جا رہے تھے کہ ان کے ہاتھ رسیوں سے بندھے ہوئے تھے اور پاؤں اس طرح بندھے ہوئے تھے گھوڑے کے پیٹ کے نیچے سے رسی گزار کر دونوں ٹخنوں سے بندھی ہوئی تھی۔رومی ان پر پھبتیاں کستے اور ان کا مذاق اڑاتے جا رہے تھے، اور ضرار چپ چاپ سنتے جا رہے تھے،ایک جگہ راستہ نشیب میں چلا جاتا تھا، اس کے دائیں بائیں علاقہ کھڈوں کا تھا،جب رومی اس نشیب میں سے گزر رہے تھے تو اچانک دائیں بائیں، آگے اور پیچھے سے رافع کے سواروں نے ان پر ہلہ بول دیا۔رومیوں کیلئے یہ حملہ غیر متوقع تھا۔وہ اس طرح جا رہے تھے جیسے میلے پر جا رہے ہوں۔ضرار کی بہن خولہ نے اپنے بھائی کو دیکھا تو اس نے رومیوں پر اس طرح حملے شروع کر دیئے جس طرح وہ پوری رومی فوج پر کر چکی تھی۔رافع بھی ایسے ہی جوش میں تھے۔ان کے سوار ہزاروں میں سے چنے ہوئے تھے۔انہوں نے رومیوں کا ایسا برا حال کر دیا کہ ان میں سے جو مرے نہیں یا زخمی نہیں ہوئے تھے بھاگ اٹھے۔خطرہ یہ تھا کہ رومی ضرار کو قتل کردیں گے۔ان کی بہن تلوار اور برچھی چلاتی ضرار تک پہنچ گئی،رومیوں نے ان کی یہ کوشش کامیاب نہ ہونے دی لیکن رافع نے ایسا ہلہ بولا کہ رومی سوار بکھر گئے۔پھر فرداً فرداً بھاگ اٹھے۔سب سے پہلے ضرار نے رافع سے ہاتھ ملایااور جب بہن بھائی ملے تو وہ منظر رقت انگیز بھی تھا اور ولولہ انگیز بھی۔بہن اپنے بھائی کے زخم دیکھنے کو بیتاب تھی۔بعض مؤرخوں نے خولہ کے یہ الفاظ لکھے ہیں:’’میرے عزیز بھائی!میرے دل کی تپش دیکھ ، کس طرح ترے فراق میں جل رہا ہے۔‘‘’’اپنے زخم دکھاؤ ضرار!‘‘بہن نے بیتابی سے کہا۔’’مت دیکھو خولہ!‘‘ضرار نے بہن سے کہا۔’’اور یہ زخم مجھے بھی نہ دیکھنے دو۔یہ زخم دیکھنے کا وقت نہیں۔‘‘ضرار نے رافع اور ان کے سواروں سے کہا۔’’چلو دوستو!رومی کہاں ہیں؟دمشق کے محاصرے کا کیا بنا؟‘‘
رومی لڑ بھی رہے تھے اور پسپا بھی ہو رہے تھے۔یہ ان کی تنظیم بھی تھی اور جرات بھی کہ وہ بھاگ نہیں رہے تھے۔ایک ایسی جگہ آگئی جس کے دونوں طرف چٹانیں اور کچھ بلند ٹیکریاں تھیں۔رومی لشکر کو سکڑنا پڑا۔خالدؓ نے اپنے دونوں پہلوؤں کے سالاروں سے کہا کہ وہ چٹانوں کی دوسری اطراف میں نکل جائیں،اور سر پٹ رفتار سے رومیوں کے عقب میں چلے جائیں۔رومی نہ دیکھ سکے کہ چٹانوں کے پیچھے سے ان پر کیا آفت ٹوٹنے والی ہے۔خالدؓ نے تعاقب کی رفتار کم کر دی۔رومی سمجھے ہوں گے کہ مسلمان تھک گئے ہیں۔انہوں نے پسپائی روک لی۔خالدؓ نے اپنے دستوں کو روک لیا۔
اچانک عقب سے رومیوں پر قیامت ٹوٹ پڑی۔سامنے سے خالدؓ نے شدید حملہ کر دیا۔رومیوں کی یہ حالت ہو گئی کہ وہ گھوڑوں کو چٹانوں اور ٹیکریوں پر چڑھالے گئے،اور دوسری طرف اتر کر بھاگنے لگے۔توقع یہ تھی کہ رومی رسد وغیرہ کا جو ذخیرہ ساتھ لا رہے تھے وہ مسلمانوں کے ہاتھ آجائے گا۔لیکن رومیوں نے گھوڑا گاڑیوں اور اونٹوں کو پہلے ہی حمص روانہ کر دیا تھا۔حمص کی طرف جانے والی رہگزر پر رومیوں کی لاشیں بکھری ہوئی تھیں۔زخمی تڑپ اور کراہ رہے تھے۔ان کے گھوڑے اِدھر اُدھر آوارہ پھر رہے تھے۔مجاہدین نے حکم ملتے ہی اپنے ساتھیوں کی لاشیں اور زخمیوں کو اٹھانا، زخمی اور مرے ہوئے رومیوں کے ہتھیاروں کو اکٹھا اور ان کے گھوڑوں کو پکڑنا شروع کر دیا۔’’کاش!میرے پیچھے دمشق نہ ہوتا۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’میں دشمن کے ایک آدمی کو بھی دمشق تک نہ پہنچنے دیتا۔‘‘خالدؓ نے تعاقب ترک کر دیا۔لیکن اس خطرے کے پیشِ نظر کہ رومی کہیں اکٹھے یا حمص سے کمک منگوا کرواپس نہ آجائیں۔اپنے ایک سالار سمط بن الاسود کو بلایا۔’’ایک ہزار سوار اپنے ساتھ لو اور رومیوں کے پیچھے جاؤ۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’انہیں کہیں اکٹھے نہ ہونے دینا۔جنگی قیدی نہیں لینے۔جو سامنے آئے اسے ختم کرو۔فوراً روانہ ہو جاؤ۔‘‘’’ولید کے بیٹے!‘‘خالدؓ کو کسی کی پکار سنائی دی۔’’وہ آگیا میرا ننگا جنگجو!‘‘خالدؓ نے ضرار کو آتے دیکھ کر نعرہ لگایا۔ضرار کو اپنے زخموں کی پرواہ نہیں تھی، وہ گھوڑے سے کود کر اترے۔خالدؓ بھی کود کر اترے اور تاریخِ اسلام کے دو عظیم مجاہد ایک دوسرے کے بازوؤں میں جکڑ گئے۔خولہ گھوڑے پر سوار تھی۔اس کا چہرہ نقاب میں تھا۔صرف آنکھیں نظر آتی تھیں۔جن کی چمک اور زیادہ روشن ہو گئی تھی۔
’’خدا کی قسم ابن الازور!‘‘خالدؓنے کہا۔’’تیری بہن نے تیری خاطر میرا بھی منہ پھیر دیا تھا۔‘‘’’اس بہن پر اﷲکی رحمت ہو۔‘‘ضرار نے کہا۔’’تو مجھے بتا میں کیا کروں؟‘‘’’کیا تو محسوس نہیں کر رہا کہ تجھے آرام کرنا چاہیے؟‘‘خالدؓ نے کہا۔’’پہلے جرّاح کے پاس جا، اور اسے اپنے زخم دِکھا۔‘‘ضرار بن الازور جراح کے پاس تو چلے گئے لیکن صرف پٹیاں بندھوا کر واپس آگئے۔سالار سمط بن الاسود رومیوں کے تعاقب میں گئے۔رومی بری طرح بھاگے جا رہے تھے ان کی آدھی نفری تو لڑائی اور پسپائی میں ختم ہو گئی تھی اور باقی نصف بکھر گئی تھی۔سمط جب حمص کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ رومی حمص کے قلعے میں داخل ہونے جا رہے ہیں۔اس دور میں حمص ایک قلعہ بند قصبہ ہوا کرتا تھا۔سمط وہاں جا کر رُک گئے۔انہیں معلوم نہیں تھا کہ قلعہ کے اندر کتنی فوج ہے، پھر بھی انہوں نے اپنے ہزار سواروں کو قلعے کے اردگرد اس انداز سے دوڑایا جیسے وہ محاصرہ کرنا یا قلعے پر حملہ کرنا چاہتے ہوں۔قلعے کا دروازہ کھلا اور تین چار آدمی جو فوجی نہیں تھے باہر آئے۔وہ رومی نہیں مقامی باشندے تھے۔سالار سمط بن الاسود نے انہیں اپنے پاس بلایا۔
’’کیوں آئے ہو؟‘‘سمط نے پوچھا۔’’امن اور دوستی کا پیغام لے کر آئے ہیں۔‘‘ایک نے کہا۔’’رومی مزید لڑائی نہیں چاہتے۔‘‘’’کیا تمہارا شہنشاہ ہرقل بھی مزید لڑائی نہیں چاہتا؟‘‘سمط نے پوچھا۔’’ہم شہنشاہِ روم کی ترجمانی نہیں کر سکتے۔‘‘حمص کے ایک شہری نے کہا۔’’ہم یہ پیہغام لائے ہیں کہ حمص والے نہیں لڑنا چاہتے۔آپ جس قدر سامانِ خوردونوش چاہتے ہیں ہم سے لے لیں۔آپ جتنے دن بھی یہاں قیام کرنا چاہتے ہیں کریں۔آپ کی فوج اور گھوڑوں کو خوراک ہم مہیا کریں گے۔‘‘کسی بھی تاریخ میں نہیں لکھا کہ سالار سمط نے حمص میں رومیوں سے صلح کی کیا شرائط منوائی تھیں۔وہ واپس آگئے۔خالدؓ اپنے لشکر کے ساتھ دمشق جا چکے تھے۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ خالدؓ جب دمشق پہنچے تو شہر کے اندر مایوسی اور خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی۔شہر والوں کو پہلے یہ اطلاع ملی تھی کہ انطاکیہ سے کمک اور رسد آرہی ہے۔اب انہیں اطلاع ملی کہ کمک کو مسلمانوں نے راستے میں ختم کر دیا ہے۔دمشق میں رومی سالار توما تھا جو شہنشاہِ ہرقل کا داماد تھا۔چند ایک شہری وفد کی صورت میں توما کے پاس گئے۔’’کیا آپ کو کسی نے بتایا ہے کہ لوگ کیا باتیں کر رہے ہیں؟‘‘ایک شہری نے کہا۔’’کیا تم لوگ یہ نہیں جانتے کہ یہ بزدلی ہے؟‘‘توما نے کہا۔’’ہم نے ابھی محاصرہ توڑنے کی کاروائی کی ہی نہیں،کیا تم لوگ مجھے یہ مشورہ دینے آئے ہو کہ میں مسلمانوں کے آگے ہتھیار ڈال دوں؟‘‘’’ہم سالارِ معظم کو شہر کی صورتِ حال بتانے آئے ہیں۔‘‘وفد کے ایک اور آدمی نے کہا۔’’شہر کے لوگ یہ سن کے ہراساں ہیں کہ جس فوج نے محاصرہ کر رکھا ہے اور ہماری کمک کو بھی ختم کر دیا ہے وہ اس شہر میں بھی داخل ہو جائے گی پھر گھر ہمارے لوٹے جائیں گے بچے ہمارے کچلے جائیں گے،اورلڑکیاں ہماری اٹھائی جائیں گی۔‘‘’’ہم یہاں تک نوبت نہیں آنے دیں گے۔‘‘سالار توما نے کہا۔’’سالارِ معظم!‘‘ایک اور شہری نے کہا۔’’آپ کو یقیناً معلوم ہو گا کہ نوبت کہاں تک پہنچ چکی ہے۔شہر میں خوراک کی اتنی کمی رہ گئی ہے کہ لوگوں نے دوسرے وقت کا کھانا چھوڑ دیا ہے، دو تین دنوں بعد صرف پانی رہ جائے گا۔غور کریں۔لوگ فاقہ کشی سے تنگ آکر بغاوت بھی کرسکتے ہیں۔یہ صورت سلطنتِ روم کیلئے اچھی نہیں ہوگی۔‘‘
’’کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ بغاوت کی سزا کیا ہے ۔‘‘توما نے شاہی رعب سے کہا۔
’’ہم جانتے ہیں سالارِ اعلیٰ!‘‘وفد کے ایک آدمی نے کہا۔’’ہم آپ کوقحط اور اس سے پیدا ہونے والی بغاوت کے نتائج بتانے آئے ہیں، کیا اس تباہی سے اور لوگوں کو بھوکا مارنے سے بہتر نہ ہوگا کہ آپ مسلمانوں سے صلح کر لیں؟‘‘’’دشمن سے صلح کا مطلب ہوتا ہے ہتھیار ڈالنا۔‘‘توما نے کہا۔’’میں لڑے بغیر کوئی ایسا فیصلہ نہیں کروں گا جو روم کی عظیم سلطنت کی توہین کا باعث ہو۔ہم اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں اور تم لوگ ایک وقت کی بھوک برداشت نہیں کر سکتے……جاؤ۔کل تک انتظار کرو۔‘‘وہ ستمبر ۶۳۴ء کے تیسرے ہفتے کی ایک صبح تھی۔رومی سالار توما نے شہر کے ہر دروازے کی حفاظت کیلئے جو دستے متعین کیے ہوئے تھے ، ان سب میں سے زیادہ سے زیادہ نفری نکال کر اکٹھی کی، اور وہ دروازہ کھلوایا جو اس کے اپنے نام سے موسوم تھا۔بابِ توما۔ اور اپنی قیادت میں مسلمانوں کے اس دستے پر حملہ کر دیا جو اس دروازے کے سامنے متعین تھا۔یہ پانچ ہزارمسلمان سواروں کا دستہ تھا۔جس کے سالار شرجیلؓ بن حسنہ تھے۔توما کے حملے کا انداز آج کے دور کی جنگ کا سا تھا۔اس نے دیوار اور بُرجوں سے مسلمانوں پر تیروں کی بوچھاڑیں مارنی شروع کیں اور اس کے ساتھ فلاخنوں سے سنگ باری کی۔تیروں اور پتھروں کے سائے میں توما نے اپنی فوج کو تیز حملے کیلئے آگے بڑھایا تھایہ طریقہ کارگر تھا۔مسلمان پیچھے ہٹنے پر مجبور نظر آنے لگے تھے اور ان کا دھیان تیروں اور پتھروں سے بچنے میں لگ گیا تھا۔’’کوئی پیچھے نہیں ہٹے گا۔‘‘سالار شرجیلؓ نے چلّا کر کہا۔’’تمام تیر انداز آگے ہو جاؤ۔‘‘مسلمان تیر اندازوں نے جوابی تیر اندازی شروع کر دی۔رومیوں کے پتھر اور تیر چونکہ اوپر سے آرہے تھے اور زیادہ بھی تھے اس لیے مسلمانوں کا نقصان زیادہ ہو رہا تھا۔پہلی بوچھاڑوں میں کئی مسلمان شہید ہو گئے۔ان کے تیروں نے رومیوں کا کچھ نقصان کیا لیکن یہ مسلمانوں کے مقابلے میں کم تھا۔مؤرخ واقدی، طبری اور ابو سعید نے ایک واقعہ بیان کیا ہے، رومی تیروں سے شہید ہونے والوں میں ایک مجاہد ابان بن سعید بھی تھے جن کا پورا نام ابان بن سعید بن العاصؓ تھا۔فوراً ہی ابان کی شہادت کی خبر پیچھے ان خیموں تک پہنچ گئی جن میں مسلمان خواتین اور بچے تھے۔ابان بن سعید کی بیوی بھی وہیں تھیں۔ان کی شادی ہوئے چند ہی دن گزرے تھے۔یہ خاتون لشکر کے ساتھ زخمیوں کی دیکھ بھال اور پانی پلانے کے فرائض کیلئے آئی تھیں،اور محاذ پر ہی اسے ابان شہید نے اپنے عقد میں لے لیا۔کسی بھی مؤرخ نے اس خاتون کا نام نہیں لکھا،اسے پتا چلا کہ اس کا خاوند شہید ہو گیا ہے تو وہ اٹھ دوڑی اور شرجیلؓ کے دستے میں جا پہنچی
’’کہاں ہے میرے خاوندکی لاش؟‘‘وہ چلّانے لگی۔’’کہاں ہے سعید کے بیٹے کی لاش؟‘‘پانچ ہزار گھوڑ سواروں میں جن پر تیر اور پتھر برس رہے تھے ، ابان بن سعید شہید کی بیوہ دوڑتی اور شہید کی لاش کا پوچھتی پھرتی تھی۔کسی نے اسے پیچھے جانے کوکہا اور یہ بھی کہ اس کے خاوند کی لاش اس کے پاس بھیج دی جائے گی لیکن وہ تو صدمے سے دماغی توازن کھو بیٹھی تھی۔کسی نے اسے وہ جگہ دِکھادی جہاں ابان کی لاش پڑی تھی۔ابھی لاشیں نہیں اٹھائی جا سکتی تھیں،ابان تیر انداز تھے۔ان کے جسم میں تین تیر اترے ہوئے تھے،اور وہ گھوڑے سے گر پڑے تھے۔ان کی کمان لاش کے قریب پڑی تھی اور ترکش میں ابھی کئی تیر موجود تھے۔ان کی بیوی نے کمان اور ترکش اٹھائی اور دوڑ کر تیر اندازوں کی صف میں جا پہنچی۔سامنے دیوار پر ایک پادری کھڑا تھا۔اس کے ہاتھ میں ایک بڑے سائز کی صلیب تھی،جو اس نے اوپر کر رکھی تھی۔یہ اس دور کا رواج تھا کہ صلیب فوج کے ساتھ رکھتے تھے تاکہ فوج کا یہ احساس زندہ رہے کہ وہ صلیب کی ناموس کی خاطر لڑ رہے ہیں۔ابان شہید کی بیوہ اپنے تیر اندازوں سے آگے نکل گئی۔اس کے قریب تیر گرنے اور زمین میں اترنے لگے۔اپنے تیر اندازوں نے اسے پیچھے آنے کو کہا۔لیکن وہ کسی کی سن ہی نہیں رہی تھی،اس کی بے خوفی خولہ بنتِ الازور جیسی تھی۔وہ جوں جوں آگے کو سرکتی جا رہی تھی۔اس کے قریب رومیوں کے آئے ہوئے تیر زمین پر کھڑے ہوتے جا رہے تھے۔یہاں تک کہ ایک تیر اس کے پہلو میں کپڑوں میں لگا اور وہیں لٹک گیا۔یہ تیر بھی اسے آگے بڑھنے سے نہ روک سکا۔آخر وہ رُک گئی اور اس نے کمان میں تیر ڈالا اور کمان سامنے کرکے شست باندھتے کچھ دیر لگائی،اس نے کمان اتنی زیادہ کھینچ لی جتنی زیادہ ایک تندرست مرد کھینچ سکتا ہے، اور اس نے تیر چھوڑ دیا۔اس کا تیر رومی تیروں کی بوچھاڑوں کو چیرتا ہوا اس پادری کی گردن میں اُتر گیا جسنے صلیب کو تھام رکھا تھا ۔پہلے اس کے ہاتھ سے صلیب گری اور لڑھکتی ہوئی باہر آپڑی۔پادری بھی پیچھے یا دائیں بائیں گرنے کے بجائے دیوار پر گرا اور صلیب کے پیچھے پیچھے باہر کی طرف آپڑا۔ابان شہید کی بیوہ نے نعرہ لگایا اور پیچھے آگئی۔’’میں نے انتقام لے لیا ہے……سہاگ کے بدلے صلیب گرا دی ہے……‘‘وہ تیر اندازوں سے آملی اور تیر چلاتی رہی۔صلیب اور پادری کے گرنے کا اثر مسلمانوں پر یہ ہوا کہ ان کا حوصلہ بڑھ گیا اور ان کا حوصلہ اس لیے بھی بڑھا کہ یہ تیر ایک عورت نے چلایا تھا۔صلیب کے گرنے کا اثر جو رومیوں پر ہوا وہ ان کے لڑنے کے جذبے کیلئے اچھانہ تھا۔
دروازہ بابِ توما کھل چکا تھا۔تومانے دیکھ لیا تھا کہ اس کی تیر اندازی اور سنگ باری نے مسلمانوں کی حالت کمزور کر دی ہے۔اس نے حملے کاحکم دے دیا۔عجیب بات یہ ہے کہ اس نے سواروں کے مقابلے میں سوار نہ نکالے۔ا ن پیادوں سے حملہ کرایا،اور کمان خود باہر آکر کی۔وہ سپاہیوں کی طرح لڑرہا تھا۔مؤرخ واقدی اور بلازری نے لکھا ہے کہ توماکی آواز ایسی تھی جیسے اونٹ بدمستی کی حالت میں بڑی بلند اور غصیلی آوازیں نکالتا ہے۔شرجیلؓ نے بڑی تیزی سے اپنے سواروں کو آمنے سامنے کی لڑائی کی ترتیب میں کرلیا۔تومانے یہ چال چلی کہ اپنے دستوں کو پھیلا دیا۔اس کی فوج کی تعداد مسلمانوں کی نسبت زیادہ تھی۔اس کے پیادے سواروں کا مقابلہ بڑی بے جگری اور مہارت سے کررہے تھے ۔شہر کے دوسرے دروازوں کے سامنے مسلمانوں کے جو دستے متعین تھے۔وہ اس وجہ سے شرجیلؓ کی مدد کو نہیں آرہے تھے کہ ایسا ہی حملہ دوسرے دروازوں سے بھی ہو سکتا تھا۔توماگرج اور دھاڑ رہا تھا۔اسے مسلمانوں کا پرچم نظر آگیا۔اس کا مطلب یہ تھا کہ مسلمانوں کا سالار وہاں ہے، وہ سیدھا اِدھر آیا،شرجیلؓ نے اسے دیکھ لیا اور تلوار سونت کر اس کے مقابلے کیلئے تیار ہو گئے۔دونوں نے ایک دوسرے کو للکارا، ان میں دس بارہ قدم فاصلہ رہ گیا ہوگا کہ ایک تیر توما کی دائیں آنکھ میں اُتر گیا،اس نے ہاتھ اس آنکھ پر رکھ لیے،اور وہ بیٹھ گیا۔شرجیلؓ نے آگے بڑھ کر اس پر حملہ نہ کیا۔توما کے محافظوں نے اس کے گرد حصار بنالیا پھر اسے اٹھا کر لے گئے۔مؤرخوں نے متفقہ طور پر لکھا ہے کہ وہ تیر ابان بن سعید کی بیوہ نے چلایا تھا۔اپنے سالارکے گرنے سے رومیوں کا حوصلہ بھی گر پڑا اور وہ پیچھے ہٹنے لگے۔شرجیلؓ کے پہلوؤں والے تیر اندازوں نے تیروں کی بوچھاڑیں مارنی شروع کر دیں۔رومی تیزی سے پیچھے ہٹے اور قلعے کے دروازے میں غائب ہوتے چلے گئے اور پیچھے جو لاشیں چھوڑ گئے ان کا کوئی حساب نہ تھا۔’’رومیوں کا سپہ سالار مارا گیا ہے۔‘‘مسلمانوں نے نعرے لگانے شروع کر دیئے۔’’ہم رومیوں کے قاتل ہیں……رومی سالار کو ایک عورت نے مارڈالا ہے……توما رومی کو اندھاکرکے مارا ہے……باہر آؤرومیو!اپنی صلیب اور پادری کو اٹھا لے جاؤ۔‘‘دیوار پر کھڑے رومی یہ نعرے سن رہے تھے،اور یہ نعرے شہر کے اندر بھی سنائی دے رہے تھے۔یہ نعرے رومی فوج اور دمشق کے شہریوں کے حوصلے اور جذبے کیلئے تیروں کی طرح مہلک تھے۔مسلمانوں کا جانی نقصان بھی کچھ کم نہیں تھا۔بہت سے مجاہدین رومیوں کے تیروں اور پتھروں سے شہید اور زخمی ہو گئے۔پھر اتنی تعداد لڑائی میں شہید ہوئی۔شرجیلؓ پریشان سے ہو گئے اور خالدؓ کے پاس گئے-

(جاری ھے)
جزاکم اللہ خیرا۔

شمشیرِ بے نیام، حضرت خال بد ولید رضی اللہ عنہ


شمشیرِ بے نیام، حضرت خال بد ولید رضی اللہ عنہ
( قسط نمبر73
)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
رومیوں نے دمشق کا دفاع تو بڑا اچھا کیا تھا لیکن شہر میں رسد اور خوراک کی اتنی کمی تھی کہ دس دنوں کے محاصرے میں ہی شہری ہر چیز کی قلت محسوس کرنے لگے تھے۔ہرقل کو اطلاع مل چکی تھی۔اس نے کمک بھیجی اور اس کے ساتھ خوراک کا ذخیرہ بھی بھیج دیا تھا۔
ضرار بن الازور کو بتایا گیا کہ رومی فوج کے ساتھ مال و اسباب بے حساب آرہا ہے تو ضرار نے جوش میں آکر حسبِ معمول زِرہ، خود، اور قمیض اتار پھینکی اور نیم برہنہ ہو کر انہوں نے اعلان کیا کہ بہت موٹا شکار آرہا ہے۔رومی جب پہاڑیوں میں آئے تو ضرار کی للکار پر مجاہدینِ اسلام گھات سے نکل کر رومیوں پر ٹوٹ پڑے۔توقع یہ تھی کہ رومی اچانک حملے سے گھبرا کر اور بوکھلا کر بھاگ اٹھیں گے لیکن ان کا درِ عمل ایسا بالکل نہیں تھا۔انہوں نے یہ چال چلی کہ پیچھے ہٹنے لگے اور درہ عقاب کے قریب اس جگہ جا رُکے جو ہموار میدان تھا اور یہ پہاڑی کی بلندی تھی۔انہوں نے سامان کی گاڑیاں پیچھے بھیج دیں اور ان کے پیچھے کی فوج آگے آگئی۔ان کی تعداد مسلمانوں سے دگنی تھی اور ان کے انداز سے صاف پتا چلتا تھا کہ مسلمانوں کا یہ حملہ ان کیلئے غیر متوقع نہ تھا، وہ اس کیلئے تیار تھے ،انہوں نے قدم جما لیے۔ضرار بن الازور نے دشمن کو اس کیفیت میں دیکھا کہ اس نے نہ صرف یہ کہ حملہ روک لیا ہے بلکہ وہ سامنے سے بھی اور دائیں بائیں سے بھی حملے کر رہا ہے۔مسلمانوں کا جوش و خروش کچھ کم نہ تھا لیکن رومی جس منظم انداز سے لڑ رہے تھے اس سے یہی ایک خطرہ نظر آنے لگا تھا کہ وہ مسلمانوں کو بھگا کر اور کاٹ کر آگے نکل جائیں گے۔ضرار کو خالدؓ نے جس حرکت سے منع کیا تھا ،انہوں نے وہی حرکت کی۔پہلے تو وہ منظم انداز سے رومیوں پر حملے کراتے رہے لیکن دیکھا کہ رومی پیچھے ہٹنے کے بجائے چڑھے آرہے ہیں تو ضرار جوش میں آگئے اور چند ایک مجاہدین کو ساتھ لے کر رومیوں پر ٹوٹ پڑے۔انہوں نے اپنی مخصوص جرات اور شجاعت کا مظاہرہ کیا اور جو رومی ان کے سامنے آیا وہ کٹ گرا اور اس طرح وہ اندھا دھند بہت آگے نکل گئے۔’’یہ ہے برہنہ جنگجو!‘‘کسی رومی نے نعرہ لگایا۔یہ کوئی سالار ہو سکتا تھا۔اس نے للکار کر کہا۔’’گھیرے میں لے لو، اسے زندہ پکڑو۔
ضرار نیم برہنہ ہو کر لڑنے اور دشمن کو ہر میدان میں حیران کن نقصان پہنچانے میں اتنے مشہور ہو گئے تھے کہ انطاکیہ تک ان کی شجاعت کے چرچے پہنچ گئے تھے،رومیوں نے اس نیم برہنہ جنگجو کو پہچان لیا۔ضرار کے دائیں بازو میں ایک تیر لگ چکا تھا، مؤرخوں نے لکھا ہے کہ ضرار کے جسم پردو زخم اور بھی تھے۔بہرحال ان کے بازو میں تیر اترنے پر سب متفق ہیں،ضرار نے تیر کھینچ کر بازو سے نکال پھینکا۔تیر نکالنا بڑا ہی اذیت ناک ہوتا ہے۔وہاں سے گوشت باہر نکل آتا ہے لیکن ضرار بن الازور عاشقِ رسولﷺ تھے۔وہ تو جیسے اپنے جسم اور اپنی جان سے دست بردار ہو گئے تھے۔یہ تیر اور تلواریں تو جیسے ان کا کچھ بگاڑ ہی نہیں سکتی تھیں،رومیوں کا تیر کھا کر انہوں نے تیر یوں نکال پھینکا جیسے ایک کانٹا نکال پھینکا ہو۔ان کا دایاں ہاتھ تلوار کو مضبوطی سے تھامے رہا اور رومی کٹتے اور گرتے رہے۔رومی انہیں زندہ پکڑنے کا تہیہ کر چکے تھے۔انہوں نے ضرار کے آدمیوں کو جو ان کے ساتھ آگے نکل گئے تھے، بکھیر کر الگ الگ کر دیااور ضرار کو گھیرے میں لے لیااس موقع پر انہیں ایک یا دو زخم آئے۔آخر کئی رومیوں نے مل کر انہیں پکڑ لیا،اور انہیں باندھ دیا،رومی بلند آواز سے چلّانے لگے:’’مسلمانو!ت¬مہارا سالار ہمارا قیدی ہو گیا ہے۔‘‘’’ہم نے تمہارے ننگے سالار کو پکڑ لیا ہے۔‘‘’’ہم شہنشاہِ ہرقل کو تحفہ دیں گے۔‘‘رومیوں کی للکار بلند ہوتی جا رہی تھی،وہ ٹھیک کہتے تھے۔شہنشاہِ ہرقل کیلئے ضرار سے بڑھ کر کوئی اور تحفہ اچھا نہیں ہو سکتا تھا،رومی انہیں باندھ کر پیچھے لے گئے۔ان کے زخموں سے خون بڑی تیزی سے بہا جا رہاتھا جس سے یہ خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ وہ ہرقل تک زندہ نہیں پہنچ سکیں گے،رومیوں نے ان کی مرہم پٹی کردی۔اس دور کی جنگوں میں فوجیں یوں بھی شکست کھا جاتی تھیں کہ سپہ سالار مارا گیا، پرچم گر پڑا، اور پوری کی پوری فوج بھاگ اٹھی، لیکن مسلمانوں کا معاملہ اس کے برعکس تھا۔ضرار جیسا سالار پکڑا گیا تو دشمن کی للکار سن کر کہ اس نے ان کے سالار کو پکڑ لیا ہے، مسلمانوں نے حملوں کی شدت میں اضافہ کر دیا۔وہ لپکتے ہوئے شعلے اور کڑکتی ہوئی بجلیاں بن گئے۔رافع بن عمیرہ ضرار کے نائب سالار تھے، انہوں نے گرج کر اعلان کیا کہ اب کمان ان کے ہاتھ میں ہے، انہوں نے سامنے سے رومیوں پر حملے بھی کرائے ۔خود بھی حملوں کی قیادت کی اوردشمن کی صفوں کو توڑ کر آگے جانے کی کوشش کی۔لیکن رومیوں کی صفیں مل کر بڑی مضبوط دیوار بن گئی تھیں۔رافع ضرار کو رہا کرانے کی کوشش میں تھے۔لیکن ان کی کوشش کامیاب نہیں ہو رہی تھی۔مسلمان اپنے سالار کو دشمن سے چھڑانے کیلئے جان کی بازی لگائے ہوئے تھے۔
دوپہر سے ذرا بعد کا وقت تھا۔خالدؓ دمشق کے اردگرد گھوم پھر کر جائزہ لے رہے تھے کہ دیوار کہیں سے توڑی جا سکتی ہے یا نہیں۔دو سالار ان کے ساتھ تھے۔’’خدا کی قسم!دمشق ہمارا ہے۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’رومیوں کو کمک نہیں مل سکتی۔ضرار اور رافع ان کی کمک کو بھگا چکے ہوں گے۔‘‘خالدؓ چپ ہو گئے۔ایک گھوڑ سوار ان کی طرف تیز آرہا تھا۔’’قاصد معلوم ہوتا ہے۔‘‘خالدؓ نے کہا اور گھوڑے کو ایڑ لگاکر اس کی طرف بڑھے۔’’سالارِ اعلیٰ !‘‘گھوڑ سوار نے گھوڑا ان کے قریب روک کر کہا۔’’رومیوں نے ضرار بن الازور کو پکڑ لیا ہے ۔ابنِ عمیرہ نے ان کی جگہ لے لی ہے۔انہوں نے ابن الازور کو رہا کرانے کی بہت کوشش کی ہے لیکن رومیوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ہم ناکام ہو گئے ہیں۔ابنِ عمیرہ نے مجھے اس پیغام کے ساتھ بھیجا ہے کہ کمک کے بغیر ہم رومیوں کو نہیں روک سکیں گے۔‘‘’’کیا میں نے اسے منع نہیں کیا تھا کہ اپنے آپ کو قابو میں رکھنا؟‘‘خالد نے برہم سا ہو کر کہا۔’’رومی ہمارے اتنے قیمتی سالار کونہیں لے جا سکتے۔‘‘خالدؓنے تمام سالاروں کو بلایا اور انہیں ضرار کی گرفتاری اور بیت لہیا میں رومیوں کے سامنے مسلمانوں کی کمزور حالت کے متعلق بتایا۔’’میں خود ابنِ عمیرہ کی مدد کیلئے جانا چاہتا ہوں۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’لیکن محاصرہ کمزور ہو جائے گا۔رومی باہر آکر تم پر حملہ کردیں گے،ہماری نفری پہلے ہی کم ہو کر رہ گئی ہے،اگر میں نہیں جاتا اور میں کمک نہیں بھیجتا تو ہمارے پانچ ہزار سوار مارے جائیں گے اور رومیوں کی کمک سیدھی یہاں آکر ہلہ بول دے گی۔بتا سکتے ہو مجھے کیا کرنا چاہیے؟‘‘’’رافع کی مدد کو پہنچنااور رومیوں کی کمک کو روکنا زیادہ ضروری ہے۔‘‘ابو عبیدہؓ نے کہا۔’’ابنِ ولید! تو سمجھتا ہے کہ تیرا جانا ضروری ہے تو ابھی چلا جا۔ہمیں اور دمشق کے محاصرے کو اﷲ پر چھوڑ۔رومیوں کو باہر آکر حملہ کرنے دے۔وہ زندہ اندر نہیں جا سکیں گے۔‘‘دوسرے سالاروں نے ابو عبیدہؓ کی تائید کرکے خالدؓ کو یقین دلایا کہ ان کی نفری کم ہو بھی گئی تو بھی وہ محاصرے کو درہم برہم نہیں ہونے دیں گے۔’’اگر مجھے جانا ہی ہے تو میں فوراً نہیں جاؤں گا۔‘‘خالدؓنے کہا۔’’میں ایسے وقت یہاں سے سواروں کو لے کر نکلوں گا جب دشمن ہمیں نہیں دیکھ سکے گا……ابو عبیدہ!میری جگہ لے لے۔میں آدھی رات کے بعد چار ہزار سوار لے کر نکل جاؤں گا۔تم سب پر اﷲ کی سلامتی ہو،اﷲتمہارا حامی و ناصر ہو۔چار ہزار سواروں کو تیاری کی حالت میں الگ کردو اور انہیں بتا دو کہ آدھی رات کے بعد روانہ ہونا ہے۔‘‘بیت لہیا کم و بیش بیس میل دور تھا۔سورج غروب ہونے تک وہاں رومیوں اور مسلمانوں میں لڑائی ہوتی رہی۔رافع بن عمیرہ نے شام تاریک ہونے کے بعد بھی مجاہدین کو رومیوں کے عقب میں پہاڑیوں کے درمیان سے گزار کر بھیجا مگر ہر ٹولی ناکام واپس آئی۔
’’جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے، ضرار بن الازور موت کے قریب ہوتا جا رہا ہے۔‘‘رافع نے کئی بار کہا۔’’اﷲکرے وہ زندہ ہو، اﷲاسے زندہ رکھے۔ہم اسے چھڑا کر ضرور لائیں گے۔
رات گزر گئی،صبح کا اجالا ابھی پوری طرح نہیں نکھرا تھا کہ خالدؓچار ہزار سواروں کے ساتھ رافع کے پاس پہنچ گئے۔خالدؓآدھی رات گزر جانے کے بہت بعددمشق سے روانہہوئے تھے۔انہوں نے چار ہزار سواروں کو شام کے بعد خاموشی سے محاصرے سے ہٹا کر پیچھے کرنا شروع کر دیا تھااور سوار پیچھے جاکر اکٹھے ہوتے جا رہے تھے۔یہ جگہ دمشق سے ذرا دورتھی۔خالدؓ انہیں ساتھ لے کر روانہ ہوئے تو شہر میں محصوررومیوں کو خبر تک نہ ہوئی۔خالدؓ اور ان کے سوار دستے کو دیکھ کر رافع اور ان کے سواروں نے نعرے لگانے شروع کر دیئے۔خالدؓ نے بڑی تیزی سے دشمن کا اور رافع کے سواروں کا جائزہ لیا، اور دونوں دستوں کو ضرورت کے مطابق ترتیب میں کرکے حملے کا حکم دے دیا۔حملہ ابھی شروع بھی نہیں ہوا تھا کہ ایک گھوڑ سوار مسلمانوں کی صفوں سے نکلا اور گھوڑا سر پٹ دوڑاتا خالدؓ سے بھی آگے نکل گیا۔اس کے ایک ہاتھ میں تلوار اور ایک ہاتھ میں برچھی تھی۔خالدؓ کو اس پر غصہ آیا اور انہوں نے چلا کر اسے پکارا لیکن وہ رومیوں کی اگلی صف تک پہنچ چکا تھا، جسم کے لحاظ سے وہ موٹا تازہ نہیں تھا۔اس کے سر پر سبز رنگ کا عمامہ تھا، اور اس نے اپنا چہرہ ایک کپڑا باندھ کر چھپایا ہوا تھا۔اس کی صرف آنکھیں نظر آتی تھیں۔’’یہ خالد ہے!‘‘ رافع بن عمیرہ نے کہا۔’’ایسی جرات خالد کے سوا کوئی نہیں کر سکتا۔‘‘رافع ایک پہلو پر تھے جہاں سے خالدؓ نظر نہیں آتے تھے۔خالدؓ نے حملہ روک لیا اور وہ رافع کے پاس گئے۔ رافع انہیں دیکھ کر حیران ہوئے۔’’ابنِ ولید!‘‘رافع نے خالدؓ سے کہا۔’’اگر وہ تو نہیں جو رومیوں پر اکیلا ٹوٹ پڑا ہے تو وہ کون ہے؟‘‘’’میں یہی تجھ سے پوچھنے آیا ہوں۔‘‘خالدؓنے کہا۔’’میں نے ابن الازور کو اسی حرکت سے روکا تھا۔‘‘’’وہ دیکھ ابنِ ولید!‘‘رافع نے کہا۔’’وہ جو کوئی بھی ہے ذرا دیکھ!‘‘وہ جو کوئی بھی تھا مسلمانوں کو بھی اور رومیوں کو بھی حیران کر رہا تھا۔جو رومی اس کے سامنے آتا تھا وہ اس کی برچھی یا تلوار کا شکار ہو جاتا تھا۔یہ سوار رُکتا نہیں تھا۔ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے ہاتھ میں برچھی ہونے کے باجود اس نے گھوڑے کو اپنے قابومیں رکھا ہوا تھا۔ایک رومی کو گراکر وہ دور چلا جاتا کوئی اس کے تعاقب میں جاتا تو یہ سوار یکلخت گھوڑے کو روک کر یا گھماکر اپنے تعاقب میں آنے والے کوختم کردیتا۔خالدؓ بھی )مؤرخوں کے مطابق ( دم بخود ہو گئے تھے۔ایک بار وہ رومیوں کو گرا کر اس نے گھوڑا دور سے موڑا تو خالدؓکے قریب سے گزرا۔خالدؓ نے چلا کر اسے رکنے کو کہا لیکن سوار نہیں رکا۔دیکھنے والوں کو صرف اس کی آنکھیں نظر آئیں۔ان آنکھوں میں کچھ اور ہی چمک تھی۔بلکہ ان آنکھوں میں دل کشی سی تھی۔اس کی تلوار اوراس کی برچھی کی انّی خون سے سرخ ہو گئی تھی۔وہ ایک بار پھر رومیوں کی طرف جارہا تھا۔
’ابنِ ولید!‘‘رافع نے غضب ناک آواز میں کہا۔’’توحملے کا حکم کیوں نہیں دیتا؟خدا کی قسم!یہ جنگ اس اکیلے سوار کی نہیں۔‘‘مجاہدین اس سوار کی حیرت ناک شجاعت کو دیکھ کر جوش سے پھٹ رہے تھے اور وہ بھی حملے کا مطالبہ کر رہے تھے۔خالدؓ نے حملے کا حکم دے دیا۔
اب مجاہدینِ اسلام نے جو حملہ کیاتویہ ایسے غضب ناک سیلاب کی مانند تھا جو بند توڑکر آیا ہو،اس ایک پر اسرار سوار نے مجاہدین کے لشکر میں قہر بھر دیا تھا۔مجاہدین نے خالدؓ کی بتائی ہوئی ترتیب سے حملہ کیا لیکن وہ سوار اپنے لشکر سے الگ تھلگ اپنی طرز کی لڑائی لڑتا رہا،خالدؓاس تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن وہ تو جیسے پاگل ہو چکا تھا یا وہ خود کشی کرنے کے انداز سے لڑ رہا تھا۔ایک بار پھر وہ خالدؓ کے قریب سے گزرا۔’’رک جا اے جان پر کھیلنے والے!‘‘خالدؓ چلّائے۔’’کون ہے تو؟‘‘سوار نے گھوڑا ذرا روکا۔خالدؓ کی طرف دیکھا۔کپڑے کے نقاب سے اس کی چمکتی ہوئی آنکھیں نظر آئیں اور اس نے گھوڑے کو ایڑ لگادی۔خالدؓنے اپنے دو محافظوں سے کہا کہ اس سوار کو گھیر کر لے آئیں ورنہ یہ مارا جائے گا۔’’دیکھو، یہ تھک بھی گیا ہے۔‘‘ دونوں سواروں نے گھوڑے دوڑا دیئے اور اسے جالیا۔’’کیا تو نے سنا نہیں سالارِ اعلیٰ نے تجھے بار بار پکارا ہے؟‘‘ایک محافظ نے اسے کہا۔سوار محافظوں کو چپ چاپ دیکھتا رہا۔’’سالارِاعل¬یٰ تجھ سے خفا نہیں۔‘‘دوسرے محافظ نے کہا۔’’آ اور اس سے خراجِ تحسین وصول کر۔‘‘سوار نے ایک بار پھر گھوڑے کا رخ دشمن کی طرف کر دیا لیکن اس سے پہلے کہ وہ ایڑ لگاتا۔ ایک محافظ نے اپنا گھوڑا ا س کے آگے کر دیا اور دوسرے نے اس کی لگام پکڑ لی۔عجیب بات یہ تھی کہ سوار نے کوئی بات نہ کی اور نقاب سے صرف اس کی آنکھیں نظر آتی رہیں، یہ عام سی آنکھیں نہیں تھیں۔محافظ اسے اپنے ساتھ لے گئے اور خالدؓ کے سامنے جا کھڑا کیا۔اس نے برچھی اور تلوار سے اتنے زیادہ رومیوں کو ہلاک کیاتھا کہ دونوں ہتھیار پورے کے پورے لال ہو گئے تھے اور ان سے خون بہہ بہہ کر اس سوار کے ہاتھوں تک چلا گیا تھا اور کپڑوں پر بھی چھینٹے پڑے تھے۔خالدؓ نے اس کی آنکھوں میں دیکھا تو اس نے نظریں جھکا لیں۔’’آنکھوں سے تو نو عمر لڑکالگتا ہے۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’تو نے اپنی شجاعت کاسکہ میرے دل پر بٹھا دیا ہے۔تیری قدر میرے سوا اور کوئی نہیں کر سکتا۔ خدا کی قسم!میں تیرا چہرہ دیکھوں گا اور تو بتا کہ تو ہے کون؟‘‘’’تو میرا امیر ہے اور میرا سالار ہے۔‘‘سوار نے کہا۔’’اور تو میرے لیے غیر مرد ہے،میں تیرے سامنے اپنا چہرہ کیسے بے نقاب کر دوں۔جسے تو میری شجاعت کہتا ہے یہ ایسا اشتعال اور غصہ ہے جو میرے اختیار سے باہر ہے۔‘‘’’تجھ پر اﷲکی رحمت ہو۔‘‘خالدؓنے اس سوار کی بات سن کر کہا۔’’کس کی بیٹی ہے تو؟کس کی بہن ہے تو؟‘‘’’میں الازور کی بیٹی خولہ ہوں۔‘‘اس نے جواب دیا۔
’’ضرار بن الازور کی بہن!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’خدا کی قسم!‘‘خولہ بنتِ الازور نے کہا۔’’میں اپنے بھائی کو رومیوں کی قید سے چھڑا کر دم لوں گی۔‘‘’’خوش نصیب ہے الازور جس کے گھرمیں ضرار جیسے بیٹے اورخولہ جیسی بیٹی نے جنم لیا ہے۔‘‘خالدؓنے کہا۔’’یہ لڑائی صرف تیری نہیں بنتِ الازور!ہمارے ساتھ رہ اور دیکھ کہ ہم تیرے بھائی کو کس طرح رہا کراتے ہیں۔‘‘اس دور میں عورتیں بھی اپنے خاوندوں بھائیوں کے ساتھ میدانِ جنگ میں جایاکرتی تھیں۔خولہ اپنے بھائی ضرار کے ساتھ آئی تھیں۔انہیں پتا چلا کہ رومیوں نے ان کے بھائی کو قید میں لے لیا ہے تو انہوں نے اسے ذاتی جنگ سمجھ لیا۔سپہ سالار خالدؓ کی بھی پرواہ نہ کی اور رومیوں پر ٹوٹ پڑیں۔عورتیں اور بچے دمشق کی مضافات میں تھے ۔خولہ وہاں سے خالدؓ کے چار ہزار مجاہدین کے پیچھے پیچھے چل پڑی تھیں۔جوں ہی رومی اور مسلمان آمنے سامنے آئے خولہ نے گھوڑے کو ایڑ لگادی اور رومیوں پر ٹوٹ پڑیں۔خولہ نے ایسی مثال قائم کر دی جس نے مجاہدینِ اسلام کو نیا حوصلہ اور نیا ولولہ دیا۔اب مسلمانوں کی نفری بھی زیادہ ہو گئی تھی، اور قیادت خالدؓ کی تھی۔خالدؓ کے ساتھ جو چار ہزار سوار گئے تھے وہ تازہ دم تھے۔اس کے علاوہ پورا لشکر ضرار کے قیدی ہو جانے پر آگ بگولہ تھا۔رومیوں کیلئے اس حملے کو برداشت کرنا ناممکن ہو گیا۔انہوں نے جم کر لڑنے کی کوشش کی لیکن خالدؓ کی چالوں اور ان کے لشکر کے غیض و غضب کے سامنے رومی ٹھہر نہ سکے۔رومیوں کی فوج چونکہ ایک منظم اور تربیت یافتہ فوج تھی اس لیے اس کی پسپائی بھی منظم تھی۔اسے پسپا کرنے میں خالدؓ کو بہت زور لگانا پڑا۔رومیوں کی پسپائی سے یہ مقصد تو پورا ہو گیا کہ دمشق کے دفاعی دستے کمک اور رسد سے محروم رہے۔رومیوں کا یہ کمال تھا کہ وہ جو رسد ساتھ لائے تھے وہ اپنے ساتھ ہی لے جا رہے تھے۔اب دوسرا مقصد سامنے تھا اور وہ تھا ضرار کی رہائی۔اس مقصد کیلئے خالدؓ نے رومیوں کا تعاقب جاری رکھا۔رومی اور تیزی سے پسپا ہونے لگے۔خالدؓ نے ہر داؤ کھیلا مگر رومیوں نے کوئی داؤکامیاب نہ ہونے دیا، خالدؓ نے تعاقب کی رفتار کم نہ کی۔ان کی کوشش یہ تھی کہ رومی کہیں رکنے نہ پائیں۔خالدؓخود پیچھے رہ گئے۔یہ بہن کا ایثار تھا جو اﷲنے قبول کیا، اور یہ ضرار کا عشقِ رسولﷺ تھا جو اﷲکو اچھا لگا۔ضرار کی سرفروشی کو اﷲنے نظر انداز نہ کیا۔پتا چلا کہ ضرار رومیوں کی قید میں زندہ ہیں۔یہ خبر دینے والے دو عربی تھے جو اس علاقے میں آکر آباد ہوئے تھے،خالدؓ کے دو چار سوار ایک چھوٹی سی ایک بستی کے قریب سے گزرتے گزرتے رک گئے۔وہ پانی پینا چاہتے تھے۔بستی کے لوگ اس خیال سے خوفزدہ ہو گئے کہ یہ فاتح فوج کے آدمی ہیں اس لئے یہ لوٹ مار کریں گے اور جوان لڑکیوں پر ہاتھ ڈالیں گے۔آبادی میں ہڑبونگ سی مچ گئی۔دو آدمی مسلمان سواروں کے پاس آئے۔’’ہم بھی عربی باشندے ہیں۔‘‘انہوں نے سواروں سے کہا۔’’ہم مسلمان تو نہیں پھر بھی عرب کی مٹی کا واسطہ دے کر کہتے ہیں کہ ہماری خاطر اس بستی پر ہاتھ نہ اٹھائیں-
(جاری ھے)
جزاکم اللہ خیرا۔

شمشیرِ بے نیام، حضرت خال بد ولید رضی اللہ عنہ


شمشیرِ بے نیام، حضرت خال بد ولید رضی اللہ عنہ
( قسط نمبر72
)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کچھ دستے مختلف مقامات پر رومیوں کی کمک کو روکنے کیلئے بھیج دیئے گئے۔یہ وجہ تھی کہ مجاہدین کی تعداد بیس ہزار رہ گئی تھی۔دمشق بڑا شہر تھا۔اس کے چھ دروازےتھے اور ہر دروازے کا نام تھا۔ باب الشرق، باب توما، باب حابیہ، باب فرادیس، باب کیسان، اور باب صغیر۔ خالدؓ نے ہردروزے کے سامنے دودو تین تین ہزار نفری کے دستے کھڑے کردیئے۔ہر دروازے کیلئے ایک سالار مقررکیا۔رافع بن عمیرہ، عمروؓ بن العاص، شرجیلؓ بن حسنہ، ابوعبیدہؓ، یزیدؓ بن ابی سفیان۔ یزیدؓ کی ذمہ داری میں دو دروازے دے دیئے گئے۔ضرار بن الازور کو منتخب سواروں کا دو ہزار نفری کا دستہ اس مقصد کیلئے دے دیا گیا کہ وہ قلعے کے اردگرد گھومتے پھرتے رہیں اور اگر رومی باہر آکر کسی دستے پر حملہ کریں تو ضرار اس کی مدد کو پہنچیں۔شہر کی دیوار پر رومی کمانیں اور برچھیاں لیے کھڑے تھے۔ان میں دوسرے سالاروں کے علاوہ دمشق کے دفاع کا ذمہ دار سالار توما بھی تھا جو شہنشاہِ ہرقل کا داماد بھی تھا۔خالدؓ نے حکم دیا کہ رومیوں کے دونوں قیدی سالاروں عزازیر اور کلوس کو آگے لایا جائے۔دونوں بندھے ہوئے لائے گئے۔انہیں دیوار کے اتنا قریب لے جایا گیا جہاں وہ دیوار پر کھڑے رومیوں کو نظر آسکتے تھے۔’’کیا تم دونوں اسلام قبول کرو گے؟‘‘خالدؓ نے دونوں سے بلند آواز میں پوچھا۔’’نہیں۔‘‘دونوں نے اکٹھے جواب دیا۔خالدؓ نے ضرار بن الازور کو آگے بلایا اور کہا کہ انہیں ان کے انجام تک پہنچادو۔ضرار نے تلوار نکالی اور دونوں کی گردنوں پر ایک ایک وار کیا۔دونوں کے سر زمین پر جا پڑے، ان کے دھڑ گرے ، تڑپے، اور ساکت ہو گئے۔دیوار سے تیروں کی بوچھاڑ آئی لیکن خالدؓ اور ضرار ان کی زد سے نکل آئے تھے۔دمشق کا محاصرہ رومیوں کی تاریخ کا بہت بڑا واقعہ بلکہ حادثہ اور المیہ تھا اور مسلمانوں کی تاریخ کا بھی یہ بہت بڑا اور بعض تاریخ نویسوں کیلئے حیران کن واقعہ تھا۔حیران کن تو رومیوں کیلئے بھی تھا کیونکہ روم کی فوج اس دور کی بہترین فوج اور ناقابلِ تسخیر جنگی طاقت سمجھی جاتی تھی۔رومی فوج دہشت اور تباہی کا دوسرا نام تھا۔اس فوج نے ہر میدان میں فتح پائی تھی۔کسریٰ کی فوج بھی اس سے کم نہ تھی لیکن رومی فوج نے اسے بھی شکست دے کر الگ بٹھا دیاتھا۔لیکن اتنی دور سے آئے ہوئے اور اتنے تھوڑے سے مسلمان اسی رومی فوج کو شکست پہ شکست دیئے چلے جا رہے تھے اور انہوں نے دمشق کو محاصرے میں لے لیا تھا جو رومیوں کا بڑا ہی اہم اور قیمتی شہر تھا۔قیصرِ روم نے تو سوچا بھی نہ تھا کہ دنیا کی کوئی طاقت اس کی بہترین اور دہشت ناک فوج کو اس مقام پر لے آئے گی کہ اس کیلئے رومیوں کی روایات اور وقار کا تحفظ محال ہو جائے گا۔
مسلمانوں کیلئے بھی شام میں فاتحانہ داخلہ اور دمشق کا محاصرہ بہت بڑا واقعہ تھا۔ایک تو نفری دشمن کے مقابلے میں بہت تھوڑی تھی جو زخمیوں اور شہیدوں کی وجہ سے کم سے کم ہوتی چلی جا رہی تھی ، دوسرے اپنے وطن سے دوری۔ پسپائی کی صورت میں ان کیلئے کوئی پناہ نہیں تھی۔اس صورت میں انہیں کھانے پینے کو بھی کچھ نہیں مل سکتا تھا۔مختلف ادوار کے جنگی مبصروں اور وقائع نگاروں نے لکھاہے کہ خالدؓ کے لشکر نے جس کی نفری ہمیشہ خطرناک حد تک کم رہی ہے۔تاریخ نویسوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔اگر جنگی مہارت اور قیادت کی بات کی جائے تو سرِ فہرست دو فوجیں آتی ہیں۔ایک قیصرِ روم کی فوج دوسری کسریٰ کی فوج۔یہ دونوں فوجیں عسکری اہلیت اور قیادت کی وجہ سے مشہور تھیں۔بیشک خالدؓکی جنگی قیادت ، تیز رفتار نقل و حرکت اور میدانِ جنگ میں چالوں کا مقابلہ کم ہی سالار کر سکتے تھے لیکن عقیدے کی سچائی اور جذبے کی شدت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔گھروں اور اہلِ و عیال سے اتنی لمبی جدائی سپاہیوں کے جذبے کو کمزور کر دیا کرتی ہے لیکن مسلمانوں کی فوج میں ایسی کمزوری دیکھنے میں نہیں آتی تھی۔اس کیفیت کو مبصروں نے عقیدے اورجذبے کا کرشمہ کہا ہے۔’’میرے عزیر رفیقو!‘‘خالدؓنےاپنے سالاروں سے دمشق کے مضافات میں کہیں کہا۔’’سوچو ہم کہاں تھے اورد یکھو ہم کہاں ہیں۔کیا اب بھی کفار اﷲکو وحدہ لا شریک نہیں مانیں گے اور کیا وہ تسلیم نہیں کریں گے کہ اﷲنے ہمارے قبیلے کو رسالت عطاکی ہے جو برحق ہے اور کوئی دلیل اسے جھٹلا نہیں سکتی؟……اور تم اﷲ کا شکر ادا نہیں کرو گے جس نے تمہیں اتنے طاقتور دشمن پر فتح دی ہے ؟کوئی شمار نہیں اس کی رحمتوں کا لیکن ان کیلئے جو اس کی رسی کو مضبوطی سے پکڑتے ہیں۔‘‘’’بیشک، بیشک!‘‘کئی آوازیں سنائی دیں۔’’اور اے برہنہ جنگجو!‘‘خالدؓنےضرار بن الازور سے جو خود، زرہ اور قمیض اتارکر لڑا کرتے تھے ، کہا۔’’خدا کی قسم!تو اپنے آپ کو قابو میں نہیں رکھے گا تو ایک دن تو ہی نہیں ہم سب افسوس کر رہے ہوں گے۔‘‘
’’ولید کے بیٹے!‘‘ضرار نے کہا۔’’دینِ اسلام کے دشمن کو دیکھ کر اپنے آپ پر قابو نہیں رہتا لیکن اس میں کوتاہی نہیں کروں گا کہ تیرے ہر حکم کی تعمیل مجھ پر فرض ہے۔‘‘
ضرار بن الازور کے بولنے کا انداز اتنا شگفتہ تھا کہ سب ہنس پڑے۔خالدؓ کے ہونٹوں پر جانفزا مسکراہٹ آ گئی۔انطاکیہ کی فضاء ہنسی اور مسکراہٹوں سے محروم ہو گئی تھی۔اس شہر کو رومی شہنشاہ ہرقل نے اپنا جنگی ہیڈ کوارٹر بنا لیا۔اسے جنگ کی جو خبریں روز بروز مل رہی تھیں ان سے اس کی ذہنی اور جذباتی حالت ویسی ہی ہو گئی تھی جو مدائن میں شہنشاہ اُردشیر کی ہوئی تھی،اور صرف شکست کی خبریں سن سن کروہ صدمے سے مر گیا تھا۔مرج الصفر میں رومیوں کو جو شکست ہوئی تھی اس نے تو ہرقل کو باؤلا کر دیاتھا۔پھر اسے اپنے سالاروں کے مارے جانے کی اطلاعیں ملنے لگیں۔’’عزازیر زندہ ہے۔‘‘ہرقل نے بڑے جوش سے کہا۔’’کلوس ہے……یہ دونوں عرب کے ان بدوؤں کو دمشق تک نہیں پہنچنے دیں گے۔‘‘’’شہنشاہِ معظم!‘‘محاذسے آئے ہوئے قاصد نے کہا۔’’وہ دونوں زندہ نہیں۔‘‘’’کیا تم مجھ سے یہ جھوٹ منوانا چاہتے ہو؟‘‘ہرقل نے غضب ناک آواز میں کہا۔’’کیا تم جھوٹ کی سزا سے واقف نہیں؟‘‘’’سب کچھ جانتے ہوئے یہ خبر سنا رہا ہوں شہنشاہِ معظم!‘‘ قاصد نے کہا۔’’ان دونوں کو مسلمانوں نے زندہ پکڑ لیا تھا اور دونوں کو انہوں نے دمشق کی شہرِ پناہ کے قریب لاکر قتل کر دیا ہے۔‘‘’’اور میری بیٹی کے خاوند کی کیا خبر ہے؟‘‘شہنشاہِ ہرقل نے اپنے داماد سالار توما کے بارے میں قاصد سے پوچھا۔’’سالار توما دمشق کے اندر ہیں۔‘‘قاصد نے جواب دیا۔’’اور محاصرہ توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘’’دمشق کا محاصرہ ہم توڑیں گے۔‘‘شہنشاہِ ہرقل نے کہا۔ہرقل نے انطاکیہ میں اسی لیے ڈیرے ڈالے تھے کہ فوج تیار کرکے جہاں بھی کمک کی ضرورت ہو گی وہاں فوج بھیجے گا۔اس نے پہلے ہی لوگوں کو فوج بھی بھرتی ہونے کیلئے تیار کرنا شروع کر دیا تھا۔گرجوں میں پادری صرف اس موضوع پر وعظ کرتے تھے کہ لوگوں کا فوج میں بھرتی ہونا کتناضروری ہے۔وہ کہتے تھے کہ عیسائیت کاخاتمہ ہو جائے گا۔اور وہ اسلام سے لوگوں کو خوفزد کرتے تھے۔خالدؓ جب دمشق کی طرف بڑھ رہے تھے اس وقت ہرقل نے اعلان کیاتھا کہ جو فوج تیار ہو ئی ہے وہ اس کے معائنے اور احکام کیلئے اسے دکھائی جائے۔یہ فوج اس کے سامنے لائی گئی تو اس نے ایسے جوشیلے اور جذباتی انداز سے فوج سے خطاب کیا کہ سپاہی آگ بگولا ہو گئے۔’’تمہیں کوئی شہنشاہ حکم نہیں دے رہا۔‘‘شہنشاہِ ہرقل نے کہا۔’’یہ خدا کے بیٹے کا حکم ہے کہ اس کے دشمنوں کو تباہ کر دو۔صلیب کی آن پر مر مٹو۔میں آج شہنشاہ نہیں ، تم جیسا ایک سپاہی ہوں۔‘‘
۹ستمبر ۶۳۴ء )۱۰ رجب ۱۳ ھ( کا دن تھا۔دمشق کے محاصرے کا گیارہواں دن تھا محاصرے کے دس روز یہ سرگرمی رہی کہ دمشق کے کسی نہ کسی دروازے سے رومیوں کے ایک دو دستے باہر آتے اور مسلمانوں پر حملہ کرتے لیکن زیادہ آگے نہ آتے۔مختصر سی جھڑپ لے کر قلعے میں واپس جانے کی کرتے۔خالدؓنے ابھی قلعے پر کسی بھی قسم کا ہلہ نہیں بولا تھا۔خالدؓ نے دیکھ بھال کیلئے ہر طرف جاسوس بھیج رکھے تھے۔محاصرے کے گیارہویں روز ایک جاسوس اس حالت میں خالدؓ کے پاس آیا کہ اس کا گھوڑا پسینے میں نہایا ہوا تھا اور جب گھوڑا رکا تو کانپ رہا تھا۔سوار کی اپنی حالت بھی کچھ ایسی ہی تھی،اس سے اچھی طرح بولابھی نہیں جاتا تھا،خالدؓنے پہلے تو اسے پانی پلایا پھر پوچھا کہ وہ کیا خبرلایا ہے۔’’رومیوں کی ایک فوج آرہی ہے۔‘‘جاسوس نے کہا۔’’تعداد دس ہزار سے زیادہ ہوگی ،کم نہیں۔‘‘’’تم نے اسے کہاں دیکھا ہے؟‘‘خالدؓنے پوچھا۔’’حمص سے آگے نکل آئی ہے۔‘‘جاسوس نے جواب دیااور ایک جگہ کا نام لے کر کہا۔’’ہمارا اک دستہ وہاں موجود ہے۔رومی فوج کل کسی بھی وقت وہاں تک پہنچ جائے گی۔ہمارے دستے کی نفری اس کے مقابلے میں بہت تھوڑی ہے۔اسی لیے میں کہیں ایک ثانیہ بھی نہیں رُکا۔ہمارا دستہ مارا جائے گا اور رومی دمشق تک آجائیں گے۔‘‘خالدؓنے جاسوس کو رخصت کردیا۔ان کیلئے یہ خبر حیران کن بھی نہیں تھی، پریشان کن بھی نہیں تھی۔انہیں معلوم تھا کہ ہرقل انطاکیہ میں ہے اور وہاں وہ آرام اور سکون سے نہیں بیٹھا ہوا بلکہ وہ دمشق کو بچانے کے انتظامات کر رہا ہے۔یہ رومی فوج جس کی اطلاع ایک جاسوس لایا تھا، انطاکیہ سے شہنشاہِ ہرقل نے اپنی دمشق والی فوج کیلئے کمک کے طور پربھیجی تھی۔مؤرخوں نے اس کی تعداد بارہ ہزار لکھی ہے۔خالدؓنے اسی توقع پر کہ رومیوں کی کمک آئے گی، دمشق کی طرف آنے والے راستوں پر پہلے سے ہی تھوڑی تھوڑی نفری کا ایک ایک دستہ بھیج دیا تھا۔ان کے سپرد یہ کام تھا کہ کمک کو روکے رکھیں مگر یہ جو فوج آرہی تھی اس کی نفری بہت زیادہ تھی۔خالدؓ نے اسی وقت سالاروں کو بلایا اور انہیں بتایا کہ دشمن کی زیادہ نفری آرہی ہے اور اسے روکنے کیلئے اپنی نفری بہت تھوڑی ہے۔
’’رومیوں کی اس کمک کو روکنا ہے۔‘‘خالدؓنے کہا۔’’اور اپنی نفری جو اس کے راستے میں موجود ہے اسے جانینقصان سے بچانا ہے۔ہمیں محاصرے کو ذرا کمزور کرنا پڑا گا۔‘‘’’اس کمی کو ہم اپنے جذبے سے پورا کرلیں گے۔‘‘سالار شرجیلؓ نے کہا۔’’ابنِ ولید!تو جتنی نفری کافی سمجھتاہے ، یہاں سے نکال کے بھیج دے۔‘‘’’پانچ ہزار سوار کافی ہوں گے۔‘‘خالدؓنے کہا۔’’رومیوں کی نفری دس ہزار سے زیادہ ہے۔‘‘’’بہت ہے۔‘‘ضرار بن الازورنے کہا۔’’اور مجھے یقین ہے ابنِ ولید! تو مجھے مایوس نہیں کرے گا۔ان پانچ ہزار سواروں کا سالار میں ہوں گا۔‘‘’’تیری خواہش کو میں رد نہیں کروں گا ابن الازور!‘‘خالدؓنے کہا۔’’لیکن احتیاط کرنا کہ جوش میں آکر دشمن کی صفوں میں نہ گھس جانا، اگر ایسا ضروری ہو جائے تو تجھے پیچھے نہیں رہنا چاہیے……اور یہ بھی سن لے ابن الازور!اگر تو نے دیکھا کہ تو دشمن کو سنبھال نہیں سکے گا تو فوراً کمک مانگ لینا میں بھیج دوں گا۔وہاں پہلے سے جو اپنا دستہ موجود ہے ، اسے بھی اپنی کمان میں لے لینا،یہ ساری نفری تیرے ماتحت ہوگی۔اپنا نائب خود ہی چن لے۔‘‘’’رافع بن عمیرہ!‘‘ضرار نے کہا۔’’لے جا اسے !‘‘خا لدؓنے کہا۔’’اور اتنی جلدی وہاں پہنچ جیسے تو اڑتا ہوا گیا ہو۔‘‘ضرار بن الازور کو درہ عقاب )ثنیۃ العقاب( کے قریب پہاڑی علاقے میں پانچ ہزار سواروں کے ساتھ پہنچناتھا۔وہ جگہ دمشق سے کم و بیش بیس میل دور تھی،ضرار تو جیسے اڑتے ہوئے وہاں پہنچ گئے۔انہوں نے وہاں جو نفری موجود تھی اسے بھی اپنی کمان میں لے لیا۔یہ علاقہ پہاڑی ہونے کی وجہ سے گھات کیلئے موزوں تھا،رومی فوج ابھی تک وہاں نہیں پہنچی تھی۔ضرار نے بڑی تیزی سے اپنی تمام نفری کو گھات میں چھپا دیا۔اس کے ساتھ ہی اس روز کا سورج غروب ہو گیا۔ضرار نے سنتری اس ہدایت کے ساتھ مقرر کیے کہ وہ ٹیکریوں اور چٹانوں کے اوپر چلے جائیں ، باہر نہ جائیں،پوری احتیاط کی جا رہی تھی کہ دشمن کو گھات کا پتہ نہ چلے۔رات گزر گئی صبح طلوع ہوئی اور اس سے تھوڑی ہی دیر بعد دشمن کی فوج آگئی،اور یہ صحیح معنوں میں فوج تھی۔نفری زیادہ، تنظیم نہایت اچھی۔دیکھا گیا کہ اس فوج کے ساتھ بیشمار گھوڑا گاڑیاں تھیں جو سامان سے لدی ہوئی تھیں اور اونٹوں کی تعداد بھی بے حساب تھی۔جن پربوریاں لدی ہوئی تھیں۔یہ بعدمیں پتا چلا تھا کہ یہ سامان خوردونوش تھا جو دمشق جا رہا تھا۔خالدؓ دمشق کی اس صورتِ حال سے بے خبر تھے۔
(جاری ھے)
جزاکم اللہ خیرا۔

شمشیرِ بے نیام، حضرت خال بد ولید رضی اللہ عنہ



شمشیرِ بے نیام، حضرت خال بد ولید رضی اللہ عنہ
( قسط نمبر71
)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مسلمان سوار اس خیال سے آگے نہ گئے کہ دشمن گھیرے میں لے لے گا،ویسے بھی انہیں آمنے سامنے کی لڑائی نہیں لڑنی تھی۔وہ جس رفتار سے گئے تھے اسی رفتار سے گھوڑے موڑتے ہوئے دور کا چکر کاٹ کر آگئے۔چند ایک سالار خالدؓکے ساتھ تھے۔سب کو توقع تھی کہ اب رومی حملے کیلئے آئیں گے۔ان کی فوج تین گنا تھی مگر انہوں نے کوئی جوابی حرکت نہیں کی۔’’خدا کی قسم!رومی کچھ اور چاہتے ہیں۔‘‘خالدؓ نے اپنے سالاروں سے کہا۔’’یہ ہمارے ساتھ کھیلنا چاہتے ہیں اور میں اپنے لشکر کے انتظار میں ہوں۔‘‘’’ان کے ساتھ کھیلو ابنِ ولید!‘‘سالار ضرار بن الازور نے کہا۔’’یہ لڑنا نہیں چاہتے۔ہمارا راستہ روکنا چاہتے ہیں۔‘‘’’اور انہیں شاید معلوم نہیں کہ ہمارا لشکر ابھی دور ہے۔‘‘خالدؓنے کہا۔’’یہ بھی سوچ ابنِ ولید!‘‘سالار شرجیلؓ نے کہا۔’’کیا یہ چوکس نہیں کہ ہمارا لشکر شاید کسی اور طرف سے ان پر حملہ کر دے گا؟‘‘’’میں ان کا دھیان پھیر دیتا ہوں۔‘‘خالدؓ نے کہا۔رومیوں کی توجہ اپنی طرف کرنے کیلئے خالدؓ نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ دشمن کو انفرادی مقابلوں کیلئے للکارا۔پہلے بیان ہو چکا ہے کہ اس دور میں جب فوجوں کی لڑائی سے پہلے دونوں فوجوں میں سے ایک ایک آدمی سامنے آتا اور ان میں انفرادی لڑائی ہوتی تھی۔خالدؓنے ضرار بن الازور، شرجیلؓ بن حسنہ اور امیرالمومنین ابوبکرؓ کے بیٹے عبدالرحمٰن کو مقابلے کیلئے آگے کیا۔یہ تینوں سالار تھے۔وہ دونوں فوجوں کے درمیان جا کر گھوڑے دوڑانے اور دشمن کو للکارنے لگے۔رومیوں کی صفوں سے تین سوار نکلے۔وہ بھی سالاری کے رتبے کے آدمی تھے۔رومی جنگجو قوم تھی۔اس قوم نے تاریخ ساز تیغ زن اور شہسوار پیدا کیے ہیں۔خالدؓ کے ان تین سالاروں کے مقابلے میں جو رومی نکلے وہ زبردست لڑاکے تھے۔کھلے میدان میں مقابلے شروع ہو گئے۔یہ تین جوڑیوں کامقابلہ تھا۔تینوں جوڑ الگ ہو گئے۔گھوڑے دوڑ رہے تھے گھوم رہے تھے،اور برچھیوں سے برچھیاں ٹکرا رہی تھیں۔دونوں فوجوں کے نعرے گرج رہے تھے ۔گھوڑے اپنی اُڑائی ہوئی گرد میں چھپتے جا رہے تھے ۔پھر گرد سے ایک گھوڑا نکلا۔اس کا سوار ایک طرف لڑھک گیا تھا۔گھوڑا بے لگام ہو کر اِدھر اُدھر دوڑ رہا تھا۔وہ ایک رومی سالار تھا جو بڑا گہرا زخم کھا کر گھوڑے سے گر رہا تھا۔رومیوں کی صفوں سے ایک گھوڑا سر پٹ دوڑتا نکلا اور گرتے ہوئے سوار کے پیچھے گیا۔اس نے گھوڑے کے سوار کو گھوڑے کی پیٹھ پر کردیا لیکن وہ مر چکا تھا۔تھوڑی ہی دیر بعد ایک اور رومی سوار گرا پھر تیسرا بھی گر پڑا،تینوں رومی مارے گئے۔ضرار بن الازور کا انداز وہی تھا کہ مقابلے میں اترتے ہی انہوں نے خود، زِرہ اور قمیض اتار کر پھینک دی تھی۔مقابلہ ختم ہوا تو تین رومیوں کی لاشیں ایک دوسرے سے دور دور پڑی تھیں۔ضرار، شرجیلؓ اور عبدالرحمٰن رومیون کی اگلی صف کے قریب جا کر گھوڑے دوڑاتے اور انہیں للکارتے۔
’’رومیو!یہ لاشیں اٹھاؤ۔آگے آؤ بزدلو!‘‘’’ہے کوئی اور موت کا طلبگار!‘‘’’ہم رومیوں کے قاتل ہیں۔‘‘’’رومیو!یہ زمین تم پر تنگ ہو گئی ہے۔‘‘ادھر مجاہدینِ اسلام نے وہ شوروغل بپا کر رکھا تھا کہ آسمان ہلنے لگتا تھا۔ایک اور آدمی گھوڑا دوڑاتا میدان میں آیااور اس نے تلوار لہرا کر گھوڑا چکر میں دوڑایا۔عبدالرحمٰن بن ابی بکر اس کی طرف گئے تو ضرار نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور چلّائے۔’’پیچھے رہ ابی بکر کے بیٹے!اسے میرے لیے چھوڑ دے۔‘‘وہ عبدالرحمٰن کے قریب سے گزر گئے۔رومی نے گھوڑا ان کی طرف موڑا لیکن ضرار نے اس کے گھوڑے کو پوری طرح سے مڑنے بھی نہیں دیا،انہوں نے تلوار کی نوک رومی کے پہلو میں اتاردی۔لیکن اتنی نہیں کہ وہ گر پڑتا۔ضرا ر نے اسے مقابلے کا موقع دیاتھا۔اس نے مقابلہ کیا لیکن اس کا دم خم پہلے زخم سے ہی ختم ہو چکا تھا۔ضرار اس کے ساتھ کھیلتے رہے آخر ایسا بھرپوروار کیا کہ وہ گھوڑے پر دُہرا ہوا اور پھر لڑھک کے نیچے آپڑا۔مدینہ کے ان تین سالاروں کے مقابلے میں چند اور رومی آئے اور مارے گئے۔ضرار، شرجیلؓ اور عبدالرحمٰن نے صرف یہی نہیں کیا بلکہ رومیوں کی اگلی صف کے قریب جاکر گھوڑے دوڑاتے اور انہیں للکارتے تھے بلکہ کوئی رومی صف سے آگے ہوکر ان کی طنزیہ للکار کا جواب دیتا تو وہ ان تینوں میں سے جس کے سامنے ہوتا اسے برچھی یا تلوار سے ختم کر دیتا۔اس طرح انہوں نے چند ایک رومیوں کو بھی زخمی کیا اور قتل بھی۔خالدؓ پہلے تو تماشہ دیکھتے رہے پھر وہ جوش میں آگئے۔انہوں نے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور آگے چلے گئے۔’’پیچھے آجاؤ تم تینوں!‘‘خالدؓ نے بڑی بلند آواز میں کہااور میدان میں گھوڑا دوڑانے لگے۔ان کے ہاتھ میں برچھی تھی ۔مؤرخوں نے ان کی للکار کے الفاظ لکھے ہیں۔’’میں اسلام کا ستون ہوں۔‘‘’’میں اﷲکے رسولﷺ کا صحابی ہوں۔‘‘’’میں خالد بن ولید ہوں۔‘‘’’میں اپنی فوج کا سپہ سالار ہوں۔میرے مقابلے میں سپہ سالار آئے۔‘‘واقدی اور طبری نے لکھا ہے کہ رومی سالاروں عزازیر اور کلوس کے درمیان چپقلش تھی۔جب خالدؓنے کہا کہ ان کے مقابلے میں سپہ سالار آئے تو رومی سالار عزازیر نے اپنے ساتھی سالار کلوس کی طرف دیکھا اور کہا کہ کلوس اپنے آپ کو سپہ سالار سمجھتاہے،میں تو اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں،کلوس یہ سن کر خاموش رہا اور مقابلے کیلئے آگے بھی نہ بڑھا۔’’ہمارا سالار کلوس ڈر گیا ہے۔‘‘عزازیر نے طنزیہ کہا۔اس نے کلوس کو کچھ اور طعنے بھی دیئے۔کلوس کا انداز بتا رہا تھا کہ وہ خالدؓکے مقابلے میں ہچکچا رہا ہے۔لیکن عزازیر اس پر طعنوں کے تیر چلا رہا تھا۔ان سے تنگ آکر کلوس نے گھوڑا بڑھایا اور خالدؓکی طرف گیا۔
چار مؤرخوں نے متفقہ طور پر بیان کیا ہے کہ خالدؓ کے ہاتھ میں برچھی تھی۔کلوس ان کی طرف آیا تو اس کا انداز حملے والا نہیں تھا اور اس نے خالدؓ کو کچھ ایسا اشارہ کیا تھا جیسے کوئی بات کرنا چاہتا ہو۔خالدؓ نے اس کے اشارے کی پرواہ نہیں کی، دشمن کا دوستانہ اشارہ دھوکا بھی ہو سکتا تھا۔ خالدؓنے اپنا گھوڑا اس کی طرف دوڑایا اور اس پر برچھی کا وار کیا۔کلوس تجربہ کار جنگجو تھا۔اس نے اپنے آپ کو اس وار سے صاف بچا لیا۔خالدؓ نے آگے جا کر گھوڑا موڑا اور کلوس پر دوسرے حملے کیلئے گئے۔اب کہ انہوں نے سنبھل کر کلوس کو برچھی ماری۔کلوس نے اب پھر ان کا وار بیکار کر دیا۔خالدؓنے برچھی پھینک دی۔کلوس نے دیکھا کہ اب خالدؓ خالی ہاتھ آرہے ہیں۔تو اس نے تلوار تانی۔خالدؓ نے گھوڑ اس کی طرف لیا اور گھوڑے کو زیادہ آگے نہ جانے دیا،اسے فوراً روک کر موڑا اور کلوس پرآئے۔کلوس نے گھوڑا موڑا وہ بہتر پوزیشن میں آکروار کرنا چاہتا تھا۔ لیکن خالدؓنے پیچھے سے آکر اسے مضبوطی سے پکڑ لیا اور گھوڑے سے گرا دیا۔انہوں نے گھوڑے سے کود کر کلوس کو دبوچ لیاکلوس زمین پر پڑا تھا۔اس نے اٹھنے کی ذرا سی بھی کوشش نہ کی۔خالدؓ نے اپنے محافظوں کو پکارا کہ آئیں ۔دو تین محافظ دوڑے گئے۔خالدؓنے انہیں کہا کہ کلوس کو قیدی بنا لیں۔اس طرح کلوس مرنے سے بچ گیا اور قیدی بن گیا۔جب کلوس کو قیدی بنا کر خالدؓکے محافظ لے گئے تواسے پیچھے لے جانے کے بجائے سامنے کھڑا کر دیا گیا۔تاکہ رومی اسے دیکھتے رہیں۔خالدؓ پھر گھوڑے پر سوار ہو گئے،اور گھوڑا چکر میں دوڑاتے اور رومیوں کو للکارتے تھے اور ان کا مذاق بھی اڑاتے تھے۔کلوس کا گھوڑا ایک جگہ رُک گیا تھا ۔خالدؓکے اشارے پر ان کا ایک محافظ کلوس کا گھوڑا پکڑ لایا۔خالدؓ کی للکار کے جواب میں اب رومی سالار عزازیر سامنے آیا۔’’او کلوس!‘‘سالار عزازیر نے خالدؓکو للکارنے کے بجائے اپنے ساتھی سالار کلوس کو للکار کر طعنہ دیا۔’’دیکھ لے اپنا انجام بزدل کمینے!تو مجھے رسوا کر رہا تھا۔اب میری تلوار کا کمال دیکھ۔‘‘اس نے خالدؓ پر حملہ کرنے کے بجائے گھوڑا عام چال سے خالدؓ کی طرف بڑھایا،اور خالدؓ سے طنزیہ لہجے میں کہا۔’’عربی بھائی!میں تجھ سے کچھ پوچھوں گا۔میرے قریب آجا۔‘‘’’او اﷲکے دشمن!‘‘خالدؓ نے اس کے طنز کو سمجھتے ہوئے کہا۔’’میں تیرے قریب گیا تو تیرا سر تیرے جسم کے ساتھ نہیں رہے گا۔تو ہی آجا۔‘‘عزازیر نے تلوار نکالی اور خالدؓ کی طرف آیالیکن وہ ہنس رہا تھا جیسے خالدؓ کو کچھ سمجھتا ہی نہ ہو۔وہ خالدؓ سے کچھ دور رک گیا۔’’عربی بھائی!‘‘اس نے کہا۔’’تجھے میرے مقابلے میں آنے کیلئے کس نے کہا ہے؟کیا تو نے سوچا نہیں کہ تو میرے ہاتھوں مارا جائے گا تو تیرے ساتھی سالار تیرے بغیر کیاکریں گے-
’’اﷲسے دشمنی رکھنے والے رومی!‘‘خالدؓنے کہا۔’’کیا تو نے نہیں دیکھا کہ میرے ساتھیوں نے کیا کردکھایا ہے؟انہیں اگر میری اجازت ہوتی تو یہ تیرے اس سارے لشکر کو اسی طرح کاٹ دیتے جس طرح تیرے یہ ساتھی کٹے ہوئے مردہ پڑے ہیں۔میرے ساتھی آخرت سے محبت کرتے ہیں۔یہ
دنیا اور یہ زندگی تو ان کیلئے کچھ بھی نہیں……تو ہے کون؟میں تجھے نہیں جانتا۔‘‘’’او بد قسمت عربی!‘‘عزازیر نے خالدؓ کا مذاق اڑانے والے لہجے میں کہا۔’’میں اس ملک کا جابر سالار ہوں میں تیرے لیے قہر ہوں۔میں فارسیوں کے لشکر کا قاتل ہوں۔ترکوں کے لشکر کو برباد کرنے والا ہوں۔‘‘’’میں تیرا نام پوچھ رہا ہوں۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’میں موت کا فرشتہ ہوں۔‘‘عزازیر نے کہا۔’’میرا نام عزازیر ہے لیکن میں عزرائیل ہوں۔‘‘’’خد اکی قسم !جس موت کا تو فرشتہ ہے وہ موت تجھے ڈھونڈ رہی ہے۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’وہ تجھے جہنم کے سب سے نیچے والے حصے میں پہنچائے گی۔‘‘عزازیر کو خالدؓکے اس طنز پر بھڑک اٹھنا چاہیے تھا۔لیکن اس نے اپنے آپ کو ٹھنڈا رکھا۔’’میرے عربی بھائی!‘‘اس نے خالدؓ سے کہا۔’’تو کلوس کے ساتھ کیا سلوک کر رہا ہے جو تیری قید میں ہے؟‘‘’’وہ دیکھ رومی سالار!‘‘خالدؓ نے جواب دیا۔’’تیرا سالار بندھا ہوا ہے۔‘‘عزازیر کا رویہ اور لہجہ اور زیادہ ٹھنڈا ہو گیا۔’’کیا وجہ ہے کہ تونے ابھی تک اسے قتل نہیں کیا؟‘‘عزازیر نے کہا۔’’تو نہیں جانتا کہ رومیوں میں اگر کوئی سب سے زیادہ عیار اور شیطان ہے تو وہ کلوس ہے……تو اسے قتل کیوں نہیں کرتا؟‘‘’’کوئی وجہ نہیں۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’صرف یہ ارادہ ہے کہ تم دونوں کو اکٹھا قتل کروں گا۔‘‘ان دونوں رومی سالاروں کی آپس میں دشمنی اتنی زیادہ تھی کہ وہ خالدؓ کی کسی بات پر بھڑکتا ہی نہیں تھا۔’’میری ایک بات پر کان دھر عربی سالار!‘‘عزازیر نے دوستانہ لہجے میں کہا۔’’اگر تو کلوس کومیرے سامنے قتل کر دے تو میں تجھے ایک ہزار دینار، دس قبائیں ریشم کی اور اعلیٰ نسل کے پانچ گھوڑے دوں گا۔‘‘’’او روم کے جابر سالار!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’یہ سب تو مجھے کلوس کو قتل کرنے کا انعام دے رہا ہے ، یہ بتا کہ میرے ہاتھوں قتل ہونے سے بچنے کیلئے تو مجھے کیا دے گا؟اپنی جان کی قیمت بتا دے؟‘‘’’تو ہی بتا۔‘‘عزازیر نے کہا۔’’کیا لے گا؟‘‘’’جزیہ!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’اگر نہیں تو اسلام قبول کرلے۔‘‘اب عزازیر بھڑکا۔’’آعرب ے بدو!‘‘عزازیر نے کہا۔’’اب میرا وار دیکھ۔ہم عظمت کی طرف جاتے ہیں۔تو ذلت میں جاتا ہے۔آ، اپنے آپ کو میرے ہاتھوں قتل ہونے سے بچا۔‘‘
اس نے تلوار ہوا میں لہرائی اور خالدؓ پر حملہ کرنے کیلئے گھوڑے کو ایڑ لگائی۔خالدؓ اس سے تیز نکلے۔انہوں نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی۔عزازیر ان کے قریب ہی تھا۔خالدؓ نے تلوار کا وار کیا جو عزازیر نے پھرتی سے ایک طرف ہٹ کر بے کار کر دیا۔اس کے بعد خالدؓ نے ہر طرف سے آکر اس رومی سالار پر وار کیے مگر وہ بڑی پھرتی سے اِدھر اُدھر ہو کر وار بچاتا رہا۔اس نے بعض وار اپنی تلوار پر روکے۔مؤرخ واقدی نے اس دور کی تحریروں کے حوالے سے خالدؓ اور عزازیر کے مقابلے کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔عزازیر وار روکتا تھا اور وار کرتا نہیں تھا۔رومی لشکر سے تو دادوتحسین کا شور اٹھ ہی رہا تھا ۔مسلمانوں نے بھی عزازیر کی پھرتی کی داددی۔خالدؓ نے اپنا ہاتھ روک لیا۔’’اے عرب کے سالار!‘‘عزازیر نے کہا۔’’کیا میں تجھے قتل نہیں کر سکتا؟……میں تجھے زندہ پکڑوں گا اور تجھ سے یہ شرط منواؤں گا کہ تو جدھر سے آیا ہے ،اپنے لشکر کے ساتھ اُدھر ہی چلاجائے۔‘‘’’خداکی قسم!اب تو میرے ہاتھوں زندہ گرفتارہوگا۔‘‘خالدؓ نے بھڑک کر کہا اور اس پر جھپٹے۔عزازیر نے گھوڑے کو تیزی سے موڑااور بھاگ نکلا۔خالدؓ نے گھوڑا س کے پیچھے ڈال دیا۔عزازیرنے گھوڑا تیز کر دیااور دونوں فوجوں کے درمیان چکر میں گھوڑا دوڑانے لگا۔اب مسلمانوں کالشکر نعرے لگانے لگا۔خالدؓ اس کے تعاقب میں رہے۔عزازیر اپنا گھوڑا ذرا آہستہ کرلیتا اور جب خالدؓ اس تک پہنچتے تو وہ گھوڑے کو ایڑ لگا دیتا۔اس دوڑ اور تعاقب میں بہت سا وقت گزر گیا۔خالدؓ کا گھوڑا سست پڑنے لگا اور اس کا پسینہ پھوٹ آیا۔عزازیر کا گھوڑا خالدؓ کے گھوڑے سے بہتر اور زیادہ طاقتور تھا،عزازیر نے دیکھ لیا کہ خالدؓ کا گھوڑا رہ گیا ہے اس نے اپنا گھوڑا گھمایا اور خالدؓ کے اردگرد چکر کاٹنے لگا۔’’او عربی!‘‘عزازیر نے للکار کر کہا۔’’تو سمجھتا ہے میں تیرے ڈر سے بھاگ اٹھا ہوں۔میں تجھے کچھ دیر اور زندہ دیکھنا چاہتا تھا۔میں تیری روح نکالنے والا فرشتہ ہوں۔‘‘خالدؓنے دیکھا کہ ان کا گھوڑا عزازیر کے گھوڑے کاساتھ نہیں دے سکتا تو وہ اپنے گھوڑے سے کود کر اُترے۔ان کے ہاتھ میں تلوار تھی۔عزازیر نے خالدؓکو آسان شکار سمجھا،اور ان پر گھوڑا دوڑا دیا۔خالدؓ کھڑے رہے۔عزازیر قریب آیا تو اس نے گھوڑے سے جھک کر خالدؓ پر وار کیا۔خالدؓ بچتے نظر نہیں آتے تھے،لیکن انہوں نے سر نیچے کرکے وار کو بیکارکر دیا۔عزازیر گھوڑے کو گھما کر آیا۔خالدؓ پہلے کی طرح کھڑے رہے۔اب کے پھر عزازیر نے اُن پر وار کیا،خالدؓ نے نہ صرف یہ کہ جھک کر اپنے آپ کو بچا لیا،بلکہ دشمن کے گھوڑے کی اگلی ٹانگوں پر ایسی تلوار ماری کہ گھوڑے کی ایک ٹانگ کٹ گئی،اور دوسری گھوڑے کے بوجھ کے نیچے دوہری ہو گئی۔گھوڑا گرااور عزازیر گھوڑے کے آگے جا پڑا۔وہ بڑی تیزی سے اٹھا لیکن خالدؓنے اسے پوری طرح اٹھنے نہ دیا۔تلوار پھینک کر اسے دبوچ لیا اور اسے اٹھا کر زمین پر پٹخ دیا۔اسے پھر اٹھایا اور پہلے سے زیادہ زور سے پٹخا۔عزازیر کو اس خوف نے بے جان کر دیا کہ خالدؓ اسے مار ڈالیں گے لیکن خالدؓ نے اسے گھسیٹا اور اسی طرح اپنے لشکر کی طرف لے گئے اور کلوس کے پا س جا کھڑا کیا۔’’یہ لے!‘‘خالدؓنے اسے کہا۔’’اپنے دوست کلوس سے مل۔‘‘خالدؓ نے حکم دیا کہ عزازیر کو بھی باندھ دیا جائے۔
ادھر اﷲنے دشمن کے دو سپہ سالار مسلمانوں کو دے دیئے اُدھر شور اٹھا کہ باقی لشکر آگیا ہے۔خالدؓ اپنے اسی لشکر کے انتظار میں تھے اور وقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔اس لشکر کے ساتھ تاریخ اسلام کے دو عظیم سالار تھے۔عمروؓ بن العاص اور ابو عبیدھؓ۔
خالدؓ نے ذرا سا بھی وقت ضائع کیے بغیر اپنی فوج کو جنگی ترتیب میں کیا۔چار ہزار جانباز سواروں کے دستے طلیعہ کو اپنی کمان میں رکھا اور حملے کا حکم دے دیا۔یہ پہلا موقع تھا کہ مسلمانوں کی تعداد دشمن کے برابر تھی بلکہ کچھ زیادہ ہی تھی۔رومیوں نے مقابلہ تو کیا لیکن ان کے انداز میں جارحیت نہیں تھی، وہ دفاعی جنگ لڑ رہے تھے۔ان کا حوصلہ اور جذبہ تو اسی ایک وجہ سے ٹوٹ گیا تھاکہ ان کے دو سپہ سالار مسلمانوں کی قید میں تھے،اور باقی سالار انفرادی مقابلوں میں مارے جاچکے تھے۔اس رومی فوج میں پہلی جنگوں سے بھاگے ہوئے آدمی بھی تھے۔ان پر مسلمانوں کا خوف طاری تھا۔انہوں نے مسلمانوں کو قہر اورغضب سے لڑتے اور اپنے ساتھیوں کو کٹتے دیکھا تھا۔انہوں نے بے دلی سے مقابلہ کیا اور پیچھے ہٹتے گئے۔انہیں لڑانے والا کوئی تھا ہی نہیں۔مسلمانوں نے انہیں پسپائی سے روکنے کیلئے ان کے عقب میں جانے کی کوشش کی لیکن پیچھے درختوں سے اٹی ہوئی وادی تھی جس میں وہ غائب ہوتے جا رہے تھے۔ان کی پیٹھ کے پیچھے دمشق تھا جو قلعہ بند شہر تھا۔فاصلہ بارہ میل تھا۔یہ رومیوں کیلئے ایک کشش تھی۔پناہ قریب ہی تھی۔چنانچہ وہ فرداً فرداً درختوں کے جھنڈ میں سے گزرتے دمشق کی طرف بھاگ رہے تھے۔رومی ایسی بری طرح مسلمانوں کے ہاتھوں ہلاک ہو رہے تھے کہ میدانِ جنگ ان کی لاشوں اور تڑپتے ہوئے زخمیوں سے اَٹ گیا۔دوڑتے گھوڑے اور پیادے انہیں کچل رہے تھے۔رومیوں نے اپنے پہلوؤں کے دستوں کو عام پسپائی کیلئے کہہ دیا۔مسلمانوں نے تعاقب نہ کیا کیونکہ خالدؓ اپنی نفری کو بچانا چاہتے تھے۔وہ بڑے کوچ کے تھکے ہوئے بھی تھے۔بچے کچھے رومی دمشق پہنچ گئے اور شہر کے اردگرد دیوار نے انہیں پناہ میں لے لیا۔مسلمانوں نے مالِ غنیمت اکٹھا کیا۔عورتوں نے زخمیوں کو اٹھایااور انہیں مرہم پٹی کیلئے پیچھے لے گئیں۔شہیدوں کی لاشیں ایک جگہ رکھ کر جنازہ پڑھایا گیا اور انہیں الگ الگ قبروں میں دفن کیا گیا۔خالدؓ نے رات وہیں گزارنے کا حکم دیااور تمام سالاروں کو اپنے پاس بلایا اور انہیں بتایا کہ دمشق کے محاصرے کو کامیاب کرنے کیلئے ضروری ہوگا کہ دمشق کی طرف آنے والے تمام راستوں کی ناکہ بندی کردی جائے تاکہ دشمن اپنے دمشق کے دستوں کو کمک اور رسد نہ پہنچا سکے۔خالدؓ نے فحل کے قلعے کے قریب پہلے ہی ایک گھوڑ سوار دستہ چھوڑ دیا تھا۔وہاں سے امداد آنے کی توقع تھی۔خالدؓ نے دو گھوڑ سوار دستے دو مقامات پر بھیج دیئے۔ان کیلئے حکم تھا کہ ان راستوں سے کمک آئے تو اس پر حملہ کردیں۔۲۰ اگست ۶۳۴ء )۲۰ جمادی الآخر ۱۳ھ(خالدؓ نے دمشق پہنچ کر اس شہر کو محاصرے میں لے لیا۔دمشق کے اندر جو رومی فوج تھی اس کی تعداد سولہ ہزار کے لگ بھگ تھی،خالدؓ کے لشکر میں بیس ہزار مجاہدین تھے۔شہیدوں اور شدید زخمیوں کی وجہ سے تعداد اتنی کم رہ گئی تھی۔
کچھ دستے مختلف مقامات پر رومیوں کی کمک کو روکنے کیلئے بھیج دیئے گئے۔یہ وجہ تھی کہ مجاہدین کی تعداد بیس ہزار رہ گئی تھی۔دمشق بڑا شہر تھا۔اس کے چھ دروازے تھے اور ہر دروازے کا نام تھا۔ باب الشرق، باب توما، باب حابیہ، باب فرادیس، باب کیسان، اور باب صغیر۔ خالدؓ نے ہردروزے کے سامنے دودو تین تین ہزار نفری کے دستے کھڑے کردیئے۔ہر دروازے کیلئے ایک سالار مقررکیا۔رافع بن عمیرہ، عمروؓ بن العاص، شرجیلؓ بن حسنہ، ابوعبیدہؓ، یزیدؓ بن ابی سفیان۔ یزیدؓ کی ذمہ داری میں دو دروازے دے دیئے گئے۔ضرار بن الازور کو منتخب سواروں کا دو ہزار نفری کا دستہ اس مقصد کیلئے دے دیا گیا کہ وہ قلعے کے اردگرد گھومتے پھرتے رہیں اور اگر رومی باہر آکر کسی دستے پر حملہ کریں تو ضرار اس کی مدد کو پہنچیں۔شہر کی دیوار پر رومی کمانیں اور برچھیاں لیے کھڑے تھے۔ان میں دوسرے سالاروں کے علاوہ دمشق کے دفاع کا ذمہ دار سالار توما بھی تھا جو شہنشاہِ ہرقل کا داماد بھی تھا۔خالدؓ نے حکم دیا کہ رومیوں کے دونوں قیدی سالاروں عزازیر اور کلوس کو آگے لایا جائے۔دونوں بندھے ہوئے لائے گئے۔انہیں دیوار کے اتنا قریب لے جایا گیا جہاں وہ دیوار پر کھڑے رومیوں کو نظر آسکتے تھے۔’’کیا تم دونوں اسلام قبول کرو گے؟‘‘خالدؓ نے دونوں سے بلند آواز میں پوچھا۔’’نہیں۔‘‘دونوں نے اکٹھے جواب دیا۔خالدؓ نے ضرار بن الازور کو آگے بلایا اور کہا کہ انہیں ان کے انجام تک پہنچادو۔ضرار نے تلوار نکالی اور دونوں کی گردنوں پر ایک ایک وار کیا۔دونوں کے سر زمین پر جا پڑے، ان کے دھڑ گرے ، تڑپے، اور ساکت ہو گئے۔دیوار سے تیروں کی بوچھاڑ آئی لیکن خالدؓ اور ضرار ان کی زد سے نکل آئے تھے۔دمشق کا محاصرہ رومیوں کی تاریخ کا بہت بڑا واقعہ بلکہ حادثہ اور المیہ تھا اور مسلمانوں کی تاریخ کا بھی یہ بہت بڑا اور بعض تاریخ نویسوں کیلئے حیران کن واقعہ تھا۔حیران کن تو رومیوں کیلئے بھی تھا کیونکہ روم کی فوج اس دور کی بہترین فوج اور ناقابلِ تسخیر جنگی طاقت سمجھی جاتی تھی۔رومی فوج دہشت اور تباہی کا دوسرا نام تھا۔اس فوج نے ہر میدان میں فتح پائی تھی۔کسریٰ کی فوج بھی اس سے کم نہ تھی لیکن رومی فوج نے اسے بھی شکست دے کر الگ بٹھا دیاتھا۔لیکن اتنی دور سے آئے ہوئے اور اتنے تھوڑے سے مسلمان اسی رومی فوج کو شکست پہ شکست دیئے چلے جا رہے تھے اور انہوں نے دمشق کو محاصرے میں لے لیا تھا جو رومیوں کا بڑا ہی اہم اور قیمتی شہر تھا۔قیصرِ روم نے تو سوچا بھی نہ تھا کہ دنیا کی کوئی طاقت اس کی بہترین اور دہشت ناک فوج کو اس مقام پر لے آئے گی کہ اس کیلئے رومیوں کی روایات اور وقار کا تحفظ محال ہو جائے گا۔
(جاری ھے)
جزاکم اللہ خیرا۔